رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

سسرال میں لڑکی کے حقوق اور فرائض

سوال: ماہ نامہ زندگی نو جنوری ۲۰۱۵ء کے’ رسائل ومسائل‘ کالم میں ’مشترکہ خاندان میں رہائش‘ کے عنوان کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ مسئلے کے تمام پہلؤوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔

آغاز ہی میں کہا گیا ہے کہ ’’مشترکہ خاندان میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں‘‘ جب کہ مفاسد اور خوبیاں تو مشترکہ اور علیٰحدہ دونوں طرح کے خاندانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ بیوی اور شوہر، ساس اور بہو، بھابھی اور نند مشترکہ خاندان میں پیش آنے والے مسائل سے کیسے نپٹیں؟ یا ان کو کیسے سلجھائیں؟ ان افراد کا رویہ ہی دراصل خاندانی نظام کو خوش گوار بنانے میں مدد دیتا ہے، یا بگاڑنے کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ اصل مسئلہ مشترکہ یا علیٰحدہ نظام کا نہیں، بلکہ اس سے جڑے افراد کے رویوں کا ہے۔

اس سلسلے میں اگر ذیل کی باتوں پر روشنی ڈالی جائے تو آج کی ایک اہم ضرورت پوری ہوگی:

(۱) کیا علیٰحدہ نظامِ خاندان شرعی حیثیت سے لازمی ہے؟ اگر اسلام دونوں (یعنی مشترکہ اور علیٰحدہ) نظاموں کی اجازت دیتا ہے تو اس کی وضاحت قرآن اور حدیث کی روشنی میں کیجیے۔

(۲) کیا نکاح سے پہلے لڑکا یا لڑکی کی طرف سے یہ شرط یا معاہدہ طے ہونا چاہیے کہ وہ نکاح کے بعد کیسے رہنا پسند کرے گا؟

(۳) اگرمشترکہ خاندانی نظام میں رہنے کی بات طے ہوجاتی ہے تو اس کے شرعی حدود متعین ہونے چاہئیں۔ اس خاندان کا مالک یا مالکہ یا ناظمہ کون ہوں گے؟ اور ان کی اطاعت اسلامی حدود کے اندر کیسے کی جانی چاہئے؟ بہ حیثیت ناظمہ یا امیر ساس یا خسر کے اختیارات اور حدود کیا ہوں گے؟ اور بہ حیثیت  ماتحت یا مامور  بہو کے کیا اختیارات اور ذمے داریاں ہوں گی؟ جب تک ساس یا خسر معصیت یا ظلم کا حکم نہ دیں، پسند اور ناپسند سے پرے اطاعت کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ یہ تو قانونی باتیں ہیں ، اخلاقی اور صلح کل کا رویہ اور اس کے تقاضے دوسرے ہیں۔ لیکن یہ بات قانونی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے واضح کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ شرعی مسئلہ تو یہی ہے کہ بیوی کی ذمے داری اصلاً صرف شوہر کی خدمت ہے، جیسا کہ آپ نے بتایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کے ماں باپ کی خدمت یا مشترکہ خاندان کے دوسرے کاموں میں حصہ لے گی تو یہ اس کی شرعی ذمے داری سے زائد ہوگا اور یہ ایک طرح کا احسان ہوگا جو وہ اپنے شوہر کی خاطر کرے گی۔ احسان کرنے کا احساس لازماً بیوی کے اندر احساسِ برتری پیدا کردیتا ہے، جو گھر کے ماحول اور ازدواجی زندگی کو بگاڑنے کا سبب بن رہا ہے۔ بالخصوص تحریک اسلامی سے وابستہ خواتین اور لڑکیوں کے اندر اس حق (یعنی ان پر صرف شوہر کی اطاعت یا خدمت کی ذمے داری ہے) کا شعور بلاوجہ احساسِ برتری پیدا کر رہا ہے، جس کی بنا پر خاندانی نظام اورازدواجی زندگی میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

اس صورت حال میں مذکورہ بالا سوالات کے جوابات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جواب:نکاح کے ذریعے ایک خاندان وجود میں آتا ہے۔ لڑکا اور لڑکی، جن کے درمیان رشتۂ نکاح قائم ہوتا ہے،اس کے بنیادی رکن ہوتے ہیں۔ نکاح سے قبل لڑکی اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں کے درمیان رہتی ہے اور ان کے پیار ومحبت کے سایے میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ نکاح کے بعد وہ اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوتی ہے تو وہاں ویسے ہی افراد اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ساس اور سسر کی حیثیت ماں باپ کی سی ہوتی ہے۔ جس طرح لڑکی اپنے حقیقی ماں باپ سے محبت اور احترام کرتی ہے اسی طرح کی محبت اور احترام کے اس کی ساس اور سسر بھی مستحق ہوتے ہیں۔ سسرال کے دوسرے افراد سے بھی اس کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ اس لیے رشتے داروں کے جو حقوق قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے ہیں اور صلہ رحمی کی جتنی تاکید کی گئی ہے، اس کی انجام دہی ایک نیک، دین دار اور شریف لڑکی کی پہچان ہے۔

لڑکی اپنے گھر سے سسرا ل منتقل ہوتی ہے تو اپنے ساتھ کچھ حقوق لے کر آتی ہے اور کچھ فرائض اس پر عائد ہوتے ہیں۔ اس کے حقوق سے تجاہل برتنا اور صرف فرائض کی انجام دہی کا مطالبہ کرنا مبنی بر انصاف رویہ نہیں ہے۔ نئی نویلی دلہن کاحق ہے کہ اسے اپنے شوہر کے ساتھ آزادانہ خلوت کے مواقع حاصل ہوں۔گھر میں اسے اتنی آزادی ہو کہ وہ اپنے شوہر کے حسب منشا اس کے لیے زیب وزینت اختیار کرسکے۔ سسرالی رشتے داروں میں سے جو اس کے لیے نامحرم ہوں، ان سے وہ  پردہ کرسکے۔ اگر وہ گھر گرہستی کے کچھ سامان اپنے میکے سے لائی ہو تو ان پر مالکانہ تصرف کرنے کا اسے اختیار ہو۔ اپنی مملوکہ چیزوں کی حفاظت اس کے بس میں ہو۔ نظامِ خاندان میں اسلام نے شوہر کو ’قوّام‘ یعنی نگراں و منتظم بنایا ہے۔ بیوی کی ذمے داری ہے کہ معر وف میں اس کی اطاعت کرے اور اس کی مرضی کے خلاف کاموں سے بچے۔

ہمارے ملک میں ہندو کلچر کے زیراثر مشترکہ خاندانی نظام کو پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نفری قوت، جائداد کا ارتکاز اور دیگرفائدے بیان کیے جاتے ہیں، لیکن دینی نقطۂ نظر سے اس میں جو مفاسد پائے جاتے ہیں انہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خرابی یہ  ہے کہ بیوی کو شوہر کے ساتھ آزادانہ خلوت اور زیب وزینت اختیار کرنے کے مواقع حاصل نہیں ہوتے اور بہو نہ صرف ساس ،سسر ، بلکہ نندوں اور دیوروں کی بھی خادمہ بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس میں پردہ کے تقاضے بھی بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔

زندگی نو کے جنوری ۲۰۱۵ء کے شمارے میں ایک سوال کے جواب میں راقم نے اسی ہندو کلچر پر نقد کرتے ہوئے لکھا تھا: ’’ہمارے ملک میں مشترکہ خاندانی نظام کی جو صورت رائج ہے اس میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں‘‘۔ آگے اس کی کچھ تفصیل بھی بیان کی تھی، لیکن سائل نے اس تفصیل کو نظرانداز کردیا اور مذکورہ بالا جملہ کو مختصر کرکے میری طرف یہ جملہ منسوب کردیا ’’مشترکہ خاندان میں بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں‘‘۔ درست رویہ تو یہ تھا کہ پوری بات نقل کی جاتی، پھر اس پر نقد کیاجاتا۔

شوہر کے خونی رشتے داروں: ماں باپ بھائی بہنوں کی ذمے داری ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤکریں، اسے اپنی خادمہ نہ سمجھیں بلکہ اس سے محبت کا اظہار کریں، ساس سسر اسے اپنی بیٹی سمجھیں اور نند دیور اسے بہن کا درجہ دیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو گھر میں آنے والی دلہن بھی ان سے قربت محسوس کرے گی، ان کے درمیان رہ کر اسے خوشی ومسرت حاصل ہوگی، اوران کے چھوٹے موٹے کام انجام دے کر اسے طمانینت اور سرور حاصل ہوگا۔ لیکن اگر اسے طعنے سننے کو ملیں، بات بات پر اسے ٹوکا جائے، اس کے کاموں میں خامیاں نکالی جائیں تو وہ اذیت اور بے اطمینانی محسوس کرے گی اور اس کا سکون غارت ہوجائے گا۔ اس صورتحال میں اگر وہ اپنے شوہر سے علیٰحدہ رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ کرے تو یہ اس کا حق ہے، جس سے اسے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے۔ یہاں صرف ایک اقتباس نقل کیاجاتا ہے۔ فقہ حنفی کے مشہور امام علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:

ولوأراد الزوج أن یسکنہا مع ضرّتہا أومع أحمائہا کأمّ الزوج وأختہ وبنتہ من غیرھا وأقاربہ فأبت ذلک‘ علیہ ان یسکنہا فی منزل مفرد، لانھن ربمایؤذینہا ویضررن بہا فی المساکنۃ، وإباؤھا دلیل الأذی والضرر۔ (بدائع الصنائع ، کتاب النفقۃ، ۳؍۴۲۸۔ ۴۲۹)

’’اگر شوہر اپنی بیوی کو اس کی سوکن یا اس کے سسرالی رشتے داروں، مثلاً ساس، نند،  دوسری بیوی سے اپنی لڑکی یا دوسرے رشتے داروں کے ساتھ رکھنا چاہے اور بیوی اس سے انکار کرے تو شوہر پر لازم ہے کہ اس کے لیے الگ رہائش فراہم کرے۔ اس لیے کہ بسا اوقات اسے ان سے اذیت اور ضرر پہنچ سکتا ہے۔ اس کا ان کے ساتھ رہنے سے انکار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے ان سے اذیت اور ضرر پہنچ رہا ہے‘‘۔

مشترکہ خاندانی نظام میں بیوی کو شوہر کے ساتھ خلوت  (PRIVACY) کے مواقع کم حاصل ہوپاتے ہیں۔ اس کا حل بھی یہ ہے کہ یاتو اسے علیٰحدہ رہائش فراہم کی جائے یا گھر کا کوئی حصہ اس کے لیے خاص کردیا جائے، جس میںسسرال کے دیگر افراد کا کچھ عمل دخل نہ ہو۔ فقہاء نے اس کی بھی صراحت کی ہے ۔ علامہ کاسانیؒ نے آگے لکھا ہے:

ولأنہ یحتاج الی أن یجامعہا ویعاشرھا فی أیّ وقت یتفق، ولا یمکنہ ذلک اذا کان معہما ثالث، حتی لوکان فی الدار بیوت ففرغ لہا بیتاً وجعل لبیتہا غلقاً علی حدۃ، قالوا انہا لیس لہا ان تطالبہ ببیت آخر۔(حوالہ سابق)

’’نیز شوہر کو اس کے ساتھ کسی بھی وقت جنسی تعلق اور خلوت کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اور یہ ممکن نہیں،اگر ان کے ساتھ کوئی تیسرا بھی ہو۔ البتہ اگر ایک بڑے گھر میں کئی کمرے ہوں اور شوہر ان میں سے ایک کمرہ بیوی کے لیے خاص کردے اور اس کا تالا چابی اسے دے دے تو فقہاء نے کہا ہے کہ پھر بیوی کو علیٰحدہ گھر کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے‘‘۔

اس معاملے میں ہمارے سامنے رسول اللہﷺ کا اسوہ موجود ہے۔ حضرت علی ؓ آپؐ کے چہیتے چچا جناب ابوطالب کے بیٹے تھے۔ بچپن سے آپؐ کی پرورش میں آپؐ کے گھر میں رہے۔ ان کی حیثیت گھر کے ایک فرد کی تھی۔ لیکن جب آپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا  ان سے نکاح کردیا تو دونوں کے لیے علیٰحدہ رہائش فراہم کی۔

سائل اعتراف کرتے ہیں کہ ’’شرعی مسئلہ تو یہی ہے کہ بیوی کی ذمےد اری اصلاً صرف شوہر کی خدمت ہے‘‘۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ چوں کہ شوہر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بیوی اس کے ماں باپ یا دوسرے رشتے داروں کی بہ طور احسان جو خدمت کرتی ہے ، اس سے اس کے اندر احساس برتری پیدا ہوجاتا ہے، جو خاندان میں بگاڑ کا سبب ہے، اس لیے اس کا تدارک کیا جانا چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ شوہر کے گھر والوں کی خدمت کرنا بیوی کے فرائض میں شامل کردیا جائے اور اسے بہ جبر اس کا پابند کیاجائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ اس کی خدمت کی قدر کی جائے، اس کاشکریہ ادا کیاجائے اور اس سے محبت کی جائے۔ ہر شخص محبت کا بھوکا ہوتا ہے۔ کسی سے محبت کی جائے گی تو وہ بھی اس کا جواب محبت سے دے گا۔ گھر کے افراد ایک دوسرے سے تعلق خاطر رکھیں گے تو ماحول خوشگوار ہوگا اور پیار ومحبت کے شادیانے بجیں گے۔

کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کرے تو اس کے نتیجے میں احسان کرنے والے کے دل میں احساس ِ برتری پیداہونا صحیح اور مطلوبہ رویہ نہیں ہے۔ آدمی کسی کی خدمت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اس کی توفیق دی اور اس پر اس سے اجر وثواب کی امید رکھنی چاہیے ۔ کسی اجنبی کی کچھ مدد کردی جائے، کسی غریب کو کچھ پیسے دے دیے جائیںیا کسی معذور کا کوئی کام کردیا جائے تو اس سے احساسِ برتری نہیں  پیدا ہوناچاہیے اور اگر یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو دینی و شرعی اعتبار سے غلط ہے۔ پھر شوہر کے گھر والوں سے تو بیوی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے اور رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی قرآن و حدیث میں تاکید کی گئی ہے اوراس کا بڑا اجر بیان کیا گیا ہے۔ اگر نیک بیوی اس پہلو کو پیش نظر رکھے گی تو اس کے اندر کبھی احساسِ برتری نہیں پیدا ہوسکتا۔

ورثاء کے حق میں وصیت

سوال:صوبائی حکومت کاشت کی زمین میں وراثت میں بیٹی کو حصہ نہیں دیتی، جب کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹی کا حصہ مقرر فرمایا ہے، اس لیے بیٹیاں وراثت سے محروم رہ جاتی ہیں، تو کیا اضطراری حالت میں بیٹی کے حق میں وصیت کرکے اسے حصہ دیاجاسکتا ہے؟ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے مستحقینِ وراثت کے حق میں وصیت کی ممانعت فرمائی ہے۔ دیگر متبادل بھی زیر غور رہیں؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے مستحقینِ وراثت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل کیا ہے۔ اگر کسی شخص کی اولادوں میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں تو اس کےانتقال پر لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی وراثت میں حصہ پائیں گی۔ مالِ وراثت چاہے کم سے کم ہو یا زیادہ سے زیادہ اور چاہے اس میں ایسی چیزیں شامل ہوں جنہیں صرف مرد استعمال کرتے ہیں عورتیں اور لڑکیاں  اس سے محروم نہیں ہوں گی، بلکہ ان کا بھی حصہ لگایا جائے گا۔ سورۂ نساء میں یہ احکام تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ کیجئے آیت نمبر ۷)

احکامِ وراثت کا نفاذ کسی شخص کے مرنے کے بعد ہوتا ہے۔ اس کے لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں، اس کے مرنے کے بعد لڑکے مالِ وراثت پر قابض ہوجائیں اور اپنی بہنوں کو کچھ نہ دیں تووہ گنہ گار ہوں گے۔ چنانچہ قرآن مجید میں احکام وراثت بیان کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے صراحت سے یہ بھی ارشاد فرمایاہے کہ ’’جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ انگاروں سے بھرتے ہیں‘‘۔ (النساء: ۱۰)

شریعت میں جن لوگوں کو میراث کا مستحق قرار دیاگیا ہے اور ان کے حصے متعین کردیے گئے ہیں، ان میں سے کسی کو مزید فائدہ پہنچانے کے لیے اس کے حق میں وصیت کرنی جائز نہیں ہے۔ حدیث میں اس کی صریح ممانعت آئی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

ان اللہ قسّم لکل وارث نصیبہ من المیراث فلا یجوز لوارث وصیۃ۔  (سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب لاوصیۃ لوارث، ۲۷۱۲)

’’اللہ  تبارک وتعالیٰ نے ہر وارث کا حصہ متعین کردیا ہے۔ اس لیے کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے‘‘۔

اگر کسی شخص کو قوی اندیشہ ہو کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی لڑکی یا لڑکیاں وراثت پانے سے محروم ہوجائیں گی یا بعض ایسے ملکی قوانین ہوں جو لڑکیوں کو وراثت سے محروم کرتے ہوں تو کیا وہ اپنی زندگی میں ان کے حصۂ شرعی کے بہ قدر وصیت رجسٹرڈ کراسکتا ہے؟ اس سوال پر علماء نے غور کیا تو ان کی یہ رائے ہوئی کہ کسی مستحقِ وراثت کو اس کا حصہ ملنا یقینی بنانے کے لیے اس کے حق میں وصیت کی جاسکتی ہے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ہندوستانی مسلمانوں کا ایک معتبر پلیٹ فارم ہے جو نئے پیش آمدہ مسائل میں ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ اس کے ۲۳ ویں فقہی سیمینار منعقدہ گجرات، یکم تا ۳؍ مارچ ۲۰۱۴ء میں یہ موضوع زیر بحث آیا تھا۔ اس موقع پر متفقہ طور سے جو فیصلہ کیاگیا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

*’’جن ممالک  میں  اسلام کا قانون میراث جاری نہیں ہے اور وصیت کے بغیرورثہ کو ان کا شرعی حق نہ مل سکے وہاں اس طرح کا وصیت نامہ لکھنا واجب ہوگا جو مورث کی موت کے بعد قانونِ شریعت کے مطابق ترکہ کی تقسیم کا ذریعہ بن سکے۔

*ورثہ کے حصص شرعیہ کا وصیت نامہ لکھنا حدیث ’’لاوصیۃ لوارث‘‘ (وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں) کے خلاف نہ ہوگا، کیوں کہ اس حدیث کا مصداق وہ وصیت ہے جس میں کسی وارث کو ضرر پہنچانا مقصود ہو۔

* وارث کے حق میں حق شرعی سے زائد کی وصیت کرنا معتبر نہیں، البتہ اگر دوسرے ورثہ راضی ہوں تو اس کا اعتبار ہوگا اور ورثہ کی یہ رضامندی مورث کی موت کے بعد ہی معتبر مانی جائے گی۔

*ترکہ کی تقسیم میں اختلاف سے بچنے کے لیے اگر مورث اپنی زندگی میں ہی اپنے ترکہ کی، حصۂ شرعی کے مطابق تقسیم کے لیے تحریر لکھ دے تو یہ جائز ہے، البتہ اگر وارث کی موت سے پہلے ورثہ کی تعداد میں اضافہ یا کمی ہوجائے تو اس نئی صورتحال کے مطابق ہی ترکہ کی تقسیم ہوگی‘‘۔

(نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کےفیصلے، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، نئی دہلی۔ ۲۰۱۴ء، ۱۳۷۔۱۳۸)

چوری چھپے غیر قانونی تجارت

سوال:بہت سارے حضرات بیرونی ممالک سے اپنے ساتھ اتنا سونا (Gold) لاتے ہیں، جتنی مقدار میں لانے کی حکومت اجازت نہیں دیتی۔ اگر اجازت ہوتو بھی اس کے لوازمات ہوتے ہیں اور اس کا ٹیکس ایئرپورٹ پر ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ کسی نہ کسی طرح چھپ چھپاکر لاتے ہیں، پھر اس کو فروخت کرتے ہیں، جس سے انہیں کافی فائدہ ہوتا ہے۔ کیا حکومت کو دھوکہ دے کر لائے ہوئے سونے کی خریدوفروخت کی جاسکتی ہے؟ جب ایسے لوگوں سے اس طرح کی ناصحانہ بات کی جائے کہ ایسا کرنا غلط ہے تو وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم سونے کے تعلق سے کسٹم حکام کو اطلاع دیں تو ہمیں ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے، یا ان کو رشوت دینی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں منافع نہیں ہوپاتا، اس لیے ہم چھپاکر لاتے ہیں۔ اس طریقے سے جو چیزیں لائی جائیں ، کیا ان کی تجارت صحیح ہے؟ کیا حکومتِ وقت کو دھوکہ دے کر تجارت کی جاسکتی ہے۔ ایسی کمائی حلال، حرام یا مشتبہ ہوگی ؟ بہ راہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ بڑی نوازش ہوگی؟

جواب: اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو معاہدے کیے جائیں ان کو پورا کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۔(المائدۃ: ۱)

’’اے ایمان لانے والو! اپنے عہد وپیمان پورے کرو‘‘۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ ’عقود‘ میں وہ عہد وپیمان  شامل ہیں جو انسان اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے اور وہ عہد وپیماں بھی جو انسانوں کے درمیان آپس میں طے پاتے ہیں۔ مولانا محمد لقمان سلفی فرماتے ہیں:

’’لفظ’ عقود‘عام ہے۔ اس سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کیے ہیں اور وہ تمام عقود وعہود جو انسانوں کے درمیان دنیوی معاملات کے بارے میں طے پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان تمام عقود وعہود کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ ایمان کایہی تقاضا ہے کہ مومن اللہ کا نافرمان نہ ہو اور نہ اپنی اجتماعی زندگی میں خائن، بدعہد اور دھوکہ دینے والا بنے‘‘۔

(تیسیرالرحمٰن لبیان القرآن ، محمد لقمان السلفی، طبع سعودی عرب، ۲۰۰۰ء، ص ۳۲۲)

ہر ملک نے مصنوعات اور دیگر چیزوں کی درآمد وبرآمد کے لیے قوانین بنا رکھے ہیں۔ شہریوں کے لیے ان کی پابندی ضروری ہے۔ ان کی خلاف ورزی جرم کے زمرے میں آتی ہے، جس پر سزائیں متعین کی گئی ہیں۔

ایک مسلمان جس ملک کا شہری ہو، ضروری ہے کہ وہ وہاں کے قوانین کی پابندی کرے۔ ان کی خلاف ورزی جہاں اس کیلئے باعث تعزیر ہوگی وہیں اس کے ایمان کے تقاضے کے بھی منافی ہے۔

جن چیزوں کی درآمد پر حکومت نے پابندی لگار کھی ہے یا ان کی متعینہ مقدار سے زیادہ درآمد کرنے پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے، انھیں حکومت سے چھپاکر لانا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس طریقے سے حاصل کیا ہوا منافع حلال نہیں ہوگا۔

مشمولہ: شمارہ اپریل 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau