Opens in a new tab

رسائل و مسائل

مکروہ اوقات میں اذکار اور تلاوتِ قرآن

سوال : کیا طلوعِ آفتاب یا زوال کے وقت اذکار اور تلاوت قرآن کر سکتے ہیں؟

جواب :  حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی حدیث میں تین اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے – وہ فرماتے ہیں :

ثَلاثُ ساعاتٍ كان رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ علیه وسلَّم ینهانا أن نُصَلِّی فیهنَّ، أو أن نَقبُرَ فیهنَّ مَوتانا: حینَ تَطلُعُ الشَّمسُ بازِغةً حتَّى تَرتَفِعَ، وحینَ یقومُ قائِمُ الظَّهیرةِ حتَّى تَمیلَ الشَّمسُ، وحینَ تَضَیفُ الشَّمسُ للغُروبِ حتَّى تَغرُبَ                                                                (صحیح مسلم : 831)

” تین اوقات میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھنے یا تدفین کرنے سے منع فرمایا ہے: (1)جب سورج طلوع ہونے لگے، یہاں تک کہ بلند ہوجائے ۔ (2) جب سورج عین وسط میں ہو، یہاں تک کہ ڈھل جائے ۔ (3) جب سورج غروب ہونے لگے، یہاں تک کہ مکمل غروب ہوجائے۔  “

اس حدیث میں ان اوقات میں صرف نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے- ان میں اذکار، تسبیح و تہلیل، درود شریف، دعائیں اور تلاوتِ قرآن وغیرہ جائز ہیں۔  بلکہ اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک ذکر و تلاوت میں مشغول رہے تو یہ بہت فضیلت والا عمل ہے۔

نماز پوری پڑھی جائے یا قصر؟

سوال :  میرے والد کا گھر ضلع کان پور کے ایک گاؤں میں ہے ۔ وہ فیروز آباد میں ملازمت کرتے تھے، وہاں میری پیدائش ہوئی۔ آج کل وہ دہلی میں رہتے ہی ۔ میں اگر ایک ہفتے کے لیے گاؤں جاؤں تو نماز پوری پڑھوں یا قصر کروں؟ 

جواب : اگر کان پور کے گاؤں میں آپ کے والد صاحب کا گھر اب بھی آپ کا اپنا وطنِ اصلی (آبائی گھر) شمار ہوتا ہے تو وہاں پہنچ کر آپ قصر نہیں کریں گے، بلکہ پوری نماز پڑھیں گے، چاہے قیام صرف ایک ہفتے کا ہو۔

اس مسئلے میں اصل اعتبار صرف اس کا نہیں کہ کان پور کے گاؤں میں آپ کے والد صاحب کا گھر ہے، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ آپ کا اس گاؤں سے وطنِ اصلی کا تعلق باقی ہے یا نہیں۔

اگر آپ نے مستقل طور پر گاؤں کو اپنا وطن چھوڑ نہیں دیا ہے اور اسے اب بھی آپ کا اپنا گھر/آبائی وطن سمجھا جاتا ہے، تو ایک ہفتہ رہنے کی نیت کے باوجود پوری نماز پڑھیں گے۔ اور اگر آپ نے گاؤں کو مستقل طور پر چھوڑ دیا ہے اور اب وہاں صرف والد صاحب کا گھر ہے، جب کہ آپ کا مستقل قیام کہیں اور ہے تو پھر پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں قصر کریں گے۔

حالتِ احرام میں کِریم استعمال کرنا

سوال :  ایک خاتون عمرہ کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ وہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اپنی انگلیوں میں ایک کریم استعمال کرتی ہیں ۔ اگر ایک دن بھی کریم کا استعمال ترک کردیں تو تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اس کریم میں الکحل بھی ہے۔ اس کریم کا استعمال ممنوعات احرام میں سے تو نہیں ہے؟ کیا دورانِ عمرہ اسے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جواب : اس مسئلے میں کِریم میں الکحل کی موجودگی اور احرام میں اسے استعمال کرنے کا حکم دو الگ مسائل ہیں:

اگر اس کِریم میں موجود الکحل عام طبّی/مصنوعی الکحل ہے، جو عموماً ادویات اور کریموں میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے بیرونی استعمال کی گنجائش ہے۔

اصل مسئلہ خوش بوٗکا ہے- احرام کی حالت میں خوش بوٗ لگانا ممنوع ہے۔ اس لیے اگر کِریم  خوش بوٗدار (perfumed/scented) ہو تو احرام کی حالت میں فقہا اس کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔

البتہ اگر کِریم کا استعمال بہ طور علاج ہے اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اسے روزانہ استعمال کرنا ضروری ہے تو میرے نزدیک اس کے استعمال کی گنجائش ہے- اس کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوگا، البتہ اگر کوئی بے خوشبو متبادل کریم اسی طرح مؤثر ہو تو احرام کی حالت میں اسے اختیار کرنا زیادہ محتاط عمل ہوگا۔

غیر مسلموں کے تہواروں پر مصنوعات کی تشہیر کرنا

سوال : ایک کاروباری معاملے کے متعلق شرعی رہ نمائی مطلوب ہے۔

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ہندو تاجر مسلمانوں کے عیدین یا دیگر اسلامی تہواروں کے مواقع پر اپنی اشیا کی تشہیر اور فروخت اس انداز سے کرتے ہیں کہ مثلاً : ’’ اپنی عید کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہماری یہ اشیا استعمال کریں‘‘، یعنی وہ مسلمانوں کے تہوار کو اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور فروخت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک مسلمان تاجر بھی غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر اپنی جائز اشیا (خواہ کھانے پینے کی ہوں یا عام استعمال کی) اس نیت اور انداز سے فروخت اور تشہیر کرسکتا ہے کہ:

’’اپنے تہوار کے موقع پر ہماری یہ اشیا استعمال کریں‘‘، یا ان کے مذہبی تہوار کو اپنی مصنوعات کی پبلسٹی، مارکیٹنگ اور فروخت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب :  عام حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ جائز تجارت اور مباح اشیا کی خرید و فروخت درست ہے۔ محض یہ بات کہ خریدار غیر مسلم ہیں، یا خریداری کا وقت ان کے تہوار کا زمانہ ہے، تجارت کو حرام نہیں بناتی۔ عام مباح اشیا کو ان کے تہواروں کے زمانے میں فروخت کرنا فی نفسہٖ ممنوع نہیں ہے،    بہ شرطے کہ وہ چیز خود حرام نہ ہو اور اس تہوار کے قیام میں براہِ راست اعانت مقصود نہ ہو۔

لیکن اگر مسلمان تاجر غیر مسلموں کے مذہبی تہوار کو اپنی تشہیر کا عنوان بنائے، مثلاً یوں پبلسٹی کرے: ”دیوالی کے موقع پر اپنی خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے ہماری مٹھائیاں خریدیں۔ “یا ”کرسمس منانے کے لیے ہماری یہ مصنوعات استعمال کریں۔“ یا تہوار کے مخصوص مذہبی شعار، علامات اور جذبات کو استعمال کرکے لوگوں کو خریداری پر ابھارے تو معاملہ مختلف ہوجاتا ہے۔ یہاں وہ محض ایک مباح چیز نہیں بیچ رہا ہے، بلکہ ایک غیر اسلامی مذہبی تہوار کی تشہیر کو اپنی تجارتی سرگرمی کا ذریعہ بنارہا ہے۔ یہ چیز کم از کم ایسی اعانت اور ترویج میں داخل ہوگی جس سے مسلمان کو احتراز کرنا چاہیے اور اگر اشتہار میں مذہبی شعائر کی تعظیم یا تہوار کی تحسین بھی پائی جائے تو ممانعت زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔

خلاصے کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس مسئلے میں چار صورتیں ہوسکتی ہیں:

عام تجارت: دکان دار کی عام مٹھائی، کپڑے، فرنیچر، موبائل، گھریلو سامان وغیرہ کی دکان ہے۔ غیر مسلم گاہک اپنے تہوار کے دنوں میں آکر وہ چیز خریدتے ہیں۔ یہ جائز ہے۔ صرف اتفاقِ زمانہ کی وجہ سے تجارت حرام نہیں ہوگی۔

تہوار کے دنوں میں خصوصی رعایت: مثلاً تاجر یوں اعلان کرے کہ ”اس ہفتے 20% ڈسکاؤنٹ“یا ”Festival Sale“جیسی عمومی تجارتی اسکیم ہے۔ اس اعلان سے مقصود کسی مذہبی شعار یا تہوار کی تعظیم نہ ہو۔ اس کی بھی گنجائش ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ محض کاروباری رعایت کو مذہبی تہوار کی ترویج و تشہیر نہیں قرار دیا جاسکتا۔

تہوار کے لیے مخصوص چیزیں فروخت کرنا: مثلاً کرسمس ٹری، صلیب، مذہبی مجسّمے، دیوالی کی مخصوص مذہبی پوجا کی اشیا یا ایسے کارڈ/پوسٹر جن میں مذہبی شعائر کی تعظیم ہو۔

یہ جائز نہیں، کیوں کہ یہاں چیز یا تو خود ناجائز ہے، یا اس کا تعلق براہِ راست مذہبی رسم کی انجام دہی سے ہے۔

مسلمان تاجر غیر مسلموں کے تہوار کی خود تشہیر کرے: مثلاً یوں اعلان نکالے: ”اپنے دیوالی کے تہوار کو یادگار بنانے کے لیے ہماری مٹھائیاں خریدیں۔“ یا: ”ہماری مصنوعات استعمال کرکے اپنی کرسمس کی خوشیوں کو دوبالا کریں ۔“

یہ محض فروخت کا معاملہ نہیں، بلکہ تہوار کو مارکیٹنگ کے ذریعے promote کرنا ہے۔ ”اپنا تہوار“،  ”اپنی مذہبی خوشی“، ”تہوار منانے کے لیے“ جیسے الفاظ مذہبی تقریب کی تائید اور تشہیر کا مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے ایسی تشہیر سے مسلمان تاجر کو بچنا چاہیے۔

موروثی مرض سے بچنے کے لیے مانع حمل تدابیر اختیار کرنا

سوال :  ایک شادی شدہ جوڑے کے ہاں ایک بچہ Cystic Fibrosis نامی موروثی بیماری کا شکار ہے۔ ماہرینِ جینیات کے مطابق آئندہ حمل میں اس بیماری کے منتقل ہونے کا امکان     25 فی صد ہے۔ اس بنا پر سوال ہے کہ کیا بیماری کے اس خطرے کی وجہ سے آئندہ اولاد سے مستقل طور پر بچنے کے لیے نس بندی(Sterilisation)کرانا جائز ہے؟ یا کیا حمل کو عارضی طور پر روکنا جائز ہے؟

نیز اگر حمل ٹھہر جائے اور بعد میں معلوم ہو کہ بچہ Cystic Fibrosis سے متاثر ہے تو کیا     اسقاطِ حمل کیا جاسکتا ہے؟

جواب :  پہلے مرض کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے۔

Cystic Fibrosis ایک Autosomal Recessive Genetic Disease ہے۔ اگر دونوں میاں بیوی اس بیماری کے carrier ہوں تو ہر حمل میں درج ذیل امکانات ہوں گے:

25٪ امکان بچے کے بیمار ہونے کا۔

50٪ امکان بچے کے carrier ہونے کا، مگر خود بیمار نہ ہونے کا۔

25٪ امکان نہ بیمار ہونے کا ہو نہ carrier ہونے کا۔

یہ امکان ہر حمل میں الگ سے 25٪ ہوتا ہے؛ پہلے بچے کے بیمار ہونے سے اگلے بچے کے لیے امکان لازماً کم یا زیادہ نہیں ہوجاتا۔

لہٰذا سوال میں بیان کردہ 25٪ امکان محض وہم یا معمولی اندیشہ نہیں، بلکہ باقاعدہ طبی genetic risk ہے؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حمل میں 75٪ امکان یہ ہے کہ بچہ Cystic Fibrosis کا مریض نہ ہو۔

اس صورت میں عارضی طور پر حمل روکنے کی گنجائش ہے، خصوصاً جب اس کے پیچھے معتبر طبی سبب موجود ہو۔ اس مسئلے کو ‘عزل’ پر قیاس کیا جاسکتا ہے، جس کی اسلامی شریعت میں اجازت ہے۔ بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے اپنے ایک سمینار میں یہ تجویز منظور کی تھی کہ ضرورتِ شرعی کی صورت میں حمل کو عارضی طور پر روکنا جائز ہے، بہ شرطے کہ طریقہ شرعاً جائز ہو اور جاری حمل کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا اس صورت میں مستقل نس بندی جائز ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرد یا عورت کی تولیدی صلاحیت کو مستقل طور پر ختم کرنا (sterilization) ناجائز ہے، الا یہ کہ کوئی شرعی ضرورت ہو۔

مذکورہ مرض کے امکان کے ساتھ اگر حمل ٹھہر جائے تو کیا اسقاط کیا جاسکتا ہے؟ اس میں حمل کی عمر بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض فقہا کے نزدیک اگر عورت کی جان کو خطرہ ہو یا شدید بیماری میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو یا حمل میں کوئی ایسا بڑا نقص ہو کہ پیدا ہونے کے بعد بچہ زندگی بھر معذور اور دوسرے کے سہارے کا محتاج ہوگا تو اس صورت میں وہ چار ماہ (120 دن) سے پہلے اسقاط کی اجازت دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اگر میاں بیوی کے ہاں Cystic Fibrosis کے مریض بچے کی پیدائش ہوچکی ہے اور معتبر genetic testing سے یہ ثابت ہے کہ دونوں والدین carrier ہیں، جس کی وجہ سے ہر آئندہ حمل میں بیماری کا 25٪ امکان ہے، تو اس طبی خطرے کی بنا پر حمل کو عارضی طور پر روکنا شرعاً جائز ہے، البتہ صرف 25٪ خطرے کی بنا پر مرد یا عورت کی تولیدی صلاحیت کو مستقل طور پر ختم کرنا (sterilization)جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ 25٪ خطرہ 100٪ یقینی بیماری نہیں اور عارضی مانعِ حمل کے طریقے موجود ہیں۔ اگر کسی خاص طبی حالت میں ماہرینِ فن یہ فیصلہ دیں کہ حمل کا جاری رہنا غیر معمولی شدید ضرر کا سبب بنے گا اور عارضی تدابیر مؤثر نہیں، تو مستقل sterilizationکی گنجائش ہوسکتی ہے۔

اور اگر حمل ٹھہر جائے تو محض 25٪ موروثی خطرے کی وجہ سے اسقاطِ حمل جائز نہیں ہوگا۔ اگر prenatal testing سے جنین میں بیماری یقینی ثابت ہوجائے تو بعض فقہا کے نزدیک 120 دن سے پہلے اسقاط کی گنجائش ہوگی۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223