شُح اور صُلح: دو متضاد رویے

شح (ش ح ح) اور صلح (ص ل ح) ۔ یہ محض دو الفاظ نہیں، بلکہ دو اہم انسانی رویے ہیں۔یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں۔ ایک انسان کو پستی کی طرف لے جاتا ہے تو دوسرا اسے بلندی عطا کرتا ہے۔

ماہرین لغت کہتے ہیں کہ شح بخل سے زیادہ سنگین چیز ہے۔روک رکھنے اور نہ دینے کی کیفیت اس میں بخل سے زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ بخل صرف مال کی حد تک ہوتا ہے، جب کہ شح مال میں تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ نیکی کے ہر کام میں بھی ہوتا ہے۔ بخیل صرف مالی مدد میں پیچھے رہتا ہے، جب کہ شحیح کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی بھلائی نہیں کرتا۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ شح میں کنجوسی اور لالچ دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔ جو صرف کنجوس ہوتا ہے وہ دوسروں کے مال سے مطلب نہیں رکھتا، بس اپنے مال کو بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جب کہ جو کنجوس اور لالچی دونوں ہوتا ہے (یعنی شحیح)وہ اپنے مال کو دوسروں پر خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کے مال کو ہتھیا لینا چاہتا ہے۔

شح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”خود غرضی“ہے۔ یعنی صرف اپنی فکر۔ خود غرض انسان کو صرف اپنی پروا ہوتی ہے باقی کسی کی پروا نہیں ہوتی۔ اس کو سب کچھ مل جائے اور باقی کسی کو کچھ نہ ملے۔ اسے خود جیتنے اور دوسروں کو ہرانے میں مزا آتا ہے۔وہ دوسروں کے جذبات کی بالکل رعایت نہیں کرتا ہے اور اپنے جذبات کی پوری پوری تسکین چاہتا ہے۔

صلح کی معنویت کو ادا کرنے والا لفظ ”ایثار“ ہے۔ دوسروں کے بھلے کے لیے اپنے حقوق سے دست برداری ۔ ایثار پسند انسان دوسروں کا خیال کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی خاطر اپنے کچھ مفادات سے بھی دست بردار ہوجاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب جیت جائیں۔ سب کی جیت کے لیے وہ کبھی کبھی ہارنا بھی گوارا کرلیتا ہے۔

شح نفس پرستی کا مظہر ہے اور صلح بے نفسی کا۔ جتنی زیادہ نفس پرستی ہوگی اتنا ہی زیادہ شح والا رویہ ہوگا اور جتنی زیادہ بے نفسی ہوگی اتنا ہی زیادہ صلح والا رویہ ہوگا۔

******

قرآن مجید میں صلح کی تعریف کی گئی ہے۔

وَالصُّلْحُ خَیرٌ [النساء:۱۲۸]

(اور صلح خیر ہے۔)

دو لفظوں پر مشتمل یہ زندگی کا نہایت قیمتی اصول ہے۔جو شخص صلح کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے حق میں ہی نہیں، پورے انسانی سماج کے حق میں بھلائی کا دروازہ کھولتا ہے۔

قرآن مجید میں شح کو انسان کے لیے بہت بڑا خطرہ اور کامیابی کی راہ کی بہت بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، جب کہ شح سے چھٹکارے کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔ فرمایا گیا:

وَمَنْ یوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [الحشر:۹]، [التغابن:۱۶]

(اور جو خود اپنی خود غرضی سے بچالیے گئے، تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔)

شح تو دراصل نفس ہی کی کیفیت ہے۔ یہاں اس کے ساتھ”نفسہ“ کہنے سے جملے کی معنویت میں ایک لطیف اور اہم اضافہ ہوا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا شح ( خود غرضی) ہے ، اس لیے اسے خود اپنے شح سے بچنے کی فکر کرنا چاہیے۔ لوگ عام طور سے دوسروں کی خود غرضیوں سے ڈرتے اور ہوشیار رہتے ہیں۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ خود غرض انسان اپنے آس پاس والوں کو نقصان ہی پہنچاتا ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے۔ وہ کب کس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے اور کس کی آستین کا سانپ بن جائے کچھ پتہ نہیں رہتا۔ لیکن خود غرض انسان دوسروں کو جو بھی نقصان پہنچاتا ہے وہ دنیا کی حقیر و فانی متاع کا نقصان ہوتا ہے۔ خود غرض انسان خود اپنا جو نقصان کرتا ہے وہ ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ خود غرضی انسان سے اس کا جوہر چھین لیتی ہے۔ وہ انسان پرنیکی اور بھلائی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اس طرح وہ انسان کو حقیقی کامیابی کے راستے سے بہت دور کردیتی ہے۔

قرآن مجید میں دو جگہوں پر یہ بات کہی گئی کہ جسے خود اس کی اپنی خود غرضی سے بچالیا گیا، وہی کامیابی کا مستحق ٹھہرا۔

دوسروں کی خود غرضیوں کے برے اثرات سے بچنے کے لیے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے، لیکن زیادہ اور شدید فکر اس کی ہونی چاہیے کہ کہیں خود غرضی کے جراثیم ہمارے وجود میں پنپنے نہ لگیں۔ اس حوالے سے اپنا شدید احتساب کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں آپ کے لیے دوسروں کی خود غرضی سے زیادہ ، خود آپ کی اپنی خود غرضی زیادہ خطرناک اور زیادہ نقصان دہ ہے۔

******

صلح کا راستہ اختیار کرنا آسان نہیں ہے جب کہ شح کا راستہ اختیار کرنا بہت آسان ہے۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے :

وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [النساء:۱۲۸]

(اور شح انسان کی رگ و پے میں بسا ہوتا ہے۔)

شح کا رویہ انسان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتا ہے اس لیے نفس اسے سراہتا ہے جب کہ صلح کا رویہ نفسانی خواہشات کو دبانے کے بعد ہی اختیار کیا جاسکتا ہے، اس لیے نفس کی طرف سے شدید مزاحمت ہوتی ہے۔

شح کے لیے قوت ارادی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، نفسانی جذبات کے بہاؤ میں انسان بہتا چلا جاتا ہے۔ صلح کے لیے مضبوط قوت ارادی درکار ہوتی ہے جو جذبات کے سیلاب پر بند لگاسکے۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی تنازعہ ہوتا ہے توشح والے رویے ہر طرف سے سامنے آنے لگتے ہیں۔ لیکن صلح والا رویہ بمشکل کہیں سے سامنے آتا ہے۔شوہر اور بیوی کے تنازعات ہوں، بھائیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم کا تنازعہ ہو، پڑوسیوں کے درمیان راستے کے مسائل ہوں یا کسی بستی والوں کے درمیان کوئی اجتماعی مسئلہ پیش آجائے۔ ایسے ہر موقع پر شح کی کیفیت کا غلبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تنازعات و مسائل کا حل بہت دشوار ہوجاتا ہے۔

اگر دونوں طرف سے صلح کا رویہ اختیار کیا جائے تو معاملہ بڑی آسانی سے نپٹ جائے مگر ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔

******

رشتوں اور تعلقات کے لیے شح زہر ہے جب کہ صلح تریاق ہے۔

شح کی وجہ سے رشتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ رشتے خود غرضی اور مفاد پرستی کی زد میں رہتے ہیں۔ ہر کوئی حق سے زیادہ لینا چاہتا ہے اور اپنے اوپر عائد فرض کو فراموش کردیتا ہے۔ جب کہ صلح کے نتیجے میں رشتے پائیدار ہوتے ہیں۔لوگوں کی توجہ حقوق سے زیادہ فرائض کی طرف رہتی ہے۔

انسانی تعلقات کے جدید ماہرین کے یہاں ہار اور جیت کے حوالے سے چار صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔

ایک یہ کہ میں جیت جاؤں وہ ہار جائے۔ (WIN LOOSE)یہ کھیل کے مقابلوں میں ہو تو بہت اچھا ہوتا ہے اور رشتوں میں ہو تو بہت خراب ہوتا ہے۔

دوسری یہ کہ میں اور وہ دونوں جیت جائیں۔(WIN WIN)یہ بزنس اور تجارت کا کامیاب فارمولہ ہے۔ رشتوں میں کبھی قابل عمل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا ہے۔

تیسری یہ کہ وہ جیت جائے اور میں ہار جاؤں۔ (LOOSE WIN)یہ رشتوں کو نباہنے اور ٹوٹتے رشتوں کو سنبھالنے کے لیے اکسیر مانا جاتا ہے۔

چوتھی صورت یہ ہے کہ دونوں ہار جائیں۔(LOOSE LOOSE)یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ حسد اور دشمنی میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ سامنے والے کو نقصان پہنچانے کے لیے خود بھی نقصان اٹھانا قبول کرلیتے ہیں۔

اگر قرآنی اصطلاح کو سامنے رکھیں تو شح یہ ہے کہ میں جیت جاؤں دوسرا ہار جائے اور صلح یہ ہے کہ میں ہارجاؤں اور سامنے والے کو جیتنے دو ں تاکہ رشتے کو بچالوں۔

شح کا شیوہ اختیار کرنے والے لوگ سماج پر ایک بوجھ ہوتے ہیں جب کہ صلح کا شیوہ اختیار کرنے والے لوگ تعلقات کے محافظ اور سماج کے محسن ہوتے ہیں۔

******

وہ جیت جائے اور میں ہار جاؤں۔ (LOOSE WIN)، قرآنی اصطلاح میں یہ صلح کا رویہ ہے۔ اس رویے کے سلسلے میں عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ یہ صرف کم زور لوگوں کا راستہ ہے جن کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ رویہ کم زوری کے مواقع تک محدود نہیں ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایک طاقت ور شخص بھی اعلی مقاصد اور اجتماعی مصالح کی خاطر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس کا شعوری انتخاب ہوتا ہے۔اس میں اسے نفس پر فتح پانے اورضمیر کو تسکین دینے کا فرحت بخش احساس ہوتا ہے۔

ہمیں اسلامی تاریخ میں ایسے روشن نام نظر آتے ہیں، جنھوں نے طاقت رکھتے ہوئے بھی محض اجتماعی مصالح کی خاطر اپنے موقف کی قربانی پیش کی اور امت کو صلح کا راستہ دکھایا۔

غلطی اور معافی کے حوالے سے بھی شح اور صلح کے رویوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔

******

شح کے نتیجے میں درج ذیل رویے سامنے آتے ہیں:

  • غلطی کرکے معافی نہ مانگنا
  • معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا
  • اپنی غلطی کبھی تسلیم نہ کرنا
  • اپنی غلطی کے لیے بھی دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا
  • صلح کے نتیجے میں درج ذیل رویے سامنے آتے ہیں:
  • غلطی نہ ہو تو بھی دل جوئی کا رویہ اختیار کرنا
  • معافی نہ مانگنے والے کو بھی معاف کردینا
  • اپنا سخت احتساب کرنا
  • دوسروں کے لیے عذر تراش لینا

*******

کسی بھی اجتماعیت کے لیے شح کا رویہ خطرناک ہوتا ہے۔ شح والاانسان اجتماعیت کا سازگار حصہ بن ہی نہیں سکتا ہے۔ کیوں کہ اس کی اپنی ذات اس کے لیے اجتماعیت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اجتماعیت میں اسے من موافق عہدہ و مقام نہ ملے تو وہ اسے اپنی ناقدری سمجھتا ہے۔ سبھی لوگ اس کے سبھی خیالات و جذبات سےاتفاق نہ کریں تو وہ اجتماعیت سے روٹھ جاتا ہے۔

صلح والا انسان اجتماعیت کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے۔ وہ اجتماعی مفاد کے لیے اپنی انا کی قربانی دیتا ہے۔ اجتماعیت میں اسے دلچسپی عہدے اور مقام سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے ہوتی ہے۔ اسے جس پوزیشن پر رکھا جائے بلا کسی ناگواری کے اس پر قائم رہتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرتا ہے۔اس کے لیے اپنے خیالات و جذبات بہت اہم ہوتے ہیں لیکن وہ یہ ضروری نہیں سمجھتا کہ اجتماعیت ان سے اتفاق کرے۔

اداروں اور جماعتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا تجزیہ کرنے والے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اس ٹوٹ پھوٹ کے پیچھے شح کے رویوں کی کارستانی رہی ہے۔ اگر صلح کا راستہ اختیار کیا جاتا تو ایسے بہت سے سانحوں کی نوبت ہی نہ آتی۔

******

مشاورتی عمل کے تناظر میں بھی شح اور صلح کے رویوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

شح کے زیر اثر انسان دوسروں کی رائے کو وزن نہیں دیتا ہے، وہ اسے سننا تک گوارا نہیں کرتا ہے۔ وہ بس اپنی رائے سنانا اور منوانا چاہتا ہے۔ اسے اپنی رائے کے حسن و قبح سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے۔ اسے صرف اپنی رائے کی فتح مطلوب ہوتی ہے۔ اگر اجتماعی فیصلہ اس کی رائے کے خلاف ہو تو بھی وہ اپنی رائے کے بالمقابل اجتماعی فیصلے کو قبول نہیں کرتا ہے۔

صلح کے زیر اثر انسان تمام رایوں کواہمیت دیتا ہے اور اپنی رائے سے دست بردار ہونے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اس کے لیے اپنی رائے سے زیادہ اہمیت مشاورت کے نظام کی ہوتی ہے۔ اجتماعی فیصلہ آجانے کے بعد وہ پوری خوش دلی کے ساتھ اپنی رائے کے بالمقابل اجتماعی فیصلے کو قبول کرلیتا ہے۔

******

جہاں شح کی عمل داری ہوتی ہے وہاں صلاحیتوں کی ناقدری ہوتی ہے۔ نہ علم و فضل کا اعتراف ہوتا ہے اور نہ فنکاری و ہنر مندی کا۔ ندرت و تخلیقیت کی حوصلہ افزائی کجا، الٹا حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ شح کے نتیجے میں لوگ نرگسیت و خود ستائی میں مبتلا رہتے ہیں ۔ وہ اپنے عروج کو دوسروں کے زوال سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ کسی کی ابھرتی ہوئی شخصیت میں انھیں اپنی شخصیت ڈوبتی نظر آتی ہے۔شح کا نتیجہ قہر الرجال بھی ہوتا ہے اور قحط الرجال بھی۔

صلح کی روش کے نتائج اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ ہنر مند لوگ نئی نسل کو ابھارنے کے لیے اپنے کندھے پیش کرتے ہیں۔ کسی خورد میں ہنر مندی کی کونپل کیا نظر آتی ہے کہ بے غرض بزرگ سینچ سینچ کر اسے تناور درخت بنانے کی کوشش کرتےہیں۔ خود کو پیچھے کرکے دوسروں کو آگے بڑھانے کے نتیجے میں ہر میدان کی قیادتیں تیار ہوتی ہیں۔

*******

جب شح کی کارفرمائی ہوتی ہے تو عصبیتوں کو پھلنے پھولنے اور جڑ پکڑنے کا موقع ملتا ہے۔

سید قطبؒ نے شح کی دو قسمیں ذکر کی ہیں۔

الشح بالمال والشح بالمشاعر(فی ظلال القرآن) مال میں شح اور جذبات میں شح۔

واقعہ یہ ہے کہ مالی خود غرضی کے نتائج اتنے خطرناک نہیں ہوتے جتنے کہ جذباتی خود غرضی کے ہوتے ہیں۔ جذباتی خود غرضی انسانوں کی سطح پر ہو توانسانوں کو مختلف عصبیتوں کا شکار کردیتی ہے اور دین کی سطح پر ہو تو ملت کو طرح طرح کی عصبیتوں میں مبتلا کردیتی ہے۔

شح کے بطن سے عصبیت جنم لیتی ہے، وہ علاقائی عصبیت ہو یا قومی ولسانی، مسلکی عصبیت ہو یا جماعتی۔ جب کہ صلح کے بطن سے رواداری جنم لیتی ہے۔ شح میں انسان اپنی نسبت اور وابستگی کو قابل قدر سمجھتا ہے اور دوسروں کی نسبت اور وابستگی کو ناقابل اعتبار قرار دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں خود کو اعلی و ارفع اور بر حق، جب کہ دوسروں کو ادنی و کم تر اور باطل پر سمجھتا ہے۔ صلح میں انسان سب کی نسبتوں اور وابستگیوں کا احترام کرتا ہے اور سب کے ساتھ میل ملاپ کی مشترکہ بنیادیں تلاش کرتا ہے۔

******

شح کی بلا میں گرفتار شخص انفاق کے ہر میدان میں پیچھے رہتا ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ علم کے میدان میں بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کتمانِ علم کو بہت سنگین گناہ بتایا گیا ہے۔ علم چھپانے اور حقائق کو دوسروں تک پہنچنے سے روکنے کے پیچھے شح کی ذہنیت بھی کارفرما رہتی ہے۔ قرآن مجید کی کئی آیتوں سے تو اشارہ ملتا ہے کہ سب سے زیادہ قابل مذمت بخل علم کا بخل ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی تعلیم یہ تھی کہ جتنا علم سیکھو دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ۔(بہترین مسلمان وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے) اسی طرح بلغوا عنی ولو آیۃ۔ (میری طرف سے جو تمھیں ملے لوگوں تک پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو)

علم کے تعلق سے انفاق کا جذبہ ہوگا تو پورے سماج میں علم عام ہوگا اور اگر شح کی کیفیت ہوگی تو علم چند لوگوں کے درمیان سمٹ کر رہ جائے گا۔ جس طرح علم کے حصول کا جذبہ گود سے گور تک برقرار رہنا چاہیے اسی طرح علم کو عام کرنے کا جذبہ بھی عمر کے آخری لمحے تو قائم رہنا چاہیے۔

علمی شح کی ایک کیفیت یہ بھی ہے کہ انسان کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت ور علمی دلائل کے ساتھ کوئی موقف پیش کردیا جائے مگر وہ اپنے سابقہ موقف ہی پر جما رہے۔ علمی صلح کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ انسان مضبوط دلائل کے سامنے آجانے اور اپنے موقف کی کم زوری سے آگاہ ہوجانے کے بعد حق بات کو قبول کرنے میں دیر نہیں کرتا ہے۔

اجتہادی مسائل میں شح یہ ہے کہ میں قطعًا درست ہوں اور باقی سب قطعًا غلط ہیں، صلح یہ ہے کہ میں اپنی دانست میں درست ہوں لیکن غلط بھی ہوسکتا ہوں اور دوسرے میری دانست میں غلط ہیں لیکن درست بھی ہوسکتے ہیں۔

******

مزاج کے معاملے میں شح یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی مزاجی کم زوریوں کو کوئی رعایت نہ دے اور اپنی مزاجی کم زوریوں کے لیے مکمل رعایت چاہے۔ جب کہ مزاج کے معاملے میں صلح یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو اپنی مزاجی کم زوریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے اور دوسروں کی مزاجی کم زوریوں کو جہاں تک ہوسکےرعایت دے۔

شحیح المزاج آدمی دوسروں کے ساتھ مذاق کرتا ہے لیکن اپنے ساتھ مذاق گوارا نہیں کرتا ہے۔ اپنے لیے غصہ ہونے کا حق رکھتا ہے لیکن یہی حق دوسروں کے لیے تسلیم نہیں کرتا۔

ایسے لوگ کسی اجتماعیت کا صحت مند حصہ نہیں بن پاتے ہیں۔ یا تو اجتماعیت سے باہر نکل جاتے ہیں یا اجتماعیت کے لیے دردِ سر بنے رہتے ہیں۔

*******

شح کے راستے پر چلنے والے قربانیوں سے بھاگتے ہیں۔ ذاتی مفادات کو اجتماعی مصالح پر ترجیح دیتے ہیں۔حد سے آگے بڑھتے ہیں تو ملک و قوم کا سودا بھی کرلیتے ہیں۔

خود غرض چند نگہبانوں کے ہاتھوں اکثر

پھول تو پھول ہیں گلزار کے گلزار بکے

صلح کے راستے پر چلنے والے اپنے اعلی مقصد کی خاطر بردوش کفن رہتے ہیں۔ جائز اجتماعی مفاد کی خاطر قربانی دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ان کا شعار ہوتا ہے۔

غرض قوموں کی آزادی اور ترقی میں خودغرضوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔ قوموں کی آزادی اور ترقی ایثار و قربانی والوں کے رہین منت ہوتی ہے۔

******

شح کی بیماری سے نجات پانے کا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی فطرت کی طرف رجوع کرے۔ نفس کی قید سے آزاد ہوکر یہ سوچے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ کا تقاضا کیا ہے۔

اگر انسان اللہ کی طرف سے عطا کردہ انسانی عز و شرف کا شعور رکھتا ہوتو اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ جس انسان کی اللہ نے تکریم فرمائی ہے ، شح اور خود غرضی اس کے شایانِ شان ہرگز نہیں ہے، اس کے شایانِ شان تو صلح اور ایثار ہے۔

شح کے نقصانات کا اندازہ بھی شح سے آزاد ہونے میں مددگار ہوگا۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ شح کی بندشیں انسان کو نیکی کے راستے پر چلنے نہیں دیتیں اور اونچے مراتب تک پہنچنے سے محروم کردیتی ہیں۔

حقیقت میں شح ذلت و پستی کا کھڈ ہے اور صلح عزت و بلندی کا مقام ہے۔اہلِ اسلام کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں شح (خود غرضی)کے بجائے صلح (ایثار) کا راستہ اختیار کریں۔ امت کی ترقی و تمکین کے لیے یہ ناگزیر ہے اور یہ ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ اجتماعی رویوں کا شکوہ کرنے کے بجائے، جب ہر فرد اپنا رویہ بدلے گا تبھی اجتماعی رویوں میں تبدیلی آئے گی۔

شوہر اور بیوی کی چھوٹی اجتماعیت سے لے کر محلے ، شہر، ریاست اور ملک کی بڑی اجتماعیتوں کے معاملات تک میں فرد کا مسلسل امتحان ہوتا ہے کہ وہ صلح کا راستہ اختیار کرکے خیر کے خزانوں تک پہنچتا ہے یا شح کا راستہ اختیار کرکے خود کو اور اپنی اجتماعیت کو خیر کے سرچشموں سے محروم کرتا ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

شُح اور صُلح: دو متضاد رویے

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223