رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

اذان اور جماعت کے درمیان وقفہ کی مدت

سوال: پانچ وقت کی نمازوں میں اذان اور جماعت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے اور کیوں؟ بہ راہ کرم وضاحت فرمادیجیے؟

جواب: اذان اوراقامت کےدرمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟ اس سلسلے میں احادیث میںکوئی بات متعین طور سے نہیں کی گئی ہے۔ حضرت جابرؓ سے مروی ایک روایت میںہے کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا: اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ رکھو کہ کوئی شخص کھانا کھارہاہوتو کھالے، پانی پی رہا ہو تو پی لے اور ضرورت ہوتو رفعِ حاجت کرلے۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیاہے (کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی الترسل فی الاذان، ۱۹۵) لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔

امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان (ترجمۃ الباب) یہ قائم کیاہے: باب کم بین الاذان والاقامۃ؟ (اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟) اس کے تحت انھوںنے حضرت عبداللّٰہ  بن مغفل المزنیؓ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلَاۃٌ _  ثَلَاثاً_   لِمَنْ شَاءَ (کتاب الاذان، حدیث نمبر ۶۲۴)

’’ہر دو اذانوں (یعنی اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے۔‘‘ (یہ جملہ آپؐ نے تین بار دہرایا) اس شخص کے لیے جو نماز پڑھنا چاہے۔‘‘

امام بخاریؒ نے اسی باب میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ اذان کے بعد صحابۂ کرام مسجد کے ستونوں کو اپنے آگے کرکے نماز پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ رسول ﷺ اپنے حجرے سے نکلتے اور امامت فرماتے۔ (حدیث نمبر ۶۲۵)

اس تفصیل سے امام بخاریؒ یہ کہناچاہتے ہیں کہ اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کم از کم ضرور ہونا چاہیے کہ کوئی شخص چاہے تو چند رکعتیں نوافل ادا کرلے۔

اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دینا ہے، تاکہ وہ مسجد آکر باجماعت نماز ادا کرلیں۔ اس لیے اذان و اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ تو ضرور ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اذان سننے کے بعد حوائج ضروریہ سے فارغ ہو، وضو کرےاور مسجد تک آئے تو اس کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو۔محدث ابن بطالؒ فرماتے ہیں۔

لاحدّ لذلک ، غیرتمکن دخول الوقت واجتماع المصلین   (ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، بیروت، ۱/۷۱۵)

’’اس کی کوئی حد نہیں، سوائے اس کے کہ وقت ہوجائے اور نمازی اکٹھاہوجائیں۔‘‘

مغرب کی نمازکے موقع پر بھی کچھ وقفہ رکھنا چاہیے۔ احناف کے نزدیک چوں کہ مغرب کا وقت تنگ ہوتاہے، اس لیے صرف اتنا وقفہ کرنا چاہیے کہ قرآن کی تین آیتیں پڑھی جاسکیں۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ عہدنبویؐ میں صحابۂ کرام مغرب کی اذان کے بعد اقامت سے قبل دو رکعت نماز پڑھاکرتے تھے۔ (بخاری، کتاب الاذان، ۶۲۵) اس لیے کم از کم اتنا وقفہ تو ضرور رکھنا چاہیے۔

مرنے کے بعد آنکھوں کی وصیت

سوال: کیا کوئی شخص یہ وصیت کرسکتاہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں کسی مستحق کو دے دی جائیں؟ آج کل آنکھوں کے عطیے (EYE DONATION)کی ترغیب دی جاتی ہے اور کہاجاتاہے کہ اس طرح ایک آدمی کی دو آنکھوں سے چار نابینا لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے۔ بہ راہ کرم اس سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر واضح فرمائیں؟

جواب:  اسلامی نقطۂ نظر سے انسان اپنے جسم و جان کا مالک نہیں ہے۔ جان اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے اور وہی اسے لے سکتا ہے۔ اسی طرح جسم بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اس لیے انسانوں کو اپنی طرف سے اس میں تصرف کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔ عام حالات میں اعضائے بدن کاعطیہ جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں دیگر مفاسد کے ساتھ انسانیت کی توہین اور اس کی عزت و شرف کی پامالی ہے۔ لیکن موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالات، شدید ضروریات اور متبادل کی عدم موجودگی کی وجہ سے فقہاء نے بعض استثنائی صورتوں کی اجازت دی ہے۔ حال میں اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کا چوبیسواں کل ہند فقہی سمینار یکم تا ۳؍مارچ ۲۰۱۵ء کو دارالعلوم الاسلامیۃ اوچیرہ، کیرلا میں منعقد ہواتھا۔اس میں اس موضوع پر بھی غوروخوض کیاگیا۔فیصلے کے چند نکات درج ذیل ہیں:

*             خون انسانی جسم کاایک اہم اور بنیادی جز ہے، جس سے حیاتِ انسانی کابقا مربوط ہے۔ اگر کسی انسان کوخون کی ضرورت پڑے اور ماہر ڈاکٹر کی تجویز ہوکہ اس کے لیے خون ناگزیر ہے تو انسانی جان بچانے کے لیے ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان یا غیرمسلم کو عطیہ کرنا جائز ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کے لیے اس سے لینا بھی جائز ہے۔

*             موجودہ طبّی تحقیق کے مطابق زندہ شخص کے جگر کے بعض حصّے کو دوسرے ضرورت مند انسان کو منتقل کرنا ممکن ہوگیا ہے اور عطیہ کرنے والے کے جگر کے بقیہ بچے ہوئے حصے کا چند مہینوں میں مکمل ہوجانا تجربہ میں آچکا ہے۔ اس لیے جگر کی منتقلی اور پیوندکاری اپنے کسی عزیز ، دوست کے لیے رضاکارانہ طورپر جائز ہے، البتہ خریدو فروخت قطعاً جائز نہیں ہے۔

*             انسانی دودھ کا بینک قائم کرناجائز نہیں۔اگر بینک قائم ہوتو اس میں دودھ جمع کرنا اور اس میں کسی طرح کا تعاون کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

*             مرد یا عورت کے مادۂ تولید کا بینک قائم کرنا یا کسی مرد یا خاتون کا کسی بینک کو یا کسی ضرورت مند کو مادۂ تولید فروخت کرنا یا بلاقیمت فراہم کرنا یا لینا حرام ہے۔‘‘

آنکھ کے عطیہ (EYE DONATION)کے بارے میں بھی اس سمینار میں غور کیا گیا اور فیصلہ کیاگیاکہ زندہ شخص کی آنکھ کاقرنیہ (CORNEA) دوسرے ضرورت مندوں کے لیے منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ کیا مردہ کا قرنیہ کسی ضرورت مند کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس پرسمینارمیں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، اس پر آئندہ غور کیاجائے گا۔ اب تک فقہاء کی رائے اس کے بھی عدم جواز کی ہے۔

سوتیلے باپ کی ولدیت

سوال: ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اس سے اس کو ایک لڑکی ہوئی۔ اس عورت نے بعد میں دوسرے شخص سے نکاح کرلیا۔ اس لڑکی کااسکول میں نام لکھوانا ہے۔ کیا اس لڑکی کی ولدیت میں عورت اپنے موجودہ شوہر کا نام لکھواسکتی ہے؟

جواب: اسلام نے نسب کی حفاظت پر بہت زور دیاہے۔ اس کا حکم ہے کہ جس شخص کا بچہ ہو اسے اسی کی طرف منسوب کیاجائے، کسی دوسرے شخص کی طرف اس کی نسبت نہ کی جائے۔ عہدِ جاہلیت میں لوگ کسی بچے کو اپنا منہ بولابیٹا (متبنّٰی) بنالیتے تھے تو اس کی ولدیت بھی بدل دیتے تھے۔ وہ اسے حقیقی بیٹے کا درجہ دیتے تھے اور منہ بولے باپ کی طرف اس کی نسبت کرتے تھے۔ قرآن کریم میں اس کی ممانعت نازل ہوئی۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاہِكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ يَـقُوْلُ الْحَـقَّ وَہُوَيَہْدِي السَّبِيْلَ۝۴ اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاۗىِٕہِمْ ہُوَاَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ۝۰ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ    (الاحزاب:۴۔۵)

’’اور نہ اس نے تمھارے منھ بولے بیٹوں کو تمھارا حقیقی بیٹا بنایاہے، یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منھ سے نکال دیتےہو، مگر اللّٰہ وہ بات کہتاہے جو مبنی برحق ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہ نمائی کرتاہے۔ منھ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللّٰہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمھیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمھارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔‘‘

ان آیات کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے لکھا ہے:

’’اس حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے جو اصلاح نافذ کی گئی وہ یہ تھی کہ نبی ﷺ کے منھ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کو زید بن محمدؐ کہنے کے بجائے ان کے حقیقی باپ کی نسبت سے زید بن حارثہ کہنا شروع کردیاگیا۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زیدبن حارثہؓ کو پہلے سب لوگ زیدبن محمدؐ کہتے تھے۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد انھیں زید بن حارثہ کہنے لگے۔ مزید برآں اس آیت کے نزول کے بعد یہ بات حرام قرار دے دی گئی کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرلے۔ بخاری ومسلم اور ابودائودنے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:  مَنِ ادَّعی الیٰ غَیْرِاَبِیْہِ وَہُوَ یَعْلَمُ اَنَّہُ غَیْرُاَبِیْہِ فَالجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرامٌ (جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا، درآں حالے کہ وہ جانتاہوکہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے، اس پر جنت حرام ہے۔) اس مضمون کی دوسری روایات بھی احادیث میں ملتی ہیں، جن میں اس فعل کو سخت گناہ قرار دیاگیاہے۔‘‘  (تفہیم القرآن، جلد۴، صفحہ ۷۰، سورۂ احزاب، حاشیہ۸)

اس تفصیل سے واضح ہواکہ عورت کا اپنے پہلے شوہر سے ہونے والی لڑکی کی ولدیت میں دوسرے شوہر کا نام لکھوانا جائز نہیں ہے۔

مئی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau