رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

مطلقہ عورت کے تحفّظ کی صورتیں

سوال : ایک عورت نے نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ پینتیس (۳۵) برس گزارے۔ اب بڑھاپے میں اس کے شوہر نے کسی بات پر ناراض ہوکر طلاق دے دی۔ وہ عورت اب کہاں جائے؟اس کے ماں باپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ بھائی بہن اپنے اپنے گھر کے ہیں۔ اس کی گزر اوقات کیسے ہو؟ اسلام اس کے لیے کیا تجویز کرتا ہے؟ اگر حکومت کی طرف سے ایسے شوہر کو پابند کیا جائے کہ زندگی بھر اپنی مطلقہ بیوی کو مناسب مقدار میں گزارہ بھتّہ دے تو اس میں حرج کیا ہے؟ براہِ کرم ان سوالات کے معقول اور اطمینان بخش جوابات سے نوازیں۔

جواب: اسلام نے نکاح کو ایک پائیدار معاہدہ (میثاقاً غلیظاً) کی حیثیت دی ہے۔ وہ ازدواجی تعلقات میں خوش گواری چاہتا ہے۔ شوہر کو بھی وہ تاکید کرتا ہے کہ بیوی کے ساتھ معروف طریقے سے زندگی گزارے اور اگر اس کی جانب سے کسی کوتاہی یا غلطی کا ارتکاب ہو تو درگزر کرے اور بیوی کو بھی ہدایت دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی معقول سبب کے رشتہ ختم کرنے کو نہ سوچے۔ لیکن کبھی ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ نکاح ختم ہوجانے ہی میں عافیت معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام نے طلاق یا خلع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے، بلکہ اس کی گنجائش رکھی ہے، اگرچہ اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

طلاق کا کوئی واقعہ پیش آئے تو اسے عام طور پر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس میں سراسر شوہر کی زیادتی اور ظلم ہے، حالاں کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی کی مسلسل بد خُلقی اور سرکشی سے مجبور ہوکر شوہر نے یہ اقدام کیا ہو۔ بچے ہوجائیں تو ان کی محبت میں شوہر یوں بھی طلاق پر جلد آمادہ نہیں ہوتا۔ اگرچہ اس معاملے میں شوہر کے ظلم کو بھی بالکلیہ خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

طلاق کی صورت میں یہ بھی ایک مفروضہ ہی ہے کہ عورت بالکل بے سہارا اور محتاج ہو۔ اس کا بھی امکان ہے کہ وہ ملازمت کرتی رہی ہو، یا اس کا کوئی بزنس ہو، یا وہ گھر بار اور پراپرٹی کی مالک ہو۔ اس بنا پر طلاق کی صورت میں اس کی معاشی زندگی کچھ بھی متاثر نہ ہو۔بالفرض اگر طلاق کے نتیجے میں عورت بے سہارا ہوگئی ہو تو اسلام کا نظامِ نفقات اس کو سہارا دینے کے لیے کافی ہے۔ اگر عورت کا باپ زندہ ہے تو اسلام اس کی ذمے داری قرار دیتا ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیٹی کی کفالت کرے۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابۂ کرام سے دریافت کیا: کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا:

ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ (سنن ابن ماجہ: ۳۶۶۷)

( تمھاری بیٹی تمھارے پاس واپس آجائے۔ اس کے لیے تمھارے علاوہ اور کوئی کمانے والا نہ ہو۔)

عورت بڑی عمر کی ہو تو اس کا قوی امکان ہے کہ اس کے بچے روزگار سے لگ گئے ہوں۔ وہ اسے اپنے پاس رکھیں اور اس کی کفالت کریں۔ اس کا بھی امکان ہے کہ عورت کے بھائی ہوں۔ باپ یا بیٹے نہ ہونے کی صورت میں اس کی کفالت کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح درجہ بہ درجہ دیگر خونی رشتے داروں کی ذمہ داری ہوگی۔ اور اگر عورت کا کوئی رشتے دار زندہ نہ ہو تو ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسی بے سہارا عورت کی سرپرستی کرے اور اس کی تمام ضروریات پوری کرے۔

طلاق کی صورت میں مرد اور عورت کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگر طلاق مغلّظ ہوگئی ہے تو اس رشتہ کا بالکلیہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجاتا ہے، الّا یہ کہ عورت کا کسی اور مرد سے نکاح ہوجائے، پھر وہ بھی طلاق دے دے،یا اس کا انتقال ہوجائے۔ طلاق مغلّظہ کی صورت میں عورت کا دوسرے مرد سے تو نکاح ہو سکتا ہے، لیکن سابق شوہر سے نہیں ہو سکتا۔ ایسی شدید حرمت کی صورت میں شوہر کو پابند کیا جائے کہ وہ مطلّقہ بیوی کو تاحیات، یا جب تک اس کا دوسری جگہ نکاح ہوجائے، گزارہ دیتا رہے، درست نہیں معلوم ہوتا۔

طلاق کی صورت میں مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عورتوں کو اچھے طریقے سے رخصت کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا [الأحزاب: 49]

(لہٰذا انھیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کرو۔)

قرآن میں دوسری جگہ ہے:

وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ [البقرة: 241]

(اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو انھیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔)

ان آیات سے یہ تو مستنبط ہوتا ہے کہ طلاق کی صورت میں شوہر کی طرف سے عورت کو کچھ ضرور دیا جائے۔ اس کی مقدار کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ لیکن یہ یک مشت دیا جائے گا۔ عورت کو تا حیات یا تا نکاحِ ثانی ہر ماہ کچھ نہ کچھ دینے کے لیے شوہر کو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ طلاق کی روح یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مرد اور عورت کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے، جب کہ شوہر کو گزارہ بھتّہ ادا کرنے کا پابند کرنے سے ان کے درمیان کچھ نہ کچھ تعلق باقی رہے گا۔ پھر یہ عورت کی غیرت کے خلاف ہے کہ جس مرد سے اس کا اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا ہے، اس کی وہ دست نگر بنی رہے۔

جو لوگ شوہر کے ذریعے طلاق کے بعد بھی سابقہ بیوی کو گزارہ بھتّہ دیے جانے کی وکالت کرتے ہیں ان کی نظر سے اس معاملہ کا ایک پہلو اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر شوہر کو معلوم ہوجائے کہ طلاق کے بعد بھی بیوی سے پیچھا نہیں چھوٗٹے گا اور زندگی بھر اسے گزارہ بھتہ دینے کا وہ پابند ہوگا تو طلاق ہی کیوں دے گا۔ وہ اسے اپنے نکاح میں باقی رکھتے ہوئے پریشان کرے گا اور ستائے گا۔ اس طرح بیوی کی زندگی اجیرن بنی رہے گی۔ اس سے تو اچھا ہے کہ وہ طلاق کے ذریعے شوہر کے ظلم و ستم سے آزاد ہوجائے۔

اسلام کے تمام احکام معقولیت رکھتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے پر جذباتی انداز میں غور کرنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور طلاق کے بعد شوہر کو سابقہ بیوی کی کفالت کا پابند کرنے کے بجائے ان لوگوں کو اس کی ذمے داری اٹھانی چاہیے جن کو اسلام کے نظامِ نفقات کے تحت ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

٭٭٭

زندگی میں ہبہ

سوال : میرے شوہر کا انتقال دو برس قبل ہوا۔ ان کی والدہ حیات ہیں۔ بچے ہیں: دو بیٹیاں، جن میں ایک کا نکاح ہوچکا ہے اور ایک بیٹا ہے۔میرے شوہر نے اپنی زندگی میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ، صحت کی حالت میں اور گواہوں کی موجودگی میں اپنا تمام مال و اسباب ہمیں (یعنی اپنے بیوی بچوں کو) ہبہ کر دیا تھا۔ اس حوالے سے میرے دو سوالات ہیں:

۱۔ کیا شریعت کسی شخص کو اپنا تمام مال و اسباب ہبہ کرنے کی اجازت دیتی ہے؟

۲۔اگر شوہر نے کوئی جائیداد ہبہ کردی ہو تو کیا اس کے انتقال کے بعد اس میں وراثت جاری ہوگی؟

جواب: آدمی اپنی زندگی میں اپنے مال و اسباب کا مالک ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اَمْوَالُکُمْ(تمھارا مال) کہا گیا ہے۔ اسے اپنے زیرِ ملکیت و زیر قبضہ مال میں آزادانہ تصرف کا پورا حق ہے۔شریعت میں مال و جائیداد کی منتقلی کی ایک صورت ہبہ کی بتائی گئی ہے۔ آدمی اپنی زندگی میں اپنا کل مال یا اس کا کچھ حصہ جس کو چاہے ہبہ کر سکتا ہے۔ ہبہ کے مکمل اور نافذ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس کو ہبہ کیا گیا ہو وہ اس پر قبضہ لے۔

اگر کسی پراپرٹی کے ہبہ کیے جانے کے مکمل ثبوت موجود ہوں تو اس کا مالک اس کو سمجھا جائے گا جس کو ہبہ کیا گیا ہو اور اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ والدہ کو یا کسی اور ہونے والے وارث کو محروم کرنے کی نیت سے تمام تر مال اپنے بیوی بچوں کے نام ہبہ کردینا گناہ کا کام ہے۔  آخرت میں اس کی جواب دہی ہوسکتی ہے، اس لیے ایسے کسی عمل سے سختی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مئی 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau