تکریم انسانیت اور اسلام

(2)

ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی

قرآن کہتا ہے:

إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہُ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْإِشْرَاقِ ۔ وَالطَّیْرَ مَحْشُورَۃً کُلٌّ لَّہُ أَوَّابٌ ۔               (صٓ۳۸: ۱۸۔۱۹)

’’ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیاتھا جو شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرندوں کو بھی،جھنڈ کےجھنڈ ۔ سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے‘‘۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم نے بیان کیا۔ اللہ نے اپنے فضل خاص سے ہوا پر انہیں تصرف بخشا۔ یہ ایسا تصرف تھا جو ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کی بحری قوت اپنے زمانے کی سب سے بڑی قوت تھی اور ان کا بادبانی نظام انتہائی ترقی یافتہ تھا۔ ان کے جہازہر قسم کے سمندروں میں لمبے لمبے سفر کرتے اور ان کے سفر میں نہ ہواکی کمی سے کوئی خلل پڑتا نہ اس کی شدت سے۔ وہ سخت سے سخت طوفانی ہوائوں کا کامیابی سے مقابلہ کرتے اور اپنا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے۔ ان کی بحری قوت اور کامیاب بادبانی نظام کے لئے قرآن نے ’’ تسخیر الریح‘‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی:

فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ رُخَاء  حَیْثُ أَصَابَ۔     (صٓ۳۸: ۳۶)

’’ہم نے مسخر کردیا اس کے لئے ہوا کو جو اس کے حکم سے سازگار ہوکر چلتی جہاں کہیں کا وہ قصد کرتا‘‘۔

اشرف تخلیق

انسان کے قابل تکریم ہونے کا چوتھا قرآنی حوالہ اس کی بہترین ساخت پر تخلیق ہے۔ اللہ نے اس کو وہ اعلیٰ درجے کا جسم عطا کیا ہے جو کسی دوسری جاندار مخلوق کو اس نے نہیں دیا۔ اسے فکروفہم اور علم وعقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیں اور نوع انسانی کے اس فضل وکمال کا سب سے زیادہ بلند نمونہ انبیاء علیہم السلام ہیں اور کسی مخلوق کے لئے اس سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے منصب نبوت عطا کرنے کے لئے منتخب فرمائے۔ اسی لئے انسان کی بہترین ساخت پر تخلیق ہونے کی شہادت میں سورہ والتین میں ان مقامات کی قسم کھائی گئی ہے جو خدا کے پیغمبروں سے نسبت رکھتے ہیں۔ فرمایا:

وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُونِ۔ وَطُورِ سِیْنِیْنَ۔ وَہَذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔      (والتین۹۵:  ۱۔۴)

’’قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا اور اس پر امن  شہر (مکہ) کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے‘‘۔

یہاں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجیر، زیتون، طور سینا اور مکہ کی قسم کیوںکھائی گئی ہے؟ اوراس قسم میں ان چیزوں کی اہمیت کیا ہے؟ مولانا مودودیؒ نے اس سیاق میں مفسرین کے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تین وزیتون سے مراد منا بت تین وزیتون ہے یعنی انجیر اور زیتون کے پیداوار کا علاقہ۔ یہ طریقہ اہل عرب میں رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتا ہو اس علاقے کو وہ بسا اوقات اس پھل کے نام سے موسوم کردیتے تھے۔ یہاں مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے کیونکہ اس زمانے کے اہل عرب میں یہی علاقہ انجیر اور زیتون کی پیداوار کے لئے مشہور تھا۔ ابن تیمیہؒ،ابن القیم ؒ، زمخشری ؒ اور آلوسی ؒ نے اسی تفسیر کو اختیارکیا ہے۔

مولانا مودودیؒ کہتے ہیں کہ شام و فلسطین ایسی جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک بکثرت انبیاء ؑ مبعوث ہوئے۔ کوہ طور وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا کی گئی ۔ رہا مکہ معظمہ تو اس کی بنیاد ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل ؑکے ہاتھوں پڑی۔ ان ہی کی بدولت وہ عرب کا مقدس ترین مرکزی شہر بنا۔ حضرت ابراہیم ؑ ہی نے یہ دعا مانگی تھی کہ اسے پُرامن اورمحفوظ شہر بنا دے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَہْلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُم بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن کَفَرَ فَأُمَتِّعُہُ قَلِیْلاً ثُمَّ أَضْطَرُّہُ إِلَی عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔                       (البقرہ۲: ۱۲۶)

’’اور ابراہیم ؑ نے دعا کی: ’’اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہرقسم کے پھلوں کا رزق دے‘‘۔ جواب میں اس کے رب نے فرمایا: ’’اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دو گاں، مگرآخرکار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں کا اور وہ بدترین ٹھکانا ہے‘‘۔

اسی دعا کی برکت تھی کہ عرب میں ہر طرف پھیلی ہوئی بدامنی کے درمیان صرف یہی ایک شہر ڈھائی ہزار سال سے امن کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ پس کلام کا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو ایسی بہترین ساخت پر بنایا کہ اس میں نبوت جیسے عظیم مرتبے کے حامل انسان پیدا ہوئے۔

بنی آدم کی تکریم

انسان کے افضل واشرف ہونے کا پانچواں حوالہ قرآن کریم میں بنی آدم کو بحیثیت انسان کے مکرم اور معزز بنایا جانا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلَی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً۔        (بنی اسرائیل۱۷: ۷۰)

’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کوبزرگی دی اور انہیں خشکی وتری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘۔

معرو ف اسلامی دانشور ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی (پیدائش ۱۹۳۱ء) ’مقاصد شریعت‘ میں سب سے اہم مقصد یہ قر ار دیتے ہیں کہ انسانی عز وشرف کے سبھی مستحق ہیں ۔ انھوں نے سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۷۰ کے ……. درج ذیل آثار ونصوص سے بھی استدلال کیا ہے:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ ۔(الحجرات۴۹:۱۳)

’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے‘‘۔

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاء  مِّن نِّسَاء  عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِیْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ۔           (الحجرات۴۹: ۱۱)

’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اورنہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں‘‘۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ واضح کیا ہے:

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: جب سمندر پار ہجرت کرنے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’مجھ سے بیان نہ کروگے کہ حبشہ کی سرزمین پرتم نے کیا عجیب باتیں دیکھیں؟‘‘ چنانچہ ان میں سے کچھ لڑکے بولے: ’’ضرور، اے اللہ کے رسولؐ! ایک بار ہم بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے راہبوں میں سے کوئی بوڑھی عورت ہمارے پاس سے گزری۔ وہ سر پر پانی کا مٹکا اٹھائے ہوئے تھی۔ جب وہ اسی قوم کے کسی لڑکے کے پاس سے گزری تو اس نے اپنا ایک ہاتھ اس طرح اس عورت کے شانوں کے درمیان ڈال کر اسے دھکا دیا کہ وہ گھٹنوں کے بل گر پڑی اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا۔ عورت نے اٹھ کھڑی! تجھے اس دن پتہ چلے گا کہ اللہ کے دربار میں میرے اور تیرے معاملے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے جس دن کہ اللہ عرش جمائے گا اور اگلے پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں بولیں گے کہ کس کے کیا کرتوت تھے‘‘۔راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صدقت، صدقت، کیف یقدس اللہ امۃ لایؤخذ لضعیفہم من شدید ہم؟

اس عورت نے سچ کہا،اس عورت نے سچ کہا۔ بھلا اللہ ایسی قوم کو کیسے اوپر اٹھائے گا جس میں طاقتور سے کمزور کابدلہ نہ لیاجاتا ہو‘‘۔

ڈاکٹر صدیقی فرماتے ہیں کہ اسلام میں صاحب اختیار کی ذمے داری ہے کہ سماج کے کمزور افراد اور گروہوں کو سماج کے طاقتور افراد اور گروہوں کے ظلم و استحصال سے بچائے‘‘۔ فاضل مصنف  اس سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ عام انسانوں سے ہمارا تعلق صرف دعوت دینے کا ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ دیگر تعلقات ہیں تو مگر ان کی حیثیت ذرائع کی ہے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ قرآن وسنت کی روشنی میں عام انسانوں سے خوش تعلقاتی، ان کی خدمت، حاجت روائی اور دست گیری، ان کی دل جوئی اور ان کے ساتھ غم گساری وغیرہ نارمل اخلاقی رویے مطلوب ہیں، ساتھ ہی ان کو ان کے پروردگار کی بندگی کی طرف بلانا بھی مطلوب ہے مگر ہم سے جو رویہ مطلوب ہے اس پر اس بات کا اثر نہیں پڑنا چاہئے کہ کسی انسان نے اپنے لئے کونسا دین پسند کیا، کون سا مذہب اختیار کیا‘‘۔

ثمامہ بن اُثال کا واقعہ

انسانیت کی تکریم قرآن پاک کی اعلیٰ وارفع تعلیم ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تکریم انسانیت کی اعلیٰ مثالیں پیش کیں اپنے اسوہ اور عمل سے امام مسلمؒ نے کتاب الجہاد و السیر میں ایک بات قائم کیا ہے:’’قیدی کو باندھنا ،اسے قید کرنا اور بطوراحسان اسے چھوڑدینے کا جواز) ۔ اس باب میں تکریم انسانیت کا ایک خوبصورت نمونہ پیش کیا ہے:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کے علاقے کی طرف بھیجا ۔ وہ بنی حنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے جس کا نام ثمامہ بن اُثال تھا۔ وہ اہل یمامہ کا سردار تھا ۔ لوگوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزرہوا تو آپؐ نے اس سے پوچھا: ثمامہ، تمہارے پاس کیا ہے؟ ثمامہ نے کہا: اے محمد! میرے پاس خیرہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جو قتل ہونے کا مستحق ہے۔ اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر گزار ہے۔ اوراگر آپ دولت کے طلبگار ہیں تو حکم دیں جو کچھ مانگیں گے آپ کی خدمت میں حاضر کردیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حالت میں چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے ۔ تیسرے دن آپ تشریف لائے تو پھر وہی سوال کیا: اے ثمامہ!تیرے پاس کیا ہے؟

ثمامہ نے کہا: وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکرگزار شخص کے اوپر احسان کریں گے اور اگر مجھے قتل کریں گے تو میں قتل ہونے کا مستحق ہوں۔ اور اگر آپ مال طلب کریں گے تو حکم دیں جس قدر مال چاہیں گے آپ کو عطا کیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نظرانداز کیا۔

اگلے دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی سوال دوہرایا: ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟

ثمامہ نے کہا: میرے پاس وہی جواب ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں۔ اگر آپؐ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکرگزار شخص پر احسان کریں گے۔ اوراگر مجھے قتل کریں گے تو آپؐ ایسے شخص کو قتل کریں گے جو قتل کئے جانے کا مستحق ہے اور اگر مال چاہتے ہیں تو حکم دیں جو کچھ آپ چاہیں گے آپ کو دیا جائے گا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا : ثمامہ کو رہا کردو۔

وہ مسجد کے قریب ہی کھجور کے درخت کے پاس گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوتے ہی پکار اٹھا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اورگواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔ اس نے رسول ﷺ کو مخاطب کرکے کہا:

اے محمد(ﷺ) ! خدا کی قسم! اس روئے زمین پر کوئی چہرہ میرے لئے آپؐ کے چہرے سے زیادہ قابل نفرت نہ تھا اور اب آپؐ کا روئے زیبا دنیا کے تمام چہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔

خدا کی قسم! آپؐ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے نزدیک مبغو ض ومکروہ نہ تھا مگر اب آپؐ کا دین دنیا کے تمام ادیان سے زیادہ مجھے پسندیدہ اور مطلوب ہے۔

خدا کی قسم!آپؐ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر مجھے بُرا اور قابل نفرت نہ لگتا تھا مگر اب آپؐ کا شہر دنیا کے تمام شہروں سے زیادہ مجھے محبوب اور پیارا لگتا ہے۔

آپؐ کے سواروں نے مجھے گرفتار کیا جبکہ میں عمرہ کا قصد کرچکا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟

اللہ کے رسولﷺ نے اسے بشارت دی اور عمرہ کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ مکہ پہنچے تو کسی نے کہا: کیا تو صابی ہوگیا ہے؟

فرمایا: نہیں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ خدا کی قسم! اب یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ تک تم کو نہ ملے گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔

روایات میں آتا ہے کہ یمامہ سے غلہ کی ترسیل بند ہوگئی تو مکہ میں قحط پڑگیا ۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ مشرکین قریش نے ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ بھیجا کہ مکہ کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں۔ وہ جو دنیائے انسانیت کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے، اہل مکہ کی بے بسی اور لاچاری پر کیسے خاموش رہ سکتے تھے، ثمامہ بن اثالؓ کو پیغام بھیجا کہ ان لوگوں پر رحم کرو اور انہیں غلہ کی ترسیل جاری کردو۔

جنوری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau