رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

عیدالفطر کے چند مسائل

(1)  سوال: امسال رمضان المبارک کی ۲۹؍تاریخ کو چاند نظر آگیا اور اگلے دن عیدالفطر ہونے کااعلان کردیاگیا۔ لیکن عید کے دن صبح ہی سے زبردست بارش ہونے لگی، جو دیر تک ہوتی رہی۔ سڑکیں، راستے اور میدان پانی سے بھرگئے۔ بالآخر عیدگاہ کے امام صاحب نے اعلان کردیاکہ آج عید کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ اس کے بجائےکل نماز ہوگی۔ اس سلسلے میں لوگوں میں اختلاف ہوگیا اور دو گروپ بن گئے۔ کچھ لوگ امام صاحب کی تائید کررہے ہیں، جب کہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ عید کا دن گزرجانے کے بعد اگلے دن اس کی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

بہ راہ کرم اِس مسئلے میں صحیح بات واضح فرمائیں۔ کیا عید کی نماز کسی عذر کی بِنا پر عید کے اگلے دن پڑھنا درست ہے؟

جواب: عید کی نماز کا وقت طلوع آفتاب کے تھوڑی دیر بعد سے زوال آفتاب تک ہے۔ اگر عید کے دن اس وقت کے دوران نماز ادا نہ کی جاسکے تو کیا اگلے دن اس کی ادائیگی کی جاسکتی ہے؟ اس کی تین صورتیں ہیں:

۱۔ اگر عید کے دن لوگوں نے جماعت کے ساتھ عید کی نماز ادا کرلی ہو، صرف چند افراد کی نمازِ عید چھوٹ گئی ہوتو احناف اور مالکیہ کے نزدیک اس کی قضا نہیں ہوگی، شوافع قضا کرنے کی اجازت دیتے ہیں حنابلہ کہتے ہیں کہ عید کی نماز کی اصلاً قضا نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص پڑھنا ہی چاہے تو چار رکعتیں ایک سلام سے یا دو سلام سے پڑھ لے۔

۲۔ اگر کوئی عذر نہ ہو، لیکن عید کی نماز عید کے دن نہ پڑھی گئی ہو، تو عید الفطر کی صورت میں اس کی قضا نہیں ہوگی، البتہ عیدالاضحی کی صورت میں اگلے دن اس کی قضا کرلی جائے گی۔

۳۔ اگر کسی عذر کی بنا پر عید کے دن نمازِ عید ادا نہ کی جاسکی ہو، مثلاً چاند ہونے کی خبر کی تصدیق زوالِ آفتاب کے بعد ہوسکی ہو، یا مسلسل بارش ہوتی رہی ہو تو مالکیہ کہتے ہیں کہ اگلے دن اس کی قضا نہیں کی جائے گی، لیکن احناف، شوافع اور حنابلہ اگلے دن اس کی قضا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ عہدنبوی کے ایک واقعہ سے اس کی تائید ہوتی ہے:

ایک مرتبہ رمضان المبارک کی ۲۹؍تاریخ کو چاند نظر نہیں آیا تو صحابہ کرام نے تیسواں روزہ رکھ لیا۔ لیکن شام کو ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جس نے گواہی دی کہ وہ گزشتہ روز چاند دیکھ چکاہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات مان لی، صحابہ کرام کو حکم دیاکہ روزہ توڑیں اور اگلے دن نمازِ عید کی ادائیگی کا حکم دیا۔

یہ روایت امام ابودائود نے اپنی صحیح (۱۱۵۷) میں بیان کی ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی (۲؍۱۷۰) نے بھی اس کی روایت کی ہے اور اسے حسن کہا ہے۔ ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اس کی تخریج کی ہے۔مشہور ناقدین حدیث: ابن المنذر، ابن السکن، ابن حزم، خطابی اور ابن حجر وغیرہ نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس تفصیل سےو اضح ہوتاہے کہ اگر کسی عذر کی بنا پر عید کے دن نمازِ عید نہ پڑھی جاسکے تو اگلے دن اس کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مزید فقہی تفصیلات کے لئے ملاحظہ کیجئے الموسوعۃ الفقہیۃ کویت، ۲۷؍ ۲۴۳۔۲۴۵)

سوال:  عید کی نماز کے وقت گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ نماز کے بعد بوندا باندی شروع ہوگئی۔  امام صاحب نے خطبہ شروع کیا تو نمازیوں میں بارش کی وجہ سے شورو غل ہونے لگا۔ اسی افراتفری میں امام صاحب نے عید کا ایک ہی خطبہ پڑھا، دوسرا خطبہ پڑھنا وہ بھول گئے۔

بہ راہ کرم مطلع فرمائیے، اگر عید کا دوسرا خطبہ پڑھنا امام بھول جائے تو نماز درست ہوگی یا اس میں کچھ کمی رہ جائے گی؟

جواب: جمعہ اورعیدین میں دو خطبے مشروع ہیں۔ متعدد صحابہ نے بیان کیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے اور درمیان میں ذرا دیر کے لئے بیٹھتے تھے۔ یہاں صرف ایک روایت پیش کی جاتی ہے:

حضرت جابر بن سمرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے تھے۔ دورانِ خطبہ آپ قرآن کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتےتھے۔ (مسلم:۸۶۲)

جمعہ کی طرح عیدین میں بھی دو خطبے مسنون ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ جمعہ میں نماز سےقبل خطبہ دیا جاتاہے اور عیدین میں نماز کے بعد۔ علامہ ابن قدامہؒ فرماتے ہیں: ’’اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ (المغنی، ۲؍۳۸۴)

اس لئے جان بوجھ کر دوسرا خطبہ چھوڑنا خلافِ سنت ہونے کی بنا پر مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ دوسرا خطبہ بھول جانے کی صورت میں ایک خطبہ کفایت کرے گا اور نماز درست ہوگی، اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سوال: ہمارے یہاں عیدالفطر کی نماز میں امام صاحب دوسری رکعت میں عید کی زائد تکبیرات میں سے ایک تکبیر کہنا بھول گئے اور رکوع میں چلے گئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد مقتدیوں میں سے ایک صاحب نےٹوکا تو انھوں نے دوبارہ عید کی نماز پڑھادی۔

بہ راہ کرم مطلع فرمائیں۔ اگرنمازِ عید میں ایک تکبیر چھوٹ جائے تو کیا نماز صحیح نہیں ہوتی؟ کیا اس کی دوبارہ ادائیگی ضروری ہے؟

جواب:  عیدین کی نماز میں جو زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں وہ واجب ہیں۔ نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کی تلافی سجدۂ سہو سے ہوجاتی ہے، لیکن فقہاء نے لکھاہے کہ چوں کہ جمعہ اور عیدین کی نماز میں بڑا مجمع ہوتاہے۔ اگر امام سجدۂ سہوکرے گا تو دور رہنے والے بہت سے نمازی سمجھ نہیں پائیں گے اور ان کی نماز میں خلل ہوگا، اس لئے ان نمازوں میں سجدۂ سہو نہیں کیاجائے گا:

’’عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں سجدۂ سہو نہیں کیاجائےگا، تاکہ لوگ انتشار میں نہ مبتلا ہوں۔‘‘              (الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۸۲)

اس لئے ایک تکبیر زائد چھوٹ جانے کی صورت میں نماز کے اعادہ کی ضرورت نہ تھی۔

سوال:  امسال عیدالفطر کے موقع پر بارش ہونے کی وجہ سے نماز عیدگاہ میں نہیں پڑھی جاسکی، بلکہ مسجدوں میں ادا کی گئی۔ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجدیں بھی تنگ پڑگئیں اور بعض مسجدوں میں دو مرتبہ عید کی نماز پڑھی گئی۔ اس موقع پر بعض لوگوں کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ عید کی نماز ایک مسجد میں دو مرتبہ نہیں پڑھی جاسکتی۔

بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: عام حالات میں کیا کسی مسجد میں نماز باجماعت ہوجانے کے بعد دوسری جماعت کی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ احناف ، شوافع اور مالکیہ اسے مکروہ قرار دیتے ہیں، جب کہ حنابلہ کے نزدیک یہ بلاکراہت جائز ہے۔ تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن کسی عذر کی بنا پر دوسری جماعت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جمعہ کی جماعتِ ثانیہ کے بارے میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے لکھاہے: ’’عذر کی وجہ سے دوبارہ جماعت کی گنجائش ہے۔ کیونکہ خاص حالات میں فقہاء نے تکرار جماعت کی اجازت دی ہے۔‘‘ (کتاب الفتاویٰ، طبع دیوبند:۳؍۲۸) یہی بات نمازِ عید کے سلسلے میں بھی کہی جائے گی۔

سوال:  امسال عیدالفطر جمعہ کے دن ہوئی۔ چنانچہ نماز عید کے چند گھنٹوں کے بعد جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے کہاکہ اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہوجائیں تو جمعہ کی نماز ساقط ہوجاتی ہے۔

بہ راہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر ہاں تو کیا ظہر کی نماز بھی ساقط ہوجائے گی یا اسے ادا کرنا ہوگا؟

جواب: عید الفطرہفتہ کے دنوں میں سے کسی بھی دن ہوسکتی ہے، چنانچہ کچھ کچھ عرصہ کے بعد وہ جمعہ کے دن بھی ہوتی رہی ہے۔ ایسا موقع عہدنبوی میں بھی پیش آیا ہے اور عہدِ صحابہ میں بھی۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہوجائیں تو آدمی کو اختیار ہے، چاہے جمعہ پڑھے یا اس کی جگہ ظہر ادا کرلے۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے حضرت زید بن ارقمؓ سے دریافت کیا: کیا عہد نبوی میں کوئی ایسا موقع آیا ہے جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہوئے ہوں؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔ حضرت معاویہؓ نے پھر سوال کیا: تب آپؐ نے کیا کیاتھا؟ انھوں نے فرمایا: آپؐ نے عید کی نماز ادا کی اور جمعہ کے سلسلے میں رخصت دے دی۔ آپؐ نے فرمایا: مِنْ شَاءَ اَنْ یُّصَلِّی فَلْیُصَلِّ ’’جو شخص نماز جمعہ پڑھنا چاہے، پڑھ لے۔‘‘ (ابو دائود:۱۰۷۰، نسائی:۱۵۹۱، ابن ماجہ:۱۳۱۰، دارمی:۱۶۲۰، احمد:۴؍ ۳۷۲، بیہقی:۴؍ ۴۱۷، حاکم:۱؍ ۲۸۸)

حضرت ابوہریرہؓ اسی طرح کے ایک موقع کاتذکرہ کرتے ہیں، جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہوگئے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِجْتَمَعَ فِی یَومِکُمْ ہٰذَاعِیْدَانِ، فَمَنْ شَاءَ اَجْزَأہُ مِنَ الجُمَعَۃِ وَاِنَّا مُجَمِّعُوَنَ

’’آج کے دن دو عیدیں (یعنی عید اور جمعہ) جمع ہوگئی ہیں۔ اب تم میں سے جو شخص چاہے جمعہ کی نماز نہ پڑھے، اس کے لئے یہی (عید کی) نماز کافی ہے، لیکن ہم ضرور جمعہ کی نمازادا کریں گے۔‘‘ (ابودائود:۱۰۷۳، ابن ماجہ: ۱۳۱۱، بیہقی: ۳؍ ۳۱۸)

فقہاء (احناف ، شوافع اور مالکیہ) کا مسلک یہ ہے کہ کوئی نماز کسی دوسری نماز کی جگہ کفایت نہیں کرتی۔نمازِ جمعہ فرض ہے اور نمازِ عید سنت، لہٰذا اگر عید اور جمعہ کی نمازیں ایک دن جمع ہوجائیں تو دونوں ادا کی جائیںگی، جمعہ ترک کرنا جائز نہیں۔ درج بالا احادیث کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ رخصت اہل ِمدینہ کے لئے نہیں تھی، بلکہ ارد گرد کے دیہاتوں سے آنے والوں کے لئے تھی، جو نماز جمعہ کے لئے بھی مدینہ آیا کرتے تھے، تاکہ انھیں عید کی نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو واپس جانے کے بعد نماز جمعہ کے لئے دوبارہ مدینہ آنے کی زحمت نہ ہو، ان لوگوں پر ظہر کی فرضیت بہ ہرحال باقی رہتی تھی۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ امام سے جمعہ کی نماز ساقط نہیں ہوتی، دیگر افراد کے لئے رخصت ہے۔ بہ الفاظ دیگر جمعہ کی نماز باجماعت ادا کی جائے گی۔ انفرادی طورپر کوئی شخص چاہے تو رخصت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، البتہ اسے ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔

ایک روایت حضرت عطا بن ابی رباحؒ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے زمانۂ خلافت میں عید اور جمعہ ایک دن جمع ہوگئے۔ حضرت ابن زبیرؓ نے دن کے ابتدائی حصے میں عید کی نماز پڑھادی۔ جمعہ کےوقت لوگ اکٹھا ہوئے، مگر وہ نماز پڑھانے کے لئے نہیں نکلے ، بلکہ انھوںنے شام کے وقت نکل کر عصر کی نماز پڑھائی۔ اس موقع پر حضرت ابن عباسؓ طائف میں تھے۔ وہ واپس آئے تو لوگوں نے تفصیل بتاکر مسئلہ دریافت کیا۔ انھوںنے فرمایا: ابن زبیر نے سنت پر عمل کیا۔(ابودائود:۱۰۷۱، نسائی:۱۵۹۲، ابن خزیمہ: ۱۴۶۵)

اس روایت کی بنا پر امام شوکافیؒ فرماتے ہیں کہ ’’اگر عید اور جمعہ ایک دن جمع ہوجائیں تو عید کی نماز پڑھ لینے کےبعد اس روز کسی پر نہ جمعہ فرض رہتاہے نہ ظہر‘‘ (نیل الاوطار:۲؍ ۵۷۸) لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اس لئے کہ مذکورہ بالا روایت کی بعض سندوں میں فَصَلَّیْنَا وُحْدَاناً  کے الفاظ ہیں، یعنی راوی کہتے ہیں کہ جب ابن زبیرؓ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئپے نہیں نکلے تو ہم نے تنہا تنہا ظہر کی نماز ادا کرلی۔

بہتر یہ ہے کہ عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہوجانے کی صورت میں نماز عید بھی ادا کی جائے اور نماز جمعہ بھی۔ البتہ انفرادی طورپر کوئی شخص چاہے تو رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نماز جمعہ میں شریک نہ ہو اور نمازظہر پر اکتفا کرلے۔

عقیقہ کی دعا

سوال: بعض کتابوں میں درج ہے کہ عقیقہ کا جانور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے:

اللّٰہُمَّ ہٰذِہٖ عَقِیقَۃُ (بچی یا بچے کا نام) تَقَبَّلْہُ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَخَلِیْلِکَ اِبْراہِیْمَ عَلَیہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ دَمُہَا بِدَمِہٖ، لَحْمُہَا بِلَحْمِہٖ، شَعْرُھَا بِشَعِرہٖ، عَظْمُہَا بِعَظْمِہٖ

کیا یہ دعا مسنون ہے؟اگر ہاں تو حدیث کی کس کتاب میں مذکور ہے؟

جواب: عقیقہ کی مذکورہ بالا دعا مجھے حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ملی۔ ایک حدیث ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنؓ اور حسینؓ کا ان کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا، سر کے بال منڈوائے اور جانور ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی:

بِسمِ اللہ ، اللہُ اَکْبَرُ، اللّٰہُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ ، ہٰذِہٖ عَقِیْقَۃُُ فُلانٍ

’’اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔ یہ فلاں کا عقیقہ ہے۔‘‘ (فلاں کی جگہ بچے یا بچی کا نام لے)

یہ حدیث السنن الکبریٰ للبیہقی: ۱۹۰۷۷، مصنف عبدالرزاق: ۷۹۶۳، اور مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۷۰، ۲۴ میں مروی ہے۔ اس کے علاوہ ابن المنذر، ابویعلی اور بزّار نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ امام نوویؒ اور دیگر محدثین نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ (المجموع، ۸؍ ۴۲۸)

حاملہ جانور کی قربانی

سوال: کیا حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے؟

جواب: جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، البتہ جان بوجھ کر ولادت کے قریب والے جانور کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔

اگر جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ مردہ حالت میں نکلے تواس بچے کا گوشت کھانا جائز نہیں، وہ مردار کے حکم میں ہے۔ اسی طرح اگر وہ پیٹ سے نکلتے وقت تو زندہ ہو، لیکن ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو بھی وہ حرام ہے، البتہ اگر اسے زندہ حالت میں ذبح کرلیاجائے تو حلال ہے۔

غیرمسلم کو آبِ زمزم، کھجور یا قربانی کا گوشت دینا

سوال:  میرے ملاقاتیوں میں بہت سے غیرمسلم بھی ہیں۔ وہ عید ، بقرعید اور دوسرے مواقع پر آتے رہتے ہیں۔ امسال میں الحمدللہ حج پر جارہاہوں۔ واپسی پر وہ ملاقات کرنے اور مبارک باد دینےضرور آئیں گے۔ بہ راہ کرم یہ بتائیں کہ کیا انھیں آب زمزم اور کھجور بہ طور تحفہ دیاجاسکتا ہے؟ اسی طرح اس سے بھی مطلع فرمائیں کہ کیا غیرمسلموں کو قربانی کا گوشت دینا جائز ہے؟

جواب: جہاں تک مال زکوٰۃ کا معاملہ ہے اُسے غیرمسلموں کو دینا جائز نہیں۔ اس لئے کہ حدیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے وقت انھیں ہدایت فرمائی تھی:

فاَعْلَمْہُمْ اَنَّ اللہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی اَمْوَالِہِمْ تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیاَئِہِمْ وَتُرَدُّ عَلَی فَقَرَائِہِمْ

’’ (اگر وہاں کے لوگ کلمۂ شہادت اور پنج وقتہ نمازوںکا اقرار کرلیں) تو انھیں بتائو کہ اللہ نے ان کے اموال میں صدقہ (یعنی زکوٰۃ) فرض کیاہے، جو ان کے مال داروں سے لیاجاتا ہے اور ان کے غریبوں کی طرف لوٹادیاجاتا ہے۔‘‘ (بخاری:۱۳۹۵، مسلم: ۱۹)

زکوٰۃ کے علاوہ عام صدقات اور نذر و کفارات کی رقوم وغیرہ غیرمسلموں کو دی جاسکتی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد ایک سال تک غیرمسلموں کو حج وعمرہ کرنے کی اجازت تھی، اس عرصہ میں وہ مسجد حرام میں آتے تو زمزم کے پانی سے بھی استفادہ کرتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غیرمسلم مہمان آیا کرتے تھے تو آپؐ کھجوروں سے ان کی تواضع فرماتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بکری ذبح کرتے تو اپنے گھروالوں کو اس میں سے کچھ گوشت اپنے یہودی پڑوسی کو بھجوانے کی ہدایت فرماتے۔ (ابودائود:۵۱۵۲) اور گوشت چاہے عام ذبیحہ کاہو یا قربانی کا، غیرمسلم کو دینےکے معاملے میں دونوں کا حکم یکساں ہے۔

اکتوبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau