رسائل و مسائل

کیا ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے کیے جا سکتے ہیں؟

سوال:لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں تو اپنی طرف سے پہلا عمرہ کرنے کے بعد اپنے رشتے داروں کی طرف سے بھی عمرے کرنے لگتے ہیں۔ اس کے لیے وہ مسجد عائشہ تک جاکر وہاں سے دوبارہ عمرہ کی نیت کرتے ہیں، احرام باندھتے ہیں اور آکر عمرہ کرتے ہیں۔

کیا یہ طریقہ درست ہے؟ ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے کیے جا سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا یہ عمرہ صرف کسی مرنے والے کی طرف سے کرنا ضروری ہے یا کسی زندہ شخص (مرد یا عورت) کی طرف سے بھی کیا جا سکتا ہے؟

جواب:ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے کرنے کو علما نے جائز قرار دیا ہے، بلکہ بعض علما اسے مستحب کہتے ہیں۔ ایک حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

العمرۃ الی العمرۃ کفّارۃ لما بینھما (مسلم)

(کوئی شخص ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرے تو دونوں کے درمیان کیے گئے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔)

ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے حجة الوداع کے سفر میں دو عمرے کیے تھے۔ پہلا عمرہ اس وقت جب وہ مدینہ منورہ سے سفر کرکے مکہ مکرمہ پہنچی تھیں اور دوسرا عمرہ کچھ دنوں کے بعد، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے بھائی عبد الرحمن بن بکرؓ کے ساتھ مقام تنعیم تک بھیج کر دوبارہ عمرہ اور احرام کی نیت کروائی تھی۔ وہاں تعمیر شدہ مسجد کو بعد میں مسجد عائشہ کہا جانے لگا۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں: ”بہتر ہے کہ دوسرا عمرہ کرنے والا جعرانہ جاکر وہاں سے عمرہ کی نیت کرے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے دوبارہ احرام باندھ کر عمرہ کیا تھا۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو تنعیم جاکر وہاں سے دوبارہ احرام باندھ سکتا ہے۔“(المجموع:۷/۲۱۱)

لیکن اس معاملے میں خود زیادہ زحمت اٹھانے یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچنا چاہیے۔ حجة الوداع کے موقع پر حج کے بعد مزید عمرہ کرنا صرف ام المومنین حضرت عائشہؓ سے ثابت ہے ۔ اس زمانے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا عمرہ کیا تھا نہ صحابہ کرام نے۔

اس لیے اگر کوئی شخص دوسرا عمرہ نہیں کرتا ہے تو وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اختیار کرنے والا ہے اور اگر ایک سے زائد عمرے کرتا ہے تو وہ آپؐ کی اجازت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

دوسرا عمرہ کسی مرنے والے کی طرف سے کیا جا سکتا ہے اور کسی زندہ شخص کی طرف سے بھی جو کسی عذر کی وجہ سے عمرہ کرنے پر قادر نہ ہو۔

بہرحال اس میں بھی حدّ اعتدال میں رہنا چاہیے۔ بہت زیادہ عمرے کرنے کے بجائے حسب توفیق طواف کرنے اور مسجد حرام میں بیٹھ کر تلاوتِ قرآن اور اذکار پڑھنے میں زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عورتوں کے لیے آرٹیفیشیل جیولری کا استعمال

سوال:آج کل مارکیٹ میں آرٹیفیشیل جیولری کی بہت اقسام، مثلا چوڑی، کڑے، کنگن، چین وغیرہ ملتی ہیں اور خواتین بلا تکلّف ان کا استعمال کرتی ہیں۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں، کیا ان کا استعمال جائز ہے؟ کیا نماز میں انہیں پہنے رکھا جا سکتا ہے یا اتار دینا چاہیے؟

جواب:عورتوں کے لیے زیب و زینت کی چیزیں اختیار کرنا جائز ہے، چاہے وہ سونے چاندی کی ہوں یا دیگر دھاتوں کی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

أَوَمَن ینَشَّأُ فِی الْحِلْیةِ (الزخرف:۱۸)

(کیا وہ (عورت) جو زیورات میں پالی جاتی ہے۔۔)

حضرت علی بن ابی طالبؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا لیا اور فرمایا: ”یہ چیزیں میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔“(ابن ماجہ)

بعض نے فتاوی میں آرٹیفیشیل جیولری کا استعمال ناجائز قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔ بہت سے علما نے جواز کا فتوی دیا ہے۔ ایسے زیورات پہن کر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

وراثت کا مسئلہ

سوال: ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ اس کے کچھ زیورات اور نقدی ہے۔ ورثہ میں ماں، باپ، شوہر اور ایک بھائی ہے۔ کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس کی وراثت ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی۔

جواب: شوہر کا حصہ: اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر کا حصہ نصف (٪50) ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ یكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ (النساء:۱۲)

(اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں۔)

ماں کا حصہ: ماں کو ایک تہائی (33.33%) ملے گا، لیکن یہ ایک تہائی شوہر کا حصہ (50%) نکال دینے کے بعد باقی 50میں لگایا جائے گا۔ ۵۰ کا ایک تہائی 16.67% ہوتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں ماں کو 16.67% ملے گا۔

باپ کا حصہ: 50 میں سے نکال دینے کے بعد باقی(33.33%) باپ کو عصبہ ہونے کی حیثیت سے ملے گا۔

اس مسئلے کو ‘عمریتین ’کہا جاتا ہے، یعنی وہ دو مسئلے جن میں حضرت عمرؓ کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا گیا: ماں، باپ، شوہر اور ماں، باپ، بیوی کے درمیان وراثت کی تقسیم ۔ ماں کا حصہ ایک تہائی۔ اگر کل مال وراثت میں سے ماں کو ایک تہائی (33.33%) دے دیا جائے تو باپ کو صرف (16.67%) ملے گا، جو ماں کے حصے سے کم ہوگا۔

یہ مسئلہ خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور میں پیش آیا تھا۔ انہوں نے غور و فکر کرکے اس کا حل یہ نکالا کہ ماں کا حصہ (ایک تہائی) کل مال وراثت میں سے نکالنے کے بجائے شوہر کا حصہ نکال دینے کے بعد باقی میں سے نکالا جائے۔ تمام صحابہ نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ اس وقت سے اس پر عمل ہو رہا ہے۔

اس صورت میں بھائی کو کچھ نہیں ملے گا۔ باپ کی موجودگی میں وہ محجوب ہوگا۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223