گھر میں اعتکاف
سوال:کیا کوئی عورت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر میں اعتکاف کرسکتی ہے؟ کیا بوڑھے یا معذور مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ شخص جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، اعتکاف کرسکتا ہے؟ کیا وہ لڑکے اور لڑکیاں جو کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، باقی اوقات میں اعتکاف کرسکتے ہیں؟
جواب:پہلی بات یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اعتکاف ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں کیا ہے، دوسرے عشرے میں بھی کیا ہے، لیکن پھر آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کو معمول بنالیا تھا۔
دوسری بات یہ کہ آپ نے ہمیشہ اعتکاف مسجد میں کیا ہے۔ آپ کے ساتھ بعض صحابہ بھی اعتکاف کرتے تھے اور امہات المؤمنین کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ مسجد نبوی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ عہد نبوی میں کسی صحابی یا صحابیہ کا مسجد کے بجائے کہیں اور اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں بھی اعتکاف کا ذکر مسجد کے ساتھ خاص کیا گیا ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ [البقرة: 187] “اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔
فقہ حنفی میں چوں کہ عورتوں کا نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے انھیں گھروں میں اعتکاف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھر کی وہ جگہ جسے نماز پڑھنے کے لیے خاص کیا گیا ہو، وہاں عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔
مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف مسجد میں اعتکاف کرسکتے ہیں۔ بوڑھے اور معذور افراد کے لیے بھی گھروں میں اعتکاف کرنے کی گنجائش نہیں۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیے جانے والے مسنون اعتکاف کے لیے احناف اور مالکیہ کے نزدیک شرط ہے کہ اعتکاف کرنے والا روزے سے ہو۔ بغیر روزے کے اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ اعتکاف بھی نہیں کرے گا۔ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں۔ وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ شوال میں اعتکاف کیا تھا اور روایات میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ ان ایام میں آپ روزے سے تھے، اس بنا پر حالتِ اعتکاف میں روزے سے ہونا ان کے نزدیک مستحب ہے، ضروری نہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک معتکف اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی مسجد سے باہر نکلے گا تو اس کا اعتکاف ختم ہوجائے گا۔ صاحبین (امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ) کہتے ہیں کہ اگر وہ آدھے دن سے کم باہر ہے تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ اس دوسری رائے کے مطابق کالجوں کے طلبہ و طالبات کے لیے اس پابندی کے ساتھ اعتکاف کرنے کی گنجائش ہوگی۔
تاہم جو لوگ کسی عذر کی بنا پر اعتکاف نہ کرسکیں انھیں بھی چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصی طور عبادت میں سے زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔
گھروں میں خواتین کی نمازِ عید
سوال: کیا خواتین اپنے گھروں میں عید کی نماز ادا کرسکتی ہیں؟ یا اس کے لیے انھیں عیدگاہ یا مسجد میں جانا ضروری ہے؟ اگر گھروں میں ادا کرنے کی اجازت ہو تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ گھروں میں عید کی نماز باجماعت ادا کرنی ضروری ہے یا کوئی عورت تنہا بھی پڑھ سکتی ہے؟
جواب:عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی نماز اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ اسے باجماعت اور بڑے مجمع میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عہد نبوی میں خواتین عید کی نماز ادا کرنے کے لیے عید گاہ جایا کرتی تھیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس کی نہ صرف اجازت دے رکھی تھی، بلکہ آپ اس کا حکم دیا کرتے تھے۔ حضرت ام عطیہؓ بیان کرتی ہیں:
أَمَرَنَا (النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ، الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ (بخاری:۹۷۴، مسلم: ۸۹۰)
(رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں بالغ اور پردہ کرنے والی (لڑکیوں اور عورتوں) کو (عیدگاہ) لے جایا کریں۔)
اس لیے جہاں (عید گاہ یا مسجد میں) عورتوں کے لیے نمازِ عید کا انتظام ہو وہاں انھیں شرکت کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن جہاں انتظام نہ ہو وہاں ان کا اپنے گھروں میں تنہا یا باجماعت نماز ادا کرنا سنت نہیں۔
فقہ حنفی میں عورتوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ یا مسجد جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ عید کی نماز عورتوں پر واجب نہیں۔ اس لیے وہ اسے اپنے گھروں پر تنہا یا با جماعت نہیں ادا کریں گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة وعيد (كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/566)
(عورتوں کا (مسجد جاکر) نماز باجماعت میں شامل ہونا مکروہ ہے، چاہے وہ جمعہ یا عید کی نماز ہو۔)
یہی بات فقہ مالکی میں بھی کہی گئی ہے کہ عید کی نماز جماعت کے ساتھ مشروع ہے، اسے انفرادی طور پر ادا کرنا درست نہیں۔
فقہ شافعی اور فقہ حنبلی کے بعض علما کے نزدیک اگر کوئی عورت نماز عید ادا کرنے کے لیے عید گاہ یا مسجد نہ جاسکے تو وہ اسے گھر میں ادا کرسکتی ہے۔ اگر کئی عورتیں ہوں تو وہ گھر میں اسے باجماعت بھی ادا کرسکتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو: المجموع شرح المھذب للنووی، ۵/۲۰-۲۲، مغنی المحتاج للشربینی، ۱/ ۵۸۸-۵۸۹، المغنی لابن قدامۃ، ۲/ ۲۸۹-۲۹۰)
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
سوال: صدقہ فطر پونے دو کیلو گیہوں بتایا جاتا ہے۔ جب کہ احادیث میں گیہوں کا ذکر نہیں ہے، ان میں کھجور، جو اور کشمکش کے ایک صاع وزن کو صدقہ فطر قرار دیا گیا ہے۔
براہِ کرم وضاحت فرمائیں، گیہوں کو کب سے اسٹینڈرڈ صدقہ فطر مان لیا گیا اور کس بنیاد پر؟
کیا دوسری جنس میں صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی نقدی میں صدقہ فطر ادا کرنا چاہے تو کتنا کرے؟
جواب:احادیث میں صدقہ فطر کے لیے چار اجناس بتائی گئی ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:
كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَكَانَ طَعَامَنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأَقِطُ وَالتَّمْرُ. (بخاری: ۱۵۱۰)
(رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم عید الفطر کے موقع پر غلہ (یعنی) جو،شمش، پنیر اور کھجور ایک صاع کی مقدار میں بہ طور صدقہ نکالا کرتے تھے۔)
عہد نبوی میں مدینہ اور اس کے اطراف میں گیہوں نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کی پیداوار شام میں ہوتی تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی حکم رانی کے زمانے میں گیہوں کا رواج ہوا، لیکن وہ دیگر اجناس کے مقابلے میں مہنگا تھا، اس لیے صدقہ فطر گیہوں کے ذریعے نکالنے کی صورت میں اس کی مقدار ایک صاع کے بجائے نصف صاع مقرر کی گئی اور تمام صحابہ نے اس سے اتفاق کیا۔
ایک صاع کا وزن تقریبًا سوا تین کلو اور نصف صاع کا وزن ایک کلو چھ سو گرام ہے۔ صدقہ فطر احادیث میں مذکور اجناس میں سے کسی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ صرف گیہوں کا تذکرہ کرنا اور اسی پر اصرار کرنا درست نہیں معلوم ہوتا۔
صدقہ فطر نقدی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے، بلکہ آج کل کے حالات میں نقدی میں ادا کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ عہد نبوی میں مذکورہ اجناس کو نقدی جیسی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ ان چیزوں کو فروخت کرکے اپنی ضرورت کی دوسری چیزیں خرید لیا کرتے۔ آج کے دور میں کوئی شخص کسی غریب کو مذکورہ اجناس میں سے کوئی چیز صدقہ فطر کے طور پر دے تو ممکن ہے کہ وہ چیز اُس غریب کے پاس پہلے سے موجود ہو، یا اسے اُس کی ضرورت نہ ہو۔ اگر اسے نقدی مل جائے تو وہ اس کے ذریعے اپنی کوئی بھی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اس لیے موجودہ دور میں صدقہ فطر نقدی کی شکل میں ادا کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔







