رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

تقسیم وراثت سے قبل وصیت کا نفاذ

سوال: ایک شخص کا انتقال ہوا۔ اس کی تجہیز و تکفین کردی گئی۔ اس پر جو قرض تھا وہ ادا کردیا گیا۔ اس کی وصیت دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ ا س نے چالیس فی صد کی وصیت کر رکھی ہے۔ اس کے وارثوں میں دس افراد ہیں۔ ان میں سے آٹھ لوگوں نے چالیس فی صد وصیت پر عمل کرنے کے سلسلے میں رضا مندی ظاہر کردی، لیکن ایک صاحب اس پر تیار نہ ہوئے اور ایک لڑکا نابالغ ہے، اس سے پوچھا ہی نہیں گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس وصیت کو چالیس فی صد سے کم کرکے ایک تہائی (33.3%) پر لاکر نافذ کیا جائے؟ یا اکثریت کی رضا مندی کو دیکھتے ہوئے چالیس فی صد وصیت ہی پر عمل کیا جائے؟ یا کوئی درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے کہ جن لوگوں نے رضا مندی ظاہر کی ہے ان کے حصوں میں چالیس فی صد وصیت پر عمل کیا جائےاور جن کی رضا مندی نہیں ہے ان کے حصوں میں ایک تہائی وصیت پر عمل کیا جائے۔

جواب: کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے وارثوں کے درمیان ترکے کا مال تقسیم کرنے سے پہلے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۃ النساء میں اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِی بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ(النساء: ۱۱)

’’(یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں گے) جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو، پوری کردی جائے اور قرض، جو اس پر ہو، ادا کردیا جائے۔‘‘

مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِيْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ(النساء: ۱۲)

’’جب کہ وصیت جو انھوں نے کی ہو، پوری کردی جائے اور قرض جو انھوں نے چھوڑا ہو، ادا کردیا جائے۔‘‘

مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ تُوْصُوْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ ۗ (النساء: ۱۲)

’’بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کردی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے۔‘‘

مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصٰی بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ(النساء: ۱۲)

’’جب کہ وصیت جو کی گئی ہو، پوری کردی جائے اورقرض جو میت نے چھوڑا ہو، ادا کردیا جائے۔‘‘

وصیت کے بارے میں دو باتیں اہم اور لازمی ہیں: اول یہ کہ وارثوں کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

إن اللہ قد أعطی کل ذی حق حقه فلا وصیة لوارث(ابو داؤد: ۲۸۷۰، ترمذی: ۲۱۲۱، ابن ماجہ: ۲۷۱۴)

’’اللہ عز و جل نے ہر حق دار کا حق متعین کردیا ہے، اس لیے کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا درست نہیں۔‘‘

دوم یہ کہ کسی غیر وارث کے حق میں ایک تہائی(33.3%) سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی۔ حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایک مرتبہ اللہ کے رسولﷺ کے سامنے اپنے نصف مال کی وصیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپؐ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا:

الثُّلُثُ وَالثّلُثُ کَثِیر۔

’’ایک تہائی کی وصیت کرو، ایک تہائی بہت ہے۔‘‘

حدیث میں ہے کہ آپؐ نے مزید فرمایا:

إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ(بخاری: ۴۴۰۹، مسلم: ۱۶۲۹)

’’تم اپنے ورثہ کو مال دار چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘

صورتِ مسؤلہ میں مرنے والے نے اگرچہ چالیس فی صد کی وصیت کی ہے، لیکن اسے کل مال کے صرف ایک تہائی(33.3%) میں نافذ کیا جائے گا، باقی ترکہ وارثوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا۔ اس کے بعد ہر وارث کو آزادی ہوگی کہ وہ اپنے حصے میں سے، اس شخص کو جسے وصیت کی گئی تھی، جتنا چاہے اپنی مرضی سے دے دے۔

عقیقہ کے بعض احکام

سوال: براہِ کرم عقیقہ کے سلسلے میں درج ذیل مسائل میں رہ نمائی فرمائیں:

۱۔ ساتویں دن عقیقہ کرنا مسنون کہا جاتا ہے۔ کیا حسبِ ضرورت دو ایک دن پہلے یا دو ایک دن بعد عقیقہ کیا جا سکتا ہے؟

۲۔ عقیقہ میں دو جانور قربان کرنے ہیں۔ کیا دونوں کی قربانی الگ الگ مقامات پر کی جا سکتی ہے؟

۳۔ بچے کے سر میں کچھ پھنسیاں ہیں۔ ڈاکٹر بال بنوانے سے منع کر رہے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عقیقہ ابھی کردیا جائے اور بال کبھی بعد میں بنوا دیے جائیں۔

۴۔ کیا عقیقہ بڑے جانور سے کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں تو کیا اس میں حصوں کا اعتبار ہوگا یا ایک جانور صرف ایک عقیقہ کے لیے ہوگا؟

۵۔ کیا عقیقہ کا گوشت شادی یا ولیمہ میں آئے ہوئے مہمانوں کو کھلایا جا سکتا ہے؟

۶۔ عقیقہ میں سر منڈوایا جائے تو بال کہاں پھینکے جائیں؟

جواب: عقیقہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع اور حنابلہ اسے سنت مؤکدہ کہتے ہیں، جب کہ حنفیہ کے نزدیک یہ صرف ایک مباح عمل ہے، البتہ ان کے بعض فتاویٰ میں اسے سنت اور بعض میں مستحب قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں عقیقہ ساتویں دن کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

تُذبحُ عنه یومَ السابع ویُحلقُ رأسه ویُسمّیٰ(ابو داؤد: ۲۸۳۸)

’’ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، سر منڈوایا جائے اور نام رکھا جائے۔‘‘

۱۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو بعض روایات میں چودہویں دن اور بعض میں اکیسویں دن کرنے کو کہا گیا ہے۔ (مستدرک حاکم: ۷۵۹۵) اگر کوئی مجبوری اور شدید ضرورت ہو توساتویں دن سے پہلے بھی کیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ صورت مستحب شمار نہ ہوگی۔

۲۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لڑکے کے عقیقے میں دو جانور اور لڑکی کے عقیقے میں ایک جانور ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (ترمذی: ۱۵۱۳) بہرحال یہ لازم نہیں ہے۔ حسبِ ضرورت لڑکے کا عقیقہ ایک جانور سے ہوسکتا ہے اور لڑکی کے عقیقے میں دو جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں۔

۳۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ ساتویں دن عقیقہ میں جانور ذبح کیا جائے اور سر منڈواکر بالوں کے وزن کے برابر چاندی کی مالیت کا صدقہ کیا جائے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے سر منڈوانا ممکن نہ ہو تو یہ جائز ہے کہ عقیقہ ساتویں دن کردیا جائے اور سر کے بال بعد میں حسبِ سہولت منڈوائے جائیں۔

۴۔ بعض فقہا کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے عقیقہ چھوٹے جانور سے کیا ہے۔ اس لیے بڑے جانور سے عقیقہ کرنا درست نہیں ہے، لیکن بعض دیگر فقہا کہتے ہیں کہ عقیقہ میں وہ تمام جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں، جن کی قربانی جائز ہے۔ پھر ان فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک عقیقہ میں مکمل جانور ذبح کرنا ہوگا، جب کہ دیگر فقہا کہتے ہیں کہ جس طرح بڑے جانور میں قربانی کے سات حصے ہو سکتے ہیں، اسی طرح عقیقہ میں بھی سات حصے لگائے جاسکتے ہیں۔

۵۔ عقیقہ کے ذبیحہ کی وہی حیثیت ہوتی ہے، جو قربانی کے ذبیحہ کی ہوتی ہے۔ اس کا گوشت خود بھی کھایا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلایا جا سکتا ہے۔ اس کا گوشت کچا تقسیم کیا جا سکتا ہے اور پکا کر دعوت کرکے بھی کھلایا جا سکتا ہے۔ شادی یا ولیمہ میں آئے ہوئے مہمانوں کو کھلا دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

۶۔ عقیقہ کے وقت بچے کا سر منڈوانے پر جو بال نکلتے ہیں ان میں کوئی تقدس نہیں ہوتا۔ انھیں کسی طرح بھی ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے۔ چاہیں تو زمین میں گڈھا کھود کر دفن کردیں۔

ویران قبرستان کو کس کام میں استعمال کیا جائے؟

سوال: ہمارے قصبے میں ایک بہت قدیم قبرستان ہے۔ ابتدا میں یہ قصبے سے باہر تھا۔ آبادی بڑھنے کے بعد اب یہ قصبے کے درمیان میں آگیا ہے۔ پچاس برس سے اس میں تدفین نہیں ہورہی ہے۔ اطراف کی آبادی والے اس میں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینکتے ہیں۔ صفائی کا نظم بالکل نہیں ہے۔ اس بنا پر قصبے والوں اور انتظامیہ کو بہت پریشانی لاحق ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قبرستان کا اب کیا کیا جائے؟ اگر یہ جائز نہ ہو تو اس کے استعمال کی کوئی دوسری جائز صورت بتادیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب: وقف کو عام حالات میں اسی کام میں استعمال ہونا چاہیے جس کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ اگر کسی کام میں اس کا استعمال ممکن ہو تو اس کے بجائے کسی دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے:

الواجب ابقاء الوقف علی ما كان علیه (رد المحتار علی الدّر المختار، ۶؍ ۵۸۹)

’’کوئی وقف جس کام کے لیے کیا گیا ہے، اسی میں اس کا استعمال ضروری ہے۔‘‘

البتہ اگر کوئی چیز جس کام کے لیے وقف کی گئی ہو، اس میں اس کا استعمال نہ ہو تو اسے ویران اور بے مصرف چھوڑ دینا مناسب نہیں، بلکہ اس کے قریب ترین مصرف میں اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: الموسوعۃ الفقھیۃ وزارۃ الاوقاف والشؤن الاسلامیة، کویت، جلد ۴۴، ص ۸۸۱ اور اس کے بعد)

کوئی قبرستان آبادی کے درمیان میں آجانے کی وجہ سے طویل عرصے سے ویران ہو، یہی نہیں، بلکہ اس میں مسلسل گندگی ڈالے جانے کی وجہ سے اطراف کے لیے اذیت کا باعث ہو تو اسے دوسرے کاموں میں لایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہاں عام آبادی کے لیے مدرسہ، اسکول، ہاسپٹل یا کوئی اور عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ پہنچنے کے بعد جب مسجد نبوی کی تعمیر کرنی چاہی تو ایک زمین خریدی گئی۔ اس میں کچھ قبریں تھیں، انھیں ہم وار کردیا گیا اور اس حصے کو بھی شامل کرکے پوری زمین پر مسجد بنائی گئی۔ (بخاری: ۸۲۴، مسلم: ۴۲۵)

جنوری 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau