رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

سوتیلے بیٹے کا وراثت میں حصہ؟

سوال: ایک صاحب کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے دو لڑکیاں پیدا ہوئیں، پھر اس بیوی کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا نکاح کیا، جس سے چار لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی، نیز یہ دوسری بیوی اپنے ساتھ سابق شوہر سے ایک لڑکے کو لے کر آئی تھی۔ ان صاحب کے پاس دو طرح کی جائیدادیں تھیں: ایک موروثی جائیداد جو انھیں اپنے باپ سے ملی تھی اور دوسری وہ جائیداد جو انھوں نے خود کمائی تھی۔ ان جائیدادوں کی تقسیم ان کے بیٹوں کے درمیان کس طرح ہوگی؟ کیا ان کی دوسری بیوی کے  (سابق شوہر سے) بیٹے کو ان میں سے کچھ حصہ ملے گا؟ یہ بھی واضح فرمائیں کہ پانچوں بھائیوں  (بشمول ایک سوتیلے یعنی ماں جائے بھائی) نے اپنے باپ کی زندگی میں مل کر بزنس کیا تھا۔ اب اس کی تقسیم ان کے درمیان کس طرح ہوگی؟

جواب: کسی شخص کو کوئی زمین جائیداد موروثی ملی ہو یا اس نے خود کمائی ہو، سب پر مالِ وراثت کا اطلاق ہوگا اور اس مرنے والے شخص کے وارثوں میں سب تقسیم ہوگی۔

اُن صاحب کے انتقال کے وقت ان کے درج ذیل وارث زندہ تھے:

(1)  بیوی  (2) چار لڑکے  (3) تین لڑکیاں [دو لڑکیاں پہلی بیوی سے، ایک لڑکی دوسری بیوی سے]

ان کے درمیان وراثت اس طرح تقسیم ہوگی:

بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا  (النساء: 12)

باقی مالِ وراثت لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو ہر لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا  (لِلذَکَرِ مِثلُ حَظِّ الاُنثَیَینِ۔  (النساء: 11)۔ مذکورہ مسئلے میں بیوی کو دینے کے بعد باقی مال کے گیارہ حصے کیے جائیں گے، اور ہر لڑکی کو ایک حصہ اور ہر لڑکے کو دو حصے دیے جائیں گے۔

گویا بیوی کو 12.5فی صد ملے گا۔

اور ہر لڑکے کو 15.9٪ ملے گا x 4 = 63.6فی صد

اور ہر لڑکی کو 7.95٪ ملے گا x3= 23.85فی صد

دوسری بیوی سابق شوہر سے جو لڑکا ساتھ لائی تھی اس کا اس متوفّی شوہر کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اس شخص سے اس لڑکے کا کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔

اگر لڑکوں نے باپ کی زندگی میں اس کی تجارت میں اس کا ہاتھ بٹایا ہو، یا کما کر اس کو دیتے رہے ہوں، انھوں نے نہ تو اپنی کمائی الگ کی ہو اور نہ تجارت میں شریک کی حیثیت سے شامل رہے ہوں تو اس مالِ تجارت کا شمار باپ کے چھوڑے ہوئے مالِ وراثت میں ہوگا۔

لیکن اگر لڑکوں نے آپس میں مل کر تجارت کی ہو اور ان کی تجارت باپ سے الگ رہی ہو، یا باپ کے ساتھ مل کر کی ہو، لیکن ان کا حصہ متعین ہو تو لڑکوں کے مال تجارت کو وراثت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس کی مال وراثت کی حیثیت سے تقسیم نہیں ہوگی بلکہ مال مشارکت کی حیثیت سے اس میں بقدر شرکت ہر بھائی  (بشمول سوتیلے بھائی) کا حصہ ہوگا۔

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل

سوال: ملازمت پیشہ خواتین گھر اور تحریک کے کاموں میں توازن کیسے برقرار رکھیں؟ خاص طور پر وہ خواتین جن کے بچے ابھی چھوٹے ہوں۔

جواب:   (۱) ملازمت کرنا عورت پر لازم نہیں ہے، البتہ وہ حدودِ شرع کی رعایت کرتے ہوئے ملازمت کرسکتی ہے۔

(۲) محض معیارِ زندگی کی بلندی کے لیے عورت کا ملازمت کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ مال و دولت کے حصول کی کوئی حد نہیں ہے۔ جتنا بھی مل جائے، ھَل مِن مَزِید کی طلب باقی رہتی ہے۔ اس لیے اگر شوہر کی کمائی سے بنیادی ضروریات آسانی سے پوری ہو رہی ہوں تو بیوی کو چاہیے کہ گھر میں رہنے کو ترجیح دے، بچوں کی پرورش و پرداخت اور دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دے اور شوہر اور دیگر افرادِ خانہ کے ساتھ خوش گوار زندگی گزارے۔ تاہم اس کا ملازمت کرنا کبھی اس کے اپنے گھر کی ضرورت ہوسکتا ہے اس صورت میں جب کہ شوہر کی آمدنی گھر کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہو، اور خود سماج کی ضرورت بھی ہوسکتا ہے، جیسے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خاتون ٹیچر کا ہونا یا مریض عورتوں کے لیے خاتون ڈاکٹر کا ہونا مسلم سماج کی ایک ضرورت ہے، ایسی صورت میں عورت کے ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کے شوہر کو چاہیے کہ اسے اس کی اجازت دے۔

(۳) خاندان کے دائرے میں اسلام نے شوہر کو ’’قوّام‘‘  (محافظ و نگراں) بنایا ہے اور بیوی کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملازمت کے باوجود ضروری ہے کہ بیوی شوہر کی مطیع و فرماں بردار رہے اور سسرال کے لوگوں سے اچھے تعلقات رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ملازمت کی بنا پر بڑائی جتانے لگے اور دوسروں کو خاطر میں نہ لائے۔

(۴) عورت کی ملازمت کے لیے اس کے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ شوہر کی اجازت کے بغیر یا اسے ناراض کرکے عورت کا ملازمت کرنا درست نہیں ہے۔ اس سے عائلی تنازعات سر ابھارتے ہیں اور خاندان میں خوش گواری باقی نہیں رہتی۔

(۵) مشاہرہ عورت کی ملکیت ہے۔ وہ اپنی کمائی اپنی مرضی سے خرچ کرسکتی ہے، شوہر کو بھی دے سکتی ہے۔ لیکن شوہر یا سسرال والوں کا عورت کی مرضی کے بغیر اس کی کمائی پر قبضہ کرلینا درست نہیں ہے۔

(۶) عورت ملازمت کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ پہلے اپنے خاندان کو دیکھے، شوہر کے حقوق ادا کرے، بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر کرے اور خاندان کے دیگر افراد کو دینی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰۤاَیهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِیۡكُمۡ نَارًا  (التحریم: 6)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاوٴ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے۔‘‘

اس آیت کا خطاب جس طرح مردوں سے ہے اسی طرح عورتوں سے بھی ہے۔ دونوں کی ذمے داری ہے کہ پہلے اپنی اخروی نجات کی فکر کریں، پھر اپنے اہلِ خانہ کی اسلامی ذہن سازی کریں۔

اس کے بعد جو بھی وقت فارغ بچے اسے دین کی تبلیغ و اشاعت میں لگایا جاسکتا ہے۔ تحریک اسلامی اسی کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ اس سے وابستہ ہر کارکن، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرے، پھر اپنے گھر والوں کو دین پر چلانے کی کوشش کرے۔ اہلِ خانہ کی دینی تربیت سے غافل ہوکر تحریک کے دیگر کاموں میں شامل ہونا اور ان میں اپنا وقت صرف کرنا درست نہیں ہے۔ یہ الٹی ترتیب ہے، جس سے وابستگانِ تحریک کو بچنا چاہیے۔

دورانِ عدّت ملازمت

سوال: ہمارے ایک دوست کے داماد کا ایک ہفتہ پہلے انتقال ہوگیا۔ ان کے دو بیٹے پڑھ رہے ہیں: ایک کالج میں، دوسرا ہائی سکول میں۔ مرحوم کی بیوہ ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اب گھر کے اخراجات انھی کو سنبھالنا ہیں۔ اسکول کی انتظامیہ نے چالیس دن کی چھٹی بغیر تنخواہ کے دی ہے۔ عدت کے باقی دنوں کے لیے مزید چھٹی دینے پر وہ تیار نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ اگر خاتون اسکول نہیں جائیں گی تو انھیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔ وہ کیا کریں؟ عدت کے باقی دن گھر رہ کر گزاریں اور ملازمت چھوڑ دیں یا اسکول جوائن کرلیں؟

جواب: کوئی خاتون بیوہ ہوجائے تو اس کی عدّت چار ماہ دس دن بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیۡنَ یتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَیذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا۔  (البقرۃ: 234)

تم میں سے جو لوگ مر جائیں، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔

عدّت کے دوران میں عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہیں ہوسکتا۔ حکم یہ ہے کہ اس مدّت میں عورت زیب و زینت اختیار نہ کرے اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے۔ ہاں، کوئی ضرورت درپیش ہو تو وہ گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ الانصاریؓ کی خالہ کو طلاق ہوگئی۔ انھوں نے دورانِ عدّت اپنے کھجور کے باغ میں جاکر کام کرنا چاہا تو خاندان کے ایک شخص نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا۔

وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’تم عدّت میں اپنے کھجور کے باغ میں جاکر کام کرسکتی ہو۔‘‘  (مسلم: 1483)

اس لیے وہ خاتون شوہر کا انتقال ہونے پر پہلے پوری مدّتِ عدّت کے لیے اسکول سے رخصت حاصل کرنے کی کوشش کریں، چاہے بلا تنخواہ کے۔ اگر پوری رخصت مل جائے تو بہتر ہے، پوری رخصت نہ ملے تو جتنی مل جائے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے بعد وہ اسکول جاسکتی ہیں۔ البتہ ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ عدّت گزارنے والی عورت کے لیے اصل حکم گھر پر رہنے کا ہے، وقتِ ضرورت گھر سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لیے اسکول سے رخصت نہ ملنے کی صورت میں وہ صرف اسکول جائیں اور تدریس کے بعد گھر واپس آجائیں۔ اور کہیں، شاپنگ یا ملاقات کے لیے، جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اپریل 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau