رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

فاقہ کشی کے دوران پیٹ پر پتھر باندھنے کی روایت

سوال:جنگ احزاب کے وقت اسلامی حکومت قائم ہوئے پانچ سال کا عرصہ ہوگیا تھا۔ ایک بڑا معرکہ درپیش تھا۔ مقابلے کی تیاری کے آغاز ہی میں خندق کی کھدائی کے دوران تین تین دن سے متواتر فاقے کاٹے گئے۔ کچھ صحابہ کرامؓ  نے اگر بیان کیا کہ ان کے پچکے ہوئے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اٹھاکر دکھایا کہ یہاں دو پتھر بندھے ہوئے ہیں۔

برسراقتدار ہونے کے باوجود، بہت بڑی جنگ کی تیاری کا آغاز اس طرح کے حالات میں ہوا، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، اس کے علاوہ یہ بات بھی عقل میں نہیں آتی کہ فاقہ کشی کے دوران پیٹ پر پتھر باندھے گئے۔ اس سے تو تکلیف میں اور اضافہ ہی ہوگا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔

جواب: غزوۂ احزاب ہجرتِ مدینہ کے پانچویں سال ہواتھا۔ پورا عرب مدینہ پر چڑھ آیا تھا۔ یہود، مشرکین مکہ اور دیگر بہت سے قبائل اسلام اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ اس جنگ کی منصوبہ بندی مسلمانوں نے نہیں کی تھی کہ انھوں نے پہلے اس کے لیے پوری تیاری کرلی ہو، تمام وسائل فراہم کرلیے ہوں، نفع ونقصان کا تخمینہ کرلیا ہو، سامانِ رسد اور غذائی اشیائ کا ذخیرہ کرلیا ہو،اس کے بعد جنگ چھیڑی ہو، بلکہ جنگ ان پر مسلط کی گئی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کے لشکر عظیم کی خبر ملی تو آپﷺ  نے صحابہ کرامؓ  سے مشورہ کیا۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ  نے، جو کچھ عرصہ پہلے ہی ایمان لائے تھے، یہ تجویز پیش کی کہ فارس میں جب ہم اس طرح کے محاصرے کی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو اپنے گرد خندق کھود لیتے ہیں۔ یہ تجویز آپﷺ  کو بہت پسند آئی۔ آپﷺ  نے فوراً اس پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔ مدینہ کے بعض اطراف میں پہاڑیاں ، پتھریلی زمین اور کھجور کے باغات تھے۔ ادھر سے حملے کا اندیشہ تھا۔ جو حصہ کھلا ہوا تھا ادھر خند ق کھودنے کا منصوبہ بنایاگیا۔ دس دس افراد کے گروپ بنائے گئے اور انھیں چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا حکم دیاگیا۔ تقریباً تین ہفتوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد خندق تیار ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس صحابہ کرامؓ  کے ساتھ خندق کی کھدائی میں شریک رہے۔ بعض مواقع پر، جب زیر زمین کوئی چٹان کھدائی میں رکاوٹ ڈالتی تھی اور صحابہ کرامؓ  اسے توڑ نہیں پاتے تھے تو آپﷺ  آگے بڑھتے تھے اور آپﷺ  کی ایک ضرب سے چٹان پاش پاش ہوجاتی تھی۔

صحیح احادیث میں ہے کہ اس زمانے میں مدینہ میں خوردونوش کی اشیائ کی شدید قلت تھی۔ ﴿بخاری:۱۰۱۴﴾ تھوڑا سا جو مل جاتا تو صحابہ کرامؓ  اسے پرانے تیل میںپکاکر کھالیتے تھے۔ ﴿فتح الباری، ۷/۲۹۳﴾ کبھی انھیں صرف کھجوروں پر گزارا کرنا پڑتا تھا۔ ﴿البدایۃ والنہایۃ، ۴/۹۹﴾ بسا اوقات تین تین دن تک کھانے کی کوئی چیز ان کے منھ کو نہ لگتی تھی۔ ﴿بخاری: ۱۰۱۴﴾ اس دوران آںحضرت ﷺ  کے دست مبارک سے متعدد معجزات کا ظہور ہوا۔ تھوڑا سا کھانا، جو گنتی کے چند افراد کے لیے کفایت کرسکتا تھا، اس میں اتنی برکت ہوئی کہ سیکڑوں افراد اس سے شکم سیر ہوئے۔

اسی موقع کی ایک روایت حضرت ابوطلحہؓ  سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:

شَکَونَا اِلیٰ رَسُولِ اللّٰہِ صَلّی اللّٰہ علیہ وسلم الجُوْعَ وَرَفَعْنا عَن بُطُونِنَا عَنْ حَجَرِ حَجَرِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّی اللّٰہ علیہ وسلم عَنْ حَجَرَیْنِ۔

’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ کھول کر دکھائے، جن پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ یہ سن کر آپﷺ  نے اپناشکم مبارک کھول کر دکھایا۔ اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے‘‘۔

اس روایت کی تخریج امام ترمذیؒ  نے کتاب الزہد ﴿۲۳۷۱﴾ میں کی ہے، ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے: ھٰذا حدیث غریب لانعرفہ الامن ھٰذا الوجہ ﴿یہ حدیث غریب ہے، جو صرف اسی سند سے مروی ہے﴾ علامہ البانی ؒ  نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن غزوۂ خندق کے موقع پر بھوک کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیٹ پر باندھنا صحیح روایات سے ثابت ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ  سے مروی ایک طویل روایت میں ہے:

ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُہ مَعْصُوْب بِحَجَرِِ     ﴿بخاری: ۴۱۰۱﴾

’’پھر آپﷺ  کھڑے ہوئے۔ اس وقت آپﷺ  کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا‘‘۔

عربوں میں اس زمانے میں ایک چلن یہ تھا کہ وہ شدت بھوک کے احساس کو دبانے کے لیے پیٹ پرپتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ ایسے پتھر کو مُشْبِعَۃ کہا جاتا تھا، یعنی بھوک کا احساس ختم کرنے والا اور آسودگی کا احساس دلانے والا۔ علامہ ابن حجرؒ  نے بخاری کی مذکورہ بالاروایت کی شرح میں لکھا ہے:

’’پیٹ پر پتھر باندھنے کا فائدہ یہ ہے کہ پیٹ جب بھوک کی وجہ سے سکڑ جاتا ہے تو کمر جھک جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر پیٹ پر پتھر رکھ کر اوپر سے کپڑا باندھ لیاجائے تو پیٹھ سیدھی رہتی ہے‘‘۔ ﴿فتح الباری، ۷/ ۶۹۳﴾

کسی واقعے پر غور کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے زمانۂ وقوع اور اس جیسے حالات میں لے جاکر اس پر غور کیاجائے۔ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ کھیتوں میں کام کرنے والے یا محنت مزدوری کرنے والے اپنے پیٹ پر انگوچھا کس کر باندھ لیتے ہیں، اس کے بعد کام کرتے ہیں تو انھیں تکان کا احساس کم ہوتا ہے۔ ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھنے اور مرغن غذائیں آسودہ ہوکر کھانے والوں کی عقل میں اس عمل کی افادیت نہیں آسکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بہتر ﴿۷۲﴾گھنٹے بھوکے رہیں، پھر پانچ چھ گھنٹے سخت زمین پر پھائوڑا چلائیں، تب انھیں بہ خوبی اندازہ ہوجائے گاکہ پیٹ پر کپڑا باندھ کر پھائوڑا چلانے سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے یا کچھ راحت محسوس ہوتی ہے۔

زکوٰۃ کے چند مسائل

سوال:زکوٰۃ کے درج ذیل مسائل کی براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیے:

﴿۱﴾ زکوٰۃ کے لیے سونے اور چاندی کا الگ الگ نصاب متعین ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس اتنی مقدار میں سونا ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے اور اتنی مقدار میں چاندی ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے تبھی زکوٰۃ واجب ہوگی، اگر دونوں الگ الگ اپنے نصاب سے کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دونوں کو ملاکر ان کی مالیت کسی ایک کے نصاب کے برابر پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے؟ ﴿۲﴾ ماں نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر ہونے والی بہو کے لیے کچھ زیورات خریدے۔ شادی زیورات کی خریداری کے ڈیڑھ سال بعد ہوئی۔ ان زیورات کی زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو وہ کس پر واجب ہوگی؟ ماں پر یا بیٹے پر؟﴿۳﴾ ماں نے ایک خلیجی ملک سے چند سونے کے سکے خریدے اور وطن پہنچ کر انھیں بیچ کر کچھ زیورات بنوا لیے۔ جب زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو کیا سونے کے سکوں پر بھی زکوٰۃ دینی پڑے گی؟

جواب: ﴿۱﴾اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کے زیورات اتنی مقدار میں ہوں کہ دونوں الگ الگ نصاب کو نہ پہنچتے ہوں تو ان پر وجوب زکوٰۃ کے معاملے میںفقہائ کے درمیان اختلاف ہے۔ احناف اور مالکیہ کے نزدیک دونوں کو ملاکر اگر کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے تو زکوٰۃ واجب ہوجائے گا۔ یہی امام ثوریؒ  اور امام اوزاعیؒ  کی بھی رائے ہے۔ امام شافعیؒ  کے نزدیک دونوں کو ملایا نہیں جائے گا۔ زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب دونوں یا ان میں سے کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے۔ امام احمدؒ  سے دورائیں مروی ہیں۔ فقہائ کے اپنے اپنے دلائل ہیں، تفصیل کتبِ فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

﴿۲﴾امام ابوحنیفہؒ  کے نزدیک زیورات میں زکوٰۃ عائد ہوتی ہے ﴿دیگر ائمہ کے نزدیک استعمالی زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے﴾ زکوٰۃ کی ادائی اس کے ذمے ہوگی جو ان کا مالک ہو۔ کسی عورت نے اپنی ہونے والی بہو کے لیے زیورات خریدے تو شادی سے قبل تک اسی کو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی اور شادی کے بعد جب بہو ان کی مالک ہوجائے گی تو زکوٰۃ کی ادائی اس کے ذمے ہوگی۔

﴿۳﴾سونا چاہے سکوں کی شکل میں ہو یا زیورات کی شکل میں، دونوں صورتوں میں اس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے۔

زمین پر زکوٰۃ

سوال:میں نے۲۰۰۹؁ء میں چار لاکھ کی ایک زمین خریدی تھی۔ بس ایک پراپرٹی کی شکل میں کہ کبھی وقتِ ضرورت کام آئے گی۔ تین سال گزر گئے ہیں۔ ہمارے ایک بہی خواہ کہتے ہیں کہ اس پر زکوٰۃ نکالنی ضروری ہے۔ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں:

﴿۱﴾ کیا اس پر زکوٰۃ نکالنی لازم ہے؟ اگر ہاں تو اس کی موجودہ قیمت کا اعتبار کیا جائے گا یا قیمتِ خرید کا؟

﴿۲﴾ جب بھی زمین فروخت کی جائے گی اس وقت زکوٰۃ نکالی جائے تو حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی یا قیمتِ خرید پر؟

﴿۳﴾ اگر زکوٰۃ نکالنی ضروری نہیں ہے تو اس کے کیا دلائل ہیں؟

براہِ کرم جواب سے نوازیں ، تاکہ میرے بہی خواہ کو اطمینان ہو اور میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکوں۔

جواب: کسی زمین کی خریداری کے وقت اگر اس کی تجارت کی نیت نہیں تھی تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اسے فروخت کرنے کے بعد جو رقم ملے، دوسرے اموال زکوٰۃ کے ساتھ اس پر بھی زکوٰۃ عائد ہوگی، اگر وہ رقم اُس وقت موجود ہو جب اس کا مالک صاحبِ نصاب ہوا ہو۔

اگر کوئی زمین ابتدا ہی میں تجارت کی نیت سے خریدی جائے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔ اس صورت میں قیمتِ خرید کا نہیں بلکہ اس کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔

تدفین کے بعد قبرپر تلاوتِ قرآن

سوال:ہمارے یہاں میت کی تدفین کے بعد قبر کے پاس سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے پہلے اور آخری رکوع کی تلاوت کی جاتی ہے۔ براہِ کرم اس کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔ کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟

جواب: قبر کے پاس تلاوتِ قرآن کریم کے مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ مالکیہ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ سلف سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے۔ البتہ متاخرین مالکیہ نے اس کی اجازت دی ہے۔

احناف، شوافع اور حنابلہ کہتے ہیں کہ قبر کے پاس قرأتِ قرآن مکروہ نہیں ہے۔ حضرت ابن عمرؓ  سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے انتقال کے وقت وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین کے بعد قبر کے پاس سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کی جائے۔

مشہور حنفی فقیہ ابن عابدینؒ  نے شرح اللباب کے حوالے سے لکھا ہے:

’’آدمی کو قبر کے پاس سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات ﴿المفلحون تک﴾ آیت الکرسی، سورۂ بقرہ کی آخری آیات ﴿آمن الرسول تا ختم سورہ﴾ سورۂ یٰس ٓ، سورہ ملک، سورۂ تکاثر اور سورۂ اخلاص ﴿تین، سات، گیارہ یا بارہ مرتبہ﴾ میں سے جو بھی توفیق ہو پڑھے‘‘۔

ایک قول یہ ہے کہ ’’قبر کے سرہانے کھڑے ہوکر سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات اور پیروں کی طرف کھڑے ہوکر اس کی آخری آیات پڑھی جائیں‘‘۔ ﴿الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۳۲/ ۲۵۵-۲۵۶﴾

ولیمہ کیسا ہو؟

سوال: شریعت میں نکاح کے موقع پر ولیمہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ اس موقع پر بکرا ذبح کرے اورگوشت کھلائے۔ اگر کسی شخص کا حلقۂ احباب بہت وسیع ہو اور وہ اتنی وسعت نہ رکھتا ہو کہ بڑے پیمانے پر دعوت کا اہتمام کرسکے تو کیا محض ٹی پارٹی کردینے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکمِ ولیمہ کامنشا پورا ہوجائے گا؟

جواب:حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ  کا نکاح ہوا۔ اس کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تو آپﷺ  نے انھیں مبارکباد دی اور فرمایا:

اَوْلِمْ وَلَوْ بشاۃِ ﴿بخاری: ۲۰۴۸ ، مسلم: ۱۴۲۷﴾

’’ولیمہ کرو ، خواہ ایک بکری کے ذریعے‘‘

آپﷺ  نے خود بھی اس پر عمل کرکے دکھایا۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ حضرت زینب بنت حجشؓ  سے نکاح کے موقع پر آپﷺ  نے بکری ذبح کروائی تھی اور لوگوں نے شکم سیر ہوکر گوشت روٹی کھائی تھی۔ ﴿بخاری: ۵۱۷۱، مسلم: ۱۴۲۸﴾

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ولیمہ میں گوشت کھلانا ضروری ہے۔ دعوت میں کچھ بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ غزوۂ خیبر کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ  سے نکاح کیا تو ولیمہ میں صحابہ کو ’حیس‘ کھلایا تھا ﴿بخاری: ۹۶۱۵، مسلم: ۵۶۳۱﴾ ’حیس‘ اس کھانے کو کہتے تھے جسے کھجور ، پنیر اور گھی ملاکر تیار کیاجاتا تھا۔ حضرت انسؓ  بیان کرتے ہیں کہ حضر ت صفیہؓ  سے نکاح کے موقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ صحابہ کرامؓ  کو ولیمہ کے لیے بلاکر لاؤ۔ اس موقع پر گوشت روٹی کا اہتمام نہیں کیاگیا تھا۔ صحابہ آئے تو دسترخوان بچھا دیاگیا اور اس پر کھجور ، پنیر اور گھی رکھ دیاگیا ‘‘۔ ﴿بخاری: ۵۰۸۵﴾ حضرت صفیہ بنت شیبہؓ  بیان کرتی ہیں کہ بعض ازواج مطہرات سے آں حضرت ﷺ کے نکاح کے موقع پر ولیمہ میں صرف دومُد ﴿ایک پیمانہ﴾ جَو کا استعمال کیاگیا تھا۔ ﴿بخاری: ۵۱۷۲﴾

نکاح ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی اس موقع پر اپنی خوشی میں اپنے اعزہ اور احباب کو شریک کرے۔ اب یہ اس کے اوپر ہے کہ وہ ان کی ضیافت اور لذتِ کام ودہن کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق جو چاہے انتظام کرے۔

پوجاپاٹ میں استعمال ہونے والی چیزوں کی تجارت

سوال: میری ایک دوکان ہے، جس میں اسٹیل، تانبہ اور سِلور کے برتن اور گھریلو استعمال کی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں۔ کیا ہم اس میں وہ چیزیں اور برتن، جو خاص کر ہندوؤں اور مشرکوں کے یہاں پوجا پاٹ میں استعمال ہوتے ہیں، مثلاً چراغ اور مندروں اور گھروں میں استعمال ہونے والے گھنٹے وغیرہ، انھیں فروخت کرسکتے ہیں؟

جواب:وہ چیزیں جو صرف پوجا پاٹ اور مشرکانہ مراسم کی ادائی میں استعمال کی جاتی ہیں ان کی تجارت کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ ایک اعتبار سے شرکت و بت پرستی میں تعاون ہے۔ البتہ وہ چیزیں، جنھیں غیر مسلم پوجاپاٹ کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے دیگر عام استعمالات بھی ہیں، انھیں دوکان میں رکھ کرفروخت کیا جاسکتا ہے۔

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau