رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں لکنت؟

سوال: نبی اپنے زمانے میں تمام خصوصیات سے بھرپور ہوتاہے۔ اس میں کسی بھی چیز کا نقص نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا سورۂ طہٰ میں مذکور ہے، جس میں ہے: وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی۝۲۷ۙ یفْقَـــہُوْا قَوْلِی۝۲۸۠  بعض حضرات اس کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت تھی اور اس کا قصہ یہ بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں آگ کے انگارے کو زبان پر رکھنے کی وجہ سے ایسا ہواتھا۔ لیکن یہ بات کسی طرح صحیح نہیں لگتی۔ اس طرح کی باتیں قیاسی ہیں یا یہ روایات سے ثابت ہے؟ بہ راہ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب:بائبل میں صراحت ہے کہ حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت تھی۔ اس میں ہے:

’’تب موسیٰ نے خداوند سے کہا: اےخداوند! میں فصیح نہیں، نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے  تو نے اپنے بندے سے کلام کیا،بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کندہے۔‘‘ (کتاب مقدس، خروج، ۴:۱۰، اردو ترجمہ ،بائبل سوسائٹی آف انڈیا بنگلور،۱۹۷۹ء)

اور تالمود میں تفصیل سے وہ واقعہ بیان کیاگیاہے جو ان کی زبان میں لکنت پیدا ہونے کا سبب بناتھا، اور جس کی طرف اوپر سوال میں اشارہ کیاگیاہے۔

قرآن کریم میں اس سلسلے میں مختلف بیانات ملتے ہیں۔ حضرت موسٰی کی دعا ان الفاظ میں مذکور ہے:

رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی۝۲۵ۙ وَیسِّرْ لِیٓ اَمْرِی۝۲۶ۙ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی۝۲۷ۙ یفْقَـــہُوْا قَوْلِی۝۲۸۠     (طہ:۲۵۔۲۸)

’’پروردگار! میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان کردے اور میری زبان کی گرہ سلجھادے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔‘‘

یہ آیات اور دیگر مقامات پر قرآن کریم کے بیانات حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت ہونے کے معاملے میں صریح نہیں ہے۔

تفسیر کی کتابوں میں سورۂ طہ کی آیت ۲۷ کی تفسیر کے ضمن میں عموماً وہ واقعہ بیان کیاگیاہے کہ بچپن  میں زبان پر آگ کا انگارہ رکھ لینے کی وجہ سے حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ اسرائیلیات کے زیراثر یہ روایات قبول کرلی گئی ہیں۔

موجودہ دور کے بعض اردو مفسرین نے حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت ہونے کا سختی سے انکارکیا ہے۔ ذیل میں ان کے اقتباسات نقل کردینا مناسب معلوم ہوتاہے:

جناب شمس پیرزادہ صاحبؒ نے لکھاہے:

’’زبان کی گرہ سے مراد بولنے میں روانی کی کمی ہے نہ کہ لکنت۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت تھی اور یہ جو قصہ تفسیروں میں بیان ہواہے کہ حضرت موسٰی نے بچپن میں، جب کہ وہ فرعون کے زیرپرورش تھے، منہ میں انگارا ڈال لیاتھا، جس کی وجہ سے ان کی زبان میں لکنت پیداہوگئی تھی، تو یہ اسرائیلیات میں سے ہے اور قابل رد ہے۔ دراصل دعوت کو موثر انداز میں پیش کرنے کے لیے خطابت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت موسٰی اپنے اندر طلاقتِ لسانی کی کمی محسوس کررہے تھے اس لیے انھوںنے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی کہ زبان کی اس رکاوٹ کوکہ وہ روانی کے ساتھ بات نہیں کرسکتے، دور کردے۔‘‘ (دعوت القرآن، ادارہ دعوۃ القرآن، ممبئی)

مولانا امین احسن اصلاحیؒ فرماتے ہیں:

’’لکنت کی روایت تورات میں ہے۔ وہیں سے ہماری تفسیر کی کتاب میں داخل ہوئی اور پھر اس کو مستند کرنے کے لیے ہمارے مفسرین نے ایک عجیب و غریب واقعہ بھی گھڑلیا۔ ۔۔ قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے لکنت کا ثبوت ملتا ہو۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی۝۲۷ۙ یفْقَـــہُوْا قَوْلِی۝۲۸۠  کے الفاظ میں بھی جس بات کی درخواست کی ہے وہ لکنت دور کرنے کی نہیں، بلکہ اظہار و بیان کی وہ قابلیت و صلاحیت بخشے جانے کی درخواست ہے جو فریضۂ نبوت و رسالت کی ادائی کے لیے ضروری تھی۔۔۔ الغرض ہمارے نزدیک یہ لکنت کی روایت ناقابل اعتبار ہے۔ قطع نظر اس سے کہ حضرات انبیاء کو اللّٰہ تعالیٰ جس طرح اخلاقی عیوب سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح خِلقی نقائص سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی بات یہ ہے کہ قرآن میںاس روایت کی تائید کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ (تدبر قرآن، تاج کمپنی، دہلی:۳۹/۵۔ ۴۰)

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی حضرت موسٰی کی زبان میں لکنت اور اس کے سبب کے طورپر جو اقعہ بیان کیاجاتاہے، دونوں کا رد کیاہے۔ ان کے نزدیک یہ باتیں بائبل اور تالمود میں بیان کی گئی ہیں۔ وہیں سے منتقل ہوکر تفسیر کی کتابو ںمیںرواج پاگئی ہیں، لیکن عقل انھیں ماننے سے انکارکرتی ہے۔ آگے انھوں نے لکھاہے:

’’قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی (جس کا انھیں اس وقت تک اتفاق نہیں ہواتھا) تو ان کی طبیعت کی جھجھک مانع ہوجائے گی۔ اس لیے انھوںنے دعا فرمائی کہ ’یا اللّٰہ! میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھاسکوں۔‘ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیاکہ ’یہ شخص تواپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کرسکتا‘ لَا یكَادُ یبِینُ (الزخرف:۵۲) اور یہی کم زوری تھی جس کو محسوس کرکے حضرت موسٰی نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارونؑ کو مددگار کے طورپر مانگا۔ سورۂ قصص میں ان کایہ قول نقل کیاگیا ہے:

وَاَخِی ہٰرُوْنُ ہُوَاَفْصَحُ مِنِّی لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِی رِدْاً  (آیت: ۳۴)

’’میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے۔ اس کو میرے ساتھ مددگار کے طورپر بھیج۔‘‘ آگے چل کر معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسٰی کی یہ کم زور دور ہوگئی تھی اور وہ خوب زوردار تقریر کرنے لگے تھے۔ چنانچہ قرآن میںاور بائبل میں ان کی بعد کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمالِ فصاحت وطلاقتِ لسانی کی شہادت دیتی ہیں۔‘‘

(تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۹۲/۳۔۹۳)

ملازمین کے مشاہرہ کو اپنے کاروبار میں لگانا

سوال:  زید کی ایک سُپرمارکیٹ ہے، جس میں تقریباً پچاس افراد کام کرتے ہیں۔ ہر ایک کی تن خواہ متعین ہے، لیکن زید اپنے اسٹاف سے کہتاہے کہ تمھاری تن خواہ میرے پاس محفوظ ہے، جب بھی تم کو ضرورت ہو، مجھ سے لے سکتے ہو۔ اس طرح وہ ان روپیوں کو اپنے کاروبار میں استعمال کرتا ہے۔ اسٹاف کے کچھ لوگ شرم یا ڈر کی وجہ سے اپنا روپیہ اس کے پاس چھوڑدیتے ہیں۔ کیا زید کے لیے ان روپیوں کو اپنے کاروبار میں لگانا جائز ہے؟ اگر ہے تو اس کی کیا نوعیت ہوگی؟

جواب:    کسی شخص کے ماتحت کچھ ملازمین ہوں تو اس پر لازم ہے کہ ان کا مشاہرہ وقت پر اداکرے۔ اس کی ادائی میں تاخیر کرنا یا اس میں لیت و لعل سے کام لینا یا اس کاکچھ حصہ روک لینا، تاکہ وہ ملازمین اس کے یہاں کام کرتے رہیں، اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ ؐ کاارشاد ہے:

اَعْطُوالاَجِیْرَ اَجْرَہ قَبْلَ اَنْ یَّجِفَ عَرَقَہ                  (ابن ماجہ:۲۴۴۳)

’’مزدور کو اس کی مزدوری دے دو، اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ سوکھ جائے۔‘‘

ملازمین کامشاہرہ ان کے قبضے میں دینے کے بعد، آدمی ضرورت مند ہوتو ان سے قرض لے سکتا ہے۔ یہ قرض خواہی بھی بغیر دباؤ کے ہونی چاہیے کہ ملازمین میں سے جو چاہے اسے قرض دے اور جو چاہے منع کردے۔ ساتھ ہی قرض کی شرائط بھی طے کرلی جائیں کہ وہ کتنی مدت کے لیے قرض لے رہاہے؟ واپسی یک مشت ہوگی یا قسطوں میں؟ وغیرہ۔

اگر قرض کی صراحت کے بغیر وہ شخص اپنے کسی ملازم کا مشاہرہ اپنے پاس روکتا ہے، یا کوئی ملازم اپنامشاہرہ اس کے پاس رکھواتا ہے تو وہ رقم اس کے پاس بہ طور امانت ہوگی۔ اس میں تصرف کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ رقم کے مالک کی اجازت کے بغیر اسے کاروبار میں لگانا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔

آدمی کو اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کاخیرخواہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص کا کاروبار مستحکم ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ ملازمین کی کچھ رقم اپنے کاروبار میں لگانے سے انھیں فائدہ ہوگا اور ان کی رقم میں اضافہ ہوگا تو وہ انھیں اعتماد میں لے کر اور ان کی مرضی سے دی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگاسکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ ابتداء ہی میں وہ ان پر واضح کردے کہ وہ نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوںگے۔

صحیح حدیث میں ایک شخص کاواقعہ تفصیل سے مذکور ہے، جس کے پاس بہت سے ملازم کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک ملازم اپنی اجرت لیے بغیر چلاگیا اور پلٹ کر نہیں آیا۔ اس شخص نے اس کی اجرت کو اپنے کاروبار میں لگالیا۔ کافی دنوں کے بعد وہ ملازم آیا اور اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی اجرت مانگی تو اس شخص نے ایک وادی کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ اس میں جانوروں (گایوں، بکریوں، بھیڑوںوغیرہ)کا جتنا بڑا ریوڑ دکھائی دے رہاہے وہ سب تمھارا ہے۔ میں نے تمھاری مزدوری کو اپنی تجارت میں شامل کرلیاتھا، جس سے تمھاری مزدوری کی مالیت بڑھتے بڑھتے اتنی ہوگئی ہے۔ وہ آدمی خوشی خوشی اپنے ریوڑ کو ہانک لے گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل بہت پسند آیا۔ چنانچہ کچھ عرصے کےبعد اس شخص نے اپنے اس عمل کا واسطہ دے کر اللّٰہ تعالیٰ سے ایک دعا کی، جسے اس نے شرفِ قبولیت بخشا۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۲)

مصنوعی آلۂ تنفس کو کب ہٹانا جائز ہے؟

سوال: میری اہلیہ کافی دنوں سے بیمار ہیں۔ اِدھر ان کی حالت زیادہ بگڑگئی تو انھیں ایک بڑے اسپتال میں داخل کرادیاگیا۔ وہاں انھیں سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تو ڈاکٹروں نے مصنوعی آلۂ تنفس (Ventilator) لگادیا ہے۔ ان کی حالت میں بہ ظاہر کوئی سدھار نہیں آرہاہے، بلکہ دن بہ دن زیادہ خراب ہورہی ہے۔ وینٹی لیٹرکے مصارف ایک لاکھ روپے یومیہ ہیں۔ یہ بھی طے ہے کہ وینٹی لیٹر ہٹائے جانے کے تھوڑی دیر کے بعد مریضہ کی سانس رک جائے گی اور اس کا انتقال ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں کیا وینٹی لیٹر ہٹایا جاسکتا ہے؟ کہیں یہ قتلِ نفس کے مترادف تونہیں ہوگا؟

جواب: اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے سالانہ اجلاسوں میں نئے مسائل پر غوروخوض ہوتاہے۔ اس سے وابستہ علماء متعینہ موضوعات پر مقالات لکھتے ہیں، پھر متعینہ تاریخوں میں کسی جگہ اکٹھاہوکر ان پر مباحثہ ہوتا ہے۔ آخر میں متفقہ طورپر قراردادیں منظور کی جاتی ہیں۔ اکیڈمی کا سولہواں فقہی سمینار ۳۰؍مارچ تا ۲؍اپریل ۲۰۰۷ء جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں منعقد ہواتھا۔ اس میں دیگر موضوعات کے ساتھ اس موضوع پر بھی غورخوض کیاگیاتھا اور یہ قراردادیں منظور کی گئی تھیں:

۱۔            اگر مریض مصنوعی آلۂ تنفس پرہو، لیکن ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس نہ ہوئے ہوں اور امید ہو کہ فطری طورپر تنفس کا نظام بحال ہوجائے گا تو مریض کے ورثہ کے لیے اسی وقت مشین ہٹانا درست ہوگا جب کہ مریض کی املاک سے اس علاج کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو، نہ ورثہ ان اخراجات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نہ اس علاج کو جاری رکھنے کے لیے کوئی اور ذریعہ میسّر ہو۔

۲۔           اگر مریض آلۂ تنفس پر ہو اور ڈاکٹروں نے مریض کی زندگی اور فطری طورپر نظام تنفس کی بحالی سے مایوسی ظاہر کردی ہوتو ورثہ کے لیے جائز ہوگاکہ مصنوعی آلۂ تنفس علاحدہ کردیں۔‘‘

(نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے، طبع دہلی، ۲۰۱۴ء، ص ۲۲۵)

نومبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau