امت کی نشاۃ ثانیہ اور اجتماعی تقویٰ

اس سے پہلے ان صفحات میں امت کے عروج و ترقی اور نشاۃ ثانیہ میں عمل صالح کے کردار کو زیر بحث لایا گیا تھا اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ عملِ صالح آخرت کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی کام یابی کے لیے ضروری ہے۔ دنیا و آخرت کی کام یابی کو قرآن مجید نے جن اوصاف کے ساتھ مشروط کیا ہے، اُن میں ایک اہم اور بنیادی صفت ’تقویٰ ‘ بھی ہے۔ عملِ صالح جہاں مثبت،تعمیری اور اللہ کی پسندیدہ سرگرمیوں پر مبنی مزاج کا نام ہے وہیں تقویٰ، ہر طرح کی برائیوں، اللہ کو ناپسند اور اس کے غضب کو دعوت دینے والے رجحانات و اعمال سے دامن کو بچائے رکھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ دونوں سے مل کر وہ اجتماعی رویہ تشکیل پاتا ہے جو کام یابی کا ضامن ہوتا ہے۔

تقویٰ کے دنیوی فائدے

تقویٰ کا اصل انعام اللہ کی رضا اور آخرت کی فوز و فلاح ہے اور یہی بندہ مومن کا اصل مقصود بھی ہونا چاہیے۔ تاہم تقویٰ کے اخروی فائدوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید، اُس کے دنیوی فائدے بھی بیان کرتا ہے اور اس دنیا میں اہل ایمان کی کام یابی و سربلندی کے لیے تقویٰ کو ضروری قرار دیتا ہے۔ تقویٰ کے دنیوی فائدوں کا تذکرہ، قرآن مجید میں کئی جگہوں پر اور متعدد اسالیب میں آیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ساتھ اور اس کی نصرت

قرآن کہتا ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی معیت اور حمایت و نصرت تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ (بے شک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے تقوی اختیار کیا اور جو خوب کار ہیں۔النحل 128) مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت تقویٰ و احسان کے ساتھ مشروط ہے۔ [1] علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ بندوں کے ساتھ اللہ کی معیت کی دو سطحیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو دیکھ رہا ہے، اُن کو سن رہا ہے اور اُن کے احوال سے باخبر ہے۔ یہ معیت عام ہے۔ جب کہ دوسری معیت تائید، نصرت اور مدد والی معیت ہے جو اہل تقویٰ اور اہل احسان کے لیے خاص ہے۔[2] سورہ آل عمران میں جہاں جنگ کے دوران، فرشتوں کے لشکروں کے ذریعے، اللہ کی مدد و نصرت کا ذکر ہے وہاں وضاحت سے یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ کی یہ خصوصی مدد، تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ بَلٰۤى اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ. (( اے مسلمانو !) اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ کی روش پر رہو گے اور وہ فوری طور پر تم پر حملہ آور ہوجائیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعے سے جو نشان زدہ گھوڑوں پر آئیں گے۔ آل عمران 125)

کام یابی اور غلبہ و عروج

اس دنیا میں اہل ایمان کا غلبہ اور عروج اسی وقت ممکن ہے جب وہ تقویٰ کا راستہ اختیار کریں گے۔ بنی اسرائیل کی سیاسی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زبانی کہلوایا گیا: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (اہل ایمان) سے کہا کہ اب تم لوگ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ یقیناً یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اُس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری کام یابی تو تقویٰ والوں کے لیے ہی ہے۔ اعراف 128) سیدنا یوسف علیہ السلام مصر کے تخت پر متمکن ہوئے اور اس کے بعد اپنے بھائیوں سے ملاقات کی تو اپنی اس عظیم الشان کام یابی کو انھوں نے تقویٰ اور صبر کا نتیجہ قرار دیا۔ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ (ہاں! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ یوسف 90) مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس آیت کریمہ کو اس ’’ساری سرگزشت کی روح‘‘ اور اس ’’سورہ کا عمود‘‘ قرار دیا ہے۔[3]

بصیرت، اچھے برے کی تمیز اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت

بصیرت اور صائب فیصلہ کرنے کی صلاحیت اس دنیا میں کام یابی و کامرانی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔ یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ یجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کروگے تو اللہ تمھیں قوت تمیز عطا کرے گا۔ الانفال 29) علامہ رشید رضاؒ نے ’فرقان‘ کی بڑی خوب صورت تشریح کی ہے۔ اُن کے مطابق فرقان کا مطلب حق و باطل، نفع و ضرر، نور و ظلمت، حجت و شبہ اور خیر و شر کے درمیان امتیاز کرنے کی بصیرت ہے۔ فرقان، تقویٰ کا ثمر ہے۔ یعنی تقویٰ سے علم و حکمت کا ایسا ملکہ پیدا ہوتا ہے جو صحیح فہم اور درست فیصلے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے۔ یہ بصیرت صرف علم و فکر تک محدود نہیں ہوتی بلکہ علامہ موصوفؒ نے ایک اصطلاح ’’الفرقان العملی‘‘ کا استعمال کیا ہے یعنی عملی معاملات میں نفع بخش و نقصان دہ، عدل و ظلم اور صحیح و غلط کے درمیان درست انتخاب اور عملی فیصلے کی صلاحیت جو تقویٰ کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ [4] اس طرح تقویٰ فرد اور معاشرے کو بصیرت، حکمت، قوتِ فیصلہ اور مؤثر عملی اقدام کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں فرقان سے مفسرین نے غلبہ و عروج اور فتح کا اشارہ بھی مراد لیا ہے۔[5] اس لیے کہ ان نعمتوں کا گہرا تعلق بہتر فیصلے کی صلاحیت سے ہے۔

معاملات میں اور کاموں میں آسانی اور سہولت

قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات پر مختلف دنیوی چیلنجوں کے حوالے سے یہ وضاحت آئی ہے کہ تقویٰ کا رویہ بالآخر مشکلات اور چیلنجوں کو آسان کرتا ہے۔ سورہ طلاق میں معاشرتی مسائل کے تذکرے کے دوران کہا گیا ہے۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا (اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اس کے کاموں میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔ الطلاق 4) ایک اور جگہ نیکی کی مشکل راہ کو آسانی میں بدلنے کا نسخہ بتایا گیا ہے: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی (پس جس نے (اللہ کے لیے اپنا مال) دیا اور تقویٰ کی راہ اختیار کی اور (اللہ کی طرف سے) اچھے بدلے پر یقین رکھا تو ہم عنقریب اس کے لیے تنگی کی راہ کو آسان بنا دیں گے۔سورہ الیل5-7) سید قطبؒ نے اس کی بڑی ایمان افروز تشریح فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’اور جس کے لیے اللہ آسانی کے راستے کو ہم وار کرتا ہے، وہ بالآخر (اپنی منزل مراد تک) پہنچ جاتا ہے۔ عافیت اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل کرلیتا ہے۔ اس زمین پر رہتے ہوئے بھی سب کچھ پالیتا ہے۔ اس کی زندگی مطمئن اور آسودہ ہوجاتی ہے۔ اس کی ذات پورے ماحول کے لیے آسانی اور سہولت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ اس کے اٹھنے والے قدموں میں سکون و طمانیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے راستے سہل اور سہولت بخش ہوجاتے ہیں۔ اس کی زندگی کے تمام معاملات میں کشادگی و فراخی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے معاملات خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، ان کے ہر پہلو میں اسے راحت بخش توفیق عطا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو اپنے دامن میں زندگی کی ہر خوبی سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ عام انسان کو بھی رسول اللہﷺ کے لیے ان کے رب کے مقرر کردہ اِس وعدۂ الٰہی کی راہ سے ہم آہنگ کر دیتا ہے: وَنُیسِّرُكَ لِلْیسْرَى ’’اور ہم آپ کے لیے آسانی کی راہ ہم وار کر دیں گے۔‘‘[6]

معاشی آسودگی، خوش حالی اور برکت

اللہ تعالیٰ نے معاشی آسودگی اور خوش حالی کو بھی تقویٰ کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے۔ وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ (اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ اعراف 96) مفسرین نے اس کا مطلب یہی بیان کیا ہے کہ تقویٰ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بارش اور فصلوں کی افزائش کے ذریعے مدد فرماتا ہے جو خوش حالی اور معاشی آسودگی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں:

’’آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی بھلائی ہر طرف سے ان کے لیے کھول دیتے، آسمان سے پانی ضرورت کے مطابق وقت پر برستا۔ زمین سے ہر چیز خواہش کے مطابق پیدا ہوتی۔ پھر ان چیزوں سے نفع اٹھانے اور راحت حاصل کرنے کے سامان جمع کردیئے جاتے کہ کوئی پریشانی اور فکر لاحق نہ ہوتی جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی نعمت مکدر ہوجاتی ہے ہر چیز میں برکت یعنی زیادتی ہوتی۔‘‘[7]

سورہ طلاق کی محولہ بالا آیت میں بھی رزق کی فراوانی کا ذکر ہے۔ وَمَن یتَّقِ اللَّهَ یجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔ وَیرْزُقْهُ مِنْ حَیثُ لَا یحْتَسِبُ (اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔ اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ الطلاق 2-3)

مشکلات اور پریشانیوں سے نجات

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَن یتَّقِ اللَّهَ یجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا(جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔ الطلاق 2) یہ آیت اگرچہ احکام طلاق کے سیاق میں آئی ہے لیکن مفسرین نے شان نزول سے متعلق روایات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات لکھی ہے کہ اس میں بیان کیا گیا اصول عام ہے[8]۔ یعنی اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ہر اُس چیز سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے جو اس کے لیے تنگی اور پریشانی کا باعث ہو اور جو شخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا، وہ ہر طرح کی سختی اور مشکل میں مبتلا ہوجاتا ہے۔[9]

دشمنوں کی سازشوں کی ناکامی اور ان کے ضرر سے حفاظت

اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی سازشوں اور مکر وفریب سے مقابلے کا موثر ترین طریقہ بھی یہی بتایا ہے کہ صبر و تقویٰ کی روش اختیار کی جائے۔ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا (اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ آل عمران 120) امام رازیؒ ایک اہم نکتہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آیت میں شَیۡـًٔا (کچھ بھی) کا لفظ نکرہ کے صیغے میں آ کر عموم پیدا کرتا ہے، یعنی دشمن کی سازش کا کوئی بھی پہلو، خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، مومن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔[10]

ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی دنیوی فلاح کے تمام مظاہر کا تعلق جس طرح عمل صالح سے ہے، اسی طرح تقویٰ سے بھی ہے۔ تقویٰ ہی کے نتیجے میں دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ اور اس کی مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے۔ کام یابی اور غلبہ و عروج نصیب ہوتا ہے۔ دشمنوں کی سازشیں اور چال بازیاں ناکام ہوتی ہیں۔ مشکلات اور چیلنجوں سے نکلنے کے راستے میسر آتے ہیں۔ نیک اور جائز مقاصد میں سہولت اور آسانیاں فراہم ہوتی ہیں اور رزق کے دروازے اور برکتوں کے دہانے کھل جاتے ہیں۔ گویا سیاسی، معاشی، معاشرتی، عسکری اور تمدنی، ہر طرح کی کام یابیوں و کامرانیوں کی راہیں ہم وار ہوجاتی ہیں۔

تقویٰ کا مفہوم

تقویٰ کا لفظ ’وقی‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’بچانے‘ کے ہیں۔ اسی سے ’وقایہ‘ بنا ہے یعنی وہ ڈھال جس سے خود کو حملوں سے بچایا جاسکے۔ امام راغب اصفہانیؒ تقویٰ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ تقویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس چیز سے بچائے رکھےجس سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ یہی اس کی اصل حقیقت ہے۔ پھر کبھی ڈر کو ’تقویٰ‘ کہا جاتا ہے اور کبھی تقویٰ کو ’ڈر‘، کیوں کہ )عربی میں( کبھی کسی چیز کے نتیجے کو خود اس چیز کے نام سے، اور کبھی سبب کو اس کے نتیجے کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ان کاموں سے محفوظ رکھے جو گناہ کا سبب بنتے ہیں، اور یہ ممنوعات کو چھوڑنے سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر اس کی تکمیل اس بات سے ہوتی ہے کہ بعض مباح چیزوں کو بھی(احتیاط اور گناہ سے بچنے کی خاطر) ترک کر دیا جائے۔‘‘[11]

مولانا امین احسن اصلاحیؒ، قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں تقویٰ کے مختلف معنوں کی وضاحت کے بعد اس کی جامع تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’خدا کے حدود کو توڑنے، اس کی امانتوں میں خیانت کرنے اور اس کے عہد کی بے حرمتی کرنے سے، اس کے برے نتائج اور خدا کے غضب کے اندیشے کی بنا پربچنا۔‘‘[12]

مولانا اصلاحیؒ نے تقویٰ کو گاڑی کے بریک سے تشبیہ دی ہے۔[13] جس طرح تیز رفتار گاڑی میں بریک کا کام حادثات سے حفاظت ہے، تقویٰ کا کام بھی ہر طرح کے نقصان سے شخصیت کو محفوظ رکھنا ہے۔ گذشتہ قسط کے مبحث کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک بندہ مومن کی شخصیت میں عمل صالح کی حیثیت گاڑی کے ایکسلریٹر (accelerator)کی ہے جو اسے تیزی سے فلاح و کامرانی کی منزل کی طرف آگے بڑھاتا ہے اور ہمارے خیال میں، تقویٰ کی حیثیت بریک کی بھی ہے اور اسٹیرنگ کی بھی۔ اسٹیرنگ جو سفر کو ٹھیک راستے پر رکھتا ہے اور ادھر ادھر ہونے نہیں دیتا اور بریک، جو سفر کے دوران مہلک حادثات اور نقصانات سے بچائے رکھتا ہے۔ گاڑی کو منزل پر پہنچانے کے لیے ایکسلریٹر کا اچھا ہونا بھی ضروری ہے اور اسٹیرنگ اور بریک کا کارگر ہونا بھی۔ بریک اور اسٹیرنگ کے ساتھ ہر لحظہ نہایت چوکس رشتے کے بغیر نہ صرف یہ کہ منزل تک رسائی ممکن نہیں ہے بلکہ حادثات کا پیش آنا بھی یقینی ہے۔

علامہ ابن قیمؒ تقویٰ کے تین درجات بیان کرتے ہیں:

’’تقویٰ کے تین مراتب ہیں: (1) دل اور اعضا کو گناہوں اور حرام کاموں سے بچانا (2) انھیں مکروہ امور سے بھی محفوظ رکھنا اور (3) انھیں فضول، لایعنی اور غیر ضروری مشاغل سے پاک رکھنا۔‘‘[14]

علامہ ابن قیمؒ کی اس تعریف میں تقویٰ صرف احکام کی تعمیل اور ممنوعات سے پرہیز (do’s and don’ts)تک محدود نہیں ہے بلکہ مقصد سے گہری وابستگی کے ساتھ شعور کی ایک خاص کیفیت اور حساس طبیعت کانام ہے۔ اس کیفیت کے نتیجے میں جہاں بندہ واضح ممنوعات سے بچا رہتا ہے وہیں ایسی فضول مصروفیات سے بچنے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے جو اس کے مقصد کے لیے مفید نہ ہوں۔ اس کی طبعیت صرف ممنوعات ہی سے پرہیز نہیں کرتی بلکہ ہر لایعنی اور بے فیض مصروفیت سے بھی وقت اور توانائی کو بچائے رکھنے کے لیے حساس ہوجاتی ہے۔

گویا تقویٰ کا مطلب اصول پسندانہ زندگی ہے۔ زندگی گزارنے کا ایک ڈھب یہ ہے کہ زندگی کو حالات کے حوالے کردیا جائے۔ چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ رجحانات (trends)، چلن (fashion)، لوگوں کی پسند ناپسند اور عزت و اسٹیٹس کے معیارات اور اس طرح کی دیگر بیرونی طاقتیں زندگی پر حکمراں ہوجائیں۔ ایک اور ڈھب یہ ہے کہ زندگی کو خواہشاتِ نفس اور مفادات کے حوالے کردیا جائے۔ اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ(کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ الفرقان 43)جس عمل اوراقدام میں بھی نفس کی تسکین ہو اور مفاد نظر آئے اُسے اختیار کیا جائے۔ یہ دونوں راستے غیر متقیانہ زندگی کے تباہ کن راستے ہیں۔ تقویٰ یہ ہے کہ زندگی کو اللہ کی مرضی کے حوالے کیا جائے۔ زندگی پر اصل حکم رانی اُن اصولوں کی ہو جو اللہ نے دیے ہیں۔ ہر فیصلے، ہر اقدام، ہر عمل اور ہر چوائس سے پہلے یہ پیش نظر ہو کہ اللہ کی مرضی کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تھا کہ اَلتَّقْوَى هَاهُنَا[15] (تقویٰ تو یہاں ہوتا ہے)۔ گویا تقویٰ ایک شعوری کیفیت کا نام ہے۔ اس کا مفہوم چند ظاہری اعمال یا حلیے بشرے تک محدود نہیں ہے بلکہ تقویٰ اصلاً دل و دماغ کی بیداری، حضوری اور چوکسی کی کیفیت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر دم خیال، ہر لحظہ اس کے وجود کا ایسا گہرا شعور کہ ہر قدم، ہر ارادے بلکہ ہر خیال سے پہلے اُس کی پسند و ناپسند کا لحاظ ہو۔ خدا کا یہ گہرا شعور ایک بندہ مومن کے لیے ہر لمحہ ایک اخلاقی قطب نما (moral compass)کا کام کرتا ہے۔ ایک ایسا قطب نما جو زندگی کی تمام مصروفیات، سرگرمیوں، اعمال، فیصلوں، افکار، تعلقات و تعاملات میں رہ نمائی کرنے لگتا ہے۔ ایک عربی مصنف نے تقویٰ کے لیے ایک بڑی معنی خیز تعبیر الحصانۃ الاخلاقیہ [16](اخلاقی قوت مدافعت [ethical immunity]) استعمال کی ہے یعنی جس طرح کسی وائرس یا بیکٹیریا کے حملے پر جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہوجاتا ہے اور اس کا مقابلہ کرتا ہے، تقویٰ کے نتیجے میں بندہ مومن کا مزاج ہر طرح کے اخلاقی و روحانی جراثیم کے لیے حساس ہوجاتا ہے۔ وہ ان اخلاقی وروحانی جرثوموں کے ہر حملے کی مدافعت کرتا ہے اور انھیں شخصیت کے اندر نفوذ (infect)کرنے نہیں دیتا۔

قرآن مجید نے جہاں بھی احکام بیان کیے ہیں یا عملی ہدایات دی ہیں وہاں اکثر تقویٰ کا ذکر اور یاددہانی ضرور کرائی ہے۔ مثلاً یہ جدول ملاحظہ ہو:

یہ مکمل فہرست نہیں ہے بلکہ بطور نمونہ، مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق ہدایات پر مبنی چند آیات پیش کی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے ہر حکم اور اسلامی نظام زندگی کے ہر رکن کے ساتھ تقویٰ کو وابستہ کیا ہے۔ یعنی تقویٰ کوئی جداگانہ روحانی آئیڈیل نہیں ہے بلکہ شریعت کے ہر حکم کی روح ہے۔ ہر عمل کا مقصد بھی ہے، اُس کی پشت پر کارفرما اصل قوت محرکہ بھی ہے اور عمل کے معیار کی اصل کسوٹی بھی ہے۔

اجتماعی تقویٰ

اجتماعی تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ یہ حساس اور احتیاط پسند رویہ پوری قوم میں سرایت کرجائے اور قوم کا اجتماعی رویہ بن جائے۔ ذاتی امور ومعاملات کے ساتھ ساتھ، تعلقات، معاشرت، معاملات، سیاست، نظم و انصرام وغیرہ جیسے امور میں بھی ساری قوم کے اندر اللہ کے احکام کے تئیں حساسیت پیدا ہوجائے۔ تمام اجتماعی معاملات میں گہرا اخلاقی شعور پوری قوم کے لیے اصل رہ نما قوت بن جائے اور تقویٰ امت کی اجتماعی شناخت، اس کی اساسی قدر(core value) اور اس کے تمام اجتماعی فیصلوں اور اقدامات کی اصل اساس بن جائے۔

تقویٰ کا محل بلاشبہ فرد کا باطن اور اس کا ارادہ ہے لیکن قرآن مجید نے اُسے انفرادی کیفیت تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کا بھی اسے اساسی اصول قرار دیا ہے۔ یعنی جس طرح یہ مطلوب ہے کہ افراد متقی ہوں اسی طرح یہ بھی مطلوب ہے کہ انسانی معاشرے، ملتیں اور جماعتیں بھی اجتماعی طور پر متقی ہوں۔ اوپر جن آیتوں میں تقویٰ کے دنیوی فائدے گنائے گئے ہیں ان میں سے اکثر میں قوموں کو اجتماعی طور پر مخاطب کیا گیا ہے یعنی ان کا تعلق اجتماعی تقویٰ سے ہے۔ ایک محقق نے آیات تقویٰ کا تفصیلی لسانیاتی اور شماریاتی جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق قرآن مجید میں تقویٰ کا ذکر257جگہوں پر آیا ہے۔ ان میں افراد سے متعلق صیغے تیس سے زیادہ نہیں ہیں۔ تقویٰ کے ذکر میں جمع کے صیغوں کا غلبہ ہے یعنی زیادہ تر اجتماعیت کو مخاطب کرکے تقویٰ کی تلقین کی گئی ہے۔ ان کے مطابق قرآن تقویٰ کو اجتماعی زندگی کی مشترک مسؤلیت کے طور پر ( ’مسؤولیة مشتركة فی حیاة الجماعة‘) بھی پیش کرتا ہے۔[17] اجتماعی تقویٰ کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کے مظاہر کیا ہیں؟ درج ذیل نکات سے ان کی وضاحت ہوگی۔

اجتماعی زندگی کی اساس تقویٰ ہو۔

خاندان، معاشرہ، ریاست، معیشت، سیاست، عالمی تعلقات وغیرہ اجتماعی زندگی کے مختلف شعبے ہیں۔ اجتماعی تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام کے اصول وآداب، قوانین، رسوم و رواج، معمولات، معاہدوں وغیرہ کی اساس تقویٰ ہو۔ اوپر کے جدول میں جو چند مثالیں درج کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید تقویٰ کی اساس پر ان سب کی تعمیر نو چاہتا ہے۔ تقویٰ کے تعلق سے محولہ بالا مشہور حدیث التقویٰ ھھنا کا مکمل متن اس طرح ہے۔

لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا یبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَیعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یظْلِمُهُ، وَلَا یخْذُلُهُ، وَلَا یحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا، وَیشِیرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ. كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ، حَرَامٌ دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ[18]

(ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور آپس میں بھائی بھائی ہوکر اللہ کے بندے بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے. اور آپؐ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا، (پھر فرمایا:) کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔)

اس مبارک حدیث میں انسانی تعلقات کے آداب کو تقویٰ کا اصل مظہر قرار دیا گیا ہے۔ یعنی حسد، بغض، قطع تعلق، تحقیر وغیرہ جیسے اعمال تقویٰ کی ضد ہیں اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان اعمال سے بچ کر رہا جائے۔ گویا متقی معاشرہ وہ ہے جو ان برائیوں سے بچا ہوا ہو اور جہاں خاندان، معاشرت، تعلقات، زبان و بیان، میڈیا و سوشل میڈیا، سیاست و معیشت، ہر شعبے میں اللہ کے احکام کے سلسلے میں توجہ پائی جائے اور پورا معاشرہ ان کے سلسلے میں محتاط اور حساس ہو۔

سماجی معمولات اجتماعی تقویٰ کے اہم مظاہر ہیں

سماجی معمولات (social norms) معاشروں کے اجتماعی رویوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اجتماعی تقویٰ کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان معمولات کی تشکیل میں تقویٰ اصل عامل بنے۔ شریعت جن چیزوں کو ناپسند کرتی ہے، معاشرہ بھی اجتماعی طور پر اُن کو ناپسند کرے۔ شریعت میں جس عمل کے لیے جتنی ناپسندیدگی ہے معاشرے کے پاس بھی اس کے لیے اجتماعی ناپسندیدگی (disapproval)کی وہی سطح ہو۔[19] یعنی مثلاً جو ناگواری اور کراہیت مسلمان معاشرے میں اجتماعی طور پر، سور کے گوشت کے لیے پائی جاتی ہے وہی رشوت اور مال حرام کے لیے بھی ہو۔

مختلف تہذیبوں اور اخلاقی نظاموں کے درمیان جو اختلاف ہوتا ہے، اس کی ایک بنیاد تو ان کی اقدار ہوتی ہیں اور دوسرا فرق، اُس طریقۂ کار (methodology) اور کارروائی (process) کے حوالے سے بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی اقدار کو افراد اور معاشرے میں نافذ کرتے ہیں۔

عام طور پر تین بڑی قوتوں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی تنفیذ ہوتی ہے۔ ایک، ریاستوں کے قوانین اور اُن کی قوتِ قاہرہ (coercive power)؛ دوم، معاشرتی اقدار، رسوم و رواج، سماجی معمولات (social norms) اور ان سے پیدا ہونے والا سماجی دباؤ اور سوم، فرد کی اپنی اخلاقی حس اور اس کے ضمیر کی اندرونی طاقت۔ اسلام نے ان تینوں قوتوں کی کارفرمائی کا اہتمام ضرور کیا ہے لیکن اصل قوت جسے کارفرما بنایا ہے وہ تقویٰ کی قوت ہے۔ یہ تینوں قوتیں بھی تقویٰ کے تابع ہوکر زیادہ موثرہوجاتی ہیں اور ان کے علاوہ تقویٰ، اصل قوت محرکہ کے طور پر اخلاق کی چوکس اور ہمہ دم نگرانی کا کام کرنے لگتاہے۔ فرد کی اخلاقی حس اور اس کے ضمیر کو بیدار، فعال اور مستعد رکھنے کا کام تقویٰ کرتا ہے۔ اسی طرح معاشروں کے صالح رواج و معمولات اور حکومتوں کے اخلاقی قوانین کو بھی تقویٰ کہیں زیادہ موثر طریقے سے نافذ کرتا ہے۔ تقویٰ کے نتیجے میں اخلاقی رویوں کی پابندی کرانے اور اصولوں کو نافذ کرانے کا کام محض بیرونی سطح پر نہیں رہ جاتا بلکہ افراد کے اندر بھی اور معاشرے کے اندر بھی نفاذ و نگہبانی کا مستقل خود کار نظام فعال ہوجاتا ہے۔

تمدن کی تعمیر و تشکیل کا ایک مختلف پیراڈائم

تقویٰ تمدن کی تعمیر و تشکیل کا ایک بالکل جداگانہ پیراڈائم تشکیل دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زندگی کے ہر شعبے میں اہل تقویٰ کی بنیادی ترجیحات اور ان کے فیصلوں کی بنیاد بننے والا مرکزی سوال عام انسانوں سے مختلف ہوجاتا ہے۔ مثلاً ساری دنیا میں معیشت و تجارت کا بنیادی سوال یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’’زیادہ منافع کس میں ہے؟‘‘ متقیانہ معیشت کا اصل سوال ہوتا ہے:‘‘کون سی معاشی سرگرمی اللہ کے بندوں کو زیادہ فائدہ پہنچاسکتی ہے اور خدا کو زیادہ خوش کرسکتی ہے؟‘‘ سیاست کا سوال ہوتا ہے: ’’ممکن (possible)کیا ہے؟‘‘ تقویٰ اس سوال کو اس طرح بدل دیتا ہے:‘‘کون سی پالیسی معاشرے کو خیر و صلاح سے قریب تر اور شر و فساد سے بعید تر لے جاسکتی ہے؟‘‘ ٹکنالوجی کا اصل سوال ہوتا ہے: ’’ہم کیا کرسکتے ہیں؟‘‘ تقویٰ پر مبنی ٹکنالوجی کا سوال ہوگا: ’’ہمیں (خدا کی خلافت اور اس کے بندوں کی متقیانہ خدمت کے لیے) کیا کرنا چاہیے؟‘‘ تقوی پر مبنی علم صرف تجسس کی تسکین یا مالی منفعت کے محرک کے تحت وجود میں نہیں آتا بلکہ علمِ نافع کی افزائش اس کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ تقویٰ کے ماحول میں فروغ پانے والے ذرائع ابلاغ، ہر طرح کی معلومات کی ترسیل، لوگوں کی کردار کشی اور مال دار و باحیثیت لوگوں کے مفادات کی تکمیل میں مصروف نہیں ہوتے بلکہ سچائی، خیر اور شعور کے فروغ کے اعلیٰ مقاصد کے تحت کام کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، جیسا کہ اوپر کے جدول میں واضح کیا گیا ہے، قرآن ہر شعبۂ زندگی کے بنیادی اصولوں کو تقویٰ سے جوڑ کر ان کی صورت گری کرتا ہے۔

جدید معاشرے انسانی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں بلکہ آزادی ان معاشروں کی بنیادی قدر ہے۔ اسلام نے بھی فرد کی آزادی کو بڑی اہمیت دی ہے لیکن اسلامی معاشرے کی اساسی قدر بر و تقویٰ ہے اس لیے آزادی بھی اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ بر و تقویٰ کا تصور احساس ذمے داری پیدا کرتا ہے۔ معاشرے کے تمام عناصر اپنی آزادی کا احساس رکھتے ہیں لیکن اس آزادی کو وہ ذمے داری کے ساتھ برتنے لگتے ہیں۔ دولت مند افراد اپنی دولت کا استعمال کرتے ہوئے یہ احساس رکھتے ہیں کہ وفی أموالهم حق للسائل والمحروم (ان کے اموال میں سائل اور محروم کا بھی حق ہے)۔ لباس اور طرزِ حیات سے متعلق معاملات میں عفت و حیا کی اسلامی قدر ان کی آزادی کو ایک خاص حد کے اندر رکھتی ہے۔ عہدہ و اختیار رکھنے والے افراد اپنے اختیارات کے استعمال کے سلسلے میں صرف قانون کے پابند نہیں ہوتے یا صرف منتخب یا مقرر کرنے والے بالاتر ذمے داروں یا رائے دہندوں تک ان کی جواب دہی محدود نہیں ہوتی، بلکہ اصلاً وہ حاضر و ناظر خدا کے سامنے خود کو جواب دہ سمجھتے ہیں اور ہر اختیار کے استعمال کے سلسلے میں محتاط اور حساس ہوجاتے ہیں۔

مساوات انسانی اور میرٹ کی قدر

تقوی کو قرآن مجید نے انسانی تکریم کی اصل بنیاد قرار دیا ہے۔ یا أَیهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ(اے لوگو ! ہم نے تمھیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمھیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ یقینا تم میں سب سے زیادہ با عزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔ الحجرات 49) اس آیت کریمہ میں ایک طرف وحدت انسانی کا اصول بیان ہوا ہے جو رنگ، نسل، ذات پات، قوم، قبیلہ، زبان وغیرہ کے تمام تعصبات کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد کی حیثیت سے خونی رشتے میں باندھ دیتا ہے اور دوسری طرف تقویٰ کو عزت و تکریم کا اصل معیار قرار دیتا ہے۔ اس سے بھی اجتماعی تقویٰ کا ایک اہم مظہر سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو تعصبات سے مکمل پاک ہو، جہاں لوگوں کی عزت مظاہر تقویٰ کی بنیاد پر کی جاتی ہو، جہاں میرٹ کی قدر ہوتی ہو اور بجائے دولت، اثر و رسوخ، عہدہ، ’خانوادے‘ اور ذات پات و رنگ و نسل کے کردار اور اہلیت کی بنیاد پر لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہو۔

اتحاد و تعاون باہمی کی بنیاد

قرآن مجید انسانوں کے درمیان تعلق، تعامل، اور تعاون باہمی کے لیے بھی تقویٰ کو ایک اہم اساس بناتا ہے۔ یہ بھی اجتماعی تقویٰ کا ایک اہم مظہر ہے۔ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ (اور تم نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو اور گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ المائدۃ 2) اس آیت میں عمل صالح اور تقویٰ دونوں کا ذکر ہے۔ علامہ طبریؒ فرماتے ہیں کہ بر کا مطلب مطلوب اعمال (یا عمل صالح ) ہے اور تقویٰ کا مطلب ممنوعات سے پرہیز ہے۔[20] قرآن کا مقصود ہے کہ مسلم معاشرے میں یہ دونوں کیفیات متعدی ہوجائیں۔ معاشرے کے تمام عناصر نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوجائیں، ایک دوسرے کو خیر کے کاموں میں آگے بڑھائیں اور ایک دوسرے کو گناہ اور زیادتی سے روکیں۔

علامہ قرطبیؒ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عالم اپنے علم سے، مال دار اپنے مال سے اور صاحبِ قوت اپنی قوت سے نیکی وتقویٰ میں مدد کرے۔ اس طرح کہ سب مسلمان مل کر ایک ہاتھ بن جائیں جس سے بر و تقویٰ کا فروغ ہوتا رہے۔ وَأَنْ یكُونَ الْمُسْلِمُونَ مُتَظَاهِرِینَ كَالْیدِ الْوَاحِدَةِ۔[21] گویا معاشرے کے مختلف افراد اور طبقات کی قوتیں، وسائل، صلاحیتیں اور تخصصات، بر و تقویٰ کے لیے مرکوز و مربوط ہوں اور بھرپور اجتماعی قوت کے ذریعے بر و تقویٰ کا فروغ ہو۔ علامہ ابن عاشورؒ اس تعاون کے اجتماعی ثمرات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے خیر و تقویٰ کا طرزِ عمل پوری امت کا ’خُلق‘ بن جاتا ہے۔[22]

اجتماعی اداروں کی اساس

قرآن مجید نے سورہ توبہ میں مسجد ضرار کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک مسجد تھی اور ظاہری طور پر نماز کے نیک مقصد کے نام سے قائم ہوئی تھی لیکن قرآن نے اس کی مذمت کی اور آپؐ کو اس میں نمازکی ادائیگی سے منع فرمایا: لَا تَقُمْ فِیهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ یوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِیهِ (آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہونا، یقیناًوہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پررکھی گئی ہے وہی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ توبہ 108) اگرچہ ان آیات میں دور نبوت کے ایک خاص واقعے کی طرف اشارہ ہے لیکن علما نے اس سے یہ عام اصول بھی اخذ کیا ہے کہ ہر وہ مسجد جو غلط نیت کے ساتھ اور فاسد مقاصد کے لیے بنائی گئی ہووہ مسجد ضرار کے حکم ہی میں ہے۔[23]

مسجد اسلامی معاشرے کا بنیادی ادارہ ہے جس میں اصلاً اللہ کی عبادت اور نماز جیسا پاک اور مقدس عمل انجام پاتا ہے۔ مقصد اور نیت کی کھوٹ ایسے ادارے کو نامطلوب وناپسندیدہ بناسکتی ہے تو دوسرے اداروں اور اجتماعی ہئیتوں کے سلسلے میں تو اس اصول کا اطلاق اور زیادہ شدت سے ہونا چاہیے۔ اس سے اجتماعی تقویٰ کا ایک اور اہم اصول معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں اداروں کی اساس تقویٰ پر ہونی چاہیے۔ یعنی اداروں کے مادی، افادی اور انتظامی پہلوؤں سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اُن کی قدریں اور ان کی بنیاد میں موجود جذبے اور نیتیں صالح ہوں۔ مدارس وتعلیمی ادارے، معاشی و مالیاتی ادارے، دینی جماعتیں، سیاسی و سماجی تنظیمیں، ان سب کا ظاہری طور پر درست ہونا کافی نہیں ہے بلکہ نیتوں کا خالص ہونا اور تمام معاملات میں اُن کا اللہ کے احکام کا پابند ہونا ضروری ہے۔ ایک سوڈانی محقق نے ان آیات کی تفاسیر کے حوالوں سے پانچ باتوں کی نشان دہی کی ہے جن کی موجودگی کسی ادارے کو مسجد ضرار کے مشابہ بنا دیتی ہے۔ مفادات حاصلہ کی خاطر اہل ایمان کے درمیان پھوٹ اور انتشار کے مقصد سے ادارے کا قیام، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے، اعتقادی یا عملی کفر کی ترویج کے لیے، نیت کا کھوٹ یعنی ظاہری مقصد تو بہت اچھا ہو لیکن اصل نیت کسی مفاد پرستانہ مقصد کی ہو اور ریا، نمود و نمائش اور نفاق کے محرک کے تحت قائم ادارے۔ [24]

معاشرتی تقویٰ کا ایک اہم مظہر یہ ہے کہ سماج کے اکثر ادارے (مساجد سمیت)ان شرائط کی تکمیل کرنے والے اورأُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ (تقویٰ کی اساس پر قائم) ہوں۔

اجتماعی خود اعتمادی

اجتماعی تقویٰ کی یہ کیفیت معاشروں کو ایک غیر معمولی تہذیبی خود اعتمادی (civilizational confidence)سے مالامال کردیتی ہے۔ ایک مشترک اخلاقی ذمے داری کا شعور انھیں آپس میں بھی اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے اور دیگر قوموں کے مقابلے میں بھی حوصلہ واعتماد اور نفسیاتی قوت فراہم کرتا ہے۔ اجتماعی نفسیات کے مشہور ماہر وکٹر فرینکل (Viktor Frankl)نے نیتشے کے حوالے سے کہا تھا کہ [25] ’He who has a why to live for can bear with almost any how‘ یعنی، جس کے پاس زندگی کے لیے کوئی ’کیوں‘ ہو وہ ہر طرح کی مشکل برداشت کرسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ معاشروں کو کیوں کا جواب فراہم کرتا ہے۔ یعنی اجتماعی زندگی کے لیے ایک اونچا مقصد اور آدرش فراہم کرتا ہے۔ اس سے قربانیوں، صبر، خدمت اور جدوجہد کے لیے معنویت مل جاتی ہے اور چیلنجوں کا سامنا کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے نفسیاتی طاقت میسر آتی ہے۔

اجتماعی تقویٰ اور امت کی موجودہ صورتِ حال

اس بحث سے ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی کا ایک اور اہم سبب نمایاں ہوجاتا ہے۔ اجتماعی تقویٰ کا بحران۔ افراد کے اندر تقویٰ ہے یا نہیں ہے، یہ اس وقت بحث کا موضوع نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تقوی، اُس قوت کی حیثیت سے باقی نہیں رہا جو ہماری اجتماعی زندگی اورحیات ملی کو سمت فراہم کرسکے اور اسے منظم کرسکے۔ فکر و شعور کی سطح پر بھی تقویٰ کا مطلب چند انفرادی اعمال تک محدود ہوگیا ہے جب کہ قرآن کا تقویٰ انسان کے باطن سے شروع ہوکر اس کے معاملات، تعلقات، معاشرت، حقوق، معاشی سرگرمی، سیاسی عمل، اجتماعی ذمہ داریوں، اداروں اور جماعتوں اور ملی پالیسی تک، پوری زندگی کو محیط ہے۔

یہ اجتماعی تقویٰ کا بحران ہی ہے کہ عبادات میں تو مکروہات تک کے سلسلے میں توجہ ہے، لیکن نکاح و طلاق، وراثت اور عائلی أمور میں صریح احکام کی خلاف ورزی پر کوئی بے چینی نہیں ہے۔ کھانے پینے اور لباس کے بعض امور کے سلسلے میں تو حساسیت موجود ہے لیکن صفائی اور پاکیزگی، وقت کی پابندی اور نظم و ضبط، ٹریفک قوانین اور راستوں کے احترام، عوامی ملکیت اور دوسروں کے حقوق کے لحاظ، کاروباری معاملات، زبان و قلم کے استعمال اور باہمی تعلقات جیسے دسیوں اجتماعی امور ہیں جن میں اللہ کے احکام کا خیال دین دار حلقوں میں بھی عنقا ہے۔ گالی گلوچ، معمولی باتوں پر جھگڑے، خاندانی تنازعات، حقوق کی پامالی اور سماجی بے حسی، اجتماعی تقویٰ کے اسی بحران کی علامتیں ہیں۔ ان امور سے متعلق احتیاطوں کو مظاہر تقویٰ میں شمار کرنے کا تصور ہی دھندلا گیا ہے۔ میڈیا اورسوشل میڈیا میں دین دار لوگوں کا طرز عمل بھی دوسروں سے ذرا مختلف نہیں ہے۔ غیر مصدقہ باتیں آگے بڑھانا، عزتوں کو مجروح کرنا، اشتعال انگیز مواد پھیلانا، وغیرہ جیسی باتوں کو بہت معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔

ہر جگہ فیملی کورٹ میں مسلمان مرد و خواتین کی کثرت نظر آتی ہے۔ خاندانوں کے تنازعات میں اللہ کے احکام کی طرف بہت کم رجوع ہوتا ہے۔ وراثت کی شرعی تقسیم کا رواج ہی باقی نہیں رہا۔ روایتی دین دار گھرانوں میں خواتین ابھی بھی اُن بہت سے حقوق سے محروم ہیں جو اسلام انھیں دیتا ہے۔ جن ’روشن خیال‘ گھرانوں میں خواتین کو حقوق حاصل ہیں وہ بھی دین اور شریعت کی پابندی میں کم اور جدید مغربی تہذیب کے اثر سے زیادہ ہیں۔ کہیں بیویاں مظالم کی شکار ہیں تو کہیں قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے شوہر مظالم کے شکار ہیں۔

دینی ادارے اور تنظیمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کے شکار ہیں۔ قیادتوں اور اداروں میں موروثیت یا شخصی تسلط، محض نمود و نمائش یا سماجی وقار کے لیے اداروں پر اداروں کا قیام، ادارے کے بیان کردہ مقصد سے زیادہ ذاتی نام و نمود، مفادات حاصلہ یا غیر معلنہ مذموم مقاصد کا غلبہ وغیرہ جیسی برائیاں ہماری حیات ملی کے امراض کہنہ بن چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ تعاونوا علی البر والتقویٰ، اجتماعی زندگی کے رہ نما اصول کے طور پر باقی نہیں رہتا۔ اجتماعی توانائی خیر و فلاح کے مقصد پر مرکوز ہونے کے بجائے، جماعتی اور ادارہ جاتی شناختوں کے درمیان کشمکش اور مفادات کے ٹکراؤ میں ضائع ہونے لگتی ہے۔

تقویٰ پر مبنی اجتماعی اور سیاسی زندگی بامقصد سیاست کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک ایسی سیاست جو ہماری دعوت اور قرآنی اصولوں کے تابع ہو۔ یہ اجتماعی تقویٰ کا بحران ہی ہے کہ سیاسی عمل کو اللہ کے احکام کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش بھی باقی نہیں رہی۔ دوسرے طبقات کی طرح مسلمانوں نے بھی مفادات کی کشاکش ہی کو سیاسی عمل سمجھ لیا ہے۔

یہ بحران صرف انفرادی اخلاقی کم زوریوں کا بحران نہیں ہے۔ بہت سے افراد ایک ہی طرح کی بے احتیاطی کو معمول بنالیں تو وہ بے احتیاطی اجتماعی ماحول کا جزو بن جاتی ہے۔ یہ اجتماعی ماحول پھر افراد کے رویوں کو مزید متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح جب ادارے باہمی تعاون کے بجائے رقابت، اشتراک کے بجائے تقسیم اور خیرِ عام کے بجائے محدود مفاد کے گرد منظم ہونے لگتے ہیں تو معاشرے کا پورا ڈھانچہ اپنے محور سے ہٹ کر ڈگمگانے لگتا ہے۔ اچھے کام کرنے والا تنہا ہوجاتا ہے، نئی کوششوں کو شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کام یابی حسد پیدا کرتی ہے اور ناکامی ملامت کا سبب بنتی ہے۔ شاید اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ مسلمانانِ ہند کا اجتماعی ماحول اسی بحران کا عکاس ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ تقویٰ کو صرف چند انفرادی اعمال اور مظاہر تک محدود سمجھنے کی سوچ بدلی جائے اور اجتماعی تقویٰ کی افزائش کو ملی ترجیحات میں اہم مقام ملے۔

حواشی و حوالہ جات

  1. مثلاً ملاحظہ ہو مفتی محمد شفیع، معارف القرآن؛ مکتبہ معارف القرآن کراچی؛ 2008؛ ج پنجم ص 435
  2. ابن کثیر؛ تفسیر القرآن العظیم (ابن کثیر) دار الكتب العلمیة، بیروت – لبنان 1998;؛ ج 4 ص 528
  3. مولانا امین احسن اصلاحیؒ؛ تدبر قرآن؛2009؛ فاران فاونڈیشن؛ لاہور؛ ج4، ص250
  4. محمد رشید بن علی رضا; تفسیر القرآن الحكیم (تفسیر المنار); الهیئة المصریة العامة للكتاب; 1990ج 9 ص538 (عربی سے ترجمہ)
  5. ملاحظہ ہو:
    مولانا امین احسن اصلاحی؛ تدبر قرآن؛2009؛ فاران فاونڈیشن؛ لاہور؛ ؛ ج3 ص 466
    – ابن کثیر؛ تفسیر القرآن العظیم (ابن کثیر) دار الكتب العلمیة، بیروت – لبنان1998؛ ج 4 ص 37
  6. سید قطب؛ فی ظلال القرآن؛ المجلد السادس؛ دارالشروق؛ بیروت؛1968ص 3922(عربی سے ترجمہ)
  7. مفتی محمد شفیع، معارف القرآن؛ مکتبہ معارف القرآن کراچی؛ 2008؛ ج چہارم ص 14-15
  8. مفتی محمد شفیع، معارف القرآن؛ مکتبہ معارف القرآن کراچی؛ 2008؛ ج ہشتم ص 487
  9. مثلاً ملاحظہ ہو: ابن الجوزی؛ زاد المسیر فی علم التفسیر، لمحقق: عبد الرزاق المهدی (؛دار الكتاب العربی – بیروت ج4 ص 298
  10. فخر الدین الرازی; التفسیر الكبیر ; دار إحیاء التراث العربی – بیروت ; ج8 ص 344
  11. الراغب الأصفهانی؛ المفردات فی غریب القرآن؛دار القلم، الدار الشامیة – دمشق بیروت؛ ص 881(عربی سے ترجمہ)
  12. مولانا امین احسن اصلاحی،حقیقت تقویٰ؛فاران فاونڈیشن؛ لاہور؛ 2013 ص13
  13. مولانا امین احسن اصلاحی،حقیقت تقویٰ؛فاران فاونڈیشن؛ لاہور؛ 2013 ص14
  14. (عربی سے ترجمہ) ابن قیم الجوزیة ؛ الفوائد؛ 1973؛ دار الكتب العلمیة – بیروت ص 31-32
  15. صحیح مسلم؛ کتاب البر والصلہ والآداب؛ حدیث 2564
  16. عبد الرحمن حللی;مفهوم التقوى والمنظومة الأخلاقیة القرآنیة: البنیة والسیاق ; Journal of Islamic Ethics 5 (2021) 1–29; Leiden, Netherlands
  17. حوالہ سابق
  18. صحیح مسلم؛ کتاب البر والصلہ والآداب؛ حدیث 2564
  19. سماجی معمولات اور مطلوب اصلاحات کے تعلق سے تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب
    سید سعادت اللہ حسینی؛ اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے؛ مرکزی مکتبہ پبلشرز؛ نئی دہلی ؛2021
  20. ابن جریر الطبری؛ جامع البیان عن تأویل القرآن 2001؛ دار هجر للطباعة والنشر والتوزیع والإعلان – القاهرةج 8ص53
  21. ابو عبد اللہ القرطبی؛ الجامع لأحكام القرآن؛ 1964؛ دار الكتب المصریة – القاهرة؛ ج 6ص47
  22. محمد الطاهر ابن عاشور؛ التحریر والتنویر؛الدار التونسیة للنشر – تونس (1984)ج 6ص88
  23. ابو عبد اللہ القرطبی؛ الجامع لأحكام القرآن؛ 1964؛ دار الكتب المصریة – القاهرة؛ ج 8ص254
  24. https://drsabrikhalil.wordpress.com/2013/09/؛retrieved on 16-08-2026
  25. Nietzsche, Friedrich. quoted in V.E. Frankl, Man’s Search for Meaning (Boston: Beacon Press, 2006), p. 104.

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

امت کی نشاۃ ثانیہ اور اجتماعی تقویٰ

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223