رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

مقیم کے پیچھے مسافر کی اقتدا

سوال: ایک مسافر ظہر کی نماز میں اس وقت شامل ہوا جب امام صاحب دو رکعتیں پڑھا چکے تھے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے تھے۔ مسافر کو قصر کی اجازت ہے، توکیا وہ دو رکعتیں پڑھ کر امام کے ساتھ ہی سلام پھیر سکتا ہے، یا اسے مزید دو رکعتیں پڑھنی ہوں گی۔

جواب: امام حالت ِ نماز میں تمام مقتدیوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے لیے نماز کی تمام حرکات و سکنات میں اس کی اقتدا ضروری ہے۔ ایک حدیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا جُعِلَ الاِمَامُ لِیُؤتَمَّ بِه، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعَوا، وَاِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا۔ (بخاری: ۳۷۸، مسلم: ۴۱۱)

’’امام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتدا کی جائے۔ چنانچہ جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔‘‘

اس کا تقاضا یہ ہے کہ امام اگر چار رکعتیں پڑھا رہا ہو تو مقتدی بھی چار رکعتیں ادا کریں۔ اگر امام کی اقتدا میں کوئی مسافر نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے، یا اگر آخری دو رکعتوں میں شامل ہوا ہو تو امام کے ساتھ سلام پھیر کر فارغ ہوجائے، بلکہ چوں کہ امام نے چار رکعت نماز پڑھائی ہے، اس لیے مسافر مقتدی کے لیے بھی چار رکعتیں ادا کرنی ضروری ہیں اور اگر اس کی ابتدائی دو رکعتیں چھوٹ گئی ہیں تو اس کی حیثیت ’مسبوق‘ کی ہوگی اور اسے چھوٹی ہوئی رکعتیں پوری کرنی ہوں گی۔

فلیٹ پر زکوٰۃ

سوال: میرے پاس پندرہ لاکھ روپے تھے۔ اس سے میں نے ایک فلیٹ خرید لیا ہے۔ کیا اس رقم پر مجھے زکوٰۃ ادا کرنی ہے؟

جواب: کسی شخص کے پاس نصابِ زکوٰۃ کے برابر رقم ہو اور وہ ایک برس تک اس کے پاس محفوظ رہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اگر مذکورہ رقم آپ کے پاس ایک برس سے زیادہ رہی ہے تو آپ کو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ ہر برس آپ کے پاس جتنی رقم تھی اس کا ڈھائی فی صد(2.5%) بہ طور زکوٰۃ نکالنا ہوگا۔

زکوٰۃ مالِ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔ اگر فلیٹ تجارت کے مقصد سے خریدا گیا ہے کہ بعد میں اسے منافع کے ساتھ فروخت کر دیا جائے گا تو اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔ ہر برس اس کی قیمت کا ڈھائی فی صد(2.5%) نکالنا ہوگا۔ لیکن اگر فلیٹ خود رہنے کے لیے خریدا گیا ہے تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ اگر اسے کرایے پر اٹھایا جائے اور کرایے کی رقم استعمال میں آجائے تو اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ اگر کرایے کی رقم محفوظ رہے اور وہ دوسری رقموں کے ساتھ مل کر نصابِ زکوٰۃ تک پہنچے تو اس بچی ہوئی تمام رقم کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

وراثت کی تقسیم کیسے ہو؟

سوال: وراثت کے تعلق سے ایک مسئلہ کے سلسلے میں آپ کو زحمت دینا چاہتا ہوں۔

ایک صاحب کے انتقال کے وقت ان کے ورثہ میں صرف ان کی بیوہ اور ایک بیٹی ہے۔ ان کے والدین، بھائیوں اور بہنوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں بہ قید حیات ہیں۔ ان کی وراثت کیسے تقسیم کی جائے؟ براہِ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیے۔

جواب: قرآن مجید میں تقسیمِ وراثت پرزور دینے اور اس کی تاکید کرنے کے ساتھ ورثہ کے حصے بھی بیان کر دیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق اگرمیّت کی اولاد ہو تو بیوہ کا حصہ آٹھواں(2.5%)ہے: فَإِن کَانَ لَکُمٌ  وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُم (النساء: ۱۲)اور اگر ایک بیٹی ہو تو وہ نصف(50%) مالِ وراثت کی مالک ہوگی: وَإِن کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ(النساء: ۱۱)باقی مالِ وراثت کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ قریب ترین مرد رشتے دار کو دیا جائے گا: فَمَا بَقِیَ فَلِأوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ (بخاری: ۶۷۳۲، مسلم:۱۶۱۵)

صورتِ مسئولہ میں بیوی کا حصہ آٹھواں(12.5%)اور بیٹی کا حصہ نصف( 50%) ہوگا۔ باقی بھتیجوں میں تقسیم ہوگا۔ بھتیجیوں، بھانجوں اور بھانجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

عقیقہ کا گوشت کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے؟

سوال: مجھے اپنی بھانجی کا عقیقہ کرنا ہے۔ میرے کچھ مہمان آنے والے ہیں۔ کیا میں اسی دن عقیقہ کر سکتا ہوں، تاکہ اس کے گوشت سے مہمانوں کی دعوت کر دی جائے؟ کیا عقیقہ کا گوشت غریبوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے، یا اپنے رشتے داروں کی دعوت کر دینے یا ان میں گوشت تقسیم کر دینے سے عقیقہ ہوجائے گا؟

جواب: مستحب یہ ہے کہ عقیقہ بچے، بچی کی پیدائش کے ساتویں دن کیا جائے۔ اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو چودھویں دن اور اس دن بھی ممکن نہ ہو تو اکیسویں دن عقیقہ کرنے کا تذکرہ روایات میں ملتا ہے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی بھی دن کیا جا سکتا ہے۔

اگر بچے کی ولادت ہوئی ہو تو دو بکرے اور بچی کی ولادت کی صورت میں ایک بکرا عقیقہ میں ذبح کرنا چاہیے۔ یہ بھی مستحب کے درجے میں ہے، ورنہ بچے کی ولادت کی صورت میں بھی ایک بکرا ذبح کیا جا سکتا ہے۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ عقیقہ کا مقصود قربانی کی طرح تقرّب الیٰ اللہ ہے۔ اس لیے بڑے جانورمیں لڑکے کے عقیقے کی صورت میں دو حصے اور لڑکی کے عقیقے کی صورت میں ایک حصہ لیا جا سکتا ہے اور ایک بڑے جانور میں کچھ حصے قربانی کے اور کچھ حصے عقیقے کے ہو سکتے ہیں۔

عقیقے کا گوشت قربانی کی طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اسے پکا کر دوست و احباب اور رشتے داروں کی دعوت بھی کی جا سکتی ہے۔

کیا دورانِ عدّت عورت گھر سے باہر جاسکتی ہے؟

سوال: (۱) میرے دوست کی والدہ عدّت گزار رہی ہیں۔ ان کی آنکھ میں کچھ تکلیف ہوگئی ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر کے پاس جا سکتی ہیں؟ اور اگر ڈاکٹر آپریشن کے لیے کہے تو کیا وہ اسپتال میں داخل ہو سکتی ہیں؟

(۲) میرے شوہر کے انتقال کو دو ماہ ہوگئے ہیں۔ اس ہفتے میرے B.Aکے امتحانات ہیں۔ کیا میں دورانِ عدّت امتحان دینے کالج جا سکتی ہوں؟

(۳) میرے پھوپھا کا ابھی چند دنوں قبل انتقال ہوگیا۔ ان کا ایک بیٹا ان کے ساتھ رہتا تھا۔ دوسرے بیٹے ملازمت کے سلسلے میں دوسرے مقامات پر مقیم ہیں۔ ایک بیٹا اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ کیا عورت جہاں شوہر کے ساتھ رہتی تھی، اس کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر عدّت گزار سکتی ہے؟

(۴) میری ایک رشتے دار خاتون کی عدّت پوری ہونے میں ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ کیا وہ اس دوران میں حج کے لیے جا سکتی ہیں؟

جواب: عدّت کے دوران عورتوں کو گھر میں ٹِک کر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِھِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْءٍ (البقرۃ: ۲۲۸)

’’اور مطلّقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَّعَشْراً (البقرۃ:۲۳۴)

’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن تک خود کو روکے رکھیں۔‘‘

’خود کو روکے رکھنے ‘سے مراد یہ ہے کہ وہ اس عرصے میں دوسرا نکاح نہ کریں۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو عدّت کے دوران گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے ۔ حضرت فُریعہ بنت مالکؓ(حضرت ابو سعید خدریؓ کی بہن) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:

اُمْکُثِی فِی بَیْتِكِ حَتّٰی یَبْلُغَ الکِتَابُ أجَلَهٗ ( ابو داؤد:۲۳۰۰)

’’عدت پوری ہونے تک اپنے گھر میں رہو۔‘‘

البتہ اگر کوئی عذر ہو تو عورت حسبِ ضرورت گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ مثلاً وہ بیمار ہوجائے تو ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے، کسی آپریشن کی ضرورت ہو تو اسپتال میں ایڈمِٹ ہو سکتی ہے، وہ کہیں ملازمت کرتی ہو اور اسے رخصت نہ مل پا رہی ہو تو وہ ملازمت جوائن کر سکتی ہے، وہ تعلیم حاصل کر رہی ہو اور اسے امتحان دینا ہوتو وہ امتحان ہال تک جا سکتی ہے، اس کی زمین جائیداد پر کوئی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو تووہ پولیس تھانے یا عدالت جا سکتی ہے، وغیرہ۔

اسی طرح عورت وقت ِ ضروت کسی دوسری جگہ منتقل ہو کر عدّت گزار سکتی ہے۔ مثلاًوہ جس گھر میں شوہر کے ساتھ رہتی تھی وہ کرایے پر ہو اور مالکِ مکان اسے خالی کروانے پر بہ ضد ہو، یا عورت تنہا رہ گئی ہو اورگھر میں اس کا تنہا رہنا پُر خطر ہو، یا وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں کسی سہارے کی محتاج ہو۔ عورت جہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی، وہاں اب بھی اس کا ایک بیٹا رہتا ہو تو دوسرے بیٹے  کے ساتھ اس کا کہیں اور منتقل ہونا درست نہیں ہے۔

عدّت کے دوران عورت کا سفر حج پر جانا صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حج پر جانا کوئی مجبوری اور عذر نہیں ہے۔ عدّت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی حج کیا جا سکتا ہے۔

جون 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau