معبود کا حقیقت پسندانہ تصور

معظم علی

معبود کی ضرورت کا ایک احساس:

انسان اپنی زندگی میں ایک چیز کی کمی محسوس کرتارہتا ہے اور رہ رہ کر اس کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ کمی محسوس ہوتی رہتی ہے اور بعض مرتبہ تو بہت زیادہ شدت کے ساتھ اِس کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ بے چین ہو جاتا ہے اور بعض مرتبہ ذہنی توازن کھو بیٹھنے کی حد (Nervous Breakdown) تک حالت پہنچ جاتی ہے اور وہ خود کشی کرنے کی کیفیت تک پہنچ جاتا ہے۔اِس لیے چاہتا ہے کہ کوئی اس کا ساتھی ہو جو ہمیشہ ہمیشہ اور ہر جگہ اور ہر وقت اس کے ساتھ رہے، اس کی پکار پر اس کی مدد کرے، اس کی رہنمائی کرے، اس کو مشکلات اور پریشانیوں میں سہارا دے ، حاجتوں کو پورا کرے ، بظاہر نہ ہونے والے کام بنا دے اور اس کی جان کی حفاظت کرے ، تکلیف اور بیماری کو دور کرے ، دلی اور ذہنی سکون بخشے۔

آدمی اپنی زندگی میں شدت کے ساتھ جو کمی محسوس کر رہا تھا بے بسی اور مایوسی کی حد تک، اِس اچھے ساتھی کی وجہ سے زندگی کو زندگی ملی، زندگی کے اندر ایک جماؤ اور ٹھیراؤ آیا (Stability)اورسکون و راحت حاصل ہوئی۔نتیجہ میں انسان کے دل میں ایسے اچھے ساتھی کے لیے محبت ، احترام و اعتماد پیدا ہوا اور دل اس کو سجدہ کرکے اس کا شکر بجا لانا چاہتا ہے ، اس کی تعریف کے گن گانا چاہتا ہے یعنی اس کے ساتھ مراسمِ عبودیت بجالاناچاہتا ہے یعنی یہ تمام کیفیات جو انسان کے اندر پیدا ہوئیں وہ کسی کی پرستش کرنے کی کیفیات اور ادائیں ہیں اور جو رویہ اس کے ساتھ رکھا گیا اور جو خصوصیات اس ساتھی کی ہیں وہ ایک معبود کی ہیں۔ یعنی جو انسان کا ہمیشہ کا ساتھی ہے وہ اس کا معبود ہے اور جو شدید کمی محسوس کی جا رہی تھی وہ معبود ہی کی تھی اور جب معبود کو مان لیا گیا اور یقین کر لیا گیا تو وہ کمی پوری ہوئی اور زندگی کو رہنمائی اور سکون ملا۔ معلوم ہوا، احساس ہوا اور یقین آیا کہ معبود انسان کی زندگی کی شدید بلکہ بنیادی ضروت ہے جس کے بغیرزندگی کے اندر جان نہیں آسکتی اور زندگی صحیح رخ پر گامزن نہیں ہو سکتی بلکہ حادثات کا شکار ہوجاتی ہے۔ غرض کسی کو معبود بنانا یہ انسان کی اپنی اندرونی آواز اور فطری تقاضا (Demand)اورروزمرہ کی ضرورتِ زندگی ہے۔

حقیقی معبود کو پرکھنے کے لیے اس کی اپنی چند خصوصیات (Criteria)

پچھلے صفات میں غورو فکر اور بحث کے بعد معبود کا جو تصور سامنے آیا ہے کیا وہ د ل و دماغ کو بھاتا ہے؟ اگر دماغ مطمئن ہے اور دل گواہی دیتا ہے کہ معبود ایساہی کچھ ہونا چاہیے تو پھر تلاش کرنا چاہیے کہ ایسی خوبیوںو خصوصیات کی مالک ہستی جو ہماری زندگی کی اہم اور بنیادی ضرورت ہے کہاں، کس اڈیالوجی (Ideology)‘کس کتاب، کس مذہب میں پائی جاتی ہے مستند انداز میں۔ کوشش بہرحال ہونی چاہیے۔ حقیقی معبود کی سچی طلب و تڑپ آدمی کو اس مقام اور سرچشمہ تک پہنچادے گی جہاں اس کو ذہنی و قلبی اطمینان حاصل ہوگا۔ تحقیق کے لیے کچھ رہنمائی میری دوسری کتاب ’’خالق سے ملاقات کیجئے‘‘ جو اِس سلسلہ تحریر کا دوسرا اور آخری حصّہ ہوگی، سے مدد لی جاسکتی ہے۔

معبود کی خصوصیات ایک نظر میں:

٭         معبود وہ ہو جس نے ہمیں حیات دی(خالق)، ہم نہیں تھے، ہمیں وجود بخشا۔ اسی محسن اعظم کا حق بنتا ہے کہ اسی کوسجدہ کیاجائے اور کسی کو نہ کیا جائے۔

٭           اصل اور اول اور حقیقی زندگی صرف خالق کی ہے اور خالق ہی معبود ہوتا ہے۔ اس لئے معبود ہی کے ہاتھ میں ہے تمام زندگیوں کو وجود بخشنااور ختم کرنا۔اس لئے وہی عبادت کے لائق ہے۔

٭           معبود کی سب سے اہم صفت یہ کہ اْسے موت لاحق نہ ہو، اْس کی حیات لامتناہی ہو۔ وہ ہمیشہ بہ حیات رہے،اْس کی زندگی کو زوال نہ آئے۔

٭           وہ ہمیشہ پوری تابناکی کے ساتھ زند ہ رہے ،تب ہی انسانی حیات پورے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ حیات دینے والے سے رجوع کرتی رہے گی۔

٭           معبود وہ جس کا اقتدار زمین و آسمان پر چھایاہوا ہو، کوئی گوشہ نہ چھٹاہو۔مقتدارِ اعلی و حاکم ہو۔

٭           معبود وہ جو تمام کمزوریوں،غلطیوں اور نقائص سے پاک اور کمالات و خوبیوں کا مجموعہ ہو۔

٭           معبود ایک پاکیزہ ترین ہستی ہوتی ہے جس کے تعلق سے کسی بْرائی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔

٭           معبود وہ جو ہمیشہ سالم رہے یعنی کبھی بیمار نہ ہو، اْس پر کوئی آفت نہ آئے کوئی کمزوری لاحق نہ ہو کبھی اْس کے کمال پر زوال نہ آئے۔

٭           جو خود آفت کا شکار ہوتا ہو دوسرے کو کیا سلامتی دے گا کیا حفاظت کرے گا۔

٭           معبود ہمیشہ بے نیاز ہوتا ہے۔

٭           معبود وہ جو ہر چیز پر اِس قدر قادر ہو کہ کسی کو کچھ دینا چاہے تو کوئی روک نہ سکے اور روک دے تو کوئی دے نہ سکے۔

٭           معبود وہ جو چیزوں کو اور حیات کو عدم سے وجود میں لاتا ہو۔

٭           معبود وہ جس کے ہاتھ میں حیات و موت ہو۔

٭           معبود وہ جس نے کائنات اور کائنات میں پائی جانے ولی حیات کے درمیان موافقت رکھدی کہ حیات باقی اورجاری رہے۔

٭           معبود وہ جو غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجہ پاک ہو۔ اونگھ، نیند اور تھکاوٹ سے پاک۔

٭           معبود وہ جو ہر چیز کا علم رکھتا ہو ہر زمانے کا اور ہر مقام کا علم رکھتا ہو یعنی کوئی چیز اْس کے علم و معلومات سے خارج نہ ہو۔

٭           معبود وہ جس کے فیصلے کو کوئی چیلنج  نہ کرسکے اور نہ ہی اْس کو نافذ ہونے سے روک سکے اور نہ ہی وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کے سامنے جوابدہ ہو۔ وہ سب سے بالااوربااختیار ہستی ہو۔

٭           معبود وہ جس کی مدتِ حیات اور قوتِ حیات کی کوئی حد بندی نہ ہو۔

٭           معبود وہ جو چھپا ہواہو، غیب میں ہو، نظروں سے اوجھل ہو تاکہ ہم ہر جگہ اور ہر وقت اس کا تصور کر کے اسے اپنے سے قریب محسوس کر سکیں اس کی صفات کے ذریعہ …کہ ہر جگہ اور ہر وقت وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہر جگہ ہروقت وہ ہمیں سن رہا ہے، ہر جگہ ہر وقت ہر چیز کرنے پر وہ قادر ہے تو ہم بھی اپنے آپ کو اس سے قریب محسوس کر سکتے ہیں،محبت کرتا ہوا، معاف کرتا ہوا، رحم کرتا ہوا۔ اِس قربت کے احساس کی بنا پر اس کی ناراضگی کا ڈر اور اس کی نافرمانی پر اس کی سزا کا خوف محسوس ہوتاہے۔یہ تمام خوبیاں اس کی صفات کے تصور میں پوشیدہ ہیں جو کہ یقیناً اس کی ذات میں موجود ہیں۔ لیکن مجرد ذات کا تصور اِس قدر غیر معمولی اثر (Impact) انسانی زندگی پر نہیں ڈال سکتاجتنا کہ اس کی صفات کا علم و تصور۔

٭           خالق ہی معبود ہوتاہے اور خالق یکتا اور تنہا ہے۔ اِس لئے معبود بھی ایک ہی ہوتاہے۔

٭           معبود وہ جس کی کوئی فیملی نہ ہو،فیملی کا مطلب معبود کی بھی حاجات و ضروریات و خواہشات اور محتاجی ہے جو اس کے کمزور ہونے کا اظہار بھی ہے اور دلیل بھی۔اور کمزور ہستی معبود نہیں ہوتی، کمزور ہستی کو معبود نہیں بنایا جاتا۔

٭           حقیقی معبود وہ جس کو کوئی مانے یا نہ مانے، اطاعت کرے یا نہ کرے، اس کے حضور جھکے یا نہ جھکے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

٭           معبود وہ جو کسی کا بنایا ہوایا پیدا کیا ہوا یا جنم دیا ہوا نہ ہو اور نہ اْس جیسا یا اْس برابر کوئی اور ہو۔معبود وہ جو ہرکمزوری سے پاک ،ارادہ، عمل اور حیات کی محدودات (limitation) سے پاک ہو ۔

٭           پیدا ہونا/پیدا کیا جاناایک کمزوری ہے،مرنا ایک کمزوری اور بے بسی ہے،پیدا ہونے اور مرنے کا مطلب زندگی کا محدود ہوناہے۔

٭           معبود وہ جوکسی کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔ جوابدہی اس کو کرنی ہوتی ہے جو کمزور ہے، غلطی کر سکتا ہے ، طاقت اور چیزوں کا غلط استعمال کر سکتا ہے ، ظلم کر سکتا ہے ، حق مار سکتا ہے، ناانصافی کر سکتا ہے۔ معبود اِن تمام نقائص سے پاک، عظیم اورمقتدرِ اعلیٰ ہو۔

٭           جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی پر زندہ ہیں وہ کیوں کر معبود ہو سکتے ہیں؟ معبود وہ جو خود سے زندہ ہو۔

٭           جس کا حصّہ خلق و ملکیت میں نہیں وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے؟کس طرح اْس کا حق بن سکتا ہے کہ اْس کی عبادت کی جائے۔جب کہ وہ نہ خالق ہے نہ مالک۔

٭           معبود کے اندر حاکمانہ صفات ہوں۔کائنات کی ہر چیز اْس کے حکم کے تابع ہو۔

٭           معبود وہ جس کی پناہ لے کر فرد اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا ہو۔ اور یہی کچھ انسان چاہتا ہے یعنی پناہ و حفاظت۔

٭           معبود وہ جس کو انسان کے معاملات سے دلچسپی ہو۔ انسان کے روزمرہ کے معاملات کے تعلق سے وہ بے پروہ نہ ہو۔دلچسپی ہو تو ہی عبادت کے لئے دل راغب ہوتا اور جھکتا ہے۔اگر دلچسپی نہیں تو انسان کو بھی اْسکی عبادت سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟اگر معبود دلچسپی نہ لے تو انسان کے لئے بھی اْس کی اپنی زندگی بوجھل ہو جاتی ہے۔ ایسی ہستی کو معبود ماننے یا ناماننے سے فردکو کوئی فائدہ نہیں۔

٭           معبود وہ جو انسان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا بحسن و خوبی انتظام کرے۔اگر وہ یہ سب نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا تو معبود بننے کے لائق نہیں ، عبادت کے لائق نہیں۔ ایسی ہستی کو معبود ماننے سے کوئی فائدہ نہیں۔

٭           روزمرہ کی زندگی میں انسان سے معبود کا تعلق بڑی قربت کا ہو، انسان اْسکو ہمیشہ اپنے ساتھ محسوس کرے۔ اِس قربت کے احساس و یقین کا زبردست اثر انسانی زندگی پر ہر پہلو سے پڑتا ہے۔ زندگی کے اندر ٹھیراؤ اور سکون آتا ہے اور زندگی ہر مرحلہ میں صحیح رخ اختیار کرتی ہے پوری سرعت(Dynamic)کے ساتھ۔

٭           معبود وہ جو اپنے بندے کی توبہ قبول کرے اور معاف کرے تاکہ زندگی جو بوجھل ہوگئی تھی معبود کو ناراض کرنے کی وجہ سے ، وہ  پْر سکون ہوجائے۔

٭           معبود وہ جو ہر انسان سے محبت کرے اور اْن کے درمیان کوئی فرق نہ کرے تاکہ ہر انسان کے لئے وہ ہستی معبود بن سکے۔ پیدائشی طور پر وہ کسی کو چہیتا نہ رکھے اور بندہ و معبود کے درمیان کسی ہستی کی مداخلت کو پسند نہ کرے، راست گفتگو کا موقع دے اور اْس کا طریقہ بتائے(ہر انسان کااپنے معبود سے غلام و آقا کا دائمی اور پیدائشی تعلق ہو)۔

٭           جس عظیم ہستی کی خوشی اور رضا مطلوب اور مقصود ہے وہی معبود ہوتا ہے۔

٭           معبود وہ جو اپنے ہر بندے سے محبت کرتا اور جس کا راست تعلق اپنے ہر بندہ سے ہو اور بندہ کے ہر عمل اور ہر بات کا علم اْسے ہو کہ انصاف کے دن کسی کی سفارش کی اْسے ضرورت نہ ہو۔

٭           معبود وہ جو اپنے بندے کی پکار کا جواب دے، اس کی مدد فرمائے، اْسے مصیبتوں سے بچالے۔ ایسی ہی ہستی عبادت، شکر، حمد و سجدے کے لائق ہے۔

٭           معبود وہ جواپنے بندوں میں انصاف کرتا ہو انصاف کے دن اور بے لاگ انصاف۔(جو انصاف کے احساس سے خالی ہو، انصاف نہیں کرتا یا نہیں کرسکتا اْس کی عبادت کرکے اْسے راضی کر کے کوئی فائدہ نہیں)

٭           جو انصاف قائم کرتا، جزا و سزا دیتا ہو وہی قابلِ عبادت ہے۔

٭           معبود وہ جو زندگی کے لئے راہنما اصول دے اور پوری زندگی کے لئے بہترین تعلیمات دے تاکہ انسان اچھی اور پْر سکون زندگی گذارسکے۔ اور اِن تعلیمات کو انسانوں تک پہنچنے کا انتظام کرے۔

٭           معبود اْسکوہونا چاہیے جوہر چیزکی تخلیق کے بعد اْس کے مقصدِوجودکوپوراکرنے کے لئے راستہ بتاتا ہو۔

٭           معبود وہ نہیں جو نہ زندہ ہے اور نہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔

٭           معبود وہ نہیں جومرتا ہویا ماراجاسکتاہو۔جو اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کرسکتا ۔

٭           معبود وہ جو سب سے بڑا (عظیم) اور سب پر فوقیت رکھنے والا (Supreme)ہو۔

٭           معبود وہ جو ہر عیب سے پاک ہو۔

٭           معبود وہ جس کے لئے ساری تعریف ہو۔

٭           معبود وہ جس کا کوئی کام عبس و فضول نہ ہو۔

٭           جو ہر چیز سے باخبر رہتاہو۔ جو بے خبر ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟

٭           معبود وہ جو زندگی کی تمام کمزوریوں اورمحتاجیوں و مجبوریوں سے پاک ہو۔

٭           معبود وہ جو اْن تمام کمزوریوں سے پاک ہو جو کائنات اور اس کے اندر حیات کے انتظامات میں مانع ہو۔

٭           معبود اس قدربااختیار اور بااقتدار ہو کہ اس کا ایک حکم کسی کام کے انجام پانے کے لئے کافی ہو جائے، اس کو کسی کام کے انجام دینے کے لئے بھاگ دوڑ اور اسباب کی ضرورت نہ ہو، بس اس کا ارادہ اور حکم کافی ہوجائے۔

٭           معبود کو ہر وقت، ہر کام میں، ہر پہلو سے آزاد ہونا چاہیے۔ انحصار و محتاجی کمزوری کا سبب بھی ہے اور کمزوری کا ثبوت بھی۔ اور کمزور ہستی معبود نہیں ہوسکتی۔ کمزور ہستی کی عبادت کرنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔

٭           معبود کو تمام کمزوریوں سے پاک اور خوبیوں کامجموعہ ہونا چاہیے۔جو ہستی پیدا کرتی ہے وہ بے انتہا طاقتور اور علم و حکمت اور قدرت سے بھرپور اور ہر کمزوری سے پاک، آزاد و خودمختار، آزادانہ فیصلہ کرنیوالی اور خودرہنما ہوتی ہے(Self-Guided)۔اور پیدا کرنے والی ہستی ہی معبود ہوتی ہے۔

٭           ہمارا معبود بھی وہی ہے جو زمین و آسمان کا معبود ہے۔

٭           معبود وہ جس کے سامنے سب بے بس اور وہی فائق ہو(Dominant)

٭           معبود اور عبادت کے لائق وہ جس کا اقتدار اور مضبوط گرفت آسمان اور زمین کی ہر چیز پر ہو۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اْس کی گرفت سے باہر نہ ہو۔

٭           جس کے انتظامات ہوں زندگی کی بقااور کائنات کی بقاکے لئے وہی عبادت کے لائق ہے۔

٭           جس کاکوئی اختیار نہیں وہ معبود نہیں۔

عبادت اس کی کی جاتی ہے……

٭           جو پیدا کرتا ہے( خالق) نہ کہ پیدا کیا جاتا ہے (مخلوق)۔

٭           ہر نقص سے پاک اور بے عیب کی نہ کہ ناقص اورعیب دار کی۔

٭           جو قوی ہے نہ کہ کمزور۔

٭           جو خود سے قائم و دائم ہے نہ کہ کسی کے رحم و کرم پر قائم ہے

٭           لافانی کی عبادت کی جاتی ہے نہ کہ فانی کی۔

٭           حاجت روا کی نہ کہ محتاج کی۔

٭           باریک بیں اور باخبر کی نہ کہ وہ جو کچھ نہ جانتا اورنہ سنتا ہو۔

٭           جو سبحان ہے صرف اْسی کو سجدہ کیا جاتا ہے۔ اِسی میں انسان کی عزت ہے اور جو عیب دار اور سبحان نہیںہے اسے سجدہ کر کے آدمی اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے۔

نومبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau