ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک کے حوالے سے

ناصر تجمل

شمارہ جولائی ۲۰۲۱، ماہ نامہ زندگی نو  میں محی الدین غازی صاحب کا ایک مضمون بعنوان ‘‘ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک’’ شائع ہوا ہے۔ مضمون کے دو اہم نکات میں سے پہلا یہ کہ آپ ﷺ نے ابتدا ہی میں ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک کا بھی آغاز کردیا تھا، دوسرا یہ کہ اسلام مال دار ہونے کی پاکیزہ خواہش پیدا کرتا ہے۔ انھی دو نکات پر پورے مضمون کی داغ بیل رکھی گئی ہے۔ اس تعلق سے عرض ہے کہ مضمون کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ہم حدوں سے تجاوز کر رہے ہیں۔ یہاں ان تجاوزات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کا منشا صرف افہام و تفہیم ہے۔

عنوان کے مطابق مضمون میں اسلام کے معاشی نظام کے تحت ازالۂ غربت کی تحریک پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور موجودہ حالات (مابعد کووڈ) میں اس تحریک کو ہندوستان میں جاری کرنے کے لیے اسے اسوہ ٔرسول ﷺ سے تعبیر کیا ہے، اور اس کے نفاذ کو اسوہ ٔرسول ﷺ کا تقاضا اور اسلامی دعوت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔

یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ مکہ مکرمہ میں اسلامی دعوت کی ابتدا میں ہی آپ ﷺ نے ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک کا بھی آغاز فرمادیا تھا، غلو پر مبنی ہے، اور ذہن میں کھٹکتا ہے۔ اس لیے اس کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں اہل اسلام شدید ظلم و ستم اور سخت آزمائشوں سے دوچار تھے۔ آپ ﷺ کے لیے دین حق کی تبلیغ کرنا امر محال تھا۔ دوسری طرف جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے، ان میں زیادہ تر مفلس و نادار تھے۔ رؤسا اور سرداران قریش ہر طرح کی رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے، ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے مفلس اور نادار اہل اسلام کی پذیرائی کے لیے اور ان کی بھوک  اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے نیز انبیا ﷨کی شریعت میں پہلے سے موجود مستقل سنت انفاق کا حکمت سے لب ریز حکم جاری کیا۔ چناں چہ پہلے پہل مکی سورتوں میں زکوٰۃ کا تذکرہ اس انداز میں نازل فرمایا:

سورۃبنی اسرائیل، آیت ۲۶:                            رشتہ داروں کو ان کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو ان کا حق۔

سورۃالمعارج، آیت ۲۴:                                           اور جن کے مالوں میں متعین حق ہے سائل اور محروم کا۔

سورۃالذاریات، آیت ۱۹:                                      اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حصہ تھا۔

سورۃالمؤمنون، آیت ۴:                              اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔

زکوٰۃ کا مقصد اس کے نام سے ہی ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس لفظ کی اصل نمو اور طہارت ہے۔ لہٰذا اس سے مراد وہ مال ہے جو پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنے کے لیے مستحق کو دیا جائے۔ اس سے واضح ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد وہی ہے جو پورے دین کا ہے۔ یہ نفس کو ان خرابیوں سے پاک کرتی ہے جو مال کی محبت کی وجہ سے اس کے مزاج میں آجاتی ہیں۔ اس کے مال میں برکت کا موجب بنتی ہے۔ اور پاکیزگی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ چناں چہ قرآن کریم نے زکوٰۃ کا مقصد خود بھی واضح کردیا ہے۔ سورہ توبہ آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:
ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لو، اس سے تم انھیں پاکیزہ کروگے اور تزکیہ کروگے۔

سورۃ الروم، آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ:
اور جو زکوٰۃ تم دوگے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کے یہاں اپنا مال بڑھاتے ہیں۔

منصب رسالت کے تحت آپ ﷺ پر جو ذمہ داریاں تھیں ان میں اسلام میں داخل ہوچکے لوگوں کا تزکیہ نفس اہم ترین ذمہ داری تھی۔ زکوٰۃ اور نماز اس کا بہترین طریقہ تھے اور تمام انبیا ﷨کی مشترکہ سنت تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آیات اور احکامات نازل فرمائے اور آپ ﷺ نے نافذ فرمادیا۔

اس لیے یہاں یہ کہنا بالکل بے موقع ہے کہ آپ ﷺ نے اسلامی دعوت کی ابتدا ہی میں ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک کا بھی آغاز کردیا تھا۔ زکوٰۃ اور صدقات کا منشا وہ مراد لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ اور جو منشا بیان نہیں کیا، وہ مراد لینا درست نہیں ہے۔

اسی طرح فاضل مضمون نگار کا یہ دعویٰ کہ اسلام مال دار ہونے کی پاکیزہ خواہش پیدا کرتا ہے۔ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں موصوف بیان فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں زکوٰۃ و انفاق کا مقام اتنا بلند بتایا گیا ہے اور اس کا اتنی کثرت سے ذکر ہے کہ ہر مسلم کے دل میں مال دار بن کر زکوٰۃ دینے اور زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی خواہش کا پیدا ہونا یقینی بات ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ خاص بات یہ ہے کہ قرآن میں زکوٰۃ دینے والوں کو سماج کے ایک طبقے کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ مال دار مسلمان زکوٰۃ و صدقات دیں۔ بلکہ جو طرز خطاب نماز کا ہے وہی زکوٰۃ کا ہے۔ یعنی تمام ایمان والوں کو خطاب کرکے زکوٰۃ و انفاق کے لیے کہا گیا ہے۔ اور تمام ایمان والوں کی تعریف میں یہ بتایا گیا ہے کہ زکوٰۃ و انفاق ان کی امتیازی خوبی ہے۔

راقم الحروف کو یہ کہنے میں ترددنہیں ہے کہ صاحب مضمون نے زبردستی قرآنی آیات کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے۔ دوسرے متعدد قرآنی آیات کو نظرانداز کیا ہے، جن میں بصراحت متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے جائے آزمائش ہے۔ کبھی رزق کی فراوانی سے، کبھی تنگی سے۔ سورۃ الفجر، آیت ۱۵، ۱۶ میں واضح کیا ہے کہ انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی، اور جب وہ اس کو آزماتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل سنت ہے جو آج بھی جاری ہے۔ سنجیدگی سے غور کریں تو موصوف کی رائے کہ ‘‘اسلام مال دار ہونے کی پاکیزہ خواہش رکھتا ہے’’ اور اللہ تعالیٰ کی مستقل سنت کہ وہ اپنے بندوں کو رزق کی تنگی سے آزماتا ہے، ان دونوں نظریات میں زبردست تضاد ہے۔ اگر موصوف کا موقف درست ہے تو ایک وقت آسکتا ہے کہ تمام اہل اسلام اپنے حسن اعمال سے اور اللہ کی رضا سے مال دار ہوجائیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو کس طرح آزمائے گا؟ اس طرح تو اللہ تعالیٰ کا منصوبہ ہی رک جائے گا۔ اس لیے ضرور موصوف کی رائے میں کجی ہے اور وہ درست نہیں ہے۔ موصوف کا یہ استدلال کہ ‘‘جو طرز خطاب نماز کا ہے وہی زکوٰۃ کا ہے یعنی سبھی مسلمان لازماً نماز قائم کریں اور سبھی مسلمان زکوٰۃ ادا کریں’’سے بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا منشا یہی ہے لیکن یہ سراب کے مانند ہے۔

سورۃ النسا، آیت ۵۹ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ‘‘اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں اہل اختیار کی۔’’

غور کا مقام ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے ہر حال میں اللہ کی بات مانو، ہر حال میں اللہ کے رسول ﷺ کی بات مانو اور اسی طرح ہر حال میں صاحب امر لوگوں کی بات مانو۔ لیکن یہ رائے سراسر غلط ہے۔ آیت کا منشا یہ کہ اللہ کی اطاعت ہر حال میں کرنی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت بھی ہر حال میں کرنی ہے۔ لیکن صاحب امر لوگوں کی اطاعت ہر حال میں نہیں کرنی ہے، بلکہ صرف اسی حالت میں کرنی ہے جب ان کی رائے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی رائے کے مطابق ہو۔

یہاں یہ وضاحت کردینا بھی ضروری ہے کہ صاحب مضمون نے اعتدال کی راہ اختیار نہ کرتے ہوئے غلو سے کام لیا ہے۔ غلو اختیار کرنے سے  اللہ کے رسول ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے۔

ستمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau