اذان اور دعوت میں تعلق

(6)

مفتی کلیم رحمانی

شاہ ولی اللہ ؒ نے خلافت اور خلیفہ کا تذکرہ کیا ہے۔ بعض دینی حلقوں میں  ذاتی اصلاح و تربیت کے لئے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا طریقہ پایا جاتا ہے۔ لیکن شاہ  صاحب نے جس خلیفہ کا ذکر کیا ہے اس سے مراد وہ خلیفہ ہے جس کے پاس اسلامی نظام کو قائم کرنے اور باطل نظام کو مٹانے کی طاقت و قوت ہو،  فرمایا ’’ وہ شہری سیاست کا انتظام سنبھالے اور افواج کا انتظام کرے جو کافروں سے جنگ کرے اور ان کو مغلوب کرے، ظالم کو ظلم سے روکے، جھگڑوں کا فیصلہ کرے اور دین ِ اسلام کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کرے‘‘  ۔

راقم الحروف نے اسلام میں اسلامی سیاست و حکومت کی اہمیت واضح کرنے کے لئے مذکورہ تینوں شخصیات یعنی علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تحریروں کا حوالہ اس لیے دیا، چونکہ بعض اسلامی سیاست و حکومت کے مخالفین و معاندین نے یہ خیال عام کر دیا ہے ،کہ بر صغیر ہندوستان و پاکستان و بنگلہ دیش میں صرف علامہ اقبالؒ اور مولانا سید ابو اعلیٰ مودودیؒ نے ہی اسلامی سیاست و حکومت کی بات کی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر کے ہزاروں اور لاکھوں علماء کرام نے اسلامی سیاست و حکومت کی اہمیت و ضرورت پر نہ صرف یہ کہ سینکڑوں اور ہزاروں کتابیں لکھی ہیں، بلکہ اسلامی سیاست و حکومت کے قیام کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں، خود شاہ ولی اللہ محدثؒ کے بڑے لڑکے شاہ عبد العزیز محدثؒ نے ۱۸۰۳؁ء میں ہندوستا ن کے دارلحرب ہونے اور جہاد کے فرض ہونے کا  فتویٰ ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کے لیے دیا تھا، اور اسی فتوے کی بنیاد پر سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ نے جہاد کی کمان سنبھالی تھی، چنانچہ ہندوستا ن میں جہاد کا آغاز صرف انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کے لیے نہیں ہوا تھا۔

ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے تحریک اُٹھی تھی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی پہلی جنگ قوم پرست پٹھانوں اور سکھوں سے ہوئی تھی، جو ہندوستان ہی کے رہنے والے تھے، یہاں تک کہ ان دونوں حضرات کی شہادت ۱۸۳۱؁ء میں بالا کوٹ کے میدان میں سکھوں اور دین مخالف ، پٹھانوں سے لڑتے ہوئے ہوئی ہے، اور اس کے بعد بھی تقریباً ۱۸۵۷؁ء تک علماء کرام، ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے ہی انگریزوں سے لڑتے رہیں، یہی وجہ ہے کہ ۱۸۵۷؁ء کے بعد انگریزوں نے علماء کرام اور دینی مدارس ہی کو ظلم کو نشانہ بنایا، جس میں تقریباً ستاون (۵۷) ہزار علماء کرام اور لاکھوں دین پسند مسلمان پھانسی کے پھندوں پر لٹکادیئے گئے ، اور بندوق کی گولیوں اور توپوں سے بھون دیئے گئے، ان تمام قربانیوں کا اصل محرک ان کا ہندوستان میں اسلامی حکومت کا قیام تھا۔ اور جدوجہد آزادی ہند کے یہی جذبات و اثرات ۱۸۸۵؁ء تک بھی تھے، اگرچہ اس میں کچھ قومی حکومت کے قیام کے جذبات اور اثرات بھی پیدا ہوگئے تھے، لیکن بہرحال یہ حقیقت ہے کہ۱۸۸۵؁ء تک بھی جدوجہد آزادی ہند کا مجموعی طور پر اصل محرک اور مقصد ہندوستان میں اسلامی حکومت کا قیام ہی تھا ، البتہ ۱۸۸۵؁ء میں جب کانگریس پارٹی کے قیام کی بنیاد پڑی تو جدوجہد آزادی ہند کا رخ ہی بدل گیا، اور اسلامی حکومت کے قیام کا مقصد تحریک آزادی ہند سے نکل گیا، اور اس کی جگہ ایک قومی اور ملکی حکومت کا قیام جدوجہد آزادی ہند کا مقصد ٹھہرا، یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ۱۸۸۵؁ء میں ایک انگریز شخص لاوڈڈفرن نے کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھکرجدوجہد آزادی ہند کی تحریک کا اغوا ء کر لیا ، چنانچہ اس کے بعد کانگریس کی سرپرستی میں آزادی  ہند کی تحریک چلی۔ ۱۹۳۷؁ء میں انگریز حکومت کی ماتحتی میں کچھ اندرونی اختیارات کے لیے انتخابات ہوئے تھے تو کانگریس نے  ان انتخابات میں حصہ لیا۔

در اصل ۱۸۵۷؁ء ہی میں انگریز حکومت نے یہ سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کے جہاد کے مقابلہ میںوہ ہندوستان میں زیادہ عرصہ تک حکومت نہیں کر سکتے ، تو انگریزحکومت نے آئندہ کے لیے چار مقاصد طئے کئے تھے، اول یہ کہ انگریزوں کے خلاف مسلح لڑائی بند ہو، دوسرے یہ کہ انگریزوں کو ہندوستان سے عزت و آزادی کے ساتھ جانے کا موقع ملے، تیسرے کہ ہمارے جانے کے بعد ہندوستان کا نظام حکمرانی مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ آئے بلکہ ہندوئوں کے ہاتھ میں آئے، مطلب یہ کہ مسلمانوں کو سیاسی ، تعلیمی، دینی لحاظ سے کمزور کیا جائے، چوتھے یہ کہ ہمارے جانے کے بعد ہندوستان میں انگریزی تہذیب وتمدن نہ صرف باقی رہے، بلکہ ہندوستانیوں کے ہاتھوں ترقی کرے، چنانچہ انگریز حکومت کو بڑی آسانی کے ساتھ مذکورہ چار مقاصد حاصل ہوگئے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ۱۸۵۷؁ء کے فوراً بعدکچھ علماء کی طرف سے انگریز حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو حرام قرار دیا گیا، اور انگریز حکومت کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا، اور ۱۹۴۷؁ء میںآزادی ہند کے بعد انگریز کے بڑے بڑے عہد یدار جب یہاں سے گئے تو انہیں پھول ہار پہنا کر روانہ کیا گیا، اور جب یہاں کی حکومت کا نظام تشکیل دیا گیا تو اس میں سب سے کمزور اور بے بس قوم مسلمان ہی تھی، اور جہاں تک انگریزی تہذیب و تمدن کی حفاظت و ترقی کی با ت ہے تو وہ ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں پورے طور پر محفوظ ہے اور ترقی کی طرف رواں دواں ہے ، اور یہ بات دعوے اور دلیل کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ان تینوں ہی ممالک میں انگریزی تہذیب خود انگریز حکمرانی کے دور میں بھی اتنی محفوظ اور ترقی پر نہیں تھی ، جتنی کہ اب محفوظ اور ترقی پر ہے، انگریز حکومت نے ضمناً ایک مقصد اور بھی طئے کیا تھا ،وہ یہ کہ مسلمانوں پر علماء کرام کا مذہبی و سیاسی لحاظ سے جو اثر ہے اس کو ختم کیا جائے۔

۱۹۰۶؁ء تک برصغیر کے مسلمانوں پر علماء کرام کا جو اثر تھا، وہ بہت حد تک ختم ہو گیا، اس کے بعد خلافت تحریک اور جمعیۃ العلماء نے ضرور کچھ حد تک سیاست میںعلماء کا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی ، لیکن ان دونوں تحریکات سے غلطیاں ہوئیں ۔ آخرت کے لحاظ سے معاف ہو بھی جائے تو دنیا میں اس کا غلط نتیجہ نکل کر رہتا ہے، چنانچہ اس کے بعد جمعیۃ العلماء کی حیثیت میدان سیاست میں ایک طرح سے کانگریس  ایک سیاسی ونگ کے طور پر ہو گئی، اور پھر یہیں سے ہندوستانی مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوتا ہے، اور پاکستانی مسلمانوں کا سیاسی زوال بھی میدان   سیاست میں مسلم لیگ کی تائید و حمایت ہی سے شروع ہوتا ہے،اور اب یہ سیاسی زوال اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے، لیکن افسوس ہے کہ ابھی بھی اس کا احساس نہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہے اور نہ پاکستانی مسلمانوں کو ،اور نہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو، جب کہ یہ سیاسی غلطی کا غلط انجام ایک صدی سے زیادہ، وہ لاکھوں مسلمانوں کی ہلاکت کی صورت میں دیکھتے آرہے ہیں، کلمہ کے پہلے جز میں اللہ کے علاوہ ہر معبود کا انکار ہے، چاہے وہ معبود میدان عبادت میں ہو یا میدان سیاست میں  جہاں تک کلمہ  لٓا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی مکمل تشریح کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن کے نزول کے ذریعہ اس کی تشریح کی ہے ،اور حضرت محمدﷺ نے تقریباً اپنی دس ہزار احادیث اور اپنی تئیس (۲۳) سالہ نبوی زندگی سے اس کی مکمل عملی تشریح کی ہے، اس لیے جو شخص کلمہ   لٓا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی مکمل تشریح پڑھنا اور سننا چاہتا ہے اسے ضرور پورے قرآن مجید اور نبیﷺ کی مکمل احادیث اور آپؐ کی مکمل تئیس (۲۳) سالہ نبوی زندگی کو پڑھنا یا سننا چاہیے۔

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونؑ کی دعوت کے جواب میں فرعون اور اس کی حکومت کے سرداروں نے بنی اسرائیل کے متعلق جو خیال ظاہر کیا وہ اس طرح ہے :  (ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطَانِ مُّبِینِoاِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلَائہِ فَا سْتَکْبَرُ وْا وَ کَانُواْ قوماً   عَالِیْنo فَقَالُوْآ اَنُوْمِنُ لِبَشَرَ یْنَ مِثْلِنَا وَ قَوْمُھُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ (سورئہ المومنون آیت ۴۵تا۴۷)ترجمہ : ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی  ہاروںؑ کو ہماری نشانیوں اور کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وہ بڑا سمجھنے والی قوم سے، پس انہوں نے کہا کیا ہم ہمارے ہی طرح دو انسانوں پر ایمان لے آئے جبکہ ان دونوں کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) ہماری عبادت گزار ہے‘‘۔

ظاہر ہے قوم بنی اسرائیل فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے نماز نہیں پڑھتی تھی ،بلکہ صرف سیاسی لحاظ سے فرعون اور اس کی حکومت کی محکوم اور غلام بنی ہوئی تھی، تو اسی طرز عمل کو فرعون اور اس کی حکومت کی عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دشمنان اسلام کی خوشنودی حاصل کرنے اور انہیں بے جا اطمینان دلانے کے لئے چند نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کی جن باتوں کی غلط تاویلات کی ہیں ان میں اسلامی جہاد و حکومت بھی ہے بلکہ ان کی غلط تاویلات کا اصل ہدف اسلامی جہاد و حکومت ہی رہے ہیں ، کیونکہ اسلامی جہاد و حکومت ہی دشمنان اسلام کی راہ کا سب سے بڑا روڑ ار ہے ہیں، اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دشمنان اسلام نے بڑے زور و شور کے ساتھ ایک سازش کے تحت اسلام پر یہ بے جا الزام لگایا کہ اسلام تلوار اور حکومت کے زور سے پھیلا ہے، انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ جب ہم یہ الزام زور و شور سے پھیلائیں گے تو مسلمانوں میں سے ضرور ایک گروہ رد عمل کے طور پر سامنے آئیگا جو اسلامی جہاد و حکومت کا انکار کرے گا، یا اُس کی غلط تاویل کرے گا، کیونکہ انسانی تاریخ کا مطالعہ رکھنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ جو چیز رد عمل کے طور پر وجود میں آتی ہے، اس میں اعتدال برقرار نہیں رہتا بلکہ وہ دوسرے کنارے پر چلی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قوموں کے بگاڑ کا اصل سبب یا تو افراط رہا ہے یا تفریط رہا ہے اور دین اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ افراط و تفریط سے پاک دین ہے۔  اس بے جا الزام کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت تھی، وہ یہ کہ ہر دور میں اسلام اپنی حقانیت اور دعوت کے سبب پھیلا ہے، اور اسلام کے پھیلانے میں کبھی بھی تلوار اور حکومت کی طاقت استعمال نہیں کی گئی ،اور ویسے بھی تلوار اور حکومت کے زور پر دل کی کیفیت نہیں بدلی جا سکتی، جب کہ ایمان کے صحیح ہونے کے لئے دل کی تصدیق بھی ضروری ہے ۔ البتہ دین اسلام کا ایک مقصد دنیا سے ظلم و ستم اور فتنہ و فساد کا خاتمہ بھی ہے اور اس کی جگہ اللہ کے دین کے مطابق عدل و انصاف قائم کرنا ہے،اس لئے اُس کے لئے اسلام نے تلوار اور حکومت کے طاقت کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے اور حکم بھی دیا ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، ان میں سے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جس قوم اور فرد کے خلاف ہتھیاراٹھانے کی اجازت اور حکم ہے، اس تک اہل ایمان نے اسلام کی دعوت پہنچا دی ہو، اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اسلام کے قبول کرنے سے انکار کیا ہو، بلکہ اسلامی حکومت کی ماتحتی میں زندگی گزارنے سے بھی انکار کیا ہو، اور دوسری شرط یہ کہ اہل ایمان کے پاس مخالف قوم کی تعداد سے کم از کم دس فیصد افرادی تعداد ہو، اور اہل ایمان کی یہ تعداد ایک ہی دینی امیر کے حکم کے تحت ہو۔ اس تعداد کا ثبوت قرآن مجید کے سورئہ انفال کی ایک آیت سے ملتا ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔

یَاَیُّھَا الْنَّبیُ حَرِّضِ الْمُوْمِنِینَ عَلیَ الْقِتَالْ اِنْ یّکُنْ مِنّکُمْ عِشرُوْنَ صٰبُروْنَ یَغْلِبُوْا مِائتَیْنِ وَ اِنْ یّکُنْ مِّنْکُمْ مَا ئَہُ یَغَلِبوُا اَلْفًامِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمُ لَّا یَفْقَھُوْنَ  (سورئہ انفال آیت ۶۵)

ترجمہ: ’’ اے نبیﷺ مومنین کو جنگ پر ابھارئیے اگر تم میں بیس (۲۰) صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو (۲۰۰) پر غالب آئیں گے، اور اگر تم میں ایک سو (۱۰۰) ہوںگے تو وہ ایک ہزار پر غالب آئیں گے کافروں میں سے کیونکہ وہ نہیں سمجھنے والی قوم ہے‘‘۔

مذکورہ آیت مومنین کے کافروں پر غلبہ کے متعلق کم سے کم افرادی قوت کے سلسلہ میں ایک اصولی آیت ہے، اس سے کم تعداد کا پیمانہ بھی اگر غلبہ کے لئے کافی ہوتا تو اللہ اسے ضرور بیان کرتا، مطلب یہ کہ جس کا فر قوم پر مومنین کو غلبہ حاصل کرنا ہے ، اس کا فر قوم کی تعداد سے مومنین کی تعداد کا کم از کم دس فیصد ہونا ضروری ہے، یہ تعداد ایک دینی امیر کے تحت ہو اور ساتھ ہی صبر کی صفت سے متصف ہو ، ایسالگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تعداد کے متعلق یہ اصولی پیمانہ انسانی نظم کی ضرورت کے تقاضہ کو سامنے رکھ کر بیان فرمایا ہے ،وہ یہ کہ کسی بھی انسانی گروہ کے نظم کو صحیح طور پر چلانے کے لئے اس انسانی گروہ کے کم از کم دس فیصد افراد کا ایک نظم سے وابستہ ہونا ضروری   ہے، اور اسی اصول کے طور پر دنیا کی حکومتوں کا نظم چل رہا ہے ، مطلب یہ کہ اگر کسی ملک کی ایک کروڑ انسانی آبادی ہے تو دس لاکھ ضرور حکومت کے ملازمین ہوں گے جو ایک ہی سربراہ کے حکم سے جڑے ہوں گے، یہاں تک کہ جو دینی جماعتیں معاشرہ میں کام کررہی ہیں، ان جماعتوں کی بھی کم از کم  دس فیصد تعداد جماعت کے نظم کو درست کرنے اور درست رکھنے پر مامور ہوتی ہے، یعنی اگر کسی جماعت کے دس ہزار ارکان ہیں تو ایک ہزار ارکان اس جماعت کے نظم کو چلانے پر مامور ہوتے ہیں، اگر اس سے کم افراد جماعت کے نظم کو چلانے پر مامور ہیں تو جماعت کا نظم صحیح نہیں چل سکتا۔ ویسے بھی اسلام میںجنگ برائے جنگ نہیں ہے، بلکہ جنگ برائے اسلامی حکومت کا قیام ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے غلبہ کے لئے مخالف قوم کی بہ نسبت کم از کم دس فیصدافرادی قوت ضروری قرار دی ہے، تو یہ عین عدل و نظم کا تقاضہ ہے ، اور اسی افراد ی پیمانہ سے گزشتہ انبیاء اور ان کی مخالف قوموں کے انجام کو سمجھا جا سکتا ہے۔

چنانچہ حضرت نوحؑ نے جب قوم پر دعوت کی حجت تمام کردی اور قوم نے دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو قوم سے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ کافر قوم کو آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک کر دیا، اور نوحؑ اور اہل ایمان کو کشتی میں سوار کر اکر عذاب سے بچا لیا ، اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ نوح ؑ اور ان پر ایمان لانے والے کافروں سے دس فیصد سے بھی کم تھے، اسلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھیوں کو کافر قوم سے لڑنے کا حکم نہیں دیا بلکہ بغیر لڑے ہوئے کافر قوم کو ہلاک کر دیا، اور اہل ایمان کو بچا لیا۔ قرآن میں جن انبیاء اور جن قوموں کا تذکرہ آیا ہے ان میں سے زیادہ تر قوموں کو انبیاء کی دعوت کے انکار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعہ ہلاک کر دیا، اور انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا ، چاہے صالحؑ کی قوم ثمود ہو ،یا ہودؑ کی قوم عاد ہو، یا شعیبؑ کی قوم مدین ہو، یا فرعون اور اس کی قوم ہو، لیکن محمدﷺ کی دعوت کو جھٹلانے والی قوم کو کسی آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک نہیں کیا گیا، بلکہ محمدﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کے بعد حکم ہوا کہ وہ کافروں سے جنگ کرے اور یہ جنگ ہی در اصل ان کے لئے عذاب الٰہی تھی، اس فرق سے بھی اللہ کا یہی اصول سامنے آتا ہے کہ چونکہ محمدﷺ کی دعوت کو قبول کرنے والے اہل ایمان کافروں سے دس فیصد سے زیادہ تعداد میں تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مکہ کے کافروں کو بغیر جنگ کے ہلاک نہیںکیا بلکہ نبیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ کافروں سے جنگ کریں۔ (جاری)

مئی 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau