رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

اسکرین پر خواتین کا مرد مقرر کی تقریر سننا

سوالمیرے محلے میں ایک مسجد ہے، جہاں تقریباً تین سو نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مسجد کے احاطے میں ایک بڑا ہال ہے، جس میں اکثر اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان میں مرد اور خواتین دونوں شریک ہوتے ہیں۔

کیا یہ جائز ہے کہ اس ہال میں ایک اسکرین لگادی جائے اور اسے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے جوڑ دیا جائے تاکہ مسجد میں ہونے والی تقاریر اور خطبات جمعہ سے خواتین بھی استفادہ کر سکیں۔

بعض حضرات اس سے منع کر رہے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ ایک نابینا صحابی اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت وہاں بعض امہات المومنین موجود تھیں۔ آپﷺ نے انھیں پردہ کرنے کو کہا۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو نابینا ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: لیکن تم تو دیکھ رہی ہو؟

جواب: شرعی پردہ کے حدود کے ساتھ مردوں کا عورتوں سے اور عورتوں کا مردوں سے استفادہ جائز ہے۔ عہد نبویﷺ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی مجلسوں میں، جہاں صحابۂ کرام موجود ہوتے تھے، بعض صحابیات بھی آتی تھیں اور سوالات کرتی تھیں، جن کے آپ ﷺ جواب دیتے تھے۔وہ آپﷺ کے ارشادات سنتی تھیں اور صحابۂ کرام کی باتیں بھی۔

جتنی سختی کسی مرد کے اجنبی عورت کو دیکھنے کے معاملے میں ہے اتنی کسی عورت کے اجنبی مرد کو دیکھنے کے معاملے میں نہیں ہے۔ عہد نبوی کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حبشیوں نے مسجد نبوی کے صحن میں کرتب دکھائے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کورسول اللہ ﷺ نے اپنی اوٹ سے وہ پورا کھیل دکھایا۔ حضرت عائشہ دیر تک دیکھتی رہیں۔یہاں تک کہ جب وہ خود تھک گئیں تب ہی پلٹیں۔ (بخاری:۴۵۴، ۲۹۰۷، مسلم: ۸۹۲)

علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے:

‘‘اس حدیث سے جائز کھیل دیکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔اس سے رسول اللہﷺ کے حسن اخلاق کابھی علم ہوتا ہے کہ آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا لطف و کرم کا معاملہ گرماتے تھے۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت مرد کو دیکھ سکتی ہے۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری)

جس حدیث کا اوپر سوال میںذکر کیا گیا ہے وہ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک موقع پر میں اور میمونہ ؓ (دوسری ام المومنین) رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔وہاں حضرت ابن ام مکتومؓ آگئے۔ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب حجاب کا حکم آچکا تھا۔نبی ﷺ نے فرمایا: ان سے پردہ کرو۔ ہم نے عرض کیا: یہ تو نابینا ہیں۔ نہ ہمیں دیکھ رہے ہیں نہ پہچانتے ہیں۔ تب آپﷺنے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم انھیں نہیں دیکھ رہی ہو؟۔ یہ حدیث اگرچہ ابو داؤد (۴۱۱۲)،ترمذی (۲۷۷۸) اور مسند احمد (۲۲۶۵۳۷) میں مروی ہے، لیکن سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ اس لیے اس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔

حضرت ابن ام مکتوم ؓ کا ایک دوسرا واقعہ مشہور ہے۔حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو ان کے شوہر ابو عمرو بن حفص مخزومیؓ نے طلاق دے دی۔اللہ کے رسولﷺ نے پہلے تو انھیں حکم دیا کہ وہ ام شریکؓ کے گھر عدت گزاریں، لیکن بعد میں جگہ تبدیل کردی،فرمایا: ام شریک کے گھر بہت سے مرد آتے رہتے ہیں، اس لیے فاطمہ بنت قیس ابن ام مکتوم کے گھر قیام کریں۔ وہ نابینا ہیں۔وہاں وہ آزادی سے رہ سکتی ہیں۔ ( مسلم: ۱۴۸۰، موطا مالک:۱۶۹۷)

اس تفصیل سے واضح ہواکہ اگر مسجد سے متصل ہال ایک اسکرین لگادی جائے اور اسے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے جوڑ دیا جائے، تاکہ مسجد میں ہونے والی تقاریر اور خطباتِ جمعہ سے خواتین بھی استفادہ کر سکیں تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسجد کی شرعی حیثیت

سوال: ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی بلڈنگ میں نماز پڑھنے کی جگہ نہیںتھی۔ بلڈر نے لوگوں سے کہا کہ اگر آپ رقم فراہم کردیں تو میں بیسمنٹ میں اس کا انتظام کردوں گا۔ایسا کردیا گیا، لیکن حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے مسجد کے نام سے اس جگہ کا رجسٹریشن نہ ہو سکا۔کافی برسوں تک وہاں پابندی سے نماز باجماعت ہوتی رہی۔بعد میں اس بلڈنگ کے مکینوں نے نماز کے لیے ایک دوسری بہت جگہ تلاش کی اور اسے خرید کر وہاں نماز پڑھنے لگے،اگرچہ اس دوسری جگہ کابھی رجسٹریشن مسجد کے نام سے نہیں ہوا ہے۔

سابقہ جگہ، جہاں پہلے نماز ہوتی تھی،اس کے استعمال کے بارے میں اختلاف رائے ہوگیا ہے۔ذمے داروں میں سے بعض چاہتے ہیں کہ اسے کرایہ پر اٹھادیں اور مناسب قیمت مل جائے تو اسے فروخت کردیں۔ جب کہ بعض لوگ کہتے ہیںکہ وہاں طویل عرصہ نماز پڑھنے کی وجہ سے اس جگہ کو مسجد کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اسے نہ کرایے پر اٹھایا جا سکتا ہے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے۔

براہ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں۔

جواب : کوئی جگہ مسجد کے لیے خرید کر وقف کردی جائے اور مسجد ہی کے نام سے رجسٹرڈ ہو تو اس کی حیثیت مسجد کی ہوتی ہے۔ عام حالات میں اسے منتقل کرنا یا کسی اور کام میں لانا جائز نہیں۔

کسی جگہ برسوں نماز پڑھی جائے تو محض وہاں نماز پڑھنے کی وجہ سے اسے مسجد کی حیثیت نہیں حاصل ہو جاتی۔

مذکورہ تفصیل کے مطابق بلڈنگ میں کسی ہال کو نماز پڑھنے کے مقصد سے تیار کیا گیا اور برسوں اس میں نماز پڑھی جاتی رہی۔ لیکن اس کی وجہ سے اسے مسجد کی حیثیت نہیں حاصل ہو جائے گی۔ چناں چہ حسب موقع و ضرورت اسے کرایے پر اٹھایا جا سکتا ہے، یا اسے فروخت کیا جا سکتا ہے۔

چھٹے حمل کا اسقاط اور منعِ حمل کی تدابیر

سوال: ایک صاحب کے پانچ بچے ہیں۔سب بچے ابھی چھوٹے ہیں۔انھیں سنبھالنے اور پرورش و پرداخت میں ماں کو پریشانی ہوتی ہے۔زوجین کے درمیان اس موضوع پر پہلے سے ڈسکشن ہوتا رہا تھا۔ دو تین بچوں کے بعد ہی شوہر کہتے تھے کہ منع حمل کی عارضی یا دائمی تدابیر اختیار کرنی چاہیے، لیکن بیوی اس کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی۔اس کا کہنا تھاکہ زوجین کے درمیان تعلق فطری انداز میں ہونا چاہیے۔یہاں تک کہ پانچ بچے ہوگئے اوراب چھٹا حمل ابتدائی مرحلہ میں ہے۔

اُن صاحب کا کہنا ہے کہ بھارت میں زیادہ بچے ہونا ایک حسّاس مسئلہ ہے۔ اسپتالوںمیں بھی اس پر سختی سے پیش آیا جاتا ہے۔نو ماہ تک استقرار حمل سے عورت کو بہت تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے،وضع کے وقت اس کی جان پر بن آتی ہے۔ بسا اوقات جنین تو بچ جاتا ہے، لیکن ماں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

اس سلسلے میں براہ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:

۱۔کیا ان مسائل کو دیکھتے ہوئے حمل ضائع کیا جا سکتا ہے؟۔

۲۔کیا مباشرت کے دوران منع حمل کی عارضی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں؟مثلاً مرد کنڈوم کا استعمال کرے،یا عورت پِلس یاکاپر ٹی یا کوئی دوسری تدبیر اختیار کرے؟

۳۔کیا منع حمل کی دائمی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہے ؟ کہ آپریشن کرا دیا جائے،تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔

جواب: اصل سوالات کا جواب دینے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سائل نے صورت حال کو جتنا سنگین بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس پر چند باتیں عرض کردی جائیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ‘‘ بھارت میں زیادہ بچے ہونا ایک حسّاس مسئلہ ہے۔ اسپتالوں میں بھی اس پر سختی سے پیش آیا جاتا ہے۔’’یہ مسائل کسی قدر ہیں، لیکن مسلمان کام یابی سے انھیں انگیز کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ‘‘نو ماہ تک استقرار حمل سے عورت کو بہت تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے،وضع حمل کے وقت اس کی جان پر بن آتی ہے۔ بسا اوقات جنین تو بچ جاتا ہے، لیکن ماں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔’’یہ بات تو پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے،حمل،وضع حمل، رضاعت اور پرورش کے مسائل درپیش آتے ہیں۔ کبھی پہلے یا دوسرے بچے کی پیدائش کے موقع پر ہی کوئی پیچیدگی پیدا ہوجانے کی وجہ سے عورت کی جان چلی جاتی ہے۔

دریافت کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ کسی حمل کا اسقاط کرانے کی صرف دو صورتیں ہو سکتی ہیں:ایک یہ کہ الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کے نتیجے میں یہ بات قطعی طور سامنے آ جائے کہ عورت کے پیٹ میں جو بچہ پرورش پا رہا ہے وہ ناقص الخلقت ہے، اس میں کچھ ایسا نقص پیدا ہوگیا ہے کہ وہ پیدا ہونے کے بعد نارمل زندگی نہیں گزار سکتا۔ پوری زندگی وہ دوسروں کا محتاج رہے گا۔ اس صورت میں بعض فقہا اسقاط کو جائز قرار دیتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت مختلف بیماریوں کا شکار ہو،اس کی صحت ٹھیک نہ رہتی ہواور حمل کو جاری رکھنے میں اس کی جان کو خطرہ ہو۔ یہ محض اندیشہ اور وہم نہ ہو، بلکہ معتبر ڈاکٹر بھی تصدیق کرے کہ عورت کی صحت کی خرابی کو دیکھتے ہوئے یہ حمل جاری رکھنے میں اس کی جان کو خطرہ ہے۔تبھی اسقاط کی اجازت ہے۔ اس صورت میں بھی بعض علما ایک سو بیس ( ۱۲۰) دن کے اندر حمل ہو تبھی اسقاط کی اجازت دیتے ہیں، اگرحمل اس سے زیادہ دن کا ہو گیا ہے تو اسقاط کی اجازت نہیں دیتے۔

۲۔اگر کسی فیملی میں بچے زیادہ ہو گئے ہیں، جلدی جلدی ہوگئے ہیں،مزید بچے ہونے کی وجہ سے دشواری ہے،عورت کی صحت مزید بچے کی متحمل نہ ہوتو اس کے لیے مانع حمل تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ ایک تدبیر تو یہ ہے کہ کوئی دوا لیے بغیر اورکوئی واسطہ اختیار کیے بغیر مرد وعورت احتیاط کے ساتھ تعلق قائم کریں کہ حمل نہ ٹھہرے۔کسی ڈاکٹر سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کن دنوں میں مباشرت سے حمل ٹھہر جاتا ہے اور کن دنوں میں نہیں ٹھہرتا؟ زوجین باہم مشورے سے منعِ حمل کی عارضی مصنوعی تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

۳۔مزید حمل سے عورت کی صحت اور جان کو شدید خطرہ ہو اور ڈاکٹر اس کی تصدیق کرے تو ہمیشہ کے لیے پیداواری صلاحیت کو ختم کرنے کی تدابیر بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔

آخر میں اس چیز کی طرف توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اولاد اللہ کی نعمت ہے، اس لیے موجود زمانے میں کم بچے رکھنے کا جو ٹرینڈ چل رہا ہے اس سے متاثر ہوکر کوئی شدید ضرورت نہ ہونے کے باوجود مانع حمل تدابیر کے بہانے تلاش کرنا،یا حمل کا اسقاط کروانے کوسوچنا درست رویہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اپنے معاملے پر غور کرکے درست فیصلہ کرنا چاہیے۔شریعت میں عام حالات کے احکام دوسرے ہیں اور اضطراری حالات کے احکام دوسرے۔

مئی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau