رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

بگڑے ہوئے شوہر کی اصلاح کا صحیح طریقہ

سوال: میری شادی ایک جانے پہچانے خاندان میں ہوئی ہے۔ میری والدہ اور ساس بہت قریبی سہیلیاں تھیں۔ پچیس سال سے ان کے درمیان تعلقات تھے۔ میرے والد کا انتقال میرے بچپن میں ہوگیاتھا۔ میرے بھائی نے میری کفالت اور تعلیم و تربیت کی، پھر میری شادی کے تمام مصارف برداشت کیے۔ شادی سے قبل میرے شوہر نے مجھے دیکھ کر اپنی رضامندی دی تھی۔ شادی کے بعد کچھ عرصے تک میری سسرال والوں کے تعلقات میرے میکے والوں سے ٹھیک رہے۔ لیکن پھر میرے شوہر میرے میکے والوں سے چڑنے لگے۔ وہ اپنی بہن اور بہنوئی سے تو خوب ربط ضبط رکھتے ہیں، لیکن میرے بھائی، والدہ اور دوسرے رشتے داروں سے نہ خود کبھی ملتے ہیں نہ فون پر ہی ان کی خیریت لیتے ہیں۔ بل کہ ان کامجھ سے ملنے کے لیے آنا بھی پسند نہیں کرتے۔البتہ میرے ساتھ ان کارویہ اچھا رہتاہے۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انھوںن ے شادی کی سال گرہ پر مجھے لیپ ٹاپ کاتحفہ دیا۔ وہ جو کچھ کماتے ہیں میرے حوالے کردیتے ہیں اور مجھے پوری آزادی ہوتی ہے کہ اس میں سے جو چاہوں خرچ کروں۔

میں اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے شہر میں رہتی ہوں۔ جب میں وطن جاتی ہوں تو سسرال کے تمام رشتے داروں کے لیے تحائف لے کر جاتی ہوں، لیکن میرے شوہر میرے میکے والوں کے لیے کوئی تحفہ دیں، یہ تودور کی بات ہے پوچھتے تک نہیں کہ میں ان کے لیے کچھ لے کر جارہی ہوں یا نہیں۔

میں پہلی مرتبہ امید سے ہوئی تو میرے شوہر نے دباؤو ڈالاکہ میں اسقاط کروالوں۔ میں تیار نہیں ہوئی۔ وضع حمل کے دن قریب آئے تومیں اپنے میکے چلی گئی۔ وہیں ایک بچی کی ولادت ہوئی۔ یہ خبر سن کر میرے بھائی، جو دوسری جگہ سروس کرتے ہیں،وہ تو فوراً گھر پہنچ گئے، لیکن میرے شوہر ایک مہینے کے بعد آئے۔ مجھے محسوس ہوتاہے کہ وہ بچی کی ولادت سے خوش نہیں ہوئے۔

میرے شوہر کی ایک بُری عادت یہ ہے کہ وہ جب میرے ساتھ باہر نکلتے ہیں تو دوسری عورتوں کو یا پوسٹروں اور ہارڈنگس میں ان کے فوٹودیکھ کر مختلف تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ میری بھنویں موٹی ہیں اور ہاتھوں اور پیروں میں بال ہیں۔ مجھے احساس ہوتاہے کہ انھیں یہ پسند نہیں ہے۔ کیا میں اپنی بھنویں پتلی کراسکتی ہوں ؟ اور ہاتھوں پیروں میں Waxingکرسکتی ہوں؟

اپنے شوہر کے بارے میں جب سے مجھ پر ایک معاملے کاانکشاف ہواہے، میرا سارا سکون غارت ہوگیاہے اور میں شدید ذہنی الجھن کاشکار ہوگئی ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے ڈپریشن کا مرض لاحق ہوگیاہے۔ ایک مرتبہ میرے دل میں یہ تجسس پیداہواکہ میرے شوہر کے لیپ ٹاپ میں کیاکیا ہے؟ انھوں نے Passwordلگارکھاتھا۔ میں نے اسے دریافت کیا، لیکن انھوں نے نہیں دیا۔ میں کوشش کرتی رہی، یہاں تک کہ میں نے اسے جان لیا۔ لیپ ٹاپ کھولا تو میں چکراکر رہ گئی۔ انھوںن ے انتہائی فحش فلمیں اور گندے گانے لوڈ کررکھے تھے۔ میرے اللہ! میرے شوہر اتنے بُرے ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ میں نے ان سے خوب جھگڑا کیا۔ بالآخر انھوں نے وعدہ کیاکہ آئندہ وہ ان گندے کاموں سے بچیں گے، میں نے ان پر اعتبار کرلیا، لیکن یہ میری خام خیالی تھی۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر انھیں گندی تصویریں دیکھتے اور فحش گانے سنتے ہوئے پکڑلیا۔ پھرتو میں بہت روئی اور انھیں بھی خوب سخت سست کہا۔ انھوں نے پھر وعدہ کیاکہ اب وہ خود کو سدھار لیں گے۔ اس صورت حال سے مجھے شدید کوفت ہونے لگی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ میں کیاکروں؟ اپنے شوہر کی بُرائی میں کسی سے کربھی نہیں سکتی تھی۔ صرف اپنی بہن اور بھائی سے اپنی الجھن بیان کی، لیکن ان سے بھی مجھے کچھ رہ نمائی نہیں مل سکی۔

اب میرے شوہر میں ایک دوسری بُرائی یہ پیداہوگئی ہے کہ وہ گھر میں ہر وقت ٹی وی آن رکھتے ہیں۔ شام کو آفس سے آتے ہی ٹی وی چلادیتے ہیں، جو سوتے وقت تک برابر چلتا رہتاہے، بل کہ بسااوقات سوجاتے ہیں اور ٹی وی چلتا رہتاہے۔ اس پرآنے والے پروگرام بہت زیادہ فحش اور عریاں تو نہیں ہوتے، لیکن انھیں اچھا پروگرام بھی نہیں کہاجاسکتا۔ میں انھیں منع کرتی ہوں تو وہ مانتے نہیں۔ جھگڑنے پرآمادہ ہوجاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ ٹی وی کو پیک کردیں گے یا بیچ دیں گے۔

کچھ دنوں قبل میں نے اپنا ایک فوٹو Facebook پر ڈال دیا۔ اسے صرف میرے قریبی رشتے دار یا کالج کے زمانے کے دوست واحباب دیکھ سکتے تھے، لیکن میرے شوہر کو معلوم ہوا تو انھوں نے مجھے بہت ڈانٹا اور میرے کردار پر شبہ کرنے لگے۔ میں نے صفائی دی اور بات نہ بڑھے، اس لیے ان سے معافی مانگ لی۔

میرے شوہر پنج وقتہ نمازوں سے غافل ہیں۔ وہ صرف جمعے کی نماز پڑھتے ہیں۔ میں کبھی ان سے نماز پڑھنے کے لیے کہتی ہوں تو جواب دیتے ہیں کہ تم پڑھ لو، میں بعد میں پڑھ لوں گا۔ میں الحمدللہ! نمازوں کی پابندی کرتی ہوں۔ قرآن مجید کی تلاوت اور اذکار کااہتمام کرتی ہوں۔ رات میں اٹھ کر تہجدبھی پڑھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیںبھی کرتی ہوں کہ میرے شوہر کی عادتیں سدھاردے اور انھیں سچاپکا مسلمان بنادے۔ لیکن میری دعائیں قبول ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہیں۔

میں نے دل پر جبر کرکے اپنے اور اپنے شوہر کے بارے میں تفصیل سے اتنی باتیں آپ سے اس لیے لکھ دی ہیں، تاکہ آپ ان کی روشنی میں مناسب رہ نمائی فرمائیں کہ ان حالات میں میں کیا کروں؟ مجھے ڈر لگا رہتاہے کہ کہیں میری ازدواجی زندگی برباد ہوکر نہ رہ جائے۔ بہ راہِ کرم اپنے مشوروں سے نوازیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے۔

[یہ خط اور بھی مفصل تھا، اسے مختصر کیاگیاہے۔ نام اور پتا ظاہر کرنامصلحت کے منافی ہے]

جواب: آپ کا مفصل خط پڑھا۔ جو کچھ آپ نے تحریر کیاہے اس کی روشنی میں کچھ مشورے درج کررہاہوں۔ جذباتی ہونے کے بجائے ان باتوں پر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غور کیجیے۔ ان شاء اللہ آپ کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور آپ کی ازدواجی زندگی خوش گوار ہوجائے گی۔

۱- آپ نے لکھاہے کہ آپ کے شوہر آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کا رویہ آپ کے ساتھ اچھا رہتاہے۔ انھوں نے سال گرہ پر آپ کو لیپ ٹاپ کاتحفہ دیا۔ آپ پر ان کے اعتماد کامظہر یہ ہے کہ اپنی کمائی وہ آپ کے حوالے کردیتے ہیں اور آپ اپنی مرضی سے اسے خرچ کرتی ہیں۔ وہ آپ کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور آئندہ بھی آپ کو ساتھ رکھنے میں انھیں کوئی تردد نہیں ہے۔ محبت کاجواب محبت سے دینا چاہیے۔ حدیث میں زوجین کے درمیان محبت کو بے مثال قرار دیاگیاہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’دو محبت کرنے والوں کے درمیان تعلق کاذریعہ نکاح سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔‘‘  ﴿ابن ماجہ:۱۸۴۷﴾

۲-آپ کے والد صاحب کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے آپ کی سرپرستی کی۔ اس بناپر آپ کی ان سے شدید محبت ہونا فطری ہے۔ لیکن آپ کے شوہر بھی ان کو اتنا ہی چاہیں جتنا آپ چاہتی ہیں، یہ ناممکن بھی ہے اورغیرفطری بھی۔ آپ کا احساس ہے کہ آپ کے شوہر اپنی بہن اور بہنوئی وغیرہ سے گھل مل کر رہتے ہیں، مگر آپ کے میکے والوں سے زیادہ ربط ضبط نہیں رکھتے، یہ چیز تو فطری ہے۔ اس پر آپ کی شکایت مناسب نہیں ہے۔

۳- سسرالی رشتے داروں سے اچھے تعلقات رکھنا شوہر اور بیوی دونوں کی ذمے داری ہے۔ قرآن کریم میں نسبی اور سسرالی دونوں رشتوں کاتذکرہ کیاگیاہے اور دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے۔ ﴿الفرقان:۵۴﴾ حدیث میں بھی سسرالی رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ ﴿مسلم:۲۶۴۳، احمد:۵/۱۷۴﴾ اگر آپ کے شوہر اپنی یہ ذمے داری نہیں نبھاتے تووہ قصوروار ہیں۔ آپ اپنے سسرالی رشتے داروں کا خیال رکھتی ہیں تو بہت اچھا کرتی ہیں۔ اپنے وطن جائیں تو اپنے حقیقی اور سسرالی دونوں طرح کے رشتے داروں کی فون کے ذریعے خیریت لیتی رہیں۔اگر آپ کے شوہر آپ کے خونی رشتے داروں کے ساتھ احترام سے نہیں پیش آتے، ان کی خیریت نہیں معلوم کرتے تو بدلے میں آپ ان کے خونی رشتے داروں سے اعراض نہ کیجیے۔

۴- شادی کے بعد اولاد ہونا اللہ کی طرف سے میاں بیوی کے لیے تحفہ ہوتاہے۔ اولاد کی رغبت اور خواہش فطری طورپر ہر شخص کے دل میں ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس کا حکم دیاگیاہے۔ ﴿البقرہ:۲۲۳﴾ لیکن کوئی جوڑا اگر اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے بچے کی پیدائش کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کرنا چاہے تو اس کے لیے تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ البتہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنا زیادہ موزوں ہے اس کے مقابلے میں کہ حمل ٹھہرجائے، پھر اس کا اسقاط کروایاجائے۔ اس سلسلے میں زوجین باہمی رضامندی سے کوئی تدبیر اختیارکرسکتے ہیں۔

۵- آپ کی ڈیلیوری آپ کے میکے میں ہوئی، اس لیے آپ کے بھائی کو تو موقع پرپہنچنا ہی چاہیے تھا۔ یہ ان کا فرض تھا، لیکن شوہر اگر کسی وجہ سے تاخیر سے پہنچے تو یہ چیز بھی باعث شکایت نہیں ہے۔ آپ کی شکایت اس وقت بجاہوتی جب آپ اپنی سسرال میں ہوتیں، اس کے باوجود شوہر آپ کی خبرگیری میں کوتاہی کرتے۔

۶- ہرباپ کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس کااظہار الفاظ سے اور عمل سے کرتے ہیں اور کچھ لوگ سنجیدہ ہوتے ہیں، جو کھل کر اظہار نہیں کرتے۔ اس لیے یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ کے شوہر کو بچی سے اتنی محبت نہیں ہے،جتنی ہونی چاہیے۔

۷- آپ کامسئلہ یہ ہے ہی نہیں کہ آپ کی بھنویں موٹی ہیں یا ہاتھوں پیروں میں زیادہ بال ہیں، اس لیے اگر آپ بھنویںپتلی کرلیں یا ہاتھوں پیروں میں Waxingکروالیں تو آپ کے شوہر آپ کو زیادہ سے چاہنے لگیں گے۔ آپ کے بیان کے مطابق انھوںن ے آپ کو دیکھ کر شادی کی ہے۔ اگر آپ کی جسمانی ہیئت انھیں ناپسند ہوتی تو وہ شادی پر آمادہ ہی کیوں ہوتے۔ حدیث میں بھنویں پتلی کرنے سے صاف الفاظ میں منع کیاگیاہے، اس لیے آپ خود یہ اقدام نہ کریں۔ لیکن اگر آپ کے شوہر صاف لفظوں میں آپ سے ایسا کرنے کی خواہش اور اصرار کریں تو آپ ایسا کرسکتی ہیں۔

۸- آپ کی الجھن اور ڈپریشن کااصل سبب یہ ہے کہ آپ کے بیان کے مطابق آپ کے شوہر فحش فلمیں دیکھتے اور گندے گانے سنتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے انھیں ان چیزوں سے بچنا چاہیے اور اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ ان چیزوں میں مبتلا ہوگئے ہیں تو ایک نیک بیوی کی حیثیت سے آپ کو انھیں ان کاموں سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن ان کی اصلاح کامناسب طریقہ وہ نہیں ہے جو آپ نے اختیار کیاہے۔ وہ جب تک گھر میں رہیں انھیں اتنی اپنائیت دیجیے کہ انھیں دوسری خرافات میں پڑنے کی خواہش ہی نہ ہو۔ ان کے سامنے شائستہ طریقے سے ان کاموں کی خباثت واضح کیجیے۔انھیں بتائیے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے سختی سے روکاہے اور یہ کہ دوسرے انسانوں کی نظروں سے کتنا ہی چھپاکر ان کاموں کو کیاجائے، مگر اللہ تو دیکھ رہاہے۔ امید ہے کہ آپ کی باتیں ضرور اپنا اثر دکھائیںگی اور ان کی اصلاح ہوجائے گی۔

۹- آپ نے کئی کام غلط کیے ہیں، جنھیں آپ کو ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب عہد کیجیے کہ آئندہ ان سے بچیں گی۔ پہلا کام یہ کہ آپ نے اپنے شوہر کی جاسوسی کی، یہ جاننے کی کوشش کی کہ انھوں نے اپنے لیپ ٹاپ میں کیا کیا چھپارکھاہے؟ ان سے Passwordپوچھا۔ انھوں نے نہیں بتایا تو بھی آپ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں اور بالآخر اسے جان ہی لیا۔ اس طرح ان کی مرضی کے خلاف کام کیا اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ زوجین کے درمیان قریبی تعلق کی بنیاد باہمی اعتماد ہے۔ اگر کسی ایک کو دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جائے تو یہ تعلق دیرپا نہیں رہ سکتا اور خوش گواری باقی نہیں رہ سکتی۔ دوسرا غلط کام یہ کیاکہ اپنے شوہر کی خامیاں اور کم زوریاں اپنی بہن اور بھائی کو بتائیں، حالاں کہ نہ آپ کے بھائی نے آپ سے اپنی بیوی کی کم زوریوں کا تذکرہ کیا، نہ آپ کی بہن نے آپ سے اپنے شوہر کی کم زوریاں بتائیں۔ قرآن کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کالباس کہاگیاہے۔ ﴿البقرہ:۱۸۷﴾ لباس زینت کاذریعہ ہے اور جسم کے عیب کو بھی چھپاتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کے عیوب کسی اور پر ظاہر نہیںکرنا چاہیے۔ اپنے دوستوں اور سہیلیوں کے سامنے ہمیشہ اپنے شوہر کی صرف خوبیاں ہی بیان کیجیے، ان کی کوئی خامی ہرگز زبان پر نہ لائیے۔ واقعتہً کوئی کم زوری ہو تو اسے آپس میں محدود رکھ کر حل کرنے کی کوشش کیجیے۔ آپ نے تیسرا غلط کام یہ کیاکہ اپنا فوٹو فیس بک پر ڈالا اور اپے شوہر کو نہیں بتایا۔ کوئی کام شوہر کو اندھیرے میں رکھ کر نہ کیجیے اور کوئی کام ایسا نہ کیجیے جس سے شوہر آپ پر شک کرنے لگ جائے۔ ان کا ڈانٹنا درست تھا اور آپ نے اپنی غلطی مان لی، یہ اچھا کیا۔

۱۰- ہر مرداور عورت اپنی انفرادی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس پر لازم ہے کہ دین کے تقاضوں پر عمل کرے اور بُرے کاموں سے حتی الامکان اپنے کو بچائے۔کوئی دوسرا شخص خواہ اس کا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اس کے گناہوں کااس پر کچھ وبال نہ ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا زندگی بھر کافر رہا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کی موت حالتِ کفرمیں ہوئی۔ حضرت نوح اور حضرت لوط علیہماالسلام کی بیویوں کو ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوئی تو اس کا وبال ان پیغمبروں پرنہیں آیا۔ مصر کابادشاہ فرعون بڑا ظالم وجابر اور اللہ کانافرمان تھا۔ اس کی بیوی آسیہ کو ایمان کی توفیق ملی تو فرعون کے کفر نے ان کا کچھ نہ بگاڑا۔ آپ اپنی ذاتی حیثیت میںاگر دین کے تقاضوں پر عمل کررہی ہیں تو مطمئن رہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہوگا اورآخرت میں اس کااچھا بدلہ عطا کرے گا۔

۱۱- شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے سے بڑا قریبی رشتہ ہوتاہے۔ دونوں کی ذمے داری ہے کہ نہ صرف دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کا بھلاسوچیں ، بل کہ دین پرچلنے کے معاملے میں بھی ایک دوسرے کی مددکریں۔ کسی سے کوتاہی ہوتو دوسرا محبت اور دل سوزی کے ساتھ اسے سمجھائے۔ ایک حدیث میں بڑے اچھے انداز میں یہی بات کہی گئی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اس مردپر رحم کرے جو را ت میں اٹھے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھائے اور دونوں نماز پڑھیں اور اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں اٹھے اور اپنے شوہر کو اٹھائے اور دونوںمل کرنماز پڑھیں۔‘‘ ﴿ابودائود:۱۳۰۸﴾ آپ اپنے شوہر کو دین کے راستے پر چلانا چاہتی ہیں، یہ بڑی اچھی کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور آپ کو اس کا اجر عطا کرے گا۔

۱۲-کسی دوسرے شخص کو خواہ وہ شوہر ہو یا کوئی اور، دین کی دعوت دینے، اچھے کاموں کی طرف مائل کرنے اور بُرے کاموں سے روکنے میںحکمت کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن کریم میں اس کاحکم دیاگیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘‘ ﴿النحل:۱۲۵﴾ حکمت یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اس وقت نہ ٹوکاجائے جب وہ کسی بُرائی کا ارتکاب کررہاہو۔ کیوں کہ اس صورت میں اس کا زیادہ امکان رہتاہے کہ وہ اُس بُرائی پر جم جائے اور اس کے اندر ضد پیدا ہوجائے۔ اس کی بجائے کسی مناسب وقت اسے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

۱۳-بُری عادتیں آسانی سے نہیں چھوٹتیں اور نشے کی لَت لگ جائے تو اس سے چھٹکارا دشوار ہوتاہے۔ ہر شخص جانتاہے کہ سگریٹ، گٹکااور شراب وغیرہ سے صحت کو نقصان ہوتاہے، لیکن اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس کے عادی ہوتے ہیں۔ ٹی وی ، انٹرنیٹ وغیرہ پر غیرشائستہ پروگراموں کو دیکھنے کی بھی بعض لوگوں کو لَت ہوتی ہے، جو شراب نوشی کی طرح چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ اس میں مبتلا لوگ قابل رحم ہوتے ہیں، حکمت کے ساتھ ان کی عادتوں کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ٹی وی/کمپیوٹروغیرہ پر دیکھنے کے لیے بہت سے اچھے چینل /پروگرام موجود ہیں۔ قرأت،نعت، دینی پروگراموں کی آڈیو/ویڈیوسی ڈیز وغیرہ بھی پائی جاتی ہیں۔ ان پروگراموں کو انٹرنیٹ سے بھی فری ڈائون لوڈ کیاجاسکتا ہے۔ ہوسکے تو ان چیزوں میںاپنے شوہر کو مصروف رکھنے کی کوشش کیجیے۔ بُری عادتوں میںپڑنے کی وجہ سے ہی آدمی اچھے کاموں سے دور ہوجاتاہے۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، ان کے ساتھ اٹھابیٹھاجائے، انھیں اپنے یہاں مدعو کیاجائے، ان کے یہاں جایاجائے تو بھی اچھے کاموں کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے۔

۱۴- آپ اپنے شوہر کی اصلاح میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ذرا سوچیے: جب آپ نے ان سے نمازپڑھنے کے لیے کہاتو انھوں نے کہا:تم پڑھ لو، میں بعد میں پڑھ لوںگا۔ وہ غصے میں یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ میں نہیں پڑھوںگا اور آپ ان کاکچھ نہ بگاڑپاتیں۔ آپ نے انھیں ٹی وی روکا تو انھوں نے کہاکہ ہم اسے پیک کردیں گے یا بیچ دیں گے۔ وہ غصے میں یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ میں ضرور دیکھوںگا۔

۱۵-ایک اہم بات یہ کہ ازدواجی زندگی میں خوش گواری اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے، جب آپ شوہر کو فائنل اتھارٹی کی حیثیت دیں اور گھر کے معاملات میں ان کی رعایت کریں۔ وہ بہک رہے ہوںتو انھیں سنبھالیے، کوئی غلط کام کررہے ہوںتو انھیں صحیح مشورہ دیجیے، لیکن گھر کا نظام شوہر کی مرضی سے چلناچاہیے۔ آپ اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کریں گی یا اپنے آپ کو ان سے بالاتردکھائیں گی تو گھر کانظام درہم برہم ہوجائے گا اور آپ اپنا ذہنی سکون کھودیں گی۔ قرآن وحدیث میں اسی کاحکم دیاگیاہے۔ اللہ نے شوہر کو گھر کا منتظم بنایاہے، جس طرح آفس میں ایک ’’باس‘‘ ہوتاہے، جس کاکہنا تمام لوگ مانتے ہیں، اسی طرح گھر کا باس شوہر ہے۔ گھر میں اسی کی چلنی چاہیے۔ البتہ شوہر کو تمام معاملات میں بیوی سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے اور باہم رضامندی سے تمام فیصلے ہونے چاہییں۔

۱۶- آخری ، لیکن حقیقت میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے لیے، اپنے شوہر کے لیے اور اپنے خاندان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کیجیے، وہ سننے والا ہے، ان شاء اللہ آپ کے حالات ضرور سدھریں گے اور آپ کی ازدواجی زندگی خوش گوار ہوجائے گی۔

مارچ 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau