اسلام پر عمل

دعوت اسلامی کا مؤثر ذریعہ

ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

ایک سچا مسلمان اس تصورپر کبھی قناعت نہیں کرسکتا کہ اسلام کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور بندے کے درمیان محض انفرادی تعلق تک محدود کردیا جائے۔ اسی طرح دنیاسے کنارہ کشی اوربعض صوفیوں سے منسوب طریقۂ گوشہ نشینی کے حوالے سے اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ سے ذاتی طور پر مضبوط تعلق قائم کرتاہے اسی طرح اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے جیسے انسانوں اور بالآخر پوری دنیا سے بھی درست تعلق قائم کرے ۔ ایسی صورت میں وہ اپنا عقیدہ اپنی ذات تک کیسے محدود رکھ سکتا ہے؟ اوریہ کیوں کرممکن ہے کہ حُب الٰہی سے لبریز قلب، اللہ کی مخلوق کی خیر خواہی کے لیے چھلک نہ پڑے۔ اگر میں اس بات پر مسرور ہوں کہ میں نے راہ مستقیم دریافت کرلی تو کیا یہ ممکن ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ لے کرچلنے اورانھیں دعوت دینے سے اپنے کوروک سکوں؟ اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ ایک فنکار بہترین فنّی تخلیق پیش کرنے کے بعد اُسے اپنے ناظرین سےپوشیدہ نہیں رکھ سکتا ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک مسلمان اپنے مذہب اسلام اور اسلامی طریقہ زندگی کی رعنائی ودلکشی سے واقفیت کے باوجود اپنے داعیانہ جذبات کو کچل دے۔ ایک صادق القو ل مسلمان اپنے معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کرنے سے کیوں کر بازرہ سکتاہے۔ عملی سوال صرف یہ ہے کہ یہ اثرات کیسے مرتب ہوں گے۔ چند مثالوں پر غور کرنا مفید ہوگا۔ فرض کیجئے ایک عمارت میں کام کرنے والا مسلمان معمار عمارت کی بالائی نیو منزل عصر کے وقت نماز عصر ادا کرتا ہے اورنیچے گلی میں گزرنے والے اس منظر کو دیکھتے ہیں یا ایک  مسلمان طالب علم یونیورسٹی کینٹین میں سور کے گوشت کوکھانے سے رک جاتاہے۔ اس طرح کی صورتوں میں انسان زبان حال سے اسلام کو پیش کررہا ہوتاہے۔ جو اپنے اثرات کے اعتبار سے یہ ایک موثر طریقہ دعوت ہے۔ کوئی شخص خواب میں بھی ایسے زندہ ومتحرک مذہب پر پابندی لگانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا اگرچہ فرانس میں پابندی لگانے کی یہ کوشش جاری ہے۔ اسی طرح دعوت کا مقصد اس وقت حاصل ہوجاتاہے جب نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پیرس میں انسانوں کا سیلاب سڑکوںاور گلیوں میں ابل پڑتاہے۔ یقیناً اسلام پر عمل ایسا مظاہرہ ہے جِس پر نکیر نہیں کی جاسکتی ہے ۔

البتہ اس میں کلام کی گنجائش نہیں کہ اشاعت اسلام کے نا مناسب ڈھنگ بھی بسا اوقات نظر آتے ہیں مثلاً یہ کہ سڑکوں اور عوامی چوراہوں پر تجارتی سامان کی طرح مذہب اسلام کا پرچار کیا جائے۔ اس طرح کی عجیب مثال عیسائی مشنریوں کے طرزِ عمل میں ملتی ہے جو گھروں میں جا کر بار بار گھنٹیوں کو بجاتے ہیں تاکہ اس طرح یہ مبلغین اپنے عقیدے کی تبلیغ کریں۔ کلیساؤں میں گھنٹیوں کو بجانا اوربلا ضرورت مائکروفون کی مدد سے اذان پکارنا ایک ہی طرح کےرویّے ہیں۔ کیوں کہ وہ انسانوں کو زبردستی خطاب کرتے ہیں خواہ وہ اس وقت سننا پسند کریں یا نہ کریں۔ مسلمان صاف کہتے ہیں کہ تبلیغ ودعوت نمائشی طریقہ دعوت میں شامل نہیں ہے کیوں کہ دعوتی عمل کے ذریعہ صرف اسلام کو پیش کیا جاتاہے۔ جس طرح ایک تاجر بازار کے اندر خاموشی سے اپنے سنترے اورانگورسامنے رکھ دیتا ہے لیکن کسی کو خریدنے پر مجبور نہیں کرتا۔ بہرِ حال دعوتی عمل وہ ہے جس میں پورے اہتمام ووقار کے ساتھ حق کو پیش کیاجائے ۔ داعی کا طرزایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس طرح منفی ردِ عمل کا دائرہ کافی سکڑ جائے گا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ چلتاپھرتا اسلام ہی تبلیغ دین کاموثرطریقہ ہے۔ ایک مسلم خاندان، اپنے مہذب اور تربیت یافتہ بچوں کے ساتھ، جلد یا بدیر اپنے عیسائی بھائیوں یا خدا کے منکرین کو متاثر کرسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت وتبلیغ کابالواسطہ عمل مغرب میں کافی موثر ثابت ہوسکتاہے۔

۱؎ ڈاکٹر مراد ولفریڈ ہوف مین ۱۹۳۱ء میں جرمن کے شہر Frankfurt کے قریب Aschaffenburg  کی بستی میں پیدا ہوئے۔ قانون کی اعلیٰ تعلیم انھوں نے Schenectady، نیویارک میں حاصل کی اور ہارورڈ لا اسکول ، کیمبرج سے ایم۔اے۔ کی تعلیم مکمل کی۔ انھوں نے ۱۹۶۱ء سے ۱۹۹۴ء تک جرمنی کے محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دیں۔ ان کے مناسب میں NATO کے ڈائریکٹر برائے معلومات اور رباط اور الجیریا میں جرمنی کے وزیر خارجہ کے عہدے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں ہوف مین مشرف باسلام ہوئے۔ اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سے انھیں دلچسپی رہی ہے اور اپنی مہارت کا اظہار عالمی سطح کی علمی مجالس اور مذاکروں میں کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے متعدد مقالات، جائزے اور تبصرے معیاری مجلات میں تحریر کیے ہیں۔ ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں اور اہلِ علم کی ترتیب کردہ کتابوں میں اُن کے مقالات بھی شامل ہیں۔

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau