رسائل و مسائل

زندگی میں ہبہ کرنا

سوال: میری اہلیہ اور دو بیٹیاں ہیں، بیٹا نہیں ہے۔ میں اپنی جائیداد اپنی زندگی میں ان تینوں کو ہبہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے گھر کی دو منزلیں کرایے پر دے رکھی ہیں اور ایک منزل میں اپنی اہلیہ اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتا ہوں، ایک بیٹی کی شادی کر چکا ہوں۔ ان دونوں منزلوں کے کرایے سے گھر کا خرچ چلاتا ہوں اور کچھ لوگوں کی امداد کرتا ہوں۔ مشکل یہ ہے کہ اگر میں اپنی کل جائیداد اہلیہ اور بیٹیوں کے نام ہبہ کر دوں تو گھر کا خرچ کیسے چلاؤں گا اور لوگوں کی امداد کیسے کروں گا؟

 مہربانی کر کے میری رہ نمائی کریں۔ میں کیسے ہبہ کروں؟

جواب: شریعت میں کوئی پراپرٹی ایک فرد سے دوسرے کو منتقل کرنے کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں:

1)  وراثت: یعنی کسی شخص کے انتقال پر اس کی کل جائیداد اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگی۔ آپ کا انتقال ہو تو آپ کی جائیداد میں آپ کی بیوی کا حصہ آٹھواں (12.5%)، آپ کی دو بیٹیوں کا حصہ دو تہائی (66.67%) ہوگا۔ باقی 20.83% آپ کے بھائیوں بہنوں، وہ نہ ہوں تو بھتیجوں کو ملے گا۔

2)وصیت: ورثہ کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے۔ غیر ورثہ کے لیے ایک تہائی (33.33%) تک کی وصیت کی جاسکتی ہے۔

3) ہبہ: آدمی اپنی زندگی میں کسی کو بھی، جتنا چاہے، ہبہ کر سکتا ہے۔

آپ دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر سکتے ہیں:

ایک یہ کہ اپنی کل جائیداد اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کو ہبہ کردیں اور ان کے قبضے میں دے دیں۔ قبضے میں دیے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا، پھر ان کے رحم و کرم پر ان کے ساتھ رہیں۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ اپنے پاس رکھیں اور زائد از ضرورت انھیں ہبہ کر دیں۔ جو کچھ آپ اپنے پاس رکھیں گے، وہ آپ کا انتقال ہونے پر اوپر مذکور پہلی صورت کے مطابق ورثہ میں تقسیم ہو جائے گا۔

کیا کھیتی کی زمین میں لڑکیوں کا حصہ نہیں؟

سوال: براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:

1)کیا اسلامی شریعت کی رو سے کھیتی کی زمین میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے؟

2)کیا باپ اپنی کمائی سے اپنے ایک لڑکے کو زمین خرید کر دے تو اس کی وفات کے بعد اس زمین پر اس کے دوسرے بچوں کا حصہ ہوگا؟

جواب: قرآنِ مجید میں تقسیمِ جائیداد کا حکم صریح ہے اور اس میں لڑکوں اور عورتوں کا حصہ بھی وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِیبًا مَّفْرُوضًا (النساء:7)

’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ اور رشتے دار جو کچھ چھوڑ جائیں، جیسے مکان، دکان، کھیت، نقدی، شیئر یا کوئی اور چیز، وہ سب لازماً تقسیم ہونا چاہیے۔ اس کی مقدار چاہے جتنی کم ہو یا چاہے جتنی زیادہ اور اس میں مردوں کی طرح عورتوں کا بھی حصہ لگا یا جائے گا۔

حدیث میں صراحت سے کہا گیا ہے کہ کسی شخص کا اپنی زندگی میں کوئی چیز اپنی اولاد میں سے کسی کو دینا اور دوسروں کو نہ دینا ظلم ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: ’’میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیز دی ہے۔ آپ گواہ بن جائیں۔‘‘ آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’کیا تم نے وہ چیز اپنے دوسرے بیٹوں کو بھی دی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا، اسے واپس لے لو۔‘‘ (بخاری: 2650، 2586)

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے ایک بیٹے کو پلاٹ خرید کردے تو قانونی طور پر اس کا یہ عمل نافذ (valid) ہوگا اور اسے ہبہ (gift) سمجھا جائے گا، البتہ وہ گنہ گار ہوگا۔ جس بیٹے کو وہ پلاٹ ملا ہے، قانونی طور پر تو اس کی ذمہ داری نہیں ہے کہ والد کی وفات کے بعد اس میں وہ دوسرے تمام ورثہ کو حصہ دے۔ لیکن اخلاقی طور پر اس کے لیے بہتر رویہ یہی ہے کہ جو ناانصافی اس کے والد سے سرزد ہوگئی اس کی تلافی کرے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ نیت بھی کرے اور دعا بھی کہ اللہ اپنے عفو و کرم سے اس کے والد کے اس نا انصافی کے گناہ کو معاف کر دے۔

کیا سبسڈی کے ساتھ والے سودی قرضے لینا جائز ہے؟

سوال: مرکزی یا ریاستی حکومتیں اپنے عوام کو مختلف طرح کی مالی سہولیات فراہم کرتی ہیں، کبھی تعلیم کے لیے،کبھی اسپتال کے لیے اور کبھی روزگار کے لیے۔ ان سہولیات میں سے اکثر اسکیمیں سبسڈی (subsidy) پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں قرض کی کچھ رقم معاف کردی جاتی ہے۔

 سوال یہ ہے کہ وہ قرضے جو روزگار اور دوسری سہولیات کے لیے حکومتیں دیتی ہیں، جن کا نصف حصہ سرکار معاف کر دیتی ہے اور نصف رقم مقررہ وقت میں سود کے ساتھ بینک کو لوٹانا ہوتی ہے، کیا ایسے قرضوں کا لینا جائز ہے؟

 مثلاً روزگار کے لیے حکومت دس لاکھ روپے کی سہولت دیتی ہے۔ اس میں سے ایک لاکھ روپے کا سرمایہ ہمارا ہوتا ہے، بقیہ نو لاکھ روپے کی رقم بینک ہمیں بہ طور قرض دیتا ہے، جس میں سے چار لاکھ پچاس ہزار روپے حکومت سبسڈی کے نام پر معاف کر دیتی ہے اور باقی چار لاکھ پچاس ہزار روپے بینک کو مقررہ وقت میں سود سمیت ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ رقم مختلف اسکیموں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ اس کے سبب مسلمان تعلیمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کیا بہ طور ہندوستانی شہری اور مسلمان اس کا لینا جائز ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں۔

جواب: سود (انٹرسٹ) کی حرمت قرآن و حدیث میں صراحت سے بیان کی گئی ہے۔ (البقرۃ: ۲۷۵، ۲۷۸، آل عمران: ۱۳۰، صحیح بخاری: ۲۷۷۶، ۴۵۹، ۵۳۴۷، صحیح مسلم: ۸۹، ۱۵۸۰) سود پر مبنی قرض کا لین دین اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے۔

مرکزی یا ریاستی حکومتیں جو رعایتی قرضے فراہم کرتی ہیں، ان میں سے کچھ حصہ معاف کر دیتی ہیں۔ ایسے قرضے لینے کی اُس صورت میں گنجائش ہے جب کہ آدمی کو اس کی شدید ضرورت ہو اور ادا کیا جانے والا سود سبسڈی سے کم یا اس کے برابر ہو۔ اسے قرض سے ہی منہا کر لیا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ سود وضع کر کے ہی سبسڈی دی گئی ہے۔

وراثت کا ایک مسئلہ

سوال: میرے خالہ زاد بھائی کا کچھ دنوں قبل انتقال ہو گیا ہے۔ وہ سرکاری ملازم تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں لون لے کر ایک مکان خریدا تھا۔ تقریباً نصف رقم ادا کر چکے تھے، باقی رقم معاف ہوگئی۔ براہِ کرم درج ذیل سوالات کا جواب مرحمت فرمائیں:

1) کیا ورثہ وہ مکان استعمال کر سکتے ہیں، یا لون پر لینے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں؟

2) انھیں پی ایف کی جو رقم ملے گی، کیا وہ وراثت میں تقسیم ہوگی؟

3) ان کے ورثہ میں ماں، بیوی، دو بیٹیاں، ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ان کے درمیان وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب: ورثہ مذکورہ مکان استعمال کر سکتے ہیں۔ سودی لون سے بچنا چاہیے، لیکن بہر صورت مکان خرید لینے کی صورت میں وہ مکان کے مالک بن گئے تھے اور ان کی موت کے بعد ان کے ورثہ اس مکان کے حق دار ہوں گے۔

1)   پی ایف میں ملنے والی رقم بھی وراثت میں تقسیم ہوگی۔

2) مالِ وراثت مذکورہ ورثہ کے درمیان اس تناسب سے تقسیم ہوگا:

ماں: 16.67% (چھٹا حصہ)۔بیوی: 12.5% (آٹھواں حصہ)۔دو بیٹیاں: 66.67% (دوتہائی حصہ)۔ باقی بھائی اور بہنوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔ بھائی کو 2.8% ملے گا اوردو بہنیں بھی 2.8% پائیں گی۔

دو بیویوں کے درمیان عدل کیسے؟

سوال: میرا نکاح27 برس قبل ہوا تھا۔ دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ ازدواجی زندگی خوش گوار گزرتی رہی تھی، لیکن چند برس سے تنازعات شروع ہوگئے اور سکون ختم ہوگیا تو میں نے پہلی بیوی کے علم میں لائے بغیر دوسرا نکاح کرلیا۔ جب سے پہلی بیوی کے علم میں میرا دوسرا نکاح آیا ہے، اس نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے اور وہ مجھ سے بہت سے مطالبات کر رہی ہے اور ان کے سلسلے میں شریعت کا حوالہ دے رہی ہے۔ اس کے چند مطالبات درج ذیل ہیں:

ایک ماہ میں پندرہ دن رات آپ دوسری بیوی کے ساتھ رہیں اور پندرہ دن رات میرے ساتھ۔

اگر آپ اس پر عمل نہ کرسکے تو دوسری بیوی کو طلاق دینی ہوگی۔

چوں کہ آپ گذشتہ دس ماہ سے مسلسل دوسری بیوی کے ساتھ رہتے رہے ہیں، اس لیے آئندہ دس ماہ صرف میرے ساتھ رہیں۔

 براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں، کیا میری پہلی بیوی کے یہ مطالبات شریعت کی روٗ سے درست ہیں؟

جواب: نکاح ہوتے ہی بیوی کو نفقہ (روزمرہ کے مصارف) اور سکنیٰ (رہائش) کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کا حکم دیا گیا ہے (الطلاق: 6)۔

اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو انھیں بھی عدل و مساوات کے ساتھ یہ حقوق حاصل ہوں گے۔

قرآن مجید میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کی طرف پورے طور پر نہ جھک جائے کہ دوسری سے تعلق ختم ہو کر رہ جائے اور وہ بے سہارا ہو جائے۔ (النساء: 129)

شوہر کا بیوی کے ساتھ رات گزارنا بیوی کا حق ہے۔ ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں ہر بیوی کو یہ حق ملنا چاہیے۔ احادیث میں اس کی تاکید کی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا نمونہ بھی حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔ ہر مسلمان شوہر کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرے گا تو گنہ گار ہوگا۔

البتہ بیوی کا یہ مطالبہ شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے کہ شب باشی میں بیویوں کے درمیان عدل نہ کرپانے کی صورت میں دوسری بیوی کو طلاق دینا ہوگا۔ اسی طرح یہ مطالبہ بھی مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ چوں کہ شوہر گذشتہ دس ماہ دوسری بیوی کے ساتھ رہ چکا ہے، اس لیے آئندہ دس ماہ پہلی بیوی کے ساتھ لازماً گزارے۔ مناسب یہ ہے کہ اب سے نئی باری عدل و انصاف کے ساتھ شروع کرے اور اس پر قائم رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223