رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

مَحرم کے بغیر عورت کا سفر حج

سوال: میری سالی ﴿بیوی کی سگی بہن﴾ جو بیوہ ہے، اس کا کوئی لڑکا بھی نہیں ہے، اس کے بھائی کا بھی کافی عرصے پہلے انتقال ہوچکا ہے، اس کی تمنا اور دلی خواہش فریضۂ حج ادا کرنے کی ہے، لیکن کسی محرم کاساتھ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اب تک اداے حج سے محروم ہے۔ اس سال ہم میاں بیوی کا حج پر جانے کا ارادہ ہے۔ ابھی فارم بھرے جانے ہیں۔ میں چاہتاہوں کہ اپنی سالی کو بھی اپنی بیوی کے ساتھ حج کے لیے لے جائوں۔ آپ سے استدعا ہے کہ بہ راہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بتانے کی مہربانی فرمائیں کہ کیا وہ ہمارے ساتھ حج کے لیے جاسکتی ہے؟

شکیل اختر،زینب منزل، موگھٹ روڈ، کھنڈوہ ﴿ایم پی﴾

جواب:حج کی فرضیت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے عائد ہوتی ہے:

وَلِلّہِ عَلٰی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْْہِ سَبِیْلاً ﴿آل عمران:۹۷﴾

’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس کے گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔‘

’استطاعت‘کی تشریح کرتے ہوئے علماءنے کچھ شرائط مقرر کی ہیں۔ ان میں سے کچھ عام ہیں، جن کا اطلاق مردوں اور عورتوں دونوں پر ہوتاہے اور کچھ عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ عام شرائط یہ ہیں: زادِ راہ اور سواری میسر ہو، جسمانی صحت ہو، راستے پرامن ہوں اور اتنا وقت ہوکہ زمانۂ حج میں مکہ پہنچاجاسکتا ہو۔ عورتوں کے لیے مزید دوشرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ عورت عدّت نہ گزار رہی ہو اور دوسری یہ کہ وہ اپنے شوہر یا محرم کے ساتھ ہو۔

محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے نسب یا سسرالی رشتہ یا رضاعت کی وجہ سے عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ مثلاً بیٹا، باپ،بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، داماد، خسر وغیرہ۔ بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں، جن میں کسی عارضی سبب سے عورت سے نکاح حرام ہوتاہے۔ وہ سبب دور ہوجائے تو نکاح جائز ہوگا۔ مثلاً بیوی کے زندہ رہتے ہوئے اس کی بہن یعنی سالی سے نکاح نہیں ہوسکتا، لیکن اگر بیوی کا انتقال ہوجائے تو سالی سے نکاح ہوسکتا ہے۔ فقہائ نے عورت کے سفرِ حج کے سلسلے میں ابدی محارم کااعتبار کیا ہے، عارضی محارم کا نہیں۔

عورتوں کے لیے مخصوص شرائط میں سے پہلی شرط پر تمام علمائ کا اتفاق ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَا تُخْرِجُوہُنَّ مِن بُیُوتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْن ﴿الطلاق:۱﴾

’﴿زمانۂ عدت میں﴾ نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔‘

اسی طرح دوسری شرط پر بھی تمام علمائ کا اتفاق ہے،اگر عورت نفلی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ رہی وہ عورت جس پر حج فرض ہے، کیا اس کے لیے بھی سفر حج میں شوہر یا محرم کے ساتھ ہونا ضروری ہے؟ اس میں فقہائ کا اختلاف ہے۔بعض فقہاءکہتے ہیں کہ عورت پر حج کے وجوب کے لیے شوہر یا محرم کی رفاقت ضروری ہے۔ اس رائے کے حامل حسن بصری، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، اعمش، اسحق،ابوثور کے علاوہ امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ ہیں۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابن عباسؓ  سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لاَیَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامراۃٍ اِلاَّ وَ مَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ وَلاَ تُسَافِرْامْرَاَۃٌ اِلَّا مَعَ ذِی مَحْرَمٍ

’کوئی مرد کسی اجنبی عورت سے تنہائی ہرگزمیں نہ ملے، مگر اس وقت جب اس کے ساتھ کوئی محرم ہو، اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘

راوی کہتے ہیں کہ اس موقعے پر ایک آدمی نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لیے جانے کا ارادہ رکھتی ہے، جب کہ میں نے فلاں غزوے میں شرکت کے لیے اپنا نام لکھادیا ہے۔ آپﷺ  نے فرمایا:

اِنْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَاَتِکَ ﴿بخاری:۳۰۰۶،مسلم:۱۳۴۱﴾

’جائو، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘

بعض دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ فرض حج کی ادائی کے لیے شوہر یا محرم پر عورت کاانحصار ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی وجہ سے شوہر یا کوئی محرم ساتھ نہ جاسکے تو عورت کسی ایسے گروپ میں شامل ہوسکتی ہے، جس میں معتبر مرد اور عورتیں ہوں۔ بل کہ ایسا گروپ بھی حج کے لیے جاسکتاہے، جس میں صرف عورتیں ہوں۔ اس رائے کے حاملین میں عطا، سعید بن جبیر، ابن سیرین اور اوزاعی کے علاوہ امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ ہیں۔

امام احمدؒ نے ﴿ایک قول کے مطابق﴾ نوجوان اور بوڑھی عورت میں فرق کیاہے۔ ان کے نزدیک بوڑھی عورت بغیر محرم کے سفر حج کرسکتی ہے، جواں عورت نہیں۔ بعض شافعی فقہا ء مثلاً شیرازیؒ  فریضۂ حج کے لیے عورت کو تنہا سفر کرنے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔امام ابن تیمیہؒ  کی بھی یہی رائے ہے کہ فرض حج کی ادائی کے لیے عورت محرم کے بغیر بھی سفر کرسکتی ہے۔

ان حضرات کی دلیل حضرت عدی بن حاتمؓ   سے مروی حدیث ہے، جس میںاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عدی کو مخاطب کرکے فرمایاتھا:

اِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَریَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الحِیْرَۃِ حَتَّی تَطُوْفَ بِالکَعْبَۃِ لَاتَخَافُ اَحَداً اِلَّااللّٰہ ﴿بخاری:۳۵۹۵﴾

’اگر تمھاری زندگی رہی تو تم ضرور دیکھوگے کہ ایک عورت تنہا حیرہ ﴿عراق کا ایک مقام﴾ سے سفرکرکے آئے گی اور خانۂ کعبہ کا طواف کرے گی۔ اسے پورے سفر میں اللہ کے سوا اور کسی کاخوف نہ ہوگا۔‘

یہ حضرات اس سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ   نے اپنی زندگی کے آخری سال ازواج مطہرات کو حج کے لیے روانہ فرمایاتھا تو ان کے ساتھ حضرت عثمان بن عفانؓ   اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ   کو بھیجاتھا۔ ﴿بخاری:۱۸۶۰﴾

حافظ ابن حجرؓ   نے لکھاہے: اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمرؓ  ، حضرت عثمانؓ  ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ   اور ازواج مطہرات بغیرمحرم کے عورت کے سفر کو جائز سمجھتے تھے اور دوسرے صحابہ کرامؓ   نے بھی ان کے اس عمل پر ان کی نکیر نہیں کی تھی۔ ﴿فتح الباری شرح صحیح البخاری، المکتبۃ السلفیۃ، ۴/۷۶﴾ یہ بھی مذکور ہے کہ پہلے حضرت عمرؓ   نے ازواج مطہرات کو سفر حج سے منع کردیاتھا، لیکن بعد میں انھوںنے اس کی نہ صرف اجازت دے دی تھی، بل کہ اس کا انتظام بھی کیاتھا۔

﴿فتح الباری، ۴/۷۴﴾

یہ حضرات عورت کے سفر حج کے لیے محرم کے بجائے امن وامان کی شرط لگاتے ہیں۔ یعنی عورت بغیر محرم کے اس صورت میں حج کے لیے سفر کرسکتی ہے، جب راستا پرامن ہو اور اس کی جان اور عزت وآبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

دیکھاجائے تو امام ابوحنیفہؒ  اور ان کے ہم نوا فقہائ کی رائے میں احتیاط کا پہلو ملحوظ ہے اور دوسرے فقہاء کی رائے میں جواز کا۔ اسی وجہ سے موجودہ دور کے علماءکی رایوں میں بھی اختلاف پایاجاتاہے۔ چنانچہ سعودی عرب کے علماءشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ ، شیخ محمد بن عثیمینؒ  اور شیخ محمد صالح المنجدنے عدم جواز کا فتویٰ دیاہے اور شیخ یوسف القرضاوی نے جواز کا۔ ﴿شیخ یوسف القرضاوی کے فتوی کے لیے ملاحظہ کیجیے فتاویٰ یوسف القرضاوی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، جلداول، ص:۱۷۹-۱۸۲﴾

نکاح ثانی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت یا اطلاع

سوال: بہ راہ کرم ایک مسئلے میں ہماری رہ نمائی فرمائیں:

ایک جوڑے ﴿میاں بیوی﴾ کے درمیان کئی سال سے تعلقات خراب چل رہے ہیں۔ تعلقات کی درستی کے لیے دونوں کے متعلقین کوشش بھی کررہے ہیں۔ بیوی شوہر کی رضامندی سے بہ سلسلۂ ملازمت بیرون ملک مقیم ہے، جہاں شوہر صاحب بھی کئی مرتبہ گئے ہیں اور چند ماہ قیام بھی کیا ہے۔ دونوں کے درمیان فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے روزانہ گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ایک دن اچانک شوہر نے خاموشی کے ساتھ نکاح ثانی کرلیا۔اس کی اطلاع نہ پہلی بیوی کو دی نہ اس کے ولی کو۔ ولی کو عین نکاح کے وقت پتا چلاتو اس نے نکاح کی مجلس میں پہنچ کر اس کو رکوانا چاہا۔ اس نے کہاکہ نکاح ثانی سے پہلے شوہر کو کم از کم اس کی اطلاع پہلی بیوی کو کرنی چاہیے۔ مگر نکاح خواں مولانا صاحب نے فرمایاکہ شریعت میںنکاح ثانی کے لیے شوہر کو اپنی پہلی بیوی کو اطلاع دینے کی قید نہیں رکھی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اخلاقاً بھی اسے بتانا ضروری نہیں ہے۔

بہ راہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ کیا پہلی بیوی کو پوری طرح اندھیرے میں رکھ کر نکاح ثانی کرلینا شرعاً اور اخلاقاً درست ہے؟ یہ بھی بتائیں کہ نکاح ثانی کے لیے کیا شرائط ، ضوابط اور آداب ہیں؟

محمد احمد

اے،بی، نگر، اناؤ ﴿یوپی﴾

جواب:اسلامی شریعت میں مرد کو بہ یک وقت ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے ، البتہ اس اجازت کو چار تک محدود کردیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِیْ الْیَتٰمٰی فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنَیٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَانْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃً ﴿النساء:۳﴾

’اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو۔‘

اس آیت کی ابتدا میں یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ عہدنبویﷺ  میں صاحبِ مال اور صاحب جمال یتیم لڑکی سے اس کا ولی اس کے مال وجمال کی وجہ سے نکاح تو کرلیتاتھا، لیکن دیگر عورتوں کی طرح اسے مہر اور دوسرے حقوق نہیں دیتاتھا۔ اس پر تنبیہ کی گئی کہ اگر یتیم لڑکیوں سے نکاح کروتو انھیں پورا حق دو، ورنہ دیگر عورتوں سے نکاح کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ تم ایک سے زائد ، چار عورتوں تک سے نکاح کرسکتے ہو۔ ﴿بخاری:۲۴۹۴، ۴۵۷۳، ۴۵۷۴، مسلم:۳۰۱۸﴾ آیت کے آخری حصے میں اس جازت کو بھی عدل سے مشروط کردیاگیا ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ عورتوں سے بہ یک وقت نکاح کی اجازت اسی صورت میں ہے، جب تم ان کے درمیان عدل کرسکو۔ اگر ان کے درمیان عدل نہ کرپانے کا اندیشہ ہوتو پھر ایک وقت میں ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔

بیویوں کے درمیان عدل کاتذکرہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَن تَسْتَطِیْعُوآْ أَن تَعْدِلُواْ بَیْْنَ النِّسَآئ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلاَ تَمِیْلُواْ کُلَّ الْمَیْْلِ فَتَذَرُوہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ﴿النساء:۱۲۹﴾

’بیویوں کے درمیان پوراپورا عدل کرنا تمھارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہوبھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ﴿قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ﴾ ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو اَدھر لٹکتا چھوڑدو۔‘

بعض حضرات کہتے ہیں کہ سورۂ نساءکی تیسری آیت میں کہاگیاہے کہ اگر بیویوں کے درمیان عدل نہ کرپانے کا اندیشہ ہوتو ایک ہی بیوی کرو اور اسی سورت کی آیت ۱۲۹میں صراحت ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرپانا کسی شخص کے لیے ممکن ہی نہیں، اس سے ثابت ہوتاہے کہ بہ یک وقت ایک سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ استنتاج صحیح نہیں ہے۔ آیت میں جس عدل کو ناممکن بتایاگیا ہے، اس کا تعلق قلبی تعلق اور محبت سے ہے۔ مختلف اسباب سے یہ چیز فطری ہے کہ آدمی ایک بیوی سے زیادہ محبت کرے اور دوسری بیوی یا بیویوں سے کم کرے۔ اور جس عدل کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیاگیاہے، اس کا تعلق نفقہ، کِسوۃ، سکنیٰ اور شب باشی کے حقوق میں مساوات سے ہے۔ یعنی جس قدر ایک بیوی کا نان ونفقہ برداشت کرے، اس کے لیے لباس و زیورات فراہم کرے، اسے رہائش کی سہولت دے اور اس کے ساتھ رات گزارے، اسی قدر دوسری بیوی کے ساتھ بھی معاملہ کرے۔ جو شخص دو بیویوں کے درمیان معاملات میں فرق روا رکھتاہے، اس کے لیے حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ آپﷺ  کا ارشاد ہے:

مَنْ کَانَتْ لَہ‘ امْرَأتَانِ فَمَالَ اِلٰی اِحْدَاہُمَا عَلَی الٔاخُریٰ جَائَ یَوْمَ القِیَامَۃِ وَشِقُّہ‘ مَائِلٌ ﴿ابوداؤد: ۲۱۳۳، ترمذی:۱۱۴۱﴾

’جس شخص کی دوبیویاں ہوں اور وہ ایک بیوی کی حق تلفی کرتے ہوئے دوسری بیوی کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کاایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔‘

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کے درمیان عدل ومساوات کا عملی نمونہ پیش فرمایاہے۔ آپﷺ  کی منظور نظر زوجہ ام المومنین حضرت عائشہؓ   بیان کرتی ہیں:

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ہم میں سے کسی کے پاس صرف اتنی ہی دیر ٹھہرتے تھے، جتنی دیر دوسری بیوی کے پاس ٹھہرتے تھے۔ آپﷺ  روزانہ ہم سب کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ہر بیوی سے قریب ہوتے، لیکن اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے، یہاں تک کہ آخر میں اس بیوی کے پاس جاتے تھے جس کی باری ہوتی تھی اور اس کے یہاں رات گزارتے تھے۔‘ ﴿ابودائود:۲۱۳۵﴾

اس بناپر شوافع اور حنابلہ کہتے ہیں کہ اگر ایک بیوی سے اِعفاف کا مقصد پورا ہورہا ہو، یعنی شوہر کی جنسی تسکین ہورہی ہو اور دوسری کی کوئی خاص ضرورت نہ ہوتو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا مستحب ہے۔ اس لیے کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں ان کے درمیان عدل نہ کرپانے کا اندیشہ ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھنے کی امید ہوتو ایک سے زائد ﴿چار تک﴾ عورتوں سے نکاح جائز ہے ﴿الموسوعۃ الفقہیۃ کویت، ۱۴/۲۲۰، بہ حوالہ مغنی المحتاج، ۲/،۱۲۷،۱۲۸، احکام القرآن للجصاص، ۲/۵۴﴾

شریعت میں نکاح ثانی کو پہلی بیوی کی اجازت یا اطلاع پر موقوف نہیں کیاگیا ہے۔ اس لیے کہ نکاح کا بار شوہر کو اٹھانا ہوتاہے۔ وہی نان و نفقہ اور دیگر حقوق کی ادائی کا ذمّے دار ہوتاہے۔ ان معاملات میں سے کسی کا تعلق پہلی بیوی سے نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں متعدد تضادات پائے جاتے ہیں اور متعدد ابہامات موجود ہیں۔ ابتدا میں کہاگیاہے کہ زوجین کے درمیان کئی سال سے تعلقات خراب چل رہے ہیں، جن کی درستی کی کوشش جاری ہے۔ معاً بعد یہ بھی کہاگیاہے کہ بیوی شوہر کی رضامندی سے بہ سلسلۂ ملازمت بیرون ملک مقیم ہے۔ نکاح کا ایک مقصد اِعفاف ہے۔ یعنی زوجین پاکیزہ زندگی گزاریں اور ان کی جنسی ضروریات پوری ہوں۔ بیوی کے بیرون ملک ملازمت سے یہ مقصد پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ خاندان میں نان و نفقے کی ذمے داری شوہر پر ہے نہ کہ بیوی پر۔ یہاں یہ واضح نہیں ہے کہ بیوی نے ملازمت، وہ بھی بیرون ملک، عام حالات میں، محض معیار زندگی بلند کرنے کے لیے اختیار کی ہے، یا کسی مجبوری اور حقیقی ضرورت کی تکمیل کے لیے۔

نکاح ثانی کو پہلی بیوی کی اجازت یا اطلاع سے مشروط کرنے کے بجائے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ شوہر ایک سے زائد نکاح کرنے کی صورت میں بیویوں کے درمیان عدل سے کام لے اور ان میں سے کسی کی حق تلفی نہ کرے۔یہی شریعت کامطلوب ہے۔

مئی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau