رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن کریم کے چند مترادف الفاظ

سوال: قرآن کریم میں معروف، برّ اور حسنۃ کے الفاظ آئے ہیں۔ اردو زبان میں تینوں کا ترجمہ ’نیکی‘ سے کیا جاتا ہے۔ کیا ان کے درمیان کچھ فرق ہے یا یہ ہم معنی ہیں؟

جواب:قرآن کریم میں بہت سے مترادف الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ ان کے معانی میں اگر ایک پہلو سے مماثلت پائی جاتی ہے تو دوسرے پہلو سے ان میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ فروق لغویہ پر متعدد کتابیںتصنیف کی گئی ہیں اوربعض مفسرین نے بھی اپنی کتابوں میں اس پہلو پر خصوصی توجہ دی ہے۔

نیکی کے معنیٰ میں سطورِ بالا میں قرآن کریم کے تین الفاظ درج کیے گئے ہیں۔ اسی معنیٰ میں چوتھا لفظ ’خیر‘ بھی قرآن میں آیا ہے۔ ان الفاظ کے معانی میں جو فرق ہے اس کی طرف مولانا عبدالرحمٰن کیلانی نے اپنی کتاب ’مترادفات القرآن‘ میں یوں اشارہ کیا ہے:

lعُرْف اور معروف: ان الفاظ کا مادہ عَرَفَ ہے۔ اس کا معنٰی ہے کسی چیز کو پہچاننا۔ اس کی ضد نَکِرَ ہے۔ معرو ف اور عرف ہر وہ بات ہے جسے معاشرے کے اچھےلوگ اچھا خیال کرتے ہوں۔ معاشرہ کا اچھا دستور ، بھلے مانس لوگوں کے طریقے، ملکی دستور جو پسندیدہ سمجھا جاتا ہو۔ ارشادباری ہے:

خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۔(الاعراف:۱۹۹)

’’(اے نبی)! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جائو اور جاہلوں سے نہ الجھو‘‘۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔    (آل عمران:۱۰۳)

’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں‘‘۔

L حسنۃ: اس کی جمع حسنات ہے۔ اس کا معنٰی ہے ہر خوش کن اور پسندیدہ کام، جو عقل اور شریعت کے مطابق ہو۔ اس کی ضد سیئۃ ہے،جس کی جمع سیئات ہے۔ ارشاد باری ہے:

اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ۔ (ھود:۱۱۴)

’’درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں‘‘۔

lخیـر: اس کی جمع خیرات اور ضد شر ہے۔ اس کا معنٰی ہے کسی نیکی کا اپنے کمال کو پہنچنا۔ ایسے کام جن کا عوام الناس کو فائدہ پہنچے۔ نیکی کے بڑے بڑے کام۔ وہ کام جو سب کو مرغوب ہو۔ ارشاد باری ہے:

يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ۔۝۰(آل عمران:۱۱۴)

’’نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائیوں کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں‘‘

lبِــرّ: اس کا معنٰی ہے طبیعت کا ہر نیک کام کی طرف میلان رہنا اور موقع آنے پر اسے انجام دینا۔ اس کی ضد اثم ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔۝۰                 (المائدہ:۲)

’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘۔

(مترادفات القرآن، مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، مکتبہ السلام، لاہور، ۲۰۰۹ء، ص ۸۶۹۔۸۷۰)

درج بالا اقتباس میں ’برّ‘ کی تشریح میں کچھ اجمال و ابہام پایاجاتا ہے۔ اس لیے اس کے سلسلے میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تشریح نقل کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’برّ کا لفظ عربی زبان میں ایفائے عہد، وفاداری اور ادائے حقوق کے معنٰی میں آتا ہے۔ حقوق میں ہر قسم کے حقوق شامل ہیں۔ بنیادی اور حقیقی بھی ،مثلاً خدا کی فرماں برداری، والدین کی اطاعت اور خلق کے ساتھ ہم دردی، پھر آگے چل کر اس میں وہ حقوق بھی شامل ہوجاتے ہیں جو قول وقرار اور معاہدات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ احسان اور نیکی کی تمام قسموں پر بھی حاوی ہے اور عدل کا بھی ہم معنٰی ہے۔ اپنے استعمالات کے لحاظ سے یہ لفظ اثم (حق تلفی)، عقوق (والدین کی نافرمانی) غدر(بے وفائی) اور ظلم کا ضد ہے۔

(تدبرقرآن، تاج کمپنی دہلی، ۱۹۸۹ء، ۱ / ۱۸۷)

بغیر سحری کے روزہ

سوال: رمضان المبارک میں افطار اور رات کاکھانا کھانے کے بعد سحری کھانے کی بالکل خواہش نہیں رہتی۔ کبھی کبھی نیند کا غلبہ ہوتا ہے، جس کی بنا پر آنکھ کھلنے کے باوجود اٹھ کر سحری کھانے کا جی نہیں چاہتا۔ کیا بغیر سحری کھائے روزہ رکھنے سے اجر میں کچھ کمی واقع ہوجاتی ہے؟

جواب:احادیث میں سحری کھانے کی بڑی فضیلت آئی ہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

تَسَحَّرُوا فَاِنَّ فِی السَّحُورِ بَرَکَۃً۔   (بخاری:۱۹۲۳،مسلم۱۰۹۵)

’’سحری کرو، اس لیے کہ سحری میںبرکت ہے‘‘۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

اِنَّہَا بَرَکَـۃٌ اَعْطَاکُمُ اللہُ اِیَّاھَافَلَا تَدَعُوْہُ ۔          (نسائی:۲۱۶۲)

’’سحری کے کھانے میں برکت ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے تمھارے لیے عطیہ ہے، اس لیے اسے نہ چھوڑو‘‘۔

دراصل روزے کا مقصد بھوکا پیاسا رہ کر اپنے جسم کو مشقت میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ روزہ احکام الٰہی کی بے چوں وچرا اور فوری تعمیل کا نام ہے۔ ہم مخصوص اوقات میں کھانے پینے سے رک جاتے ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اور ان کے علاوہ دیگر اوقات میں ہم کھانے پینے لگتے ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔

اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) نے اس حکمت کو فراموش کردیا تھا، چنانچہ وہ سحری کھانے سے لاپروائی برتنے لگے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو ان کی تقلید سے منع کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَھْلِ الْکِتَابِ اُکْلَۃُ السَحَر۔ (مسلم:۱۹۶)

’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں یہی فرق ہے کہ وہ سحری نہیں کھاتے ، جبکہ  ہم اس کا اہتما م کرتے ہیں‘‘۔

اہل کتاب اور خاص طو ر پر نصاریٰ جسم کو مشقت پہنچانے کی غرض سے دورانِ روزہ کئی کئی روز تک دن رات کھانے پینے سے احتراز کرتے تھے۔ اسے ’صوم وصال‘ کہا جاتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

لَا تُوَاصِلُوا، فَاَیُّکُمْ َاَرَادَ اَنْ یُّوَاصِلَ فَلْیُوَاصِلْ حَتّیَ السَّحْرِ۔(بخاری:۱۹۶۵)

’’صوم وصال نہ رکھو۔ لیکن اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو وہ سحری کے وقت تک وصال کرلے‘‘۔

درج بالا ارشاداتِ نبویؐ کی بنا پر روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانا مسنون ہے، لیکن اگر کوئی شخص بغیر سحری کھائے روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ ہوجائے گا، اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ امام بخاریؒ اپنی صحیح میں ایک ترجمۃ الباب یہ قائم کیا ہے:

باب برکۃ السحور عن غیر ایجاب۔

’’اس چیز کا بیان کہ سحری کھانا بابرکت عمل ہے،لیکن واجب نہیں ہے‘‘۔

ماہ رمضان میں خواتین کے بعض مسائل

سـوال: رمضان المبارک میں خواتین اپنے بعض مخصوص مسائل سے دوچار ہوتی ہیں۔ بہ راہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں ان کی وضاحت فرمادیں۔

(۱) خواتین ہر ماہ چند ایام ناپاکی کی حالت میں رہتی ہیں۔ ان ایام میں ان کے لیے نماز نہ پڑھنے اور روزہ نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کرنے کی رخصت ہوتی ہے۔ بازاروں میں اب ایسی گولیاں ملتی ہیں جن کے استعمال سے ماہواری کےایام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ کیا رمضان المبارک کے روزے مکمل کرنے کی خواہش میں ایسی گولیاں استعمال کرنا جائز ہے؟

(۲) جن ایام میں خواتین روزے سے نہ ہوں، کیا ان کے لیے دن میں کھانا پینا جائز ہے؟ یا ان کے لیے روزہ داروں کی مشابہت میں بھوکا پیاسا رہنا مستحب ہے؟

(۳) اگر کسی عورت نے روزے کی حالت میں صبح کی، لیکن دوپہر میں اسے ماہ واری شروع ہوگئی تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا؟ کیا اب وہ دن کے بقیہ حصے میں کھاپی سکتی ہے یا اسے کھانے پینے سے رکا رہنا چاہیے؟

جواب: (۱) اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصتوں سے فائدہ نہ اٹھانے اور ان سے گریز کرنے کا رویہ شریعت میں پسندیدہ نہیں ہے۔ رمضان المبارک کے روزے فرض کیے گئے تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۔  (البقرۃ:۱۸۵)

’’اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہوتو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا‘‘۔

یہی حکم ان عورتوں کا ہے جو رمضان المبارک کے دنوں میں حیض اور نفاس (ولادت کے بعد کےایام) میں مبتلا ہوجائیں، کہ وہ ان دنوں کے روزے نہ رکھ کر بعد میں ان کی قضا کریں گی۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حیض سے ہوتے تھے تو ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم ان دنوں میں روزہ نہ رکھ کر بعد میں ان کی قضا کریں۔ (صحیح مسلم: ۳۳۵)

جوان عورتوں کو ہر ماہ حیض آنا قانونِ فطرت کے مطابق ہے۔ یہ صحت کی علامت ہے۔ دواؤں کے ذریعے اسے روکنا اور اس کے دورانیہ (Cycle) کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا غیرفطری ہے۔ اس کے ذریعے جسم پرمنفی اثرات پڑتے ہیں اور صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ایسا کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

جو عورتیں رمضان المبارک میں چھوٹ جانے والے روزوں کی بعد میں قضا کریں گی، اللہ تبارک وتعالیٰ کی شانِ کریمی سے امید ہے کہ انھیں اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کی صورت میں ملتا۔

البتہ اگر کوئی عورت گولیوں کا استعمال کرکے ایام حیض کو آگے بڑھالے اور پورے رمضان المبارک کے روزے رکھ  لے تو اس کے روزے درست ہوں گے۔

(۲) حیض ونفاس میں مبتلا عورتوں کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، اس لیے ان ایام میں دن میں ان کا کھانا پینا جائز ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ انھیں برسرِ عام کھانے پینے سے احتراز کرناچاہیے کہ اس میں ماہ رمضان المبارک کا احترام بھی ہے اور ان کی حیا کا تقاضا بھی، کہ برسرعام کھانے پینے سے ان کے ، حالت ناپاکی میں ہونے کا اظہار ہوگا۔

(۳) اگر وقت افطار سے قبل کسی عورت کو حیض آجائے تو اس دن کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی اسے بعد میں قضا کرنا ہوگی۔ اس صورت میں اس کے لیے دن کے بقیہ حصے میں کھانا پینا جائز ہے۔

تقسیم میراث کی اہمیت

سـوال:  ہم چھ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ دو بھائیوں کو چھوڑ کر سب کی شادی ہوچکی ہے۔ والد صاحب کا انتقال پانچ سال پہلے ہوچکا ہے، مگر اب تک وراثت کی تقسیم نہیں ہوئی ہے۔ گھر کے کچھ افراد اسے معیوب سمجھتے ہیں اور جو افراد تقسیم وراثت کے حق میں ہیں، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اورانھیں لالچی کے خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ کیا والد کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم کو روکے رکھنا ارتکابِ گناہ کے برابر نہیں ہے؟

جـواب: کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی میراث جلد از جلد تقسیم ہوجانی چاہیے اور جو لوگ اس کے مستحق ہیں انھیں ان کے حصے دے دیے جانے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ۝۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ كَثُرَ۝۰ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔    (النساء:۷)

’’مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتے داروں نے چھوڑا ہوا اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مقررہے‘‘۔

اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ کسی شخص کی میراث خواہ مقدار میں کم ہو یا زیادہ، اسے ہر حال میں تقسیم ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے مستحقین کے جو حصے مقرر کیے ہیں، ان کے مطابق اس کی تقسیم ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور جن عورتوں کے حصے اللہ تعالیٰ نے متعین کیے ہیں انھیں بھی ان کا حصہ دیا جائے گا۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اس واضح حکم پر عمل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، ان کے بارے میں قرآن کریم میں سخت وعید آئی ہے۔ ان کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ ناحق مال نہیں کھاتے، بلکہ حقیقت میں اپنے پیٹ جہنم کی آگ کے انگاروں سے بھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تقسیم میراث کا حکم دینے کے بعد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۝۰ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا۔  (النساء:۱۰)

’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں، درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے‘‘۔

تقسیم وراثت کا مطلب قطعِ تعلقات نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی بھائیوں اور بہنوں کے درمیان خوش گوار تعلقات رکھے جاسکتے ہیں۔ والدہ اگر زندہ ہیں تو سب بھائی بہن مل کر ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ بھائیوں یا بہنوں کی شادی نہیں ہوپائی ہے تو شادی شدہ بھائی بہن مل کر ان کی شادی خوش اسلوبی سے کرواسکتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو بہانہ بناکر میراث کی تقسیم نہ کرنا یا اس کو ٹالنے کی کوشش کرنا درست رویہ نہیں ہے۔ پھر جو لوگ تقسیم وراثت کا مطالبہ کریں ان کا مذاق اڑانا اور انھیں لالچی کہنا تو اور بھی غلط ہے، کیوں کہ اس سے دو گناہ لازم آتے ہیں : ایک خود حکم شریعت پر عمل نہ کرنا اور دوسرا جو اس پر عمل کرناچاہتا ہے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ عمل کی توفیق دے۔ آمین!

مشمولہ: شمارہ جولائی 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau