رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

بدلے کی شادی

سوال: میرا ایک لڑکا اورایک لڑکی ہے ۔ میں نے لڑکی کا نکاح اپنے ایک دوست کے لڑکے سے کرنے کا ارادہ کیا  ۔ پہلے تو انہوںنے آمادگی ظاہر نہیںکی، لیکن پھر اس شرط پرتیار ہوگئے کہ ان کی لڑکی کا نکاح میں اپنے لڑکے سے کردوں ۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے بعضـ دوستوں سےمشورہ کیا توایک صاحب نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی شادیوں سے منع فرمایا ہے ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔ کیا ایسی شادی اسلامی شریعت کی رو ٗسے جائز نہیں ہے؟

جواب: عہدِ جاہلیت میں نکاح کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ آدمی دوسرے سے کہتا تھا : تم اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے کردو ، میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تم سے کردوںگا اور دونوں کا مہر معاف ہوجائے گا۔ اسے ’نکاحِ شغار‘ کہاجاتا تھا ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقۂ نکاح سےمنع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ

’’رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے ’شغار سے منع کیا ہے۔‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

لاَ شِغَارَ فِیْ الاْسلاَمِ

’’اسلام میں ’شغار ‘ جائز نہیں ہے ۔‘‘

بعضـ روایات میں ’ شغار‘ کا مطلب بھی بتایا گیا ہے:

اَلشِّغَارُ اَنْ یُّزَوِّجَ الرَّجُلُ اِبْنَتَہٗ عَلَی اَنْ یُّزَوِجَہُ اِبْنَتَہٗ ، وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا صَدَاقٌ

’’شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی سے دوسرے آدمی کا نکاح (اس شرط پر ) کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اوران میں سے کسی کے ذمے اپنی بیوی کا مہر نہ ہو۔‘‘

یہ حدیث بخاری (۵۱۱۲،۶۹۶۰،) مسلم (۱۴۱۵) کے علاوہ ابوداؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ، احمد، بیہقی اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے ۔ محدثین کے نزدیک ’شغار‘ کی یہ تشریح حضرت ابن عمرؓ کے آزاد کردہ غلام نافع نے کی ہے ۔علامہ شوکانی نے’ نکاح شغار‘ کی دو علّتیں قرار دی ہیں: ایک یہ کہ اس میں ہر لڑکی کوحقِ مہر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ دوسری یہ کہ اس میں ہر نکاح دوسرے نکاح سے مشروط اوراس پر موقوف ہوتا ہے ۔ (نیل الاوطار)

اگراس  طریقۂ نکاح میں دونوں لڑکیوں کا مہر تو مقرر کیا گیا ہو، لیکن دونوں نکاح ایک دوسرے سے مشروط اورمعلّق ہوں توبھی وہ ناجائز ہوں گے۔روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے بیٹے عباس نے عبدالرحمن بن الحکم کی لڑکی سے اورعبدالرحمن نے عباس بن عبداللہ کی لڑکی سے نکاح کیا اور دونوں لڑکیوں کا مہر بھی مقرر کیا گیا ، لیکن حضرت معاویہ ؓ کواس نکاح کی خبر پہنچی توانہوں نے مدینہ کے گورنر حضرت مروانؒ کولکھا کہ اس نکاح کوفسخ کردیا جائے ، اس لیے کہ یہ وہی نکاحِ شغار ہے ، جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔(ابوداؤد:۲۰۷۵)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نکاح شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں اورتینوں کو ناجائز قرار دیا ہے : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کوبدلے میں اپنی لڑکی دے گا اوران میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے ۔دوسرے یہ کہ شرط تووہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر مہر(مثلاً پچاس پچاس ہزار روپیہ )مقرر کیے جائیں اورمحض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے،دونوں لڑکیوں کوعملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے ۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو ، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔‘‘(رسائل ومسائل ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ، طبع ۲۰۱۳ء، ۲؍۲۰۲)

بدلے کی شادیوں میں عموماً تلخی اورناخوش گوار ی کا اندیشہ رہتا ہے اوردونوں خاندانوں پر خانہ بربادی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے ۔ مثلاً اگرایک خاندان میں شوہر نے جایا بے جابیوی کی پٹائی کردی یا دونوں کے درمیان تعلق میں خوش گواری باقی نہیں رہی یا اس نے طلاق دے دی تو دوسرے خاندان میں لڑکے پر اس کے والدین یا دوسرے رشتے دار دباؤ ڈالیں گے کہ وہ بھی لازماً وہی طرزِ عمل اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرے۔

لیکن اگر دونوں رشتوں کی مستقل حیثیت ہو، دونوں لڑکیوں کا مہر طے کیا جائے اوران کوادا کیا جائےاورایک رشتہ کسی بھی حیثیت میں دوسرے رشتے کومتاثر کرنے والا نہ ہو تو ایسے رشتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مجلس کے آداب

سوال: اجتماعات میں ہمارے بعض ساتھی دیر سے پہنچتے ہیں ۔ کوئی شخص دیر سے پہنچے تووہ خاموشی سے بیٹھ جائے یاسلام کرکے بیٹھے ؟ اگروہ سلام کرے تو کیا مجلس کے کسی ایک فرد کی طرف سے سلام کا جواب دے دینا کافی ہے؟

اسی طرح اگرکبھی کوئی شخص تنہا قرآن کی تلاوت کررہا ہویا کسی دینی کتاب کا مطالعہ کررہا ہو اور دوسرا شخص وہاں آکر اس کو سلام کرے توکیا اس کے لیے سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا کسی مجلس  میں بیٹھے ہوئے شخص کے لیے انگلیاں چٹخانے کی ممانعت احادیث میں آئی ہے ؟

جواب: سلام اسلام کا شعار ہے ۔ حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

لاَتَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُوْمِنُوْا، وَلاَ تُوْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا ، اَوَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلَی شَیِ ءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ ، اَفْشُوْ ا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ (مسلم : ۵۴)

’’تم لوگ جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اورتمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو ۔ کیا میں تمہیں ایک ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر اسے کرنے لگو توتمہارے درمیان آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اپنے درمیان سلام کوعام کرو۔‘‘

علماء نے بعض ایسے مواقع کی نشان دہی کی ہے جب سلام کرنا مناسب نہیں۔ مثلاً مؤذن ، نمازی، حالتِ احرام میں تلبیہ کہنے والے، تلاوتِ قرآن یا ذکر ودعا میں مشغول شخص کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ خطبہ جمعہ کے دوران جوشخص مسجد پہنچے اس کوبھی سلام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ خطبے کوخاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کھانا کھانے میں مصروف ہویا رفع حاجت کررہا ہوتواسے بھی سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ان مواقع پر اگر کوئی شخص سلام کرلے توجس کوسلام کیا گیا ہے اس کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گز ر ا ۔ اس وقت آپؐ پیشاب کررہے تھے ۔ اس نے آپ کو سلام کیا ، مگر آپ نے جواب نہیں دیا ۔ ( مسلم : ۳۷۰ )

کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تواس کوسلام کرنا چاہیے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اِذَا انْتَہٰی اَحَدُکُمْ اِلٰی مَجْلِسٍ فَلْیُسَلِّمْ (ترمذی :۲۷۰۶)

’’ کوئی شخص کسی مجلس میں جائے توسلام کرے۔‘‘

البتہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر پروگرام شروع ہوگیا ہو تواتنی زور سے سلام نہ کرے کہ تمام حاضرین کے انہماک میں داخل پڑےیا خطیب کاذہن بٹ جائے، بلکہ اتنے دھیرے  سے سلام کرےکہ پیچھے بیٹھے ہوئے چند لوگ سن لیں۔ سب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں، بلکہ ان میںسے کوئی ایک بھی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔

مجلس میں انگلیاں چٹخانے کی ممانعت میں کوئی حدیث مروی نہیں ہے ، لیکن اسے آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ خاص طور سے مسجد میں دورانِ نمازیا نماز سے باہر اسے مکروہ کہا گیا ہے  ۔ شعبہؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پہلومیں نماز ادا کی ۔ دورانِ نماز میں نے انگلیاں چٹخائیں تو انہوں نے نماز کے بعد مجھے ڈانٹا(مصنف ابن ابی شیبہ: ۲؍۳۴۴)حضرت ابراہیم نخعیؒ اور مجاہدؒ بھی نماز میں انگلیاں چٹخانے کوناپسند کرتے تھے (حوالہ سابق)

لفظ ’قلب‘ اوراس کے مترادفات میں فرق

سوال: قرآن کریم میں تین الفاظ آئے ہیں: قلب فؤاد، صدر۔ عام طور پر مترجمین تینوں کا ترجمہ ’دل‘ سے کرتے ہیں۔ کیا ان کے درمیان کچھ فرق ہے یا یہ ہم معنی ہیں؟

جواب : دیگر زبانوں کی طرح عربی میں بھی بہت سے الفاظ بہ طور مترادف مستعمل ہیں۔ ایسے متعددالفاظ کا استعمال قرآن کریم میںبھی ملتا ہے ۔ علماء لغت نے ایک بحث یہ کی ہے کہ جن الفاظ کو مترادف سمجھا جاتا ہے ، ان کے درمیان بھی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے ۔ دو مترادف سمجھے جانے والے الفاظ سوفی صد ایک معنی میں نہیں ہوسکتے۔ ’فروق لغویہ‘ کے موضوع پر عربی زبان میں متعدد کتابیں پائی جاتی ہیں ۔ اردو زبان میں اس موضوع پر ایک اچھی کتاب ’مترادفات القرآن‘ کے نام سے ہے، جو مولانا عبدالرحمن کیلانی کی تالیف ہے اوراس کی اشاعت ۲۰۰۹ء میں مکتبہ السلام لاہور سے ہوئی ہے۔اس کتاب سے متعلقہ بحث کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتاہے:

۱۔ قلب : مشہور عضو۔ روح وحیات کا منبع (جمع قلوب) ۔ عقل ، فہم ، سوچ، فکرکے لیے اللہ تعالیٰ نے دل کومخاطب بنایا ہے ۔ یعنی جوافعال جدید طب نے دماغ سے متعلق بتلائے ہیں ، قرآن نے دل سے متعلق کیے ہیں۔ ارشاد باری ہے :

لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا  (الاعراف: ۱۷۹)

’’ ان کے دل تو ہیں، لیکن وہ ان سے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔‘‘

۲۔فؤاد:بعض علماء نے کہا ہے کہ جو فرق ’عین‘ اور’بصر‘ یا ’اُذن ‘ اور’سمع‘ میں ہے ، وہی فرق ’قلب‘ اور ’فؤاد‘ میں ہے۔ اس کی دلیل میںیہ آیت پیش کی جاتی ہے:

اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا۝۳۶ (الاسراء:۳۶)

’’بے شک کان، آنکھ اوردل، ان سب (جوارح )سے ضرور باز پرس ہوگی ۔‘‘

لیکن یہ صحیح نہیں…..فؤاد (جمع افئدۃ) فاد سے مشتق ہے …..یہ لفظ گرمی اورشدیدحرارت پردلالت کر تاہے ۔ لہٰذا جہاں انسان کے جذ با ت کی شدت اور اس کی تاثیر کا ذکر آئے گا وہاں اس لفظ کا استعمال ہوگا۔ مثلاً:

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا(القصص:۱۰)

’’اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا (یعنی اس میں قرار نہ رہا)‘‘

مُہْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِہِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْہِمْ طَرْفُہُمْ۝۰ۚ وَاَفْــِٕدَتُہُمْ ہَوَاۗءٌ (ابراہیم:۴۳)

’’سر اُٹھائے دوڑتے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں (بھی) ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور دل(دہشت کے مارے)اُڑرہے ہوں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فؤاد سے جس باز پر س کا ذکر فرمایا ہے وہ ایسے ہی اعمال سے متعلق ہوگی جوشدتِ جذبات کے تحت انسان کربیٹھتا ہے۔

۳۔ صدر: بہ معنی سینہ(جمع صدور) اورسینہ کے اند رہی دل ہوتا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا:

وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ۝۴۶ (الحج: ۴۶)

’’لیکن وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘

لہٰذا کبھی صرف’ صدور‘ کہہ کر قلوب مراد لیے جاتے ہیں ، جیسے  شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ (یونس:۵۷)   ۔اب چوں کہ صدر کا تعلق ظرف مکان سے ہے ، لہٰذا اگردل کی تنگی یا فراخی کاذکر مطلوب ہوتو صدور کا لفظ آئے گا ۔ مثلاً:

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ۝۹۷ۙ  (الحجر:۹۷)

’’ اورہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے ۔‘‘

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۝۱ۙ  (الانشراح:۱)

’’ کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا۔‘‘

پھرکسی چیز کو چھپانے کے لیے بھی چوں کہ ظرف کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا راز کی بات کے چھپانے، خیالات اوروسواس کے ذکر میں بھی صدر کا استعمال ہوگا۔مثلاً:

یَعْلَمُ خَائِنَۃُ الاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(المومن :۱۹)

’’وہ آنکھوں کی خیانت کوبھی جانتا ہے اورجو باتیں دلوں میں ہیں ان کوبھی جانتا ہے ۔‘‘

الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ (الناس:۵)

’’وہ( شیطان ) لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔‘‘

۴۔ اس معنیٰ میں قرآن میں ایک اورلفظ کا بھی استعمال ہوا ہے اوروہ ہے نفس (جمع نفوس) ۔ اس سے خواہشات کا مبدأ اورآرزو کرنے اورخوش ہوجانے والا دل مراد ہوتا ہے ۔ جہاں تک پوشیدہ باتوں  اور خیالات وغیرہ کو چھپانے کا تعلق ہے ، یہ صفت نفوس اورصدور میں مشترک ہے۔ ارشاد باری ہے :

وَتُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللہُ مُبْدِيْہِ  (الاحزاب:۳۷)

’’اورتم اپنے دل میں وہ چیز چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنےوالا تھا۔‘‘

خواہشات کا تعلق نفس سے ہوتا ہے ، خواہ وہ اچھی ہوں یا بری ۔ ارشاد باری ہے :

اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَى الْاَنْفُسُ (النجم:۲۳)

’’ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اورخواہشاتِ نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔‘‘

خوش ہونے کا تعلق بھی نفس سے ہوتا ہے ۔ ارشاد باری ہے :

فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَكُلُوْہُ ہَنِيْۗـــــًٔـا مَّرِيْۗــــــًٔـا۝۴  (النسا:۴)

’’پھر  اگروہ عورتیں اپنے دل کی خوشی سے  اس( یعنی اپنے مہر) میںسے تم کچھ چھوڑدیں تواسے شوق سے کھا ؤ۔‘‘

اس تفصیل سے ’دل‘ کے لیے قرآن میں مستعمل الفاظ (قلب، فؤاد، صدر اور نفس ) کے درمیان فرق کی کچھ وضاحت ہوجاتی ہے۔

نومبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau