رسائل و مسائل

نماز جنازہ کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھانا

سوال :  ہمارے یہاں ایک موقع پر نماز جنازہ پڑھی گئی تو امام صاحب نے، جو حنفی مسلک پر عمل کرنے والے تھے، ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھایا اور کانوں تک لے گئے – کیا یہ درست ہے؟ میرے علم میں ہے کہ حنفی مسلک میں نماز جنازہ میں ابتدا میں تکبیر کہتے وقت ہاتھ اٹھایا جاتا ہے، بعد کی تکبیروں میں نہیں – کیا نماز جنازہ ہوگئی؟

جواب :  آپ کی بات درست ہے کہ احناف کے نزدیک نماز جنازہ میں صرف پہلی تکبیر (تکبیرِتحریمہ) میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، بعد کی تکبیروں میں نہیں اٹھائے جاتے۔

امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ولا یرفع یدیه فی شیء من تكبیرات الجنازة إلا فی الأولى (کتاب الآثار، 318)

علامہ کاسانی لکھتے ہیں :

ولا یرفع یدیه فی سائر التكبیرات عندنا. (بدائع الصنائع،1/ 313)

البتہ شوافع، حنابلہ اور بعض مالکیہ کے نزدیک ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانا مسنون ہے۔  امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ویستحب أن یرفع یدیه فی جمیع التكبیرات (المجموع، 233/5)

اگر امام حنفی ہے، لیکن اس نے ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھایا ہے تو اس نے حنفی مسلک کے راجح قول کے خلاف عمل کیا۔ لیکن اس کی نماز درست ہے اور مقتدیوں کی نماز بھی بلا شبہ درست ہوگی اور انھیں نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

اگر امام قعدۂ اولی کے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے

سوال :  ہماری مسجد میں امام صاحب عصر کی نماز پڑھا رہے تھے – انھوں نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے – مقتدیوں نے انھیں ٹوکا تب قعدہ کے لیے بیٹھ گئے، پھر تیسری اور چوتھی رکعت پوری کی، اس کے بعد سجدۂ سہو کرکے سلام پھیرا – یہ نماز درست ہوئی یا نہیں؟

جواب :  اگر امام دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرنے کے بجائے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے لگے اور مقتدی اسے متنبہ کردیں تو اگر وہ ابھی تھوڑا سا ہی کھڑا ہوا تھا تو بیٹھ جائے، لیکن اگر مکمل سیدھا کھڑا ہوچکا ہو تو نہ بیٹھے، قعدۂ اولی ترک کردے، تیسری اور چوتھی رکعت پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کرکے نماز مکمل کرے ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ تیسری رکعت کا قیام فرض ہے، جب کہ قعدۂاولی واجب/سنّت ہے ۔ اس لیے فرض چھوڑ کر سنّت نہیں ادا کی جائے گی – امام سرخسیؒ نے لکھا ہے :

وإذا استتم قائما اشتغل بفرض القیام، ولیس من الحكمة ترك الفرض للعود إلى السنة

” اگر نمازی پوری طرح سیدھا کھڑا ہوجائے تو وہ فرضِ قیام میں مشغول ہوگیا، اس لیے سنت (قعدۂ اولیٰ) کی طرف لوٹنے کے لیے فرضِ قیام کو چھوڑنا مناسب نہیں۔ “

اس سلسلے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ چار رکعت والی کسی نماز میں دوسری رکعت کے بعد تیسری کے لیے کھڑے ہوئے – صحابہؓ نے متنبہ کیا، لیکن آپ نے واپس قعدہ نہیں کیا، بلکہ نماز مکمل کرکے سجدۂ سہو کیا۔                                                                                  (بخاری : 1224، مسلم : 570)

لیکن اگر امام قعدۂ اولی کے بغیر تیسری رکعت کے لیے سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر مقتدیوں کے ٹوکنے کے بعد قعدۂ اولیٰ کے لیے واپس بیٹھ جائے اور آخر میں سجدۂ سہو کرلے، تو حنفی فقہ میں دونوں طرح کے اقوال منقول ہیں : بعض فقہا فسادِ نماز کے قائل ہیں، جب کہ بعض نے عدمِ فساد کو ترجیح دی ہے۔

بیٹیوں کی موجودگی میں پوتی وارث نہیں ہوگی

سوال :  ایک صاحب کا انتقال ہوا – ان کے ورثہ میں ایک بیوی، دو بیٹیاں اور ایک پوتی ہے ۔ کیا پوتی کو وراثت ملے گی؟ ان کے درمیان وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟

جواب :  اگر میت کے ورثہ میں صرف ایک بیوی، دو بیٹیاں اور ایک پوتی (یعنی میت کے مرحوم بیٹے کی بیٹی) ہے، دیگر ورثہ ( ماں، باپ، بیٹا، حقیقی بھائی یا دیگر عصبہ) موجود نہیں ہیں تو تقسیم اس طرح ہوگی :

بیوی کل ترکے کا آٹھواں حصہ 1/8 (12.5٪) پائے گی، کیوں کہ میت کی اولاد (لڑکیاں) موجود ہے اور اس صورت میں قرآن میں اس کا حصہ آٹھواں قرار دیا گیا ہے۔ (النساء: 12)

دونوں بیٹیاں کل ترکے کے دو تہائی 2/3 (66.7٪) کی حق دار ہوں گی۔ قرآن مجید میں دو سے زائد بیٹیوں کا یہ حصہ بتایا گیا ہے – (النساء : 11) فقہا نے بیان کیا ہے کہ دو بیٹیاں ہونے کی صورت میں بھی یہی حکم ہے ۔

پوتی دو حقیقی بیٹیوں کی موجودگی میں عام طور پر محجوب (محروم) ہوجاتی ہے، الّا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا عصبہ موجود ہو (مثلاً اسی درجے کا پوتا) جو اسے عصبہ بنا دے۔

مذکورہ صورت میں پوتی کو کچھ نہیں ملے گا – ماں اور بیٹیوں کا حصہ نکالنے کے بعد باقی (20.8٪) بھی رد کے اصول پر دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا – رد کا اصول زوجین (شوہر اور بیوی) پر لاگو نہیں ہوتا ۔

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

سوال : شادی کے موقع پر دولہا کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگائی جاتی ہے ،کیا یہ جائز ہے؟

جواب : مردوں کے لیے مہندی لگانے کا حکم مقصد اور طریقۂ استعمال کے اعتبار سے مختلف ہے :

سر کے بالوں یا داڑھی کو رنگنے کے لیے مہندی لگانا جائز، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔                نبی کریمﷺ سے سفید بالوں کو ’حنا‘ (مہندی) اور ’کتم‘ (رنگ پیدا کرنے والی ایک نبات) وغیرہ سے رنگنے کی ترغیب منقول ہے۔

ہاتھوں اور پیروں میں زینت کے لیے مہندی لگانا، جیسا کہ عموماً عورتیں لگاتی ہیں، مردوں کے لیے جائز نہیں، کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ احادیث میں مردوں کے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے۔

علاج یا کسی طبّی ضرورت سے ہاتھ یا پیر میں مہندی لگانا جائز ہے، کیوں کہ اس کا مقصد زینت نہیں، بلکہ علاج ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223