رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

کیا عورت دورانِ عدّت حج کے لیے جاسکتی ہے؟

سوال: میا ں بیوی نے حج کے لیے فارم بھرا تھا اور اس کی منظوری بھی آگئی تھی، لیکن اچانک شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اب بیوی عدّت میں ہے۔کیا وہ اس حالت میں کسی محرم کے ساتھ حج کے لیے جاسکتی ہے؟

غلام نبی کشافی،

کشمیر

جواب: شوہرکی وفات کے بعد عورت کے لیے عدّت کا حکم قرآن کریم میں صراحت سے مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً         ﴿البقرۃ:۲۳۴﴾

’تم میں سے جو لوگ مرجائیں، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔‘

اسی طرح صاحبِ استطاعت کے لیے حج کا حکم ہے:

وَلِلّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْْہِ سَبِیْلاً ﴿آل عمران:۹۷﴾

’لوگوں پر اللہ کایہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتاہو وہ اس کا حج کرے۔‘

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیاہو وہ اگر دورانِ عدّت حج کا سفر کرے گی تو عدّت کے حکم الٰہی کی پامالی ہوگی۔ حج کا عمل ایسا نہیں ہے کہ واجب ہوتے ہی فوراً اس کی ادائی ضروری ہو۔ اس لیے اسے آیندہ کے لیے ٹالاجاسکتا ہے۔ محترمہ کو چاہیے کہ اِس سال حج کاارادہ ملتوی کردیں، اپنی عدّت پوری کریں اور آیندہ اپنے کسی محرم کے ساتھ حج کا ارادہ کرلیں۔

مسجد نبویﷺ  میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت؟

سوال: برصغیر سے حج کے لیے سفر کرنے والوں میں اکثر عازمین پہلی مرتبہ سعودی عرب پہنچتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر کے بعد سب کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ مکہ مکرمہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی زیارت اور مسجد نبویﷺ  میں نماز پڑھنے کا شرف بھی حاصل کرلیں۔ اس لیے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے چالیس روزہ سفر کے دوران مدینے میں بھی آٹھ ،دس دن قیام کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مسجد نبویﷺ  میں چالیس نمازیں پڑھنے کی فضیلت پر مشتمل ایک حدیث بیان کی جاتی ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر ہر شخص مسجد نبویﷺ  میں تکبیرتحریمہ کے ساتھ چالیس نمازیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ حدیث کی اصل کیاہے؟ اگر یہ حدیث مستند اور صحیح ہے تو کیا ایسے موقعے پر اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر کسی خاتون کی کوئی نماز رہ گئی تو وہ اس فضیلت کو کیسے حاصل کرے گی؟ چالیس نمازوں کی تکمیل کے لیے مدینے میں رکنے سے قیام اور دوسرے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔

مقصود حسین

رائچور،کرناٹک

جواب: مسجد نبویﷺ  میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت کے بارے میں جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ حضرت انس بن مالکؓ  سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ صَلَّی فِی مَسْجِدِی اَرْبَعِیْنَ صَلَاۃً لَایَفُوْتُہ‘ صَلَاۃٌ کُتِبَتْ لَہ‘ بَرئَ ۃٌ مِّنَ النَّارِ وَنَجَاۃٌ مِنَ العَذَابِ وَبَرِیَٔ مَنَ النِّفَاقِ

’جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھیں کہ اس کی ایک نماز بھی نہیں چھوٹی اس کے لیے جہنم سے برأت اور عذاب سے نجات لکھ دی گئی اور وہ نفاق سے بھی پاک ہوگیا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند ﴿۳/۱۵۵،حدیث نمبر ۱۲۵۸۳﴾ اور طبرانی نے اپنی کتاب المعجم الاوسط ﴿۲/۳۲/۲/۵۵۷۶﴾ میں روایت کیا ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ اس لیے کہ اس میں مذکور ایک راوی ’نبیط‘ مجہول ہے اور اس سے روایت کرنے میں دوسرا راوی ابن ابی الرجال منفرد ہے۔ مشہور محدث علامہ محمد ناصرالدین الالبانی نے اپنی تصنیف سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ میں اس حدیث کو نقل کرکے اس پر تفصیل سے بحث کی ہے اور اسے ’منکر‘ قرار دیاہے۔ ان کی بحث کاخلاصہ درج ذیل ہے:

’اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ نبیط غیرمعروف ہے۔ ابن حبان نے اس کاتذکرہ اپنی کتاب الثقات میں کیاہے، لیکن ان کی عادت ہے کہ وہ مجہول افراد کو بھی ثقہ قرار دے دیتے ہیں۔ انھی پر اعتمادکرتے ہوئے ہیثمی نے اپنی کتاب مجمع الفوائد میں اس حدیث کی روایت کی ہے اور اس کے راویوں کو ثقہ کہا ہے۔ اس حدیث کی روایت منذری نے بھی اپنی کتاب الترغیب والترہیب میں کی ہے اور اس کے راویوں کو حدیث صحیح کے راوی قرار دیا ہے، لیکن یہ ان کا کھلا ہوا وہم ہے۔ اس لیے کہ نبیط حدیث صحیح کے راویوں میں سے نہیں ہیں۔ یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں بھی اسی طرح کا ضعف پایاجاتا ہے۔‘‘ ﴿سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ، دارالمعارف الریاض، ۱۹۹۲؁ء،۱/۵۴۰،حدیث نمبر۳۶۴﴾

مسجد نبویﷺ  میں نماز کی فضیلت پر ایک صحیح حدیث بخاری و مسلم میں مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ  بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صَلاَۃٌ فِی مَسْجِدِیْ ہٰذَاخَیْرٌمِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ اِلَّاالمَسْجِدَ الحَرَامَ﴿بخاری، کتاب فضل الصلاۃ ، باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، ۱۹۹۰، مسلم:۱۳۹۴﴾

’میری اس مسجد میں نماز کا ثواب دوسری کسی مسجد ﴿سوائے مسجد حرام کے﴾ میں نماز کے ثواب سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔‘

اس لیے حاجی کو مسجد نبویﷺ  میں جتنی زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھنے کی توفیق ملے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ چالیس کی گنتی پوری کرنے کے چکّر میں نہیں پڑنا چاہیے۔

کیا ایک قربانی گھر کے تمام افراد کے لیے کافی ہے؟

سوال: اگر ایک گھر میں کئی صاحبِ نصاب افراد ہوں،مثلاً شوہر بھی صاحب نصاب ہو، بیوی کے پاس اتنے زیورات ہوں جو نصاب تک پہنچتے ہیں، ان کے بیٹے بھی ملازمت یا تجارت کی وجہ سے اتنا کمارہے ہوں کہ وہ صاحب نصاب ہوں، اگرچہ ان کی ابھی شادی نہ ہوئی ہو اور وہ والدین کے ساتھ رہتے ہوں۔ تو کیاان میں سے ہر ایک پر قربانی واجب ہے یا گھرمیں صرف ایک قربانی کافی ہے؟

محمد رضوان خاں

ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی

جواب: قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہؒ  کے نزدیک یہ واجب ہے۔ دیگر فقہاء میں ربیعہؒ ، لیثؒ ، اوزاعیؒ ، ثوریؒ  اور ایک قول کے مطابق امام مالکؒ  کی بھی یہی رائے ہے۔

ان کا استدلال قرآن کریم کی اس آیت سے ہے:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر  ﴿الکوثر:۲﴾

’پس اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں قربانی کا حکم مطلق ہے اور مطلق حکم وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ آیت میں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور آپﷺ  کی تبعیت میں امت بھی اس کی مخاطب ہے۔ اس کے علاوہ یہ حضرات کچھ احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ  یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ وجوب ہر اس شخص پر ہے جس میں وجوب کی شرائط پائی جائیں۔ بہ الفاظ دیگر ایک قربانی ایک ہی شخص کے لیے کفایت کرے گی۔

امام شافعیؒ  اور امام احمدؒ  ﴿اور ایک قول کے مطابق امام مالکؒ  اور حنفی فقیہ قاضی ابویوسفؒ ﴾ اسے سنت موکدہ قرار دیتے ہیں۔ صحابہ اور تابعین میں سے ابوبکر، عمر، بلال، ابومسعود البدری، سوید بن غفلہ، سعید بن المسیّب، عطا، علقمہ، اسود، اسحاق، ابوثور اور ابن المنذررضی اللہ عہنم کی بھی یہی رائے ہے۔

یہ حضرات دلیل میں اس حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:

اِذَا دَخَلَتِ العَشْرُ وَاَرَادَاَحَدُکُمْ اَنْ یُّضَحِیَّ فَلَا یَمُسُّ مِنْ شَعْرِہٰ وَلَامِنْ بَشَرِہٰ شَیْئاً ﴿صحیح مسلم:۱۹۷۷﴾

’جب ذی الحجہ کے مہینے کا آغاز ہوجائے اور تم میں سے کسی شخص کا قربانی کرنے کاارادہ ہوتو وہ اپنے بال نہ بنوائے اور ناخن نہ تراشے۔‘

اس حدیث کا انداز بتاتا ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے۔ اگر یہ واجب ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہ فرماتے ’’اورتم میں سے کسی شخص کا قربانی کاارادہ ہو…‘‘

بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ  اور حضرت عمرؓ  سال، دوسال قربانی نہیں کرتے تھے ﴿السنن الکبری للبیہقی، دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدرآباد، ۹/۲۶۵﴾ اگر قربانی واجب ہوتی تو یہ حضرات کسی سال ناغہ نہ کرتے۔

جو فقہا قربانی کو سنت قرار دیتے ہیں، ان کے درمیان اس معاملے میں اختلاف ہے کہ کیا قربانی ہر شخص کے لیے سنت ہے یا ایک گھر کے لوگوں کے لیے ایک ہی قربانی کفایت کرتی ہے؟

قاضی ابویوسفؒ  کے نزدیک قربانی ’سنت عین‘ ہے، یعنی یہ ہر شخص کے لیے سنت ہے۔

امام مالکؒ  کے نزدیک یہ حکماً سنت عین ہے، یعنی اس کامطالبہ تو ہر شخص سے ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنی قربانی میں اپنے والدین اور بچوں کی طرف سے بھی نیت کرلے توان کی طرف سے بھی قربانی ادا ہوجائے گی اور وہ ثواب میں شریک ہوجائیں گے۔

امام شافعیؒ  اور امام احمدؒ  کے نزدیک قربانی سنتِ کفایہ ہے۔ یعنی اگر ایک گھر کاذمے دار قربانی کرے توگھر کے تمام افراد کی طرف سے قربانی اداہوجائے گی۔ ایک گھر میں وہ تمام افراد شامل ہیں جن کا نفقہ کسی ایک شخص کے ذمّے ہو۔

یہ حضرات دلیل میں حضرت ابوایوب انصاریؓ  کا قول پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک موقعے پر فرمایا:

کُنَّا نُضَحِیّ بِالشَّاۃ الوَاحِدَۃِ یَذْبَحُہَا الرَجُّلُ عَنْہُ وَعَنْ اَھْلِ بَیْتِہِ، ثُمَّ تَبَاھَی النَّاسُ بَعْدُ، فصَارَتْ مُبَاہَاۃً   ﴿ترمذی، ۱۵۰۵، موطا مالکَ:۲۰۳۱﴾

’ہم ایک بکری ذبح کرتے تھے۔ یہ قربانی آدمی اور اس کے گھروالوں، سب کی طرف سے کفایت کرتی تھی۔ بعد میں لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے زیادہ قربانی کرنے لگے اور یہ چیز فخرو مباہات کا ذریعہ بن گئی۔‘

حضرت ابوایوبؓ  کا یہ اندازِ بیان اسے حدیثِ مرفوع کا درجہ دے دیتا ہے۔ یعنی اس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی۔ ﴿تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت ۵/۷۶-۷۸﴾

کیا قربانی کا گوشت غیرمسلم کو دیا جا سکتا ہے؟

سوال: کیا قربانی کا گوشت کسی غیرمسلم کو دیاجاسکتا ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں؟

جواب: قربانی کے گوشت کے سلسلے میں حکم یہ ہے کہ اسے آدمی خود بھی کھاسکتاہے اور دوسروں کو بھی دے سکتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:

کُلُواوَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوْا ﴿مسلم:۱۹۷۱﴾

’﴿قربانی کا گوشت﴾ کھائو، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔‘

دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:

کُلُووَاَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا ﴿مسلم:۱۹۷۳﴾

’﴿قربانی کا گوشت﴾کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤاور ﴿آیندہ کے لیے﴾ روک لو۔‘

قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے یا آئندہ کے لیے روک کر رکھنے کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدا میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاتھا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایاجائے، یعنی استعمال کے لیے صرف اتنا گوشت روکاجائے جو تین دنوں کے لیے کفایت کرے، بقیہ صدقہ کردیاجائے۔ لیکن بعد میں آپﷺ  نے یہ ممانعت اٹھالی اور تین دن سے زیادہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

کسی حدیث میں قربانی کا گوشت غیرمسلم کو دینے کی ممانعت مذکور نہیں ہے۔ اس کا حکم عام صدقات کا ہے۔ جس طرح زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات غیرمسلم کو دیے جا سکتے ہیں، اسی طرح قربانی کا گوشت بھی اسے دیا جا سکتا ہے۔

میراث کا ایک مسئلہ

سوال: میری اہلیہ کا چند دنوں قبل انتقال ہوگیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے۔ میں چاہتاہوں کہ شرعی اعتبار سے اس کی تقسیم ہوجائے۔ ہمارا ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں۔ لڑکے اور بڑی لڑکی کی شادی ہوچکی ہے۔ چھوٹی لڑکی ابھی زیرتعلیم ہے۔ اہلیہ کے والدین کا انتقال ہوچکاہے۔ بہ راہ کرم مطلع فرمائیں کہ بینک کی رقم کو کس طرح تقسیم کیاجائے؟

عبدالقدیر

ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی

جواب: میراث کے احکام قرآن کریم میں مذکورہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ ان لَّمْ یَکُن لَّہُنَّ وَلَدٌ فَان کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصِیْنَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ ﴿النساء :۱۲﴾

’اور تمھاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو، اس کا آدھا تمھیں ملے گا، اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی تمھارا ہے، جب کہ وصیت جو انھوں نے کی ہو، پوری کردی جائے اورقرض جو انھوں نے چھوڑا ہو ادا کردیاجائے۔‘

اور اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

یُوصِیْکُمُ اللّہُ فِیْ أَوْلاَدِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْنِ ﴿النساء :۱۱﴾

’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کاحصہ دوعورتوں کے برابر ہے۔‘

اول الذکرآیت سے معلوم ہواکہ اگر بیوی کا انتقال ہوجائے اور اس کی اولاد ہوتو شوہر کو ترکے کا ایک چوتھائی ملے گا اور موخرالذکر آیت سے معلوم ہواکہ اولاد میں اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو بقیہ ترکہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے۔

فرض کیجیے ، آپ کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں چار لاکھ روپے ہیں تو اس کا چوتھائی ، یعنی ایک لاکھ روپے آپ کو ملیں گے، بقیہ تین لاکھ میں سے ڈیڑھ لاکھ لڑکے کا اور پچھتر پچھتر ہزار روپے دونوں لڑکیوں کا حصہ ہوگا۔

میراث کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔ ﴿النساء :۷﴾ عموماً اس حکم پر عمل کرنے میں کوتاہی کی جاتی ہے، یا صحیح تقسیم نہیں کی جاتی۔ قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو تقسیم میراث کو بھی حکمِ الٰہی سمجھ کر اس کی صحیح تقسیم کرتے ہیں اور حق داروں تک ان کاحق پہنچاتے ہیں۔

ایک حدیث کا صحیح مفہوم

سوال: صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے:

’اگرتم گناہ نہیں کروگے تو اللہ تعالیٰ تمھیں ختم کردے گا اور تمھاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں گے، پھر اللہ سے استغفار کریں گے تو اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا۔‘

اس حدیث کو سمجھنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ گناہ کرنے پر ابھارا جارہاہے۔ گناہ سے بچے رہنا کوئی خوبی نہیں ہے، بل کہ گناہ کا ارتکاب کرنا پسندیدہ ہے۔ بہ راہ کرم اس حدیث کا صحیح مفہوم واضح فرمادیں۔

محمد حامد علی

حیدرآباد

جواب: صحیح مسلم کی یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ  سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٰ لَوْلَمْ تُذْنِبُوا لَذَھَبَ اللّٰہُ بِکُمْ وَلَجَائَ بِقَوْمٍ یُذْنِبُونَ، فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ فَیَغْفِرُلَہُمْ ﴿صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب سقوط الذنوب بالاستغفار توبۃً، ۲۷۴۹﴾

’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر تم نے گناہ نہ کیاتو اللہ تمھیں فنا کردے گا اور ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے گناہ سرزد ہوں گے تووہ اللہ سے مغفرت طلب کریں گے اور اللہ ان کی مغفرت قبول کرلے گا۔‘

امام مسلمؒ  نے اس مضمون کی کئی احادیث روایت کی ہیں۔ کسی حدیث کا مفہوم متعین کرنے کے لیے صرف اس کے ظاہری معنی پر اکتفا کرنا مناسب نہیں ہے، بل کہ پورے ذخیرۂ احادیث اور دین کی مجموعی تعلیمات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ زیربحث موضوع پر دو پہلوؤں سے غور کرنے کی ضرورت ہے:

۱-  قرآن و حدیث میں گناہ کو حرام قرار دیاگیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار نصوص ہیں۔ اس لیے کوئی ایسا مفہوم قابل قبول نہیں ہوسکتا، جس سے گناہ کا ارتکاب کرنے کی ترغیب کا پہلو نکلتا ہو۔

۲-  انسان کے اندر فطری طورپر خیراور شر دونوں کی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اسی میں اس کا امتحان ہے۔ اگر اس سے گناہ کا صدور ہونے کا امکان ہی نہ ہوتا تب تو وہ فرشتہ بن جاتا۔ انسان کی خوبی اور اس کا امتیاز اس بات میں ہے کہ اگر اس سے کبھی شیطان یا نفس کے بہکاوے میں آکر کسی گناہ کا صدور ہوجائے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹے اور اس سے معافی مانگے۔

ان دونوں باتوں کی روشنی میں مذکورہ بالا حدیث کا یہ مفہوم متعین ہوتاہے کہ اس میں گناہ کا ارتکاب کرنے کی صورت میں توبہ واستغفار پر زور دیاگیا ہے۔ اس میں گناہ گار بندوں کے لیے تسلی کا سامان ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ان سے خواہ بڑے سے بڑے گناہ کا صدور ہوگیا ہو، لیکن اگر وہ بارگاہِ الٰہی میں سربہ سجود ہوکر اس سے مغفرت طلب کریں گے تو وہ ضرور انھیں معاف کردے گا۔

قرآن مجید کی ایک آیت سے بھی اس حدیث کا مفہوم متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَیٰٓ أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ انَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً انَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ  ﴿الزمر:۵۳﴾

’﴿اے نبیﷺ ﴾ کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ ۔ یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ تو غفور ریم ہے۔‘‘

محدثین کرام نے اس حدیث کایہی مفہوم بیان کیاہے۔ مولانا محمد تقی عثمانیؒ  نے اس حدیث کی شرح میں لکھاہے:

’اس حدیث میں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونے والے لوگوں کے لیے تسلی ہے کہ ان کے توبہ و استغفار کرنے سے ان کے گناہ دھل جائیں گے۔ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ انسان بے خوف و خطر گناہوں کا ارتکاب کرنے لگے۔ اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انھیں حرام قرار دیا ہے۔ بل کہ اس کامفہوم یہ ہے کہ اگر کبھی اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بل کہ اس سے مغفرت طلب کرے۔ اس کا استغفار اس کے گناہ کے لیے کفارہ بن جائے گا۔‘ ﴿تکملۃ فتح الملہم شرح صحیح مسلم، داراحیائ التراث العربی، بیروت، لبنان، ۲۰۰۶؁ء، ۶/۹﴾

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau