مولانا ابو الکلام آزاد ؔ کی مذہبی بصیرت

عظمی خاتون فلاحی

مولاناابوالکلام آزادؔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے قدآور مسلم سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ مذہبی دانشوری کی روایت کاایک اہم ستون بھی تھے۔ انہوں نے صحافت، ادب، تنقید، تفسیر،مکتوب نگاری اور سیاست غرض جس میدان میں بھی قدم رکھا اس کی انتہائی بلندیوں تک پہنچے۔مولاناآزادؔ نے ہندوستانی مسلمانوںکی سیاسی رہنمائی کے علاوہ ان کی مذہبی و فکری قیادت بھی فرمائی۔مولاناآزادؔ کو یہ امتیازحاصل ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کے مروجہ مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ انگریزی و فرانسیسی زبانوںمیں مہارت اور علوم جدیدہ کی وافراستعدادحاصل کی، جس کی جھلک ان کی مختلف تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

مولاناابوالکلام آزادؔ نے اپنی عملی زندگی کا آغازصحافت سے کیااور اس کاانجام سیاست پر ہوا۔عملی زندگی کے مختلف مراحل میں جب مولاناآزادجدوجہدآزادی کی تحریک کے دوران سیاسی قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے علمی و تحقیقی کاموں اور اصلاح و تبلیغ کی کوششوںکوبھی جاری رکھا۔اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کی تحریریں خاص طور پر ترجمان القرآن ہے۔ انہوںنے کس طرح دو بظاہر متضادسمتوں میں سفر جاری رکھا،خود اس سلسلے میں فرماتے ہیں  :

’’سیاسی زندگی کی شورشیں اور علمی زندگی کی جمعیتیں ایک زندگی میں جمع نہیں ہوسکتیں …ان میں آشتی محال ہے۔میں نے چاہا،دونوں کو بیک وقت جمع کروں۔میں نامرادایک طرف متاع فکرکے انبارلگاتا رہا۔دوسری طرف برق خرمن سوز کو بھی دعوت دیتارہا۔ نتیجہ معلوم تھااور مجھے حق نہیں کہ حرف شکایت زبان پرلاؤں۔‘‘

عرفیؔ نے میری زبان کہہ دیاہے  :

زاں شکستم کہ بہ دنبال دل خویش مدام

درنشیب شکن زلف پریشاں رفتم۱؎

مولانا آزادؔنے جو کچھ بھی لکھاخوب لکھااور جس موضوع پر بھی قلم اٹھایااس کا حق اداکردیا۔ البتہ ترجمان القرآن ان کی مذہبی بصیرت اور دانشوری کا سب سے بڑا شاہکار ہے۔ مولاناآزادؔ نے ترجمان القرآن میںوقت و حالات اور اصلاح و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ علمی و تحقیقی معیار پیش کیاہے۔ اس کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے جناب علی اشرف صاحب اپنے ایک مضمون ’’مولانا ابوالکلام آزاد اور ترجمان القرآن‘‘میں لکھتے ہیں  :

’’پچھلی دو صدیوں میں ہندوستان میں جو تفسیریں لکھی گئی ہیں ،ان میں مولاناابوالکلام آزاد کے ترجمان القرآن کااہم مقام ہے۔ سرسیداحمدخان کی تفسیرقرآن کے بعد اُردو میں یہ دوسری کتاب ہے ۔ جس نے ہندوستان کے حالات اور جدیدہندوستانی ضرورتوں اور اس کے مسلم اقدارکو سامنے رکھ کر قرآن کے مطالب کو قاری کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘   ۲؎

یہی مضمون نگار مولاناآزادکی قرآن فہمی کا تذکرہ کرتے ہوئے آگے مزیدلکھتے ہیں  :

’’ان کی نظر قرآنی تعلیم کے ان پہلوؤں پر زیادہ تھی جن تک انیسویں صدی کے کسی اسلامی مفکر کی نگاہ نہیں جاسکتی تھی۔ انہوں نے روبیت،رحمت اور عدل کو صفاتِ الٰہی میں پہلی مرتبہ ایسابلندمقام عطاکیا؛ وحدت ادیان، مذہبی جتھ بندیوں کی مخالفت اور پوری انسانیت کی ایک برادری کاسبق قرآن کی زبانی ایسے دلنشین طریقے سے پڑھایا، فطری اور سماجی علوم کی تحصیلات کو قرآن کی خدمت میں ایسی عمدگی سے لگایاکہ ترجمان القرآن ترجمہ و تفسیرکی ایک بلندپایہ دینی و علمی کتاب کے علاوہ ایک لاثانی ادبی شاہکار بن گئی۔ جس کا جواب اُردو تو کیادنیائے اسلام کاکوئی بھی تفسیری ادب پیش نہیں کرسکا۔‘‘  ۳؎

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مولاناآزادؔ کی مذہبی بصیرت اور دانشوری کے اوصاف اور ان کے علمی و تحقیقی کارنامے ، ان کے سیاسی کارناموں اور خدمات کے آگے دَب سے گئے اور اسے المیہ ہی کہاجاناچاہیے۔ اس کا اظہار عصر حاضر کے ایک بڑے مذہبی دانشور اور رہنمامولانا سیدابوالحسن ندوی نے مولاناآزادپر پروفیسر خلیق احمدنظامی کی تصنیف مآثر مولانا ابوالکلام آزادکے پیش لفظ میں کیاہے  وہ لکھتے ہیں:

’’تاریخ و سوانح، ذہنی کمالات ، علمی و ادبی فتوحات ،خدمت انسانیت،قیادت و رہنمائی اور شہرت و ناموری کی تاریخ کا یہ ایک بار بار پیش آنے والااور مکرر ومتواترالمیہ ہے کہ کسی ایک شخص کے مشہور عام،مقبول خلائق اور ظاہر و باہر کردار اور میدان عمل کے کسی ایک نمایاںشعبے یا امتیاز نے اس کے بقیہ تمام علمی و ادبی ،ذہنی و جسمانی ، اخلاقی و نفسیاتی کمالات پر پردہ ڈال دیاہے اور وہ اپنے کسی ایک امتیازی وصف اور شہرۂ آفاق کارنامے یا کردار کے ساتھ جاناپہچاناگیا ہے ۔ اور صرف اسی حیثیت اور امتیاز کے ساتھ اس کی مدح و توصیف کی جاتی ہے۔ کبھی جوش جہادوشان اجتہادپر، اور کبھی علمی دقیقہ رسی ، وسعت نظر اور مطالعے نے شان عزیمت اور عبادت پر پردہ ڈال دیاہے اور اکثر دینی و روحانی بلندی نے اعلی ادبی ذوق نہ صرف شعرفہمی بلکہ فطری ذوق شاعری اور بلاغت بیان کو اہل نظر سے برسوںاور بعض اوقات صدیوں مستور رکھاہے ۔‘‘

یہی معاملہ یا المیہ امام الہند، قائد تحریک حریت و جنگ آزادی ، خطیب العصر، ادیب صاحب طرز، مدیر ’’الہلال‘‘ و ’’البلاغ‘‘مصنف تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ تذکرہ،کارواں خیال، و غبار خاطر،صدرکانگریس اور آزاد ہندوستان کے اوّلین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؔکے ساتھ پیش آیا۔‘‘  ۴؎

بلاشبہ ترجمان القرآن،مولاناابوالکلام آزادکا سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے ۔ حالات و زمانے کی دست بردسے بچ کر اس کا جتناکچھ حصّہ بھی ہم تک پہنچاہے۔مولاناکاعلمی تبحراور وسعت مطالعہ و علم اس کی ایک ایک سطر سے ٹپکتاہے۔ علامہ نیازفتحپوری جن کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اچھے اچھوںکو خاطر میں نہ لائے تھے ۔مولاناآزادکے تبحر علمی کا اعتراف بہت اچھے انداز میں کرتے ہیں۔  ۵؎

حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزادؔ کا اصل شاہکار ان کی تفسیر’’ترجمان القرآن‘‘ہے۔ یہ تفسیر فہم قرآن کے حوالے  سے ذہن و فکر کے نئے نئے دریچے ہی نہیں کھولتی بلکہ اس نے اُردوکی تفسیری روایت میں غوروفکراور جدیدذہن کے تقاضوںکے مطابق قرآنی آیات کی تشریح و تعبیرکی ایک ایسی روایت ڈالی ہے ۔ جس نے بعد کے تقریباً سبھی اُردو مفسرین کو متاثر کیاہے۔ مثال کے طور پر اسلامی تصور توحیداور دیگرمذاہب میں توحید کے تصور کا مقابلہ اور اس میں ارتقاء کی تلاش ، وحدت ادیان کے نظریے کے خلاف وحدت دین کا تصور،صفات الہٰی کی دل کو چھولینے والی تشریحات ،انکا مطالعہ تاریخ خاص طور پر اصحاب کہف، ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج کے بارے میں ان کی فکرانگیز تحقیقات سے ان کے بعدکے اُردو کے تقریباً سبھی مفسرین نے استفادہ کیاہے ۔

مولاناآزادؔ نے اپنی تفسیرترجمان القرآن محض علمی تحقیق اور دانش وری کے میدان میں اپنالوہامنوانے کے لیے نہیں لکھی تھی بلکہ اس سے ان کا مقصدمسلمانوں کی مذہبی اصلاح تھا۔ ان کے خیال میں مسلمانوںکی مذہبی اصلاح کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ یہ تھی کہ قرآن کی تعلیم و اشاعت کاجیساانتظام ہوناچاہئے تھا ان کے زمانے میں مفقودتھا۔ اسی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے ترجمان القرآن لکھی۔چنانچہ ترجمان القرآن کے دیباچے میںمولاناکااس نے ذکر کیاہے ۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو دیباچہ ترجمان القرآن، صفحہ ۷۔۹)

اسی طرح مولاناآزادؔ نے تفسیرقرآن لکھتے وقت اس زمانے میں مختلف حلقوںخاص طور پر مستشرقین کی جانب سے اسلام اور قرآن کے بارے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات اور الزامات وغیرہ کو بھی ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مقامات پر اختصار کی خواہش کے باوجودان کے تفسیری مباحث طویل ہوگئے ہیں چنانچہ ذوالقرنین کے بارے میں اپنی تحقیق کے خاتمے پر لکھتے ہیں  :

’’ہم نے ذوالقرنین کی بحث میں پوری تفصیل سے کام لیاہے۔کیونکہ زمانۂ حال کے معترضین قرآن نے اس مقام کو سب سے زیادہ اپنے معاندانہ استہزاء کانشانہ بنایاہے۔وہ کہتے ہیں : ’’ذوالقرنین کی کوئی تاریخی اصلیت نہیں ہے ۔ یہ محض عرب یہودیوںکی ایک کہانی تھی جو پیغمبراسلام نے اپنی خوش اعتقادی سے صحیح سمجھ لی اور نقل کردی۔‘‘ اس لیے ضروری تھاکہ ایک مرتبہ یہ مسئلہ اس طرح صاف کردیاجائے کہ شک وترددکاکوئی پہلوباقی نہ رہے۔‘‘  ۶؎

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ مولاناآزادمیدان سیاست میں ہوں، صحافتی خدمات انجام دے رہے ہوں۔ یا مذہبی موضوعات پر قلم اٹھارہے ہوں۔ انہوں نے کہیں بھی ہندوستانی مسلمانوں کی اصلاح اور دین حنیف کی تبلیغ کے جذبے سے خودکو کبھی الگ نہیں کیا۔وہ جب تک جیسے مسلمانوں کی اصلاح حال کے لئے کوشاں رہے اور جوکچھ بھی لکھاملک و ملت کی بھلائی اور خدمت کے جذبے کے تحت لکھا۔اگر مولاناآزادؔ کی ذات کو ایک ادارے سے تعبیرکیاجائے تو شایدبے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے عرصۂ حیات کے مختصر وقفے میں گوناںگوں مصروفیات کے باوجودجتناکام کردیاہے اکثر اتناکام کرنے کے لئے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے اور بیسوں دہائیاں صرف ہوجاتی ہیں۔ البتہ ہندوستانی مذہبی و سیاسی قیادت میں یہ المیہ بھی شاید مولاناآزادکے ہی حصے میں آیا کہ ان کا ذکر تو بہت ہوتاہے، ان کے نام اور کاموں کا چرچابھی خوب کیاجاتاہے۔ لیکن ان  سے استفادہ کی کوشش شایدبہت ہی کم لوگ کرتے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ جہاںیہ ہے کہ مولاناآزادؔ نے اپنا کوئی جتھایاگروپ نہیں بنایاوہیں ان کی ہمہ گیری بھی ایک بڑی وجہ ہے ۔ بقول پروفیسر خلیق احمدنظامی  :

’’مولاناآزادکے علمی تبحرکوتو سب نے تسلیم کیاہے۔ لیکن اس کے حدود متعین کرنے میں بڑا اختلاف رہاہے۔‘‘

ان کی تحریروں کی  خوبی جہاں یہ ہے کہ ان میں مسلمانوںکے مختلف گروپوں کے لئے حسب حال مواد ملتاہے ۔ وہیں ان کی تحریروںمیں ایسے موادکی بھی کمی نہیں ہے جو لوگوں کو پسند نہیں آتا۔کچھ لوگوںکو مولاناکے سیاسی افکارپسندنہیں آتے تو بعض لوگوں کو ان کے مذہبی خیالات (خاص طور پر اسلام اور اس کی تعلیمات کو جدیدتناظر میں بنیادی ذرائع سے سمجھنے کی کوشش اور فکری آزادروی) نہیں بھاتے۔کچھ لوگ اگر ان کے مذہبی رُجحان سے اتفاق رکھتے ہیں تو انہیں مولاناآزادؔ کی راہ اعتدال کی روش سے اختلاف ہوجاتاہے ۔ کچھ لوگوںکو اگر یہ سب کچھ گواراہوتاہے تو ان کے لئے مولاناآزادؔ کاان کے گروپ میں شامل نہ ہونارُکاوٹ بن جاتاہے۔ اس کی وجہ شایدیہ ہے کہ مولاناآزادؔنے اپنے افکارو نظریات کی اشاعت کے لئے کوئی جماعت یا ادارہ قائم نہیں کیا۔مولاناغلام رسول مہر اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

’’مختلف اصحاب اپنے علوم و معارف کی ترتیب و اشاعت کے لئے ادارے قائم کرگئے،جن میں سے بعض اداروں نے اب خانقاہی مسندوںکی حیثیت اختیارکرلی ہے ۔ مولانانے خداجانے ایسے کتنے اداروں کے لئے شاہانہ امدادو اعانت کابندوبست کیا، مگر بہترین مواقع کے باوجوداپنے لئے کسی ایسے ادارے کی بنیادنہ رکھی۔ بے نفسی ، حسن کردار اور اخلاص کی ایسی ایمان افروز نظریں ہر جگہ نظر نہیں آسکتیں۔‘‘  ۷؎

مولاناکی مذہبی فکرسے مسلمانوںکی عام عدم توجہی بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی کہے جانے والے حلقوںنے مولاناآزادؔکی مذہبی بصیرت سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھایااور ان کے افکارونظریات کو آگے کیوں نہیں بڑھایا۔یہ ایک اہم سوال ہے ۔ مولانا آزادؔکا تعلق بہرحال مذہبی طبقے سے ہی تھااور مولاناان کے نام کا جزولازم  تھا۔ ایک طالب علم جب مولاناآزادؔ کے حوالے سے ہندوستان کے مذہبی طبقات اور ان کے اداروں پر نظر ڈالتاہے تو اسے  مایوسی ہوتی ہے۔ہندوستانی مسلمانوںکایہ وہ طبقہ ہے جو اکثر حالات کا شاکی نظرآتاہے ۔   لیکن  مولاناآزادؔکے ساتھ وہ خودکیاکررہاہے اس پر اس کی نظرجاتی ہی نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ مولاناآزادؔ کو ان کی زندگی ہی میں  شہرت اور مقبولیت حاصل تھی۔ ان کی زندگی میں اور وفات کے بعدبھی ان سے عقیدت کا اظہار کیا جاتا رہا اور ستائش بھی خوب ہوتی رہی۔البتہ ان کی مذہبی فکر کو جس طرح کاقبول عام حاصل ہونا چاہئے تھا وہ  حاصل نہیں ہوا۔ خاص طور پران کی تفسیرترجمان القرآن کی جیسی پذیرائی ہندوستانی مسلم سماج میں ہونی چاہئے تھی نہیں ہوئی ۔

حوالہ جات  :

(۱)مولاناابوالکلام آزادؔ، ترجمان القرآن، جلد اول، ساہتیہ اکاڈمی ،نئی دہلی،۱۹۶۴ء؁ ، ص:۲۵(۲)رشیدالدین خاں(مرتب)،ابوالکلام آزادؔ ایک ہمہ گیر شخصیت ،ترقی اُردو بیورو،نئی دہلی،۱۹۸۹ء؁، ص:۱۴۶(۳)رشیدالدین خاں(مرتب)،ابوالکلام آزادؔ ایک ہمہ گیر شخصیت ،ترقی اُردو بیورو،نئی دہلی،۱۹۸۹ء؁، ص:۱۴۶(۴)نظامی، خلیق احمد،مآثر ابوالکلام آزادؔ،ادارہ ادبیات دہلی،۱۹۹۲ء؁ ، پیش لفظ(۵)نظامی، خلیق احمد،مآثر ابوالکلام آزادؔ،ادارہ ادبیات دہلی،۱۹۹۲ء؁ ، پیش لفظ ، ص:۴تا۵ (۶)مولاناابوالکلام آزاد،ترجمان القرآن، جلد چہارم،ساہتیہ اکاڈمی،نئی دہلی،۱۹۶۴ء؁، ص:۵۳۹ (۷)غلام رسول مہر،باقیات ترجمان القرآن، اشاعت الکتاب دہلی، ۱۹۶۲ء؁، ص:۱۷

جنوری 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau