Opens in a new tab

صلاحیتوں کو پہچانیں

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کسی نہ کسی امتیازی صلاحیت اور استعداد سے نوازا ہے۔ کسی کے اندر انتظامی امور کو سنبھالنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، کوئی علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں ہوتا ہے، کوئی دعوت و تبلیغ میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو کوئی جنگی حکمتِ عملی، فنون، تجارت یا کسی دوسرے شعبے میں غیرمعمولی مہارت رکھتا ہے۔ انسانی معاشرے کی ترقی کا ایک اہم راز یہی ہے کہ افراد کے اندر موجود ان صلاحیتوں کو بروقت پہچانا جائے، انھیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، ان کی تربیت و نشوونما کا اہتمام کیا جائے اور پھر انھیں صحیح سمت میں بروئے کار لایا جائے۔ محض صلاحیت کا موجود ہونا کافی نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ اسے دریافت کیا جائے، پروان چڑھایا جائے اور خیر و فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد ہر دور میں کثرت سے پیدا نہیں ہوتے۔ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے درمیان بعض اوقات چند ہی ایسے افراد سامنے آتے ہیں جن میں قیادت، بصیرت، فیصلہ سازی، غیر معمولی فہم یا کسی خاص میدان میں نمایاں استعداد پائی جاتی ہے۔ رسول ﷺ  کے خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کو اس حقیقت کا گہرا ادراک تھا کہ اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی ناقدری اجتماعی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی احساس کا اظہار ان سے منقول بعض روایات میں ملتا ہے، جہاں وہ نیک اور باصلاحیت لوگوں کی قلت اور بعض اوقات باطل پرست لوگوں میں پائی جانے والی قوت و جرأت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

اسلام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی صلاحیتوں کی قدر و قیمت کو تسلیم کرتا ہے اور انسانوں کو محض ان کی ظاہری حیثیت، خاندانی تعلق یا سماجی مرتبے کی بنیاد پر نہیں پرکھتا۔ کسی شخص کے اندر موجود قابلیت اگر معاشرے اور امت کے لیے مفید ہوسکتی ہے تو اسے پہچاننا اور صحیح مصرف میں لانا ضروری ہے، خواہ وہ شخص اپنے قریبی حلقے سے تعلق رکھتا ہو یا کسی دوسرے ماحول سے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے ایک معروف واقعے سے بھی انسانی صلاحیتوں کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:’’اپنی اپنی تمنا بیان کیجیے۔‘‘ ایک شخص نے کہا: میری تمنا ہے کہ اگر یہ گھر سونے سے بھرا ہوتا تو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کردیتا۔ دوسرے نے کہا: میری خواہش ہے کہ اگر یہ گھر ہیرے جواہرات سے بھرا ہوتا تو میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردیتا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس سے آگے بڑھ کر تمنا کرو۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم اس سے زیادہ کیا تمنا کریں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میری تمنا یہ ہے کہ یہ گھر ابوعبیدہ بن الجراح، معاذ بن جبل، سالم مولیٰ ابی حذیفہ اور حذیفہ بن یمان جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو، تاکہ میں انھیں اللہ کے دین کی خدمت میں استعمال کر سکوں۔

سیرتِ رسول اللہ ﷺ کا مطالعہ بھی اس حقیقت کو نہایت نمایاں طور پر سامنے لاتا ہے کہ آپ ؐ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچانتے، ان کی استعداد کے مطابق ذمہ داریاں سونپتے اور ان کی صلاحیتوں کو خیر کے لیے استعمال فرماتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں صحابۂ کرامؓ کی تربیت اسی اصول پر ہوئی اور اسی کے نتیجے میں ایک ایسا اجتماعی نظام وجود میں آیا جس میں مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد اپنے اپنے میدان میں امت کی خدمت انجام دے رہے تھے۔

حضرت معاذ بن جبلؓ کو شریعت کی گہری سمجھ، حلال و حرام کے مسائل میں بصیرت اور فقہی صلاحیت کے پیش نظر یمن بھیجا گیا۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کی امانت، دیانت اور انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انھیں امین الامت کا اعزاز حاصل ہوا اور اہم ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئیں۔ حضرت زید بن ثابتؓ کی غیر معمولی ذہانت، زبان دانی اور مختلف زبانوں پر عبور کو دیکھتے ہوئے انھیں کتابتِ وحی کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں سے متعلق اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شائستہ گفتگو، نرم مزاجی اور دعوتی بصیرت کو دیکھتے ہوئے انھیں مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت پہنچانے کے لیے بھیجا گیا۔ حضرت بلال بن رباحؓ کی بلند، پراثر اور دل نشیں آواز کو دیکھتے ہوئے انھیں اذان جیسی عظیم ذمہ داری عطا ہوئی، جب کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی، جرأت اور قیادت کی صلاحیت کو پہچان کر انھیں مشکل ترین معرکوں میں قیادت کا موقع دیا گیا اور ان کے لیے سیف اللہ کا لقب استعمال ہوا۔

یہی بات صحابۂ کرامؓ کی مختلف شخصیتوں اور ان کے مختلف میدانوں سے بھی واضح ہوتی ہے۔ حضرت ابی بن کعبؓ  قرآن کریم کے جلیل القدر قاری اور صاحبِ علم صحابی تھے، حضرت معاذ بن جبلؓ فقہ اور حلال و حرام کے مسائل میں ممتاز مقام رکھتے تھے، حضرت حسان بن ثابتؓ شاعری میں نمایاں تھے، جب کہ حضرت خالد بن ولیدؓ میدانِ جنگ کے غیر معمولی سپہ سالار تھے۔ چناں چہ جب کسی مسئلے میں کسی خاص نوعیت کی صلاحیت درکار ہوتی تو اسی میدان کے ماہر سے رجوع کیا جاتا۔ یہی دراصل اجتماعی زندگی میں تخصص کی اہمیت ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ سے یہ توقع نہیں کی گئی کہ وہ حضرت ابی بن کعبؓ کی طرح درسِ قرآن دیں، اور حضرت ابی بن کعبؓ سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ حضرت خالدؓ کی طرح میدانِ جنگ میں قیادت کریں۔ ہر شخص نے اپنی استعداد کے مطابق دین کی خدمت انجام دی اور یوں مختلف صلاحیتوں نے مل کر امت کی اجتماعی قوت تشکیل دی۔

اسی حقیقت کی نہایت خوب صورت وضاحت ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اپنی کتاب     محاضراتِ فقہ میں کی ہے۔ وہ صحابۂ کرامؓ کے درمیان موجود ذوق اور صلاحیت کے فرق کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”صحابہ کرامؓ میں بلاشبہ ذوق کا اختلاف موجود تھا۔ کسی صحابی کا ذوق تھا کہ زندگی بھر تلوار لے کر میدانِ جنگ میں جہاد کرتے رہے اور کبھی درس و تدریس کا مشغلہ اختیار نہیں فرمایا۔ مثال کے طور پر حضرت خالد بن ولید نے ساری زندگی      میدانِ جنگ میں گزار دی،کبھی کوئی حلقۂ درس قائم نہیں فرمایا،کبھی احادیث کی روایت کے لیے نہیں بیٹھے۔ وہ میدانِ جہاد کے شہسوار تھے۔ ان کا ذوق شمشیر زنی اور خاراشگافی تھا۔ وہ زندگی بھر اسی میدان میں دین کی خدمت کرتے رہے۔ اس کے برعکس کچھ دوسرے صحابہ کرام کا ذوق تھا کہ زندگی بھر درسِ حدیث دیتے رہے اور برائے نام ہی تلوار اٹھائی، جیسے حضرت ابوہریرہؓ۔ جہاد کے فضائل اپنی جگہ اور حدیث کی نشر و اشاعت کی اہمیت اپنی جگہ۔ حضرت خالد بن ولید نے بھی یہ نہیں کہا کہ ابوہریرہ کو دیکھو، جہاد کے فضائل جانتا ہے، پھر بھی تلوار نہیں اٹھاتا اور جہاد میں حصہ نہیں لیتا، اور نہ کبھی ابوہریرہ نے یہ کہا کہ خالد بن ولید نے حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی۔ یہ اپنا اپنا ذوق تھا۔ کسی کے اندر کوئی ذوق اور کسی کے اندر کوئی اور۔ ہاں، کچھ صحابہ کرام ایسے تھے جن کے اندر بڑی جامعیت پائی جاتی تھی۔ ہر دور میں جامعیت رکھنے والے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ اسلام اس لیے نہیں آیا کہ لوگوں کے ذوق کو کچل کر رکھ دے۔ اسلام کا کام لوگوں کے ذوق کو جِلا بخشنا اور افراد کی صلاحیتوں کو ابھارنا ہے۔ اسلام کا جذبۂ صادق ہر شخص سے اس کی صلاحیتوں اور ذوق کے مطابق خدمت لینا ہے۔“

حقیقت یہ ہے کہ دنیا تخصص (specialization) کا نام ہے اور ہر علم و فن کے اپنے ماہرین ہوتے ہیں۔ طب کے لیے طبیب درکار ہے، تعمیر کے لیے ماہرِ تعمیرات، قانون کے لیے قانون داں، معیشت کے لیے ماہرِ معاشیات، تعلیم کے لیے ماہرِ تعلیم، جنگی حکمتِ عملی کے لیے ماہرِ عسکریات اور دعوت و تربیت کے لیے اس میدان کا تجربہ رکھنے والے افراد۔ کام یاب قومیں وہی ہوتی ہیں جو افراد سے ان کی صلاحیت کے مطابق کام لیتی ہیں، ماہرین کو مناسب میدان فراہم کرتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ کسی شخص کا ہر میدان میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی کی ایک بڑی کم زوری یہ ہے کہ ہم اکثر اپنی تنظیم، جماعت یا محدود حلقۂ احباب کے اندر ہی مطلوبہ صلاحیتیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہاں کسی خاص میدان کا ماہر موجود نہ ہو تو بھی ہم کسی نہ کسی کم صلاحیت والے فرد سے کام چلانے پر اکتفا کرلیتے ہیں، لیکن وسیع تر معاشرے میں موجود اہلِ صلاحیت سے استفادہ کرنے میں تردد محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ہماری کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس وسیع انسانی سرمایہ سے بھی ہمیں محروم کردیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے گردوپیش میں رکھا ہے۔

ایک مرتبہ ایک اسکول میں اساتذہ کی تربیت کا پروگرام ترتیب دیا جارہا تھا۔ میں نے ذمہ داران سے عرض کیا کہ آپ کی تنظیم میں اس معیار کے تربیت یافتہ افراد موجود نہیں ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ اپنی تنظیم سے باہر کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، خواہ ان کے تقویٰ اور دینی مزاج کا معیار آپ کے تصور کے عین مطابق نہ بھی ہو۔ میری یہ بات سن کر وہ حیران رہ گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر ایک مخصوص میدان میں غیر معمولی علمی یا فنی مہارت موجود ہے تو کیا محض اس بنیاد پر اس کی مہارت سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہمارے حلقے سے تعلق نہیں رکھتا؟

اگر ہم واقعی امتِ مسلمہ کو دوبارہ عروج پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں افراد کو ان کی صلاحیت، استعداد اور تخصص کے مطابق ذمہ داریاں دینا ہوں گی۔ ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ ہر اہم کام صرف ہمارے اپنے محدود حلقے کے لوگ ہی انجام دیں اور باہر کے اہلِ صلاحیت سے استفادہ ہماری کم زوری ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے: ماہرین کی تلاش، ان سے مشورہ، ان کی خدمات سے استفادہ اور مختلف صلاحیتوں کو ایک مقصد کے تحت جمع کرنا اجتماعی قوت کی علامت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قیادت ہمیں یہی سبق دیتی ہے، صحابۂ کرامؓ کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر پیش کرتی ہے اور انسانی تجربہ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں کو صرف اپنے موجودہ کردار سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کے اندر چھپی ہوئی ممکنہ صلاحیت کو بھی تلاش کریں۔ ایک اچھا قائد وہ نہیں جو صرف کام تقسیم کردے،اچھا قائد وہ ہے جو انسانوں کو پہچانے، ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرے، انھیں تربیت دے اور پھر ان کی قوت کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے افراد کارآمد بنتے ہیں، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور معاشرے ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہیں۔

[1](بارہمولہ، کشمير)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

صلاحیتوں کو پہچانیں

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223