تعلقات کی اِصلاح— ایک نمونہ

شیخ انور

غالباً ۱۹۹۱ء اواخر یا ۱۹۹۲ء کے اوائل میں علاقہ داؤنگرہ و شیموگہ پر مشتمل شہر بھدراوتی میں دو روزہ تربیتی  اجتماع منعقد ہوا۔ مرحوم محمد ثناء اللہ صاحب ناظم علاقہ تھے اور جناب محمد اقبال ملّا صاحب، کرناٹک کے امیرحلقہ تھے (اب سکریٹری دعوت مرکز) مرحوم عبدالرشید عثمانیؒ کی نگرانی میں یہ اجتماع منعقد ہوا۔ مختلف تقاریر تربیت کے عنوان سے مقررین نے اچھے انداز میں پیش کیں۔ مگر اس اجتماع کی خصوصیت یہ رہی کہ جناب مرحوم عبدالرشید عثمانیؒ نے اوپن سیشن کے ذریعہ رفقاء کے ذہنوں ودلوں میں مقصد زندگی کا شعور، نصب العین، اقامت دین کی باتوں کو عمدہ طریقہ سے بٹھا دئے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام ایک مکمل نظام حیات، طرز حیات جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری رسولؐ پر نازل فرماکر انسانوں پر عظیم احسان کیا ہے، اس احسان کی قدر کریں اور اسلام کو اپنی زندگیوں پر سب سے پہلے جاری ونافذ کریں۔ اس نظام حیات کو خانوں میں بانٹ کر زندگی نہ گزاریں بلکہ کل نظام حیات پر عمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات بھی واضح کردی کہ ہمارا ہر کام، ہر عمل اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو اور اس بات پر زور دیا کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت کی تیاری وفلاح کے لئے ہر آن جدوجہد کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کردی کہ اب ہماری ذمہ داری اُمت مسلمہ کے لحاظ سے کیاہے، اور اس ذمہ داری کو محسوس کریں اور انسانیت کو اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی کوشش کریں۔ اس سوالات وجوابات کے اوپن سیشن سے رفقاء نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لئے بلکہ ہم سب کے دلوں میں یہ سب باتیں راسخ ہوگئیں۔

دوسرے دن جناب خرم مرادؓ کی کتاب کارکنان کے باہمی تعلقات کو بنیاد بنا کر پینل ڈسکشن منعقد ہوا جس میں  راقم الحروف بھی شریک رہا۔ اس پینل ڈسکشن کا موضوع یہی تھا کہ رفقاء کے درمیان تعلقات محبت وشفقت ہمدردی وخیر خواہی کے جذبات سے استوار ہوکر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بن جائیں۔

سب سے پہلے مختصر مگر جامع حدیث نصح وخیر خواہی پر روشنی ڈالی گئی۔ خیر خواہی جس طرح اللہ ورسولؐ اور  اللہ کی کتاب سے ہوناچاہئے اسی طرح رفقاء کے درمیان ایک دوسرے کی خیر خواہی کا جذبہ بدرجہ اتم ہوناچاہئے۔ ہررفیق جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی دوسرے کے لئے بھی پسند کرے۔ رفقاء آپس میں بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کی جان ومال اور عزت کا احترام کریں۔ ایک دوسرے کے لئے ایثار وقربانی کے جذبات رونما ہوں۔ ایثار وقربانی کا وہ نادر واقعہ جو جنگ یرموک میں پیش آیا کس طرح صحابہؓ اجمعین شہید ہونے سے پہلے پانی پینے سے ایک دوسرے کو ترجیح دی اور تینوں بغیر پانی پئے جام شہادت نوش فرمائے رفقاء کے جذبات کو بہت زیادہ گرمانے کا سبب بنا۔

رفقاء کے تعلقات میں مزید خوشگواری پیدا کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خوشی وغم میں شرکت، ایک دوسرے کے دکھ درد میں تعاون، ایک دوسرے کو اونچا اٹھانے کی کوشش ایک دوسرے سے خندہ پیشانی وخوشدل کے ساتھ ملاقات ، ایک دوسرے پر سلام بھیجنے میں سبقت اور وسعت قلب ونظر کامعاملہ کرنے کی باتوں سے قلوب منور ہوتے گئے۔

پھر تعلقات میں بگاڑ وخرابی پیدا کرنے والی باتیں تفصیل سے سامنے آئیں۔ رفقاء غیبت، بدگمانی، بدظنی، بغض وحسد کے جذبات ومیلانات سے کس طرح بچنا اور ان باتوں کی بجائے، ایک دوسرے سے خوش گمانی، ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت اور ایک دوسرے کے دل پاک وصاف ہوں ان جذبات پر اُبھارا گیا۔ ان صحابیؓ کا واقعہ بھی سامنے آیا جنہیں اللہ کے رسولؐ  نے جنتی قرار دیا۔ دوسرے صحابیؓ کو جستجو ہوئی کہ وہ کونسا عمل ہے جس کے کرنے سے جنتی قرار دیئےگئے۔ تین دن ان صحابیؓ کے گھر مہمان بن کر رہے مگر کوئی غیر معمولی عمل نظر نہیں آیا۔ پھر رخصت ہوتے وقت اپنا مدعا بیان کیا تو وہ صحابیؓ بھی سوچنے لگے، آخر غوروفکر کے بعد کہا کہ ان کے دل میں کسی مسلمان بھائی کے خلاف بغض وعناد وحسد کے جذبات نہیں، شاید اس وجہ سے اللہ و اللہ کے رسولؐ کو یہ بات پسند آئی ہوگی۔

پھر مختصر حدیث مومن مومن کاآئینہ ہے کہ ذریعہ رفقاء کے احساسات کو مثبت طور سے پروان چڑھانے کا ذریعہ ہوا۔ مومن ایک دوسرے کا آئینہ ہے۔ میں خود اس آئینہ میں میری تصویر دیکھ کر اگر کوئی داخ ودھبہ نظر آئے تو دھونے کی کوشش کروں اور اگر میرے بھائی کے چہرے پر کوئی داغ ودھبہ نہیںہے تو  میں خود اس جیسا بننے کی کوشش کروں۔ اگر میرے بھائی کے اندر کوئی داغ ودھبہ ہے تو جتنا ہے اتنا ہی بتادوں۔ رائی کاپربت نہ بناؤں اور نہ معاشرے میں اس کا چرچا کرتا پھروں۔  اگر کوئی کمزوری نظر آئے تو اپنے بھائی کو محبت وشفقت سے اصلاح کے ارادے سے بتادوں اوراس کو حقیر نہ سمجھوں۔ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ اگر میرا بھائی میری کمزوری کو ظاہر کرے تو میں برانہ مانوں بلکہ اس کا شکریہ ادا کروں کہ میرے اصلاح کی فکر اس کے دل میں ہے۔

پھر آپسی اصلاح پر روشنی ڈالی گئی۔ شیطان کی خواہش یہی ہے کہ  رفقاء آپس میں محبت وشفقت کے ساتھ نہ رہیں، ایک جٹ ہوکر سیسہ پلائی دیوار کی مانند نہ رہیں، ایک دوسرے سے مل جل کر اقامت دین کا کام نہ کریں اور ساری جدوجہد آپسی اختلافات میں ہی صرف ہوجائے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اختلاف کی بنیاد بنا کر جماعت کو کمزور کرنے پر تلا ہواہے۔ شیطان کی چالوں سے چوکنا رہنے کی تدابیر پر روشنی ڈالی گئی۔ اگر کہیں چھوٹی وموٹی باتوں سے اختلاف رونما ہوگیا ہے تو فوراً آپس میں مل کر ان باتوں کو رفع دفع کردینا ہے۔ نہیں تو چھوٹی ہی کیوں نہ ہوں دیر ہونے سے تعلقات مزید بگڑنے کی گنجائش ہے۔ پہل کرنے والے رفقاء کو اجر کی بشارت ہے۔ اگر کسی کے دل میں کسی سے شکایت ہے یا کسی سے بدظنی ہے، یا کسی سے کسی بات پر اختلاف ہے تو فوراً مل بیٹھ کر ان شکایتوں کو دُور کرنا ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ اگر کبھی غیر شعوری یا نادانستہ کوئی بات اپنے رفیق کے متعلق کہی ہے تو فوراً معذرت کردیناہے اور دلوں کو صاف کرنا ہے۔ معذرت کرنے والے کی معذرت قبول کرنا بھی دوسرے بھائی کا فرض ہے۔ اگر کسی بات پر میرے رفیق کو تکلیف پہنچی ہے یا میرے طرز عمل سے رنجش ہوئی ہے تو فوراً ان باتوں کی وضاحت کرنا ہے اور آپس میں بھائی بھائی  بن کر رہنا ہے۔

ایک دوسرے کے ساتھ عفو ودرگزرکے معاملہ سے تعلقات میں خوشگواری رونما ہوتی ہے۔ اور وسعت قلب ونظر سے مزید تعلقات میں چاشنی سے محبت والفت وشفقت کے پھوارے پھوٹتے ہیںاور ہم ایک جسم کی مانند بن جاتے ہیں۔ ان باتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی اور رفقاء بہت ہی دلچسپی سے سماعت کرتے رہے۔

دو  دنوں کا یہ تربیتی اجتماع اختتام پذیر ہوا، بعد نماز عشاء  ؏ رفقا ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ پھر ایک عجیب وغریب منظر سے رفقاء محفوظ ہورہے تھے۔ میں بھی اس منظر کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ داونگرہ کے پانچ چھ رفقاء آپس میں گلے مل کر رو رہے ہیں اور ان کے اطراف کھڑے ہوئے رفقاء کے دل بھی بھر آئے ہیں اور سب کی آنکھوں میں آنسوں جاری ہیں۔ معلوم ہواکہ وہ رفقاء جن کے تعلقات میں آپسی شکایتوں، اختلافات ورنجشوں سے تھوڑا بگاڑ  آگیا تھا، ایک دوسرے سے دوری اختیار کرگئے تھے، اس پینل ڈسکشن کے بعد خود بخود اپنی ساری شکایتیں، رنجشیں  واختلافات کو دھو ڈالے اور ان کے دل آنکھوں کی آنسوں سے دھل کر پاک وصاف ہوگئے۔ میرے وہم وگمان وخیال میں کبھی یہ تاثر نہیں تھا کہ ہمارے رفقا اتنی جلداپنی آپسی اصلاح کرلیں گے اور حقیقی بھائی بھائی بن جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ ہمارے ان بزرگ رفقاء کو توفیق ہوئی اور اللہ کے لئے اللہ کی رضا وخوشنودی کے لئے فوراً آپسی اصلاح کرلی اور جماعت کو تقویت پہنچائی۔ میں جب بھی یہ منظر یاد کرتا ہوں اور دیکھتاہوں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور سوچتا ہوں کہ وہ بھی کیا لوگ تھے۔

آج بھی جماعت میں ایسی روایتوں کی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے اختلافات کی فوراً اصلاح کرتے ہیں اور تحریک کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرتے ہیں۔ آپسی تعلقات محبت وشفقت والفت سے استوار ہوتے ہیں اور ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بن سکتے ہیں۔ اللہ سے دُعا ہے کہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مارچ 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau