رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

غیر مسلموں کی دی ہوئی کھانے پینے کی چیزوں کے استعمال کا حکم

سوال: اگر کوئی غیر مسلم دوست یا پڑوسی کسی تہوار یا خوشی کے موقع پر اپنے گھر ہماری دعوت کرے یا کھانے پینے کی کوئی چیز ہمارے گھر بھیجے تو اس کا کیا جائے؟ اسے ہم اپنے استعمال میں لائیں؟ یا کسی غریب کو دے دیں؟ یا ضائع کردیں؟ براہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔

جواب: تکثیری معاشرے (plural society) میں سماجی تعلقات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔مختلف مذاہب کے لوگ باہم مل جل کر رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی خوشیوں میں بھی دوسروں کو شامل کرتے ہیں۔ اس طرح امن، سکون اور اپنائیت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ خوشی کے اظہار کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تحفے تحائف کا تبادلہ ہو، دعوتیں کی جائیں اور مٹھائیاں اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں تقسیم کی جائیں۔ اسلام میں سماجی تعلقات کو بہتر طریقے سے برتنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ وہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے سماجی تعلقات رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ان سے میل جول رکھا جائے، ان کو تحفے دیے جائیں اور ان کے تحفے قبول کیے جائیں۔ ان کو کھانے کی دعوت دی جائے اور ان کی دعوت قبول کی جائے۔ان کے گھروں میں آمد ورفت رکھی جائے اور انھیں اپنے گھروں میں بلایا جائے۔ انھیں کھانے پینے کی چیزیں دی جائیں اور ان کی کھانے پینے کی چیزیں قبول کی جائیں۔ البتہ اسلام اپنے ماننے والوں کو حلال وحرام کی سختی سے پابندی کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الْیوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّیبَاتُ (المائدة: 5)

(آج تمہارے لیے تمام پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں)

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کے لیے طیبات (پاکیزہ چیزیں) حلال کی ہیں۔ قرآن میں دیگر مقامات پر اس کا بیان بھی ہے کہ وہ خبائث (ناپاک چیزیں) کیا ہیں جنھیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ مثلًا سورۃ الانعام آیت (۱۴۵) میں صراحت کی گئی ہے کہ مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس کو ذبح کرتے وقت اس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے، یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ شراب کو بھی حرام کیا گیا ہے (المائدۃ : ۹۱)۔

اسی طرح کھانے پینے کی وہ چیزیں بھی مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہیں جنھیں بتوں پر چڑھایا گیا ہو۔ ان کے علاوہ غیر مسلموں کی دی ہوئی دیگر کھانے پینے کی چیزیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔

مشہور تابعی حضرت قتادہؒ کا قول ہے:

لا بأس بأكل طعام المجوسی ما خلا ذبیحته۔ (مصنف عبدالرزاق، ۶/۱۰۹)

(مجوسی کا کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ما سوا اُس کے ذبیحے کے۔)

امام قرطبی لکھتے ہیں:

ولا بأس بأكل طعام من لا كتاب له، كالمشركین، وعبدة الأوثان، ما لم یكن من ذبائحهم . (الجامع لأحكام القرآن، ۶/۷۷)

(ان لوگوں کا کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے جن کے پاس کتاب نہیں ہے، جیسے مشرکین اور بت پرست، بشرط یہ کہ وہ ان کا ذبیحہ نہ ہو)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی غیر مسلم کی دعوت قبول کی جاسکتی ہے یا اس کی دی ہوئی کھانے پینے کی چیز استعمال کی جاسکتی ہے، اگر اس میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو یا ان کے بتوں پر چڑھاوے کی نہ ہو۔

صدقہ فطر کی اجتماعی تقسیم

سوال: صدقہ فطر بہت سے لوگ انفرادی طور پر ادا کرتے ہیں، جب کہ بعض لوگ کسی دینی تنظیم، جمعیت یا ادارے کو دے دیتے ہیں۔ صدقہ فطر کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اسے عید الفطر کی نماز سے قبل ادا کردینا چاہیے۔ اگر کوئی شخص اپنا صدقہ فطر عید الفطر سے قبل کسی دینی تنظیم کو دے دے، لیکن وہ تنظیم عید سے قبل اسے کسی غریب تک نہ پہنچاسکے تو کیا اس شخص کا صدقہ فطر ادا مانا جائے گا؟ یہ بھی واضح فرمادیں کہ اگر کسی وجہ سے کوئی شخص عید سے قبل صدقہ فطر نہ ادا کرسکے تو کیا بعد میں اسے ادا کرسکتا ہے؟ یا اب اس کی قضا کی کوئی صورت نہیں۔

جواب: رمضان المبارک کے آخری ایام کا ایک اہم عمل یہ ہے کہ گھر کے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر نکالا جائے حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:

فرض رسولُ اللهِ صلّى اللهُ علیهِ وسلمَ زكاةَ الفطرِ (متفق علیہ)

(رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ادا کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے)

حضرت ابن عمرؓ سے ایک دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے قبل تک صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیا ہے (مسلم)

صدقہ فطر انفرادی طور پر ادا کیا جاسکتا ہے اور اس کے اجتماعی جمع وتقسیم کا نظم بھی کیا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنا اپنا صدقہ فطر کسی دینی تنظیم یا رفاہی ادارے میں جمع کرادیں اور وہ اسے غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کردے۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں اس کا اجتماعی نظم بھی قائم تھا۔ حضرت ابوہریرۃؓ ایک موقع کا واقعہ بیان کرتے ہیں:

وَكَّلَنِی رَسولُ اللَّهِ ﷺ بحِفْظِ زَكاةِ رَمَضانَ (بخاری)

(رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان میں (مسجد نبوی میں جمع ہونے والے) صدقہ فطر کی نگرانی کی ذمے داری دی)

حضرت نافعؒ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ عید الفطر سے دو تین دن قبل صدقہ فطر اس شخص کے پاس بھیج دیتے تھے جو اسے جمع کرتا تھا (موطا امام مالک)

صدقہ فطر کی تقسیم چاہے انفرادی طور پر کی جائے یا اجتماعی طور پر، کوشش کرنی چاہیے کہ وہ عید الفطر سے قبل غریبوں تک پہنچ جائے۔ جو اجتماعی ادارے اسے جمع وتقسیم کرنے کا نظم کرتے ہیں انھیں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن اگر کچھ تقسیم ہونے سے رہ جائے تو اسے بعد میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

اس معاملے میں اجتماعی ادارے غریبوں کے نمائندہ ہیں۔ افراد کی طرف سے ان تک صدقہ فطر پہنچ جانے کا مطلب یہ ہے کہ افراد کا صدقہ فطر ادا ہوگیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اللہ کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنا صدقہ فطر عید کی نماز کے لیے نکلنے سے قبل جمع کردیتے تھے اور آپ ﷺ نماز سے واپسی کے بعد اسے تقسیم فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے:

یأمُرُ بإخراجِها قبل أن یغدُوَ إلى المصلّى، وكان یقسِمُها إذا رَجَع (المحلی، ابن حزم، ۶/۱۲۰)

(آپ ﷺ عید گاہ کے لیے نکلنے سے قبل صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اسے تقسیم کرتے تھے)

اگر کوئی شخص نماز عید الفطر سے قبل صدقہ فطر نہ نکال سکے تو اس کا حکم ساقط نہیں ہوجاتا اسے بعد میں نکال دینا چاہیے۔ اگرچہ بعد میں نکالنے کی صورت میں اس کا اجر کم ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:

مَنْ أدّاها قَبْلَ الصلاةِ فَهِی زكاةٌ مقبولَةٌ، وَمَنْ أدّاها بَعْدَ الصلاةِ فهِی صدَقَةٌ مِنَ الصدَقاتِ (ابوداؤد، ابن ماجہ)

(جس شخص نے نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کردیا اس کا صدقہ بارگاہ الہی میں مقبول ہوگا اور جو نماز کے بعد ادا کرے اس کے صدقے کی حیثیت عام صدقات کی طرح ہوگی۔)

مالی معاملات میں شفافیت

سوال: اگر کوئی شخص اپنی دفتری ذمے داریوں سے زائد وقت دیتا ہے لیکن جس ادارے میں وہ کام کرتا ہے وہ اس زائد کام کا الگ سے کوئی معاوضہ نہیں دیتا۔ یہ زائد کام اگر کسی اور سے کرایا جاتا تو اسے معاوضہ ادا کرنا پڑتا، کیا وہ شخص اس زائد کام کے بدلے ادارے کے فنڈ سے کچھ رقم اپنے لیے لے سکتا ہے؟

اسی طرح اگر ادارے کی جانب سے کسی کام کے لیے کچھ فنڈز مختص کیے گئے ہوں، اس کام کے لیے مارکیٹ میں لوگ زیادہ معاوضہ طلب کرتے ہوں، وہ شخص اپنی ذاتی کوشش یا اثر رسوخ سے اس کام کو کسی سے سستے داموں میں کروالے تو کیا اخراجات سے بچ جانے والی رقم وہ خود لے سکتا ہے؟

جواب: دفتری ذمے داریاں اور ان کی انجام دہی کی صورت میں ملنے والا معاوضہ دونوں ایک معاہدے کا نتیجہ ہوتے ہیں، جس کی پابندی کام لینے والے اور کام کرنے والے دونوں کو کرنی ہوتی ہے۔ یہی دین و ایما ن کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدۃ: ۱)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو! معاہدوں کی پابندی کرو)

’عقود‘(معاہدوں ) میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو انسانوں اور ان کے رب کے درمیان طے پائے ہیں اور وہ بھی جو انسانوں کے درمیان آپس میں کیے جاتے ہیں۔ کسی معاہدے کے نتیجے میں جو ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی ادائیگی ذمے دار کو محنت، لگن، سنجیدگی اور خیرخواہی کے جذبے سے کرنی چاہیے۔ آفس کے اوقات عمومًا متعین ہوتے ہیں۔ ذمے دار کو آفس میں آمد ورفت کے متعینہ اوقات کی پابندی کرنی چاہیے۔ ان اوقات میں دفتری کاموں کے علاوہ دیگر کاموں یا نجی مصروفیات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بسا اوقات بعض کام فوری انجام دہی کا تقاضا کرتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے کہ انھیں جلد از جلد مکمل کرلیا جائے۔ اس بنا پر ذمے دار کو کبھی آفس کے متعینہ اوقات سے زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔ ذمے داری سے انصاف اور خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ وقت کی پروا کیے بغیر اسے انجام دینے کی کوشش کی جائے۔

اگر کوئی شخص دفتری کاموں کی انجام دہی میں متعینہ اوقات سے زیاددہ وقت لگاتا ہے تو یہ اس کا ‘احسان’ ہے، جس پر وہ بارگاہ الہی میں اجر کا مستحق ہوگا، البتہ اسے اس کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے ذمے دار سے زائد وقت کا الگ سے معاوضہ طلب کرے۔ مثال کے طور پر کسی شخص سے معاہدہ ہوا ہے کہ وہ روزانہ آٹھ گھنٹے آفس میں رہ کر کام کرے گا۔ اگر کبھی اسے کسی کام کے لیے بارہ گھنٹے لگ جائیں تو وہ چار گھنٹے کا الگ سے معاوضہ طلب کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس دفتر کا کوئی فنڈ ہو تو وہ اپنے طور پر ذمے دار کے علم اور اجازت کے بغیر اس میں سے زائد عقت کا اضافی معاوضہ وصول کرلے۔ اس لیے کہ یہ دھوکا اور امانت میں خیانت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

مَن غشَّ فلیس مِنّا (مسلم) (جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں)

لا إیمانَ لِمَن لا أمانةَ له (مسند أحمد) (اس شخص کا ایمان معتبر نہیں جو ایمان دار نہ ہو)

اسی طرح کسی ادارے سے وفاداری اور خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ اس کا ہر کام اعلی معیار سے اور مناسب معاوضے پر کروایا جائے۔ نہ تو ایسا ہو کہ جیسے تیسے الٹے سیدھے کام پورا کرکے اس سے پیچھا چھڑالیا جائے، نہ اس پر بلا ضرورت زیادہ پیسہ خرچ کیا جائے۔ نہ کسی شخص سے وہ کام مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ کم پر کروانے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے کہ ایسا کروانے کی صورت میں اس کام کے غیر معیاری ہونے کا قوی اندیشہ ہوگا۔ بہرحال اگر کوئی شخص آفس کا کوئی کام کسی شخص سے مارکیٹ ریٹ سے کم پر کروالے تو اس کے لیے اخراجات سے بچ جانے والی رقم خود رکھ لینا جائز نہ ہوگا۔

مالی معاملات میں شفافیت کو ملحوظ رکھنا دین کا تقاضا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا میں بھی عزت وآبرو محفوظ رہتی ہے۔ جب کہ اس سلسلے میں ذرا بھی کوتاہی سے بسا اوقات دھوکہ دہی اور غبن کے الزامات لگ جاتے ہیں اور آدمی سماج میں منھ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاتا۔ اس لیے ایسے کاموں سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔

جون 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau