اُمتِ مسلمہ کا انسانوں سے تعلّق

ڈاکٹر محمد رفعت

حق و صداقت کا لذت شناس ہر فرد فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ جس طرح اُس نے حق کو قبول کیا ہے اسی طرح اُس کے گردوپیش رہنے والے تمام انسان بھی حق کو اختیار کرلیں۔ اِنسانیت کے ابتدائی دور میں حق پرستوں کی یہ تمنا ایک حقیقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ چنانچہ اُس وقت سارے انسان حق پرمتفق تھے۔ قرآن مجید نے اِس صورتحال کا تذکرہ کیا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْ انَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ االَّذِیْنَ اُوتُوہُ مِن م بَعْدِ مَاجَائَ تْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیْاً بَیْ انَہُمْ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاذْنِہِ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ  الٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمِo﴿سورۂ بقرہ:آیت ۲۱۳﴾

ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ﴿پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے﴾ تب اللہ نے نبی بھیجے، جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور اُن کے ساتھ کتاب برحق نازل کی، تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، اُن کا فیصلہ کرے ﴿اور اِن اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،﴾ اختلاف اُن لوگوں نے کیا، جنہیں حق کا علم دیا جاچکا تھا۔ انھوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اِس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ پس جو لوگ انبیاء  پر ایمان لے آئے، انھیں اللہ نے اپنے اِذن سے اُس حق کا راستہ دِکھادیا۔ جِس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے راہِ راست دِکھادیتا ہے۔‘‘

آیت بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں سارے انسان اُمت مسلمہ میں شامل تھے اور کوئی فرد اِس اُمت سے باہر نہ تھا۔ لیکن یہ صورتحال ایک عرصے کے بعد ﴿جو اللہ ہی کے علم میں ہے﴾ ختم ہوگئی اور انسانوں کے درمیان اختلاف برپا ہوگیا۔ اختلاف کے اِس دور میں رفتہ رفتہ حق مشتبہ ہوگیا اور ایک عام انسان کے لئے یہ جاننا مشکل ہوگیا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ تب اللہ تعالیٰ نے انبیاء  علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ اللہ کے ان پیغمبروں نے ایک مرتبہ پھر راہِ حق سے اِنسانوں کو روشناس کرایا۔ انھوں نے انتھک جدوجہد کرکے حق وباطل کو باہم اِس طرح ممیز کردیا کہ کسی نیک نیت انسان کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں رہا کہ ہدایت کی راہ کون سی ہے اور ضلالت وگمراہی کی راہ کون سی۔

تاہم دلیل وبُرہان کی دنیا میں راہِ حق کے دوبارہ واضح ہوجانے کے باوجود ایسا نہیں ہُوا کہ سب انسانوں نے حق کو اختیار کرلیا ہو بلکہ ہُوا یہ کہ دنیا کی زندگی میں انسانوں کو، اللہ کی مشیت کے تحت جو آزادی حاصل ہے اُس کا استعمال کرتے ہوئے کچھ افراد نے حق کو قبول کیا اور کچھ نے راہِ ہدایت کے واضح ہوجانے کے باوجود ہٹ دھرمی کے ساتھ حق کا انکار کردیا۔ اِس طرح انسان دوباہم ممتاز گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ حق پر ایمان لانے والوں کا تھا جس کا اصطلاحی نام اُمت مسلمہ ہے اور دوسرا گروہ اُن کا تھا جنھوں نے ناواقفیت یا شرارتِ نفس یااغوائے شیطانی کے نتیجے میں حق سے روگردانی کی۔

اب انبیاء  کی آمد کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور انسانیت اِن دو مذکورہ بالا گروہوں میں منقسم ہے ۔ فطری طور پر یہ سوال اُمت مسلمہ کے سامنے آتا ہے کہ اُسے بقیہ انسانوں سے کیا تعلق رکھنا چاہیے؟ قرآن مجید کے مطابق اِس سوال کااصولی جواب یہ ہے کہ اُمت مسلمہ کو انسانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ انسانوں کی رہنمائی کے اِس کام کے لیے قرآن مجید نے دو تعبیر یں اختیار کی ہیں۔

﴿الف﴾ اُمت مسلمہ کو انسانوں کے سامنے حق کی شہادت دینی چاہیے۔

﴿ب﴾ اُمت مسلمہ کو چاہیے کہ انسانوں کو معروف کا حکم دے اور مُنکَرسے روکے۔

چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُمت مسلمہ کا انسانوں سے مطلوبہ تعلق انہی دوتعبیرات کی عملی تشریح سے عبارت ہے۔

شہادت علی الناس

جو گواہی اُمت مسلمہ کو دینی ہے اُسے شہادت حق بھی کہا جاسکتا ہے اور شہادت علی الناس بھی۔ گواہی کی نوعیت کے اعتبار سے یہ حق کی گواہی ہے۔ اور چونکہ سارے انسان اِس گواہی کے مخاطَب ہیں اِس لیے اسے شہادت علی الناس کہا جانا چاہیے۔ تحویلِ قبلہ کے سیاق میں قرآن مجید نے شہادت علی الناس کا تذکرہ کیا ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَائ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَا الاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَان کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً الاَّ عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ یْمَانَکُمْ انَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ O﴿سورہ بقرہ، آیت ۱۴۳﴾

’’اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے، اُس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اُلٹا پھر جاتا ہے۔ یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اِس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ انسانوں کے حق میںنہایت شفیق ورحیم ہے۔‘‘

جناب سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا اعلان ہے۔ ’’اسی طرح‘‘ کا اشارہ دونوں طرف ہے: اللہ کی اُس رہنمائی کی طرف بھی جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اِس مرتبے پر پہنچے کہ ’’اُمت وسط‘‘ قرار دیے گئے، اور تحویلِ قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سمتِ قبلہ کا پھر نا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور اُمت محمدیہ کو اُس پر فائز کردیا۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورۂ بقرہ، حاشیہ ۱۴۴﴾

گواہی کے منصب کے تقاضے بیان کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:

’’کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا اِمامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیاجانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمت کے لیے خدا ترسی، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اس اُمت کو بھی تمام دنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتی کہ اس کے قول اور عمل اور برتاؤ، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہوکہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

اہل ایمان کے فرائض دینی کا جامع تذکرہ کرتے ہوئے، بھی قرآن مجید نے شہادت علی الناس کے منصب کو بیان کیاہے:

وَجَاہِدُوْا فِیْ اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٰ ہُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ ابْرَاہِیْمَ ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ہٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُولُ شَہِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَائ عَلَی النَّاسِ فَأَقِیْمُوْا الصَّلَوٰۃَ وَآتُوا الزَّکَوٰۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ ہُوَ مَوْلَاکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ O﴿سورۂ حج، آیت۸۷﴾

’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہوجاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اِس ﴿قرآن﴾ میں بھی تمہارا یہی نام ہے تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم انسانوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہوجاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘

جناب شبیر احمد عثمانی اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’﴿اللہ نے﴾ پسند کیا تم کو اس واسطے کہ تم اور اُمتوں کو سکھاؤ اور رسول تم کو سکھائے۔ اور یہ اُمت جو سب سے پیچھے آئی یہ ہی غرض ہے کہ تمام اُمتوں کی غلطیاں درست کرے اور سب کو سیدھی راہ بتائے۔ گویا جو مجد وشرف اس کو ملا ہے اسی وجہ سے ہے کہ دنیا کی معلّم بنے اور تبلیغی جہاد کرے۔‘‘

گواہی قولی بھی ہوتی ہے اور عملی بھی۔ چنانچہ اُمت مسلمہ کواللہ تعالیٰ نے جو کام سپرد کیا ہے وہ یہ ہے کہ اُمت اپنے قول سے بھی حق کی گواہ بنے اور اپنے عمل اور کردار سے بھی۔

امربالمعروف اور نہی عن المنکر

اُمت مسلمہ کا منصب اِنسانوں کی رہنمائی کا منصب ہے۔ رہنمائی کا جو کام اُمت مسلمہ کو کرنا ہے اُس کی عملی شکل یہ ہے کہ وہ انسانوں کو معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے۔

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَوْ اٰمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْراً لَّہُمْ مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَO﴿سورۂ آلِ عمران، آیت۱۱۰﴾

’’دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے اِنسانوں کی ہدایت واصلاح کے لیے میدان میں لایاگیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیش تر افراد نافرمان ہیں۔‘‘

آیت بالا سے درج ذیل امور سامنے آتے ہیں:

﴿الف﴾ اُمت مسلمہ کو ایک منفرد اُمت بنایا ہی اِس لیے گیا ہے کہ وہ انسانوں کی رہنمائی کرے۔

﴿ب﴾ انسانوں کی رہنمائی کاکام اپنے اندر بہت سے تقاضے رکھتا ہے۔ ان میں بنیادی تقاضا یہ ہے کہ معروف کو فروغ دیا جائے اور منکر کو مٹایا جائے۔

﴿ج﴾ انسانوں کی رہنمائی کا کام ایمان باللہ کی بنیاد پر انجام پانا چاہئے یہ واقعہ ہے کہ انسانی سماج میں بہت سے لوگ انسانوں کی رہنمائی کا دعویٰ لے کر اُٹھتے رہتے ہیں۔ رہنمائی کے اِن تمام مدعیان کے درمیان اُمت مسلمہ کا امتیاز یہ ہے کہ اُس کے کام کا محرک ایمان باللہ ہے اور جو رہنمائی وہ انسانو ں کو فراہم کرتی ہے اُس کی بنیاد بھی ایمان باللہ ہے۔

﴿د﴾ اہل کتاب ﴿یعنی بنی اسرائیل﴾ کو اس سے پہلے اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے منصب پر سرفراز کیا تھا لیکن اِس منصب کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایمان اور حسن عمل کی ضرورت تھی۔ چند لوگوں کو چھوڑ کر اکثر اہل کتاب ان صفات سے عاری ہیں چنانچہ وہ انسانیت کی رہنمائی کے اہل نہیں رہے۔

﴿ہ﴾ انسانوں کی رہنمائی کرنے کے لیے جو بنیادی وصف درکار ہے وہ یہ ہے کہ اُمت مسلمہ فی الواقع خیراُمت ہو۔ خیر کا لفظ فکر، عمل اور کردار کی تمام خوبیوں کی نمائندگی کرتاہے۔ جس اُمت میں یہ خوبیاں موجود ہوں گی اُس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اُس کی فراہم کردہ رہنمائی بھی انسانیت کے لیے سراپا خیر ہوگی۔

رہنمائی کے لیے مطلوبہ صفات

انسانوں کی رہنمائی کا عظیم الشان کام جس گروہ کو انجام دینا ہو اُسے اپنے اندر وہ صفات پیدا کرنی ہوں گی جو اِس کام کے لئے درکار ہیں۔ مختصراً اِن صفات کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے ﴿الف﴾ علم ﴿ب﴾ صلاحیت اور ﴿ج﴾ کردار۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں سے انسانوں کی قیادت ورہنمائی کا کام لیا اُن کو مندرجہ بالا صفات سے نوازا۔ جب بنی اسرائیل نے ایک موقع پر یہ درخواست کی کہ اللہ کی راہ میں جہاد کی سربراہی کے لیے اُن پر ایک بادشاہ مقرر کیا جائے تو وقت کے نبی نے اللہ تعالیٰ کے اشارے پر طالوت کو مقرر کیا۔ اُن کے تقرر میں علم اور صلاحیت کا لحاظ رکھا گیا۔

وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ انَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکاً قَالُوَاْ أَنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ قَالَ اَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَۃً فِیْ الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہُ مَن یَشَائ ُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ O

﴿سورۂ بقرہ، آیت ۲۴۷﴾

اُن کے نبی نے اُن سے کہاکہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔یہ سن کر وہ بولے:’’ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا؟ اُس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔‘‘ نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اُس کو دماغی وجسمانی اہلیتیں ، فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں، اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اُس کے علم میں ہے۔‘‘

جناب شبیر احمد عثمانی اِس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’طالوت کی قوم میں آگے سے سلطنت نہ تھی، غریب محنتی آدمی تھے ﴿چنانچہ﴾ بنی اسرائیل کی نظر میں سلطنت کے قابل نظر نہ آئے، اور بوجہ مال ودولت، اپنے آپ کو سلطنت کے لائق خیال کیا۔ نبی نے فرمایا کہ سلطنت کسی کا ﴿ذاتی﴾ حق نہیں۔ اور سلطنت کے لیے بڑی ﴿درکار﴾ لیاقت ہے عقل اور بدن میں زیادتی اور وسعت، جس میں طالوت تم سے افضل ہے۔‘‘

مریم علیہا السلام کو فرشتوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کی خبردی تو یہ بھی بتایا کہ اُس فرزند صالح کو اللہ اپنا بنی بنائے گا اور ﴿کارِ نبوت کی انجام دہی کے لیے﴾ اُسے کتاب وحکمت کی تعلیم دے گا۔

وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَال انجِیْلَO﴿سورۂ آل عمران، آیت۴۸﴾

’’اللہ اُسے ﴿یعنی عیسیٰ ابن مریم کو﴾ کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا اور تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو یوسف علیہ السلام سے جو کام لینا تھا اُس کے اعتبار سے اُن کو غیر معمولی صلاحیتیں دی گئیں۔

وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِن تَأْوِیْلِ الأَحَادِیْثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلٰی آلِ یَعْقُوبَ کَمَا اَتَمَّہَا عَلٰی اَبَوَیْکَ مِن قَبْلُ ابْرَاہِیْمَ وَاسْحٰقَ انَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌO

’’﴿یعقوب نے یوسف سے کہا کہ جیسا تونے خواب میں دیکھا ہے﴾ تیر ارب تجھے ﴿اپنے کام کے لیے﴾ منتخب کرے گا اور تجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھائے گا اور تیرے اوپر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح وہ اس سے پہلے تیرے بزرگوں ابراہیم اور اسحاق پر کرچکا ہے، یقینا تیرا رب علیم اور حکیم ہے۔‘‘

جناب سید مودودی اِس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’اصل میں ’’تاویل الاحادیث‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا مطلب محض تعبیر خواب کا علم نہیں ہے، جیسا کہ گمان کیاگیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے معاملہ فہمی اور حقیقت رَسی کی تعلیم دے گا اور وہ بصیرت تجھے عطا کرے گا جس سے تو ہر معاملے کی گہرائی میں اُترنے اور اُس کی تہ تک پہنچنے کے قابل ہوجائے گا۔‘‘﴿ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی سورۂ یوسف، حاشیہ۳﴾

قرآن مجید نے داؤد علیہ السلام کی غیر معمولی قوتوں کا تذکرہ کیا ہے جو نبی بھی تھے اور فرمانروا بھی۔

اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤُدَ ذَا الْأَیْدِ انَّہُ اَوَّاب انَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہُ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُورَۃً کُلٌّ لَّہُ اَوَّاب وَشَدَدْنَا مُلْکَہُ وَاٰتَیْنَاہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ O﴿سورۂ ص،آیت۱۷تا۲۰﴾

’’اے نبی! صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، اور اُن کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا۔ ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اُس کے ساتھ مسخر کررکھا تھا کہ صبح وشام وہ اُس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ پرندے سمٹ آتے، سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی، اُس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔‘‘

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے جناب شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

’’یعنی ﴿داؤد علیہ السلام﴾ بڑے مدبر ودانا تھے۔ ہر بات کا فیصلہ بڑی خوبی سے کرتے اور بولتے تو نہایت فیصلہ کن تقریر ہوتی تھی۔ حق تعالیٰ نے اُن کو نبوت، حسن تدبیر، قوتِ فیصلہ اور طرح طرح کے علمی وعملی کمالات عطا فرمائے تھے۔‘‘

اسی طرح ابراہیم، اسحق اور یعقوب علیہم السلام کے اوصاف کا تذکرہ کیاگیا ہے۔

وَاذْکُرْ عِبَادَنَا ابْرَاہِیْمَ وَاسْحٰقَ وَیَعْقُوبَ أُوْلِیْ الْأَیْدِیْ وَالْأَبْصَارِا نَّا اَخْلَصْنَاہُم بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّار وَانَّہُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْأَخْیَارO﴿سورۂ ص، آیات ۴۵تا۴۷﴾

’’اور ہمارے بندوں، ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو، یہ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔ یقینا ہمارے یہاں اُن کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے۔‘‘

جناب سید مودودی اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اصل الفاظ ہیں’’أُوْلِیْ الْأَیْدِیْ وَالْأَبْصَارِ‘‘ ﴿ہاتھوں والے اور نگاہوں والے﴾ ہاتھ سے مراد…قوت وقدرت ہے اور اِن انبیاء  کو صاحبِ قوت وقدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت باعمل لوگ تھے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں۔ نگاہ سے مراد، آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ وہ حق بیں اور حقیقت شناس لوگ تھے۔ دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم ومعرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔ اِن الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اِس طرف بھی ہے کہ جو لوگ بدعمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں، دونوں سے محروم ہیں۔ ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے جو اللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورۂ ص، حاشیہ ۴۸﴾

تفقہ فی الدین

انسانیت کی رہنمائی کے لیے درکار ،بنیادی صفت علم ہے۔ اس علم کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف اُمت کو دنیا کے انسانوں کے احوال ومعاملات سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے اِس لیے کہ انسانوں کی رہنمائی اُس کے پیش نظر ہے۔ دوسری طرف اہل ایمان کو اُس راہِ ہدایت اور دینِ حق سے بھی اچھی طرح واقف ہونا چاہئے۔ جس کے مطابق وہ انسانوں کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں۔ دین سے محض سرسری واقفیت، رہنمائی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کافی نہیںہے بلکہ اِس کام کے لیے دین میں گہری بصیرت اور اُس کا عمیق فہم درکار ہے۔ تفقہ فی الدین کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے صراحتاً اس کا تذکرہ کیا ہے:

وَمَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اذَا رَجَعُوْا الیہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَO﴿سورۂ توبہ ،آیت۱۲۲﴾

’’اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ ﴿غیر مسلمانہ روش سے﴾ پرہیز کرتے۔‘‘

مسلمانوں کو آیت بالا میں ’’تفقہ فی الدین‘‘ حاصل کرنے کے اہتمام کی ہدایت دی گئی ہے۔ اِس اصطلاح کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے سید مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’﴿تفقہ فی الدین﴾ کے معنی ہیں دین کو سمجھنا، اُس کے نظام میں بصیرت حاصل کرنا، اس کے مزاج اور اُس کی روح سے آشنا ہونا اور اِس قابل ہوجانا کہ فکر وعمل کے ہر گوشے اور زندگی کے ہر شعبے میں انسان یہ جان سکے کہ کون ساطریقِ فکر اور کون سا طرزِ عمل روحِ دین کے مطابق ہے۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورۂ توبہ،حاشیہ۱۲۰﴾

فرائض نبوی کا بیان کرتے ہوئے بھی قرآن مجید نے علمِ دین کاتذکرہ کیا ہے:

ھوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَان کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ o  ﴿سورۂ جمعہ ، آیت۲﴾

’’وہی ﴿اللہ﴾ ہے جس نے اُمیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اُٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے ﴿یعنی اُن کا تزکیہ کرتا ہے﴾ اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘

آیتِ بالا میں حکمت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ حکمت اُس بصیرت ہی کا دوسرا نام ہے جو دین کے گہرے فہم کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید اِس امر کو بھی واضح کرتا ہے کہ اِس بصیرت کے حصول کے لیے محض ذہنی کوشش کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ بھی درکار ہے:

یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَاناً وَیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئٰتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللّٰہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِO ﴿سورۂ انفال، آیت:۲۹﴾

’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچادے گا اور تمہاری برائیوں کو تم سے دُور کردے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والاہے۔‘‘

سید مودودیؒ  آیت بالا کے کلیدی لفظ ’’فرقان‘‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’کسوٹی اُس چیز کو کہتے ہیں جو کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی مفہوم ’’فرقان‘‘ کا بھی ہے. ارشاد الٰہی کا منشایہ ہے کہ اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوتے کام کرو اور تمہاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت نہ سرزد ہونے پائے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا۔ جس سے قدم قدم پر تمہیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کون سا رویہ صحیح ہے اور کون سارویہ غلط، کس رویے میں خدا کی رضا ہے اور کس میں اُس کی ناراضی۔ زندگی کے ہر موڑ، ہردوراہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں بتانے لگے گی کہ کدھر قدم اُٹھانا چاہیے اور کدھر نہ اُٹھانا چاہیے، کون سی راہ، حق ہے اور خدا کی طرف جاتی ہے اور کون سی راہ، باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورہ انفال، حاشیہ ۲۴﴾

علم کااصل منبع کلام الٰہی ہے۔ اِس کے مفہوم ومدّعا کو قلب میں اُتارنے کے لیے علمی طرز کی کوششوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ رات میں اللہ کے حضور کھڑے ہوکر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے:

یاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ الَّا قَلِیْلاً نِصْفَہُ اَوِانقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً  اَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً انَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً انَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْلِ ہِیَ أَشَدُّ وَطْأً وَأَقْوَمُ قِیْلاً  ﴿سورۂ مزمل، آیات ۱تا۶﴾

’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ! رات کو نماز میں کھڑے رہاکرو ، مگر کم، آدھی رات، یا اُس سے کچھ کم کرلو، یا اُس سے کچھ زیادہ بڑھادو، اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو، ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ درحقیقت رات کااٹھنا، نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر ہے۔ اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘

مولانا مودودیؒ  نے آخری آیت کی تشریح میں ابوداؤد کے حوالے سے ابن عباسؓ  کا یہ قول نقل کیا ہے کہ

’’وہ ﴿یعنی رات کا وقت﴾ اِس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ آدمی قرآن میں غور وخوض کرے۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن ،سورۂ مزمل، حاشیہ ۸﴾

انسانوں سے ایجابی تعلق

اُمت مسلمہ کی منصبی حیثیت یہ ہے کہ وہ انسانوں کی رہنمائی کرنے والی اُمت ہے۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ انسانوں سے ایجابی تعلق رکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ’’ایجابی تعلق‘‘ سے کیامراد ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت اُمت انسانوں سے فی الواقع کس طرح کا تعلق رکھتی ہے؟ جائزہ بتاتا ہے کہ آج کل عام طور پر انسانوں سے مسلمانوں کا تعلق دوقسم کا ہے۔

﴿الف﴾ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں عداوت کا رویہ اختیار کرتے ہیں،مسلمان اُن کی حرکتوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کرتے ہیں یا زبان وقلم سے اِن حرکتوں پر احتجاج کرتے ہیں۔

﴿ب﴾ جہاں مسلمان، غیرمسلموں کے محکوم ہیں وہاں وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے اُن سے درخواست کرتے ہیں یا اپنے مطالبات اُن کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

غالباً یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد، عام انسانوں سے ﴿کاروباری یا عام سماجی تعلقات کے علاوہ﴾ اگر کوئی واسطہ رکھتی ہے تو وہ مندرجہ بالا دونوں اقسام ہی پر مشتمل ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دین اور اہلِ دین کے وقار کو ملحوظ رکھا جائے اور اسلامی آداب وشرائط کی رعایت کے ساتھ نیز حدود اللہ کی پابندی کرتے ہوئے، مندرجہ بالا دونوں کام انجام دیے جائیں تو وہ نہ صرف یہ کہ معیوب نہیں ہیں بلکہ مطلوب اورمستحسن ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا منصب ﴿جو انسانیت کی رہنمائی کا منصب ہے﴾ ’’کچھ اور‘‘ بھی چاہتا ہے اور وہ کچھ اور یہ ہے کہ انسانیت سے ایجابی تعلق رکھاجائے۔

ایجابی تعلق یہ ہے کہ انسانی معاشرے کاجائزہ لیا جائے، اُس میں رائج افکار وخیالات سے واقفیت حاصل کی جائے۔ انسانوں کے درمیان جو بحثیں ہورہی ہیں اُن میں نقطہ اعتدال تلاش کیا جائے اور مبنی برحق موقف کو متعین کیا جائے۔ پھر اس موقف کے مطابق انسانوں کی رہنمائی کی جائے۔ یہ کام شہادتِ حق کا لازمی جز ہے۔ پھر ایجابی تعلق کا مزید تقاضا یہ ہے کہ خیالات وافکار کے علاوہ انسانی معاشرے میں رائج انفرادی اور معاشرتی طرزِ عمل اور رویّوں کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ اُن آفاقی معیارات پر ﴿جن سے انسانی فطرت واقف ہے اورجن کو اِسلام نے سندِتصدیق عطا کی ہے﴾ انسانوں کے اِن رویوں کے حُسن وقبح کو متعین کیاجائے پھر جو کچھ درست ہو اُس کی تائید کی جائے اور جو کچھ نادرست اور خلافِ حق ہو اُس سے باز آنے کی پُرزور ومدلل تلقین کی جائے، یہ کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذیل میں آتا ہے۔

انسانی معاشرے سے ایجابی تعلق کا اظہار عملی سرگرمیوں کے علاوہ، جذبات کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ بلاشبہ اُمت مسلمہ کے امور ومسائل اہل ایمان کی توجہ کے مستحق ہیں اور یہ ایمان کا عین تقاضا ہے کہ ایک صاحبِ ایمان فرد، مسلمانوں کے امور میں دلچسپی لے لیکن اُسی کے ساتھ ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسانوں کے مسائل سے واسطہ رکھا جائے اور اُن میں دلچسپی لی جائے۔

مسلمانوں کا ایمانی شعور اگر زندہ ہوتو وسیع تر انسانی معاشرے میں موجود فکری وعملی گمراہیوں سے مسلم معاشرے کو بَچانے اور بَچائے رکھنے کا جذبہ اُن کے اندر جاگتا ہے۔ یہ جذبہ بہت محمود ہے اور ایمان کی علامت ہے لیکن اس جذبے کے ساتھ یہ داعیہ بھی مسلمانوں کے اندر پیدا ہونا چاہئے کہ وہ انسانی معاشرے کو اُن گمراہیوں سے پاک کریں جو اُس کے اندر رواج پا گئی ہیں۔ جو اضطراب اور بے چینی مسلمانوں کی بے راہ روی پر ایک قلبِ مومن کے اندر بیدار ہوتی ہے اُسی نوعیت کی بے چینی اور کُڑھن اُن کے دل میں عام انسانی سماج کی بے راہ روی دیکھ کر بھی پیدا ہونی چاہئے۔ اُمت مسلمہ کے جذبات واحساسات میں یہ بالیدگی پیدا ہوجائے تو انسانیت کی رہنمائی کا کام انجام دینا اُس کے لیے آسان ہوجائے گا۔ اقبال نے غالباً اِسی طرف متوجہ کیا تھا:

رہے گا راوی ونیل وفرات میں کب تک

ترا سفینہ کہ ہے بحرِ بیکراں کے لیے

اپنے دورِ عروج میں مسلمان، انسانیت کی رہنمائی کے جذبے سے سرشار تھے، اور دنیا بھی اُن کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھتی تھی۔ اقبال نے اس کیفیت کا نقشہ کھینچا ہے:

آہ وہ مردانِ حق! وہ عربی شہسوار

حاملِ خُلقِ عظیم، صاحبِ صدق ویقیں

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب

سلطنتِ اہلِ دل، فقرہے شاہی نہیں

جن کی نگاہوں نے کی تربیتِ شرق وغرب

ظلمتِ یوروپ میں تھی جِن کی خِرد  راہ بیں

اگر اُمت کی قیادت کوشش کرے تو یہ کیفیت پھر واپس آسکتی ہے۔ والی اللّٰہ ترجع الامور۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau