رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

بینک میں نام زدگی کا حکم

سوال:

میری  والدہ نے اپنی ذاتی ملکیت سے کچھ رقم ایک تجارتی کمپنی میں لگائی ہے ۔ یہ کمپنی، جسے قائم کرنے والے کچھ مسلمان ہیں ، اسلامی طرز پر منافع دیتی ہے ۔والدہ نے نامزدگی Nomination میرے بھائی کے نام کیا ہے اوروہ چاہتی ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد کل رقم اسی کوملے ۔ کمپنی بھی رقم اسی شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی ہے جسے Nominate کیا گیا ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں مذکورہ رقم کا مالک صرف میرا بھائی ہوگا، یاوہ تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی؟

بہ راہِ کرم رہ نمائی فرمائیں؟

جواب:

بینک یا کمپنی میں کسی اکاؤنٹ میں Nomination کی حیثیت ’ وصیت‘ کی ہے اور وصیت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ ورثہ کے نام نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ دور میں علماء نے ورثہ کے نام وصیت کی ایک صورت کوجائز قرار دیا ہے ۔ وہ یہ کہ ورثہ کے حصوں کے بہ قدر ان کے نام وصیت کی جائے۔

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے اکاؤنٹ میں موجود رقم کا مالک ان کا صرف نام زد بیٹا نہ ہوگا ، بلکہ وہ تمام ورثہ میں ، قرآن میں مذکور ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

پیشاب کرنے کے آداب

سوال:

میں ایک مسلم ادارہ میں کام کرتا ہوں، جہاں پر مسلم وغیر مسلم اساتذہ کام کرتے ہیں ۔ غیر مسلم اساتذہ کھڑے ہوکر پیشاب کرتےہیں ۔ انتظامیہ کے کچھ ممبران نے سوچا کہ غیر مسلم اساتذہ کے لیے ایسا بیسن لگادیا جائے جس میں کھڑے ہوکر پیشاب کیا جاتا ہے ۔ مسلم اساتذہ نے اس پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ خود مسلم بچے آج نہیں تو کل کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے عادی ہوجائیں گے ، دوسری بات یہ کہ ہمیں اپنی اسلامی تہذیب وآداب کا ہر موقع پر خیال رکھنا چاہیے ۔ اس طرح کے ماحول میں ہمارا کیا رویہ ہونا چاہیے ؟ براہِ کرم تشفی بخش جواب سے نوازیں۔

جواب:

تعلیماتِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب کرتے وقت خاص طور سے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی چھینٹیں بدن اورکپڑے پر نہ آئیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوقبروں کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان دونوں کوقبر کا عذاب دیا جارہا ہے ، وہ بھی کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کرتے وقت اس کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔‘‘ (صحیح مسلم :۲۹۲)

اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپؐ نرم زمین میں اوربیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔ یہاںتک کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ’’ جوشخص یہ بیان کرے کہ آپؐ کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے اس کی با ت نہ مانو، اس لیے کہ آپ ؐ ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے۔( ترمذی : ۱۲ )

البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے بعـض مواقع پر کھڑے ہوکر بھی پیشاب کیا ہے۔ حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھورے کے پاس کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ (بخاری :۲۲۴، مسلم:۲۷۳)

علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب ’زاد المعاد‘ میں قضائے حاجت کا طریقۂ نبوی بیان کرتے ہوئے ایک ذیلی عنوان یہ قائم کیا ہے : ’’ کیا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے ؟‘‘ اس کےتحت حضرت حذیفہؓ کی مذکورہ بالا روایت نقل کرنے کے بعد لکھاہے:

’’صحیح بات یہ ہے کہ آپؐ نے ایسا احتیاط کے طور پر اور پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کے لیے کیا تھا۔ اس لیے کہ گھورے پر لوگ کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے، جس کا ڈھیر لگاہوا تھا ۔ اگر ایسی جگہ پر کوئی شخص بیٹھ کر پیشاب کرے تو چھینٹیں اسی کے اوپر پلٹ کر آئیں گی، اس لیے کھڑے ہوکر پیشاب کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد، ابن قیم‘ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، ۲۰۰۹ء، ص ۵۵۔۵۶)

اس لیے میںسمجھتا ہوں کہ اسکول میں ایک ایسا بیسن لگوادینے میں کوئی حرج نہیں ہے جس میں کھڑے ہوکر پیشاب کیا جاتا ہے ، جب کہ ایسے استنجا خانے بھی اسکول کیمپس میں  وافر تعداد میں ہوں جنہیں بیٹھ کر پیشاب کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔ ساتھ ہی مسلم بچوں کوقضائے حاجت کے اسلامی آداب بھی بتائے جائیں اورکوشش کی جائے کہ وہ دل کی آمادگی کے ساتھ ان پر عمل کریں اورغلط عادات واطوار ان میں نہ پنپنے پائیں۔

نزولِ وحی کی ابتدا کا مہینہ

سوال:

مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ،نئی دہلی سے بچوں کے لیے ایک کتاب شائع ہوئی ہے، جس کا نام ’ہمارے حضورؐ‘ ہے ۔ اس کےمصنف جناب عرفان خلیلی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں نزولِ وحی کا آغاز ماہِ ربیع الاوّل میں ہوا  ۔ہم نے اب تک پڑھا اور سنا ہے کہ ایسا ماہ رمضان المبارک میں ہوا تھا۔

بہ راہِ کرم رہ نمائی فرمائیں ، کیا صحیح ہے؟

جواب

بعض سیرت نگاروں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ وسلم پر نزولِ وحی کاآغاز ماہ ربیع الاوّل میں ہوا تھا ۔ اِسی کوجناب عرفان خلیلی صاحب نے اختیار کیا ہے ، جب کہ بعض ماہِ رمضان المبارک قرار دیتے ہیں۔ مولانا صفی الرحمن مبارک پوری مؤلف الرحیق المختوم ماہِ ربیع الاوّل کے قول کو بیش تر سیرت نگاروں کی جانب منسوب کرتے ہیں ۔ انہوںنے لکھا ہے :

’’مؤرخین میں بڑا اختلاف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس مہینے میں شرفِ نبوت اور اعزازِ وحی سے سرفراز ہوئے۔ بیش تر سیرت نگار کہتےہیں کہ یہ ربیع الاوّل کا مہینہ تھا ، لیکن ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ رجب کا مہینہ تھا ۔‘‘ ( دیکھئے مختصر السیرۃ از شیخ عبداللہ ، ص ۷۵)

اگرچہ مولانا مبارک پوری نے آگے ماہِ رمضان المبارک کے قول کوترجیح دی ہے ۔ لکھا ہے:

’’ہمارے نزدیک دوسرا قول زیادہ صحیح ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ  (البقرۃ :۱۸۵) ’’رمضان کا مہینہ ہی وہ (بابرکت مہینہ ہے ) جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ۔‘‘ اور ارشا د ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ(قدر: ۱) ’’ہم نے قرآن کولیلۃ القدر میں نازل کیا ۔‘‘ اورمعلوم ہے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے ۔دوسرے قول کی ترجیح کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حِرا میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ماہِ رمضان میں ہوا کرتا تھا اور معلوم ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام  حِرا  ہی میں تشریف لائےتھے۔‘‘ (الرحیق المختوم (اردو ترجمہ) مولانا صفی الرحمن مبارک پوری ، المکتبۃ  السلفیۃ ، لاہور، پاکستان، ۲۰۰۰ء ، ص :۹۷۔۹۸)

کعب احبار کون ہیں؟

سوال:

ایک کتاب میں بہت سےصحابہ کرام کی حکایات جمع کرکے پیش کی گئی ہیں۔ اس میں حضرت کعب احبار کے بارے میں تحریر ہے:

’’ کعب احبار کہتے ہیں: ا س ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر میں اللہ کے خوف سے رؤوں اورآنسو میرے رخسار پر بہنے لگیں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کروں۔‘‘ ( حکایاتِ صحابہ ص ۳۹)

ایک دوسری کتاب میں لکھا گیا ہے :’’کعب احبار سے نقل کیا گیا ہے کہ جوکثرت سے اللہ کا ذکر کرے وہ نفاق سے بری ہے ۔‘‘ (فضائل ذکر، ص ۵۵)

براہِ کرم واضح فرمائیں کہ یہ حضرت کعب احبار کیا وہی ہیں جن کا تذکرہ غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ جانےوالوں میں ہوا ہے، یا یہ کوئی اورصحابی ہیں؟

جواب:

غزوۂ تبوک میں جو صحابی پیچھے رہ گئےتھے ان کا نام کعب بن مالکؓ ہے ۔ وہ انصار کے قبیلے خزرج سے تعلق رکھتے تھے ۔ کعب احبار صحابی نہیں ، بلکہ تابعی ہیں ۔

کعب احبار کا تعلق یمن کے مشہور خاندان حمیر سے تھا ۔ وہ عہد رسالت میں موجود تھے ، لیکن انہیں قبولِ اسلام کی سعادت صحیح روایت کے مطابق حضرت عمر بن الخطابؓ کے عہدِ خلافت میں ہوئی ۔ ان کا شمار قبولِ اسلام سے قبل یہود کے جیدّ علماء میں ہوتا تھا۔ یہودی مذہب کے متعلق ان کی معلومات بہت  وسیع تھیں۔ کعب احبار نےقبولِ اسلام کے بعد کچھ دن مدینہ میں قیام کیا ،پھر شام چلے گئے تھے اوروہاں حمص میں مستقل سکونت اختیارکرلی تھی ۔شام کے زمانۂ قیام میں ان کامشغلہ زیادہ تر اسرائیلی قصص و مواعظ بیان کرنا تھا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کے عہدِ خلافت میں ۳۲ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

کعب احبار اگرچہ مشہور تابعی ہیں، لیکن روایتِ احادیث کے معاملے میں انہیں مستند نہیں سمجھا جاتا۔ مولانا مجیب اللہ ندویؒ نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

’’کعب کی علمی جلالت میں کوئی شبہ نہیں ۔ وہ یہودی مذہب کے بڑےنام ور عالم تھے، لیکن چوں کہ خود یہودیوں کا سرمایۂ عمل زیادہ تر قصص وحکایات تھیں اس لیے کعب کا سرمایۂ معلومات بھی تمام تر یہی تھا۔ اس سے ایک نقصان یہ ہوا کہ بہت سی بےسروپا اسرائیلی روایات ان کے ذریعے اسلامی لٹریچر میں داخل ہوگئیں۔ اسی بنا پر بعضـ ائمہ حدیث کعب کوروایات میں ساقط الاعتبار سمجھتے ہیں۔‘‘ (اہلِ کتاب صحابہ وتابعین ، مولانا مجیب اللہ ندوی ، دارالمصنفین ،شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ،  ۲۰۱۲، ص ۲۳۲)

اکتوبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau