رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

صلہ رحمی کے بدلے میراث کی عدم تقسیم

سوال:میرے سامنے کچھ مسائل اور الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں، براہ کرم انھیں حل فرمائیں۔ میں ازحدشکرگزار ہوںگا۔

میرا ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدین کا عرصہ ہوا انتقال ہوگیا ہے۔ ایک بہن اپاہج ﴿پولیوکی مریضہ﴾ اور غیرشادی شدہ ہے۔ شروع سے اب تک میں ہی اس کی کفالت کرتارہاہوں۔ باقی دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔ ہر ایک کے کئی بچے ہیں۔ بڑے بہنوئی کافی عرصہ مریض رہے۔ انھیں ٹی بی ہوگئی تھی۔ ان کے علاج میں کافی روپیہ خرچ ہوا، جو میں نے برداشت کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کی کفالت کی، ان کی لڑکی کی شادی کے تمام مصارف برداشت کیے۔ اسی طرح دوسری بہن بیوہ ہوگئیں تو ان کی اور ان کے بچوں کی بھی کفالت کی۔ میرے بھی پانچ بچے ہیں،میرا بھائی بہت پہلے گھر چھوڑکر کہیں چلاگیاتھا۔ معلوم ہواہے کہ وہ راجستھان میں ہے۔ اس نے بہنوں اور ان کے بچوں کی کفالت میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

والد صاحب کی جائیداد میں صرف ایک مکان ہے، جس میں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتاہوں۔ اب بہنیں اس میں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔ جب کہ بڑی بہن پہلے کہہ چکی تھیں کہ ’’میری لڑکی کی شادی کرادو، میں ترکے میں اپنا حصہ نہیں لوں گی۔‘‘ میں چاہتاہوں کہ میرے تمام اخراجات، جو میں نے بہنوں اور ان کے بچوں کی کفالت میں کیے ہیں، مجھے دے دیے جائیں اور تمام فریق مکان کے ترکے میں اپنا حصہ لے لیں۔

براہ کرم اس معاملے میں میری رہ نمائی فرمائیں۔

جواب:آپ نے اپنے حالات بیان کرکے جو مسائل اٹھائے ہیں ان کا جواب درج ذیل ہے:

۱-            آپ نے اپنی بہنوں، ان کے شوہروں اور ان کے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے گا۔ آپ نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے اور آخرت میں اس کا اجر چاہنے کے لیے ہی کیا ہوگا۔ دنیا میں اس کا کوئی بدلہ حاصل کرنا آپ کا مقصود نہیں ہوگا۔

۲-           شریعت میں کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ تقسیم کرنے کا صاف الفاظ میں حکم دیاگیا ہے۔ آپ کے والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ تقسیم ہونا چاہیے تھا، جو نہیں ہوا۔ بہرحال اب اس کی تقسیم ہوجانی چاہیے۔

۳-          کسی شخص کے وارثان میں صرف لڑکے لڑکیاں ہوں تو ترکہ اس طرح تقسیم ہوگاکہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا۔ آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق ترکہ کے سات حصے کیے جائیںگے۔ ایک ایک حصہ آپ کی تینوں بہنوں کا ہوگا، دو حصے آپ کے اور دو حصے آپ کے بھائی کے۔

۴-          آپ کا جو بھائی باہر رہتاہے وہ بھی ترکہ پانے سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

۵-           حق داروں میں سے کوئی بھی اگر چاہے تو اپنی مرضی سے اپنا حصہ چھوڑسکتا ہے یا دوسرے کو دے سکتا ہے۔

۶-           آپ کی بہن نے اگر کہاتھا کہ ’’میری لڑکی کی شادی کرادو میں اپنا حصہ نہیں لوںگی‘‘ تو انھیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے۔ اگر وہ اس سے انکار کرتی ہیں اور آپ کے پاس کوئی ثبوت ہوتو پیش کیجیے۔

۷-          آپ نے اپنی بہنوں، ان کے شوہروں اور ان کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی کفالت کرکے جو عظیم اجرو ثواب کمایا ہے اسے ترکہ کے معاملے میں اپنی بہنوں اور بھائی سے جھگڑا کرکے ضائع مت کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کشادہ دلی کا اچھا بدلہ دے گا اور امید ہے کہ وہ آخرت میں ان اچھے کاموں کے اجر کے ساتھ اس دنیا میں بھی آپ کو کشادگی عطافرمائے گا۔

مدتِ سفر متعین نہ ہوتو نماز میں قصر کب تک کی جائے؟

سوال:میرا تعلق کشمیر سے ہے۔میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نئی دہلی میں علاج کرانے آیاتھا۔ ڈاکٹر نے بتایاکہ میرا علاج ایک ہفتہ میں ہوجائے گا۔ مگر کوئی پیچیدگی آگئی، جس کی بنا پر مجھے ڈسچارج نہیںکیاگیا۔ ڈاکٹر نے دو مرتبہ ایک ایک ہفتہ کی توسیع کی۔ اب مجھے یہاں آئے اکیس دن ہوگئے ہیں۔ میںاب تک نماز میں قصر کرتا رہاہوں۔ اب ڈاکٹر نے مزید دس دن رکنے کو کہا ہے۔ آئندہ مجھے پوری نماز پڑھنی ہوگی یا میں قصر کرسکتا ہوں؟

جواب:احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کاحالتِ سفر میں کسی جگہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کاارادہ ہوتو وہ نمازمیں قصر کرے گا۔ اگر اس نے ٹھہرنے کاارادہ توچند دنوں کا کیاتھا، لیکن اس کاکام نہ ہونے کی وجہ سے قیام کی مدت بڑھتی رہی اور اسے متعین طورپر معلوم بھی نہ ہو کہ اسے مزید کتنے دن ٹھہرنا پڑسکتا ہے تو وہ قصر کرتا رہے گا، خواہ کتنے ہی دن اسے ٹھہرنا پڑے۔ مولانا مجیب اللہ ندویؒ  نے لکھاہے:

’’اگر کہیں راستے میں یا منزل پر دوچار دن ٹھہرنے کا ارادہ تھا، مگر دوچار دن کے بعد نہ جاسکے اور دوچار دن پھر رک گئے۔ اس طرح اگر یک بارگی پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہوتو چاہے جتنے دن ٹھہرے وہ مسافر رہے گا اور قصرِ نمازکرے گا۔‘‘ ﴿اسلامی فقہ،تاج کمپنی دہلی، اول، ص ۲۸۸-۲۸۹﴾

کیا رقم زکوٰۃ کو فوراً خرچ کرنا ضروری ہے؟

سوال:جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں اجتماعی طورپر زکوٰۃ جمع کی جاتی ہے اور اس کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ بہت اچھا نظم ہے،لیکن اس ضمن میں ایک سوال یہ ہے کہ ماہ رمضان میں جو رقم جمع ہو اس کو کتنے دنوں میں خرچ کردینا چاہیے۔ مثلاً اگر اس رمضان میں اجتماعی طورپر ایک لاکھ روپے جمع ہوئے تو کیا اگلے رمضان تک اسے پورا خرچ کردینا، یعنی مستحقین تک پہنچادینا ضروری ہے، یا اس میں سے کچھ بچا بھی سکتے ہیں؟ اگر بچایاجائے تو کیا اس سے مستحقین کی حق تلفی نہیں ہوتی؟

جواب:کوشش کرنی چاہیے کہ زکوٰۃ کی رقم صحیح طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔ اسے فوراً خرچ کرنا ضروری نہیں ہے۔ مولانامجیب اللہ ندویؒ  نے لکھاہے:

’’اگر کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے روپیہ نکال کر علیٰحدہ کردیا اور یہ ارادہ کیاکہ سال بھر کے اندر تھوڑا تھوڑا غریبوں پر خرچ کردے گا تو یہ جائز ہے۔‘‘ ﴿اسلامی فقہ، اول، ص۴۴۸﴾

یہی معاملہ اداروں اور جماعتوں کا ہے۔ ان کی حیثیت مستحقین کے نمائندہ اور وکیل کی ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کی جو رقم ان کے پاس جمع ہو، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان داری کے ساتھ اور صحیح طریقے سے ان تک پہنچائیں۔ مالِ زکوٰۃ کو تقسیم کرنے کے لیے کسی ادارہ یا جماعت کے حوالے کرنے سے صاحبِ نصاب کا فرض ادا ہوجاتا ہے اور وہ بری الذمہ ہوجاتاہے۔ اب ادارہ یا جماعت کی ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ ایک نظم بناکر اسے مستحقین تک پہنچائے۔ ایک رمضان میں جمع کی گئی رقم اگلے رمضان سے قبل خرچ کردی جائے تو بہتر ہے، لیکن اگر اس میں سے کچھ بچ رہے اور اسے بعد میں خرچ کرنے کی نوبت آئے تو اس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں ہے۔

قبول اسلام کے بعد تجدید نکاح

سوال: ہمارے ملک میں آئے دن قبول اسلام کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس میں بچے، جوان، بوڑھے، مرد اور خواتین سبھی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات پوری فیملی اسلام قبول کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام مرد عورت کو نکاح کے پاکیزہ بندھن میں جوڑتا ہے، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اسلام سے قبل میاں بیوی شادی کے جس بندھن میں بندھے تھے، کیا اسلام کے بعد بھی اسے پاکیزہ قرار دیاجائے گا یا نہیں؟ اگر پاکیزہ قرار دیاجائے گا تو کن بنیادوں پر؟ براہ مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں۔

جواب: دیگر مذاہب کے ماننے والے مرد اور عورت اگر اپنے مذہب کے مطابق نکاح کے بندھن میں بندھے ہوں تو اسلام اسے تسلیم کرتا ہے۔ قرآن کریم میں امرأۃ فرعون ﴿القصص:۹﴾، امرأۃ العزیز ﴿یوسف:۲۱، ۳۰، ۵۱﴾، امرأۃ ابی لہب ﴿لھب:۴﴾ وغیرہ کا تذکرہ موجود ہے۔ اس بنا پر اگر کوئی جوڑا اسلام قبول کرے تو اس کے نکاح کی تجدید کی ضرورت نہیں۔ عہد نبویﷺ  میں جو حضرات اپنی بیویوں کے ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں سے کسی کے بارے میں مذکور نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازسرِنو اس کا نکاح پڑھایا ہو۔ شرح السنۃ میں ہے کہ ’’بہت سی خواتین نے اسلام قبول کیا، بعد میں ان کے شوہر بھی اسلام لے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ نکاح پر ہی انھیں ان کے شوہروں کے حوالے کردیا۔‘‘ حضرت ام حکیم بنت حارثؓ  کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ اسلام لائیں ، مگر ان کے شوہر عکرمہ بن ابی جہل نے اسلام قبول نہیں کیا اور بھاگ کر یمن چلے گئے۔ حضرت ام حکیم کی خواہش پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں امان دے دی۔ وہ یمن جاکر انھیں بلالائیں اور ان کی کوشش سے حضرت عکرمہؓ  ایمان لے آئے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کے سابقہ نکاح پر باقی رکھا۔ ﴿موطا امام مالک﴾

الموسوعۃ الفقہیۃ کویت میں ہے:

’’کُلٌّ نِکاَحٍ یَکوُنُ فِی الشِّرکِ جَائِزاً بَیْنَہُمْ فَہُوَ جَائِزٌ اِذَا اَسْلَمُوا عَلَیہ‘‘   ﴿۴۱۴/۱۳۲﴾

’’زوجین کا نکاح اگر حالتِ شرک میں جائز طریقے سے ہواتھا تو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اسے درست ماناجائے گا۔‘‘

مشہور عالم دین مفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ  نے اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں یہ فتویٰ دیا ہے:

’’شوہر اور بیوی پہلے ہندوتھے اور انھوں نے ہندو طریقہ کے مطابق نکاح کیاتھا اور اس کے بعد خدا کی توفیق سے دونوں مسلمان ہوگئے تو دوبارہ نکاح کرنا ضروری نہیں۔ اسلام لانے کے بعد بلاتجدید نکاح دونوں میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔‘‘

﴿فتاویٰ رحیمیہ، دارالاشاعت، کراچی، ۸/۱۵۲﴾

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau