تکریم انسانیت اور وحدت بنی آدم

(2)

مولانا محمد جرجیس کریمی

دعوتی نقطہ نظر سے

تکریم انسانیت کا مقام کھوکر انسان درندہ (Predator) بن جائے اور اپنی ہی نوع کے خلاف وہ تمام حرکتیں کر نے لگے جو ہر لحاظ سے ظلم و ستم اور حیوانیت سے بھی گرے ہوئے ہوں جیسا کہ گذشتہ کئی برسوں سے نام نہاد‘ ترقی یافتہ اقوام پسماندہ ‘ غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر اقوام سے عراق‘ افغانستان ‘ فلسطین ‘ بو سنیا اور چیچنیامشرقی ترکستان ‘﴿چینی زیر قبضہ﴾ ملکوں میں کر رہے ہیں تو انہیں کون مکرم و مہذب کہے گا؟ اپنے خالق و مالک‘ پروردگار اور حاکم کو نہ پہچا ننا اور اس پہچاننے کے واجبات نہ ادا کرنا بھی اہم ترین پہلو ہے لیکن اپنی ہی نوع انسانی کے ساتھ یہ حرکات قطعاً اس مخلوق کو زیب نہیں دیتیں جسے تمام تر مخلوقات یہاں تک کہ ملائکہ پر فوقیت دی گئی تھی تو کون ہے جو اسے تکریم انسانیت کا تاج پہنائے گا؟

وحدت بنی آدم

’ترمذی‘کی جو حدیث شریف گزشتہ صفحات میں بیان کی جا چکی ہے ۔ قرآن حکیم کے بموجب:

وَھُوَ الذَّیْ اَنْشَا کُمْ مِنْ نَفْسٍ وَّاحَدۃً۔             ﴿الانعام:۸۹﴾

’’اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا ‘‘۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۔  ﴿النِساء:۱﴾

’’لوگو: اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلادیے ‘‘۔

وَلَقَد خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٓئٰکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّےْتُہُ وَ نَفَخْتُ فِےْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہُ سٰجِدِینَ۔  ﴿سورہ الحجر ۲۶تا ۲۹﴾

’’ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔ پھر یاد کرو اس موقع کو جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کررہا ہوں جب میں اسے پورا بناچکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا‘‘۔

سورہ البقرہ آیت ۲۹ تا ۳۴ میں تخلیق آدم کا جو حال بیان کیا گیا ہے، وہ اس بات کی حقیقت آشکار ا کر تا ہے کہ آدم کو نوع انسانی کے اولین فرد کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور وحدت بنی آدم کا مطلب ہے وحدت انسانیت!

آدم کا مسجودملائکہ ہونا ایک فضیلت تھی اور اس کی بنیاد حکم الٰہی کے علاوہ ﴿۱﴾ نفخ روح ربانی ﴿۲﴾ عطائے علم ﴿۳﴾سرفرازی خلافت ارضی ﴿۴﴾اختیارات و تسخیری استعداد و صلاحیت بر مخلوقات ﴿۵﴾ عطائے نبوت جیسے معیاری امور و معاملات تھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے :

’’ میں حضرت آدم علیہ السلام کو انسانیت کا مورث اعلیٰ سمجھتا ہوں ‘‘ ﴿رسائل و مسائل حصہ چہارم ﴾

’’ قرآن خود اس کی تشریح کر تا ہے کہ وہ پہلا انسان آدم تھا جس سے دنیا میں نسل انسانی پھیلی۔‘‘

﴿تلخیص تفہیم القرآن صفحہ ۱۳۸، سورۃ النساء،آیت:۱﴾

اس حقیقت کی تفصیل سورہ مریم آیت ۸۵ میں ہے :

’’یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدم کی اولاد میں سے ‘اور ان لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا‘‘۔

تمام انسان ابتدا میں ’’امۃ واحدۃ ‘‘ (One Nation) تھے، بعد میں ان کے درمیان اختلاف برپاہوا۔ بعثت انبیاء  کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جن اُمور میں اختلاف پیدا ہوا تھا اسے دور فرمائیں۔

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّـهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ  ﴿بقرہ:۲۱۳﴾

’’ ابتداء  میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ﴿پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے۔تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے ان کا فیصلہ کرے ﴿اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء  میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا ۔﴾ اختلافات ان لوگوں نے کئے جنہیں حق کا علم دیا جاچکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے پس جو لوگ انبیاء  پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے ا پنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا ۔ اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھادیتا ہے ‘‘۔

وحدت بنی آدم اور بندگی رب میں تعلق

تکریم انسانیت کے نقطئہ نظر سے نسل انسانی کے شرف و فضیلت کا ایک پہلو وحدت بنی آدم بھی ہے جس کی وضاحت گزشتہ سطور میں گزرچکی ہے۔ حیوانات اور حشرات الارض بھی اپنی بقائ و حفاظت و صیانت کے لیے گروہ در گروہ بسیرا کر تے ہیں ۔ انسان کے فروغ اور خلافت الٰہی کے تقاضوں کی بحسن و خوبی تکمیل کے سلسلے میں بھی وحدت بنی آدم کا مقام فضیلت بندگی رب کے عقیدے پر کامل عمل پیرا ہو نے اور سب مل کر حضور باری تعالیٰ سرنگوں میںہونے میں مضمر ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴿سورہ الذاریات ۵۶﴾

’’میں نے جن اور انسان کو اس کے سوا کسی کام کیلئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں‘‘

یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کیلئے نہیں بلکہ اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے ۔ میری بندگی تو ان کو اس لئے کرنا چاہیے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اسکی بندگی کریں اور ان کیلئے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ سب بندگی کر تے پھریں دوسروں کی ۔

انسان جو بنی آدم کی صنف کا پہلا فرد ﴿آدمؑ ﴾ ہے وہ اپنے روز تخلیق سے بندہ رب کائنات کے مقام پر فائز ہے اور یہ شروع سے ہی جب علم و ہدایت سے نوازا گیا ایک عابد ﴿ مطیع فرمان و عبادت گزار﴾ کی پہچان کا حامل ہے ۔

سورہ البقرہ آیت ۲۱۳ کی تشریح

’’ ناواقف لوگ جب اپنے قیاس و گمان کی بنیاد پر ’’ مذہب ‘‘ کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان نے ‘ اپنی زندگی کی ابتداء  شرک کی تاریکیوں سے کی پھر تدریجی ارتقاء کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی چھٹتی اورروشنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آدمی توحید کے مقام پر پہنچا۔ قرآن اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس انسان کو پیدا کیا تھا اس کو یہ بھی بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور تیرے لئے صحیح راستہ کونساہے ۔ اس کے بعد ایک مدت تک نسل آدم راہ راست پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہی پھر لوگوں نے نئے نئے راستے نکالے اور مختلف طریقے ایجاد کر لئے ۔اس وجہ سے نہیں کہ ان کو حقیقت نہیں بتائی گئی تھی بلکہ اس وجہ سے کہ حق کو جاننے کے باوجود بعض لوگ اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات ‘ فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ‘ سرکشی او رزیادتی کرنے کے خواہش مند تھے ۔ اسی خرابی کو دور کر نے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مبعوث کرنا شروع کیا ۔ یہ انبیاء  اس لئے نہیں بھیجے گئے تھے کہ ہر ایک اپنے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالے اور اپنی ایک نئی امت بنالے بلکہ ان کے بھیجے جانے کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے سامنے اس کھوئی ہوئی راہ حق کو واضح کر کے انہیں پھر سے ایک امت بنادیں‘‘ ۔ ﴿تلخیص تفہیم القرآن صفحہ ۷۰﴾

دعوت بندگی رب میں عامۃ الناس کو وحدت بنی آدم ہو نے کی حیثیت کا شعوری احساس دلانے کے لئے حسب ذیل قرآنی آیت بہت موثر ہے :

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ  وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ     ﴿سورہ حم السجدہ:۳۲-۳۳﴾

’ ’ اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں اور اے نبیﷺ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کر و جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے‘‘۔

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau