اسلامی فکر کا احیاء

ملک اکبر

اپریل 2016 کے شمارے میں ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی(گلبرگہ) کی تحریر پڑھی۔ یہ تحریر محترم سعاد ت اللہ حسینی کے اُس مضمون پر تاثرات ہیں جو دسمبر 2015کے ’عالمی ترجمان القرآن‘ میں شائع ہوا تھا۔جب میں ڈاکٹر عبدالحمید صاحب کی تحریر پڑھ رہا تھا توذہن میں آیا کہ اس کی تائید میں اپنے تاثرات زندگی نو میں لکھوں گا۔ پھر سوچا ایک بار محترم سعادت اللہ حسینی کا مضمون بھی پڑھ لینا چاہئے۔ نیٹ پر اُس مضمون کو پڑھا تو یہ تاثّر بنا کہ محترم ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی صاحب کے اعتراضات ترجمان القرآن کے مضمون سے متعلق مناسب نہیں ہیں۔مضمون نگار نے جو مشورے تحریکی دانشوروں کو دیے ہیں وہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انھوں نے جس بات کی طرف توجہ دلائی ہے اُس فکری خلاء کو ابھی سے پُر کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تو زمانہ ہمیں کافی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس سلسلے میں جو تجاویز محترم سعادت اللہ حسینی نے پیش کی ہیں وہ قابلِ عمل ہے اور فوری توجہ چاہتی ہیں۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی نے جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ غلط ہیں۔ بلکہ اُن کے سوالات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس بات کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہمارے اخلاق،معاملات میں کہیں نہ کہیں گراوٹ ضرور آئی ہے ۔ معمورین اور عام لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات و اخلاق کا کیا حال ہے ‘  اس پر غور کرنے اور انہیں صاف و شفّاف بنانے کی ازحد ضرورت ہے۔تحریک اسلامی کے ہر فرد سے متعلق یہ رائے بننی چاہئے کہ و ہ اخلاق ومعاملات کا کھَرا ہے۔اس کا بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ ہمارے افراد میں سفر وغیرہ سے متعلق سہل پسندی در آئی ہے۔ایسی مثالیں کم ہی نظر آتی ہیں کہ سہولت نہ ہونے کے باوجود نظم و تحریک کی ضرورت کے لیے ذمہ داروں نے سفر کی صعو بتوں کو برداشت کیا ہو۔اگر ایسا نہیں ہے تو وقتا فوقتاً ایسے مظاہر سامنے آنا چاہئے جس سے قربانی کاپہلو چھلکتا نظر آتا ہو۔ایسے مناظر و واقعات اب سننے دیکھنے میں نہیں آتے۔ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ’’۔۔ٹھہرائوکی بڑی وجہ بعض قائدین ہیں،جو برسہا برس سے منصبوں پر فائز ہیںاور متحرک افراد کے لیے جگہ خالی نہیں کرتے۔‘‘اگر خدانخواستہ یہ بات صحیح ہے تو اس کا علاج بھی جلد از جلد کرنا چاہئے۔ورنہ عام سیاسی جماعتوں اور تحریک میں کیا فرق رہ جائے گا؟!!اگر ہم میں بھی جاہ و منصب کی ویسی ہی چاہت رہی تو پھر ایک دن وہ بھی آئے گا کہ اس کے لیے باقائدہ پرچار کیا جائے گا،سازشیں رچی جائیں گی اور وہ سب ہتھکنڈے اپنائے جائیں گے جو عام سیاسی جماعتیں اپناتی ہیں۔اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے بھی میں متفق ہوں کہ ’’۔۔۔مولانا (مودودی)کے کاموں کی افادیت (Validity)اُن کے انتقال کے بعد پچاس سال تک بھی ہمارے لیے عصری ہتھیار کا کام دے سکتی ہے۔‘‘ لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ مولانا کے اِن ہتھیارات کے ساتھ جدید علمی ہتھیارات کا اِضافہ ہوتا رہے۔مولانا علیہ رحمہ کی علمی خدمات کا محترم سعادت اللہ حسینی نے بھی بڑے اچھے انداز سے اعتراف کیا ہے۔ضرورت اس بات کی  ہےکہ فاضلِ مضمون نگار کیا کہنا چاہتے ہیں اس پر غور کیا جائے۔

مئی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau