خادموں کے حقوق

ابو سعد

درج ذیل تحریر قطر کے معروف فلاحی ادارے ’’مؤسسۃ الشیخ عبدالخیریۃ‘‘سے شائع شدہ عربی کتابچے کا اردو خلاصہ ہے۔ اصل تحریر کا عنوان ہے: ’’اخوانکم خولکم‘‘جو   www.eidcharity.net پر مطویۃ نمبر ۳۰ میں دیکھی جاسکتی ہے {

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہم کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ان نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت ، خدمت گاروں کا وجود ہے۔ جو روزمرہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ قلیل معاوضے پر بڑی راحت پہنچاتے ہیں۔ دن رات کام کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ یہ قدرت کے نظام کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت بعض لوگوں کو بعض پر فوقیت مل جاتی ہے۔

قرآن حکیم میں ہے:

’’کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو وہ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔ (سورۃ الزخرف، آیت نمبر ۳۲)

عام طور پر لوگ خادم کو مخدوم کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ خود خادم کے کیا حقوق ہیں                              ؎

تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے

اس پہلو سے ہمارے لیے بہترین اسوہ حضور اکرم ﷺ کی ذات مبارک ہے۔ جو صاحب خلق عظیم ہیں اوراللہ تعالیٰ کے آخری رسول ؐ بھی۔ قرآن مجید میں ہے :

’’درحقیقت تم لوگوں کیلئے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔(الاحزاب:۲۱)

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے گھر بھی ہیں جہاں خادموں کے ساتھ اچھا معاملہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے گھر بھی ہیں جہاں خادموں پر ظلم ہوتا ہے۔ ان کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے۔ اس لیے یہ امر ضروری معلوم ہوا کہ ظلم کے بُرےانجام سے اور حقوق کی پامالی کی سزا سے خبردار کیا جائے۔ کتاب وسنت اور سیرت سلف صالح سے کیا رہنمائی ملتی ہے اُسے اختصار کے ساتھ ذیل میں پیش کیاجارہا ہے:

حسن سلوک

سیدالبشر حضرت محمد ﷺ خدام کے ساتھ اچھا برتائو کرنے والوں میں سب سے بہتر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے خادم خاص حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرتؐ کی سفر اور حضر میں خدمت کرتا رہا لیکن حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے کبھی یہ نہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کیوں نہ کیا؟ (بخاری)

دینی تعلیم کا اہتمام

مسلمان خادم سے حسن سلوک کا یہ اولین تقاضا ہے کہ اُسے دین کی ضروری تعلیم دی جائے۔ دین کے بنیادی عقائد ان پرواضح کیے جائیں۔ نماز وروزہ سے متعلق احکام بتائے جائیں۔ بسا اوقات ملازمین ایسے ماحول سے آتے ہیں جہاں جہالت اور بدعت کا رواج ہوتا ہے۔ گھر کے ذمے دار سے آخرت میں باز پرس ہوگی کہ اس نے اپنے ماتحتوں میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا فریضہ کہاں تک ادا کیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’آگاہ رہو کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ (متفق علیہ)

ضروری ہے کہ خادموں سے کہا جائے کہ وہ اپنی زکوٰۃ فطر ادا کریں یا مخدوم اس کا فطرہ ادا کرے۔ اگر خادم غیر مسلم ہو تو اسے حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے۔ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’خدا کی قسم تمہاری وساطت سے اللہ تعالیٰ کا کسی ایک شخص کو ہدایت دینا تمہارے حق میں دنیا ومافیہا کی ہرنعمت سے بڑھ کر ہے‘‘۔ (متفق علیہ)

خادم پر مال خرچ کرنا

خادم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرنا صدقہ ہے جس کا اجر اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔ حضور اکرمﷺ نے خدام پر مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے راستے میں انفاق کرو۔ تو ایک شخص نے حضور اکرمﷺ سے کہا میرے پاس ایک دینار ہے میں اس کو کیسے خرچ کروں تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا:اپنی ذات پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا: اپنی بیوی پر خرچ کرو۔ اس شخص نے کہا میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے حضور اکرمؐ نے فرمایا: اپنے خادم پر خرچ کرو، اس کے بعد اپنی بصیرت سے انفاق کی ترتیب وترجیح طے کرلو‘‘۔ (بخاری)

خادم کی اجرت

یہ جائز نہیں کہ خادم کی طے شدہ تنخواہ میں کمی کی جائے یا تاخیر سے دی جائے۔ یہ ملازم کا حق ہے کہ اس کی تنخواہ پوری ملے اور وقت پر ملے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے:

مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے‘‘۔ (سورۃ النساء،آیت :۵۸)

ملازم کا حق سلب کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ ہے۔ روز قیامت اللہ تعالیٰ اس کے خلاف مقدمہ قائم کریں گے ، اگر اس نے مزدور و خادم کی اجرت ادا نہ کی۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین لوگوں سے بدلہ لوں گا۔ ایک وہ جو ایمان لایا اور پھر ایمان باللہ سے پھر گیا۔ دوسرا وہ شخص جس نے ایک آزاد انسان کو غلام کی حیثیت سے بیچ کر اس کا مال کھالیا۔ تیسرے وہ شخص جس نے کسی مزدور یا ملازم سے اجرت پر کام لیا اور کام پورا ہونے کے بعد اس کی اجرت ادا نہ کی‘‘۔

عفو ودرگزر

ہم میں کون ہے جو خطاکار نہیں اور خطا کی معافی کاطالب نہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں ایک شخص نبی کریمؐ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خادم کو کتنی بار معاف کردینا چاہئے؟ آپ خاموش رہے۔ اس شخص نے پھر اپنی بات عرض کی۔ آپؐ نے پھر سکوت فرمایا۔ پھر جب تیسری دفعہ اس نے عرض کیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ہر روز ستر بار‘‘۔ (الترمذی)

طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے

خادم کے حقوق میں یہ ہے کہ اس پر طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ نہ ڈالا جائے نہ کام کے دائرے کو غیر معروف طریقے سے بڑھایا جائے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خداؐ نے فرمایا: ’’کھانا اور کپڑا غلام کا حق ہے اور اس سے بس وہی کام لیاجائے جس کے کرنے کی وہ طاقت رکھتا ہو‘‘۔ (مسلم)

جب غلام کے لیے اتنے حقوق اسلام دیتا ہے تو آزاد ملازم تو اور زیادہ عنایت کا حقدار ہے۔ اگر ملازم کی مقدرت سے بڑھ کر کوئی کام لینا پڑے تو مخدوم کو چاہیے کہ وہ خادم کی مدد کرے۔

عدم توہین

خادم سے حسن سلوک میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی توہین نہ کی جائے،نہ مارپیٹ کی جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’دعوت قبول کرو، ہدیہ کو واپس نہ لوٹائو اور مسلمانوں پر ہاتھ نہ اٹھائو‘‘۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ نبی کریمؐ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، نہ کسی جانور کو نہ اپنی بیویوں کو نہ خادم کو اِلا یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ میں ہوں ‘‘۔ (مسلم) حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمؐ کو دیکھا کہ ان کے پاس دو غلام تھے اس میں سے ایک غلام آپؐ نے حضرت علیؓ کو ہدیہ کیا اور ارشاد فرمایا: ’’اسے مت مارو۔ میں نے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ یہ غلام نماز پڑھتا ہے‘‘۔ (بخاری)

حضرت ابومسعودانصاریؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا۔ میں نے  اپنے پیچھے سے یہ آواز سنی کہ : ’’اے ابومسعود! جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو تم پر اس سے کہیں زیادہ قدرت حاصل ہے جتنی تمہیں اس غلام پر حاصل ہے‘‘۔ میں نے مڑ کر دیکھا توو ہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ میں نےعرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ، اب یہ خدا کے لیے آزاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہیں جان لینا چاہیے کہ اگر تم یہ نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں جلا ڈالتی یا یہ فرمایا: ’’جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی‘‘۔ (مسلم)

طعام خادم

خادم کو طعام اس کی معاشی سطح سے کم تر نہ دیا جائے۔ معاشی تفریق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مشیت کے تحت اس دنیا میں موجود ہے۔ حضرت ابوذرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’یہ (غلام) تمہارے بھائی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارا دست نگر بنایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کے زیر دست اس کے کسی بھائی کو کردے تو اسے چاہیے کہ اس کو وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہو اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہو ۔ اور اس کو ایسے کام پر مجبور نہ کرے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہے اور اس کے لیے بوجھ ہو ۔ اور اگر ایسا کام اس سے لے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتو اس کام میں خود بھی اس کی  اعانت اور مددکرے‘‘۔ (متفق علیہ)

حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اگر غلام یا خادم خانساماں (باورچی) ہو تو اس کواس پکوان میں سے کھانا دیا جائے جو اس نے بنایا کیونکہ اس نے کھانے کی خوشبو سونگھی اور اس کودیکھ لیا ہے ۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی کریمؐ نے حکم دیا کہ خادم کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا جائے۔ اور اگر کسی کو ساتھ کھانا ناگوار گزرتا ہے تو خادم کو کھانا دے دے۔ (احمد)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے اگر تمہارے پاس کھانے کے وقت خادم آئے اور ساتھ شریک نہ ہوسکے تو چاہیے کہ اسے کھانے میں سے کچھ دے دے۔ (متفق علیہ)

صحابی رسولؐ حضرت المقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جو کچھ انسان رزق حلال میں سے خود کھاتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے جو اولاد کو کھلاتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے ، جو بیوی کو کھلاتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ اپنے خادم کو کھلاتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے‘‘۔(احمد)

خادموں سے پردہ

خادمہ سے حسن سلوک یہ ہے کہ گھر کے مرد غض بصر سے کام لیں اور اس سے گھر کے دیگر افراد کی عدم موجودگی میں کام لینے سے احتراز کریں۔ اجنبی عورت سے خلوت کی عمومی ممانعت ہے اس کا اطلاق خادمہ پر بھی ہوتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت نہ اختیار کرے اِلاّ یہ کہ وہ محرم ہو‘‘۔ (بخاری)

صاحب خانہ کو چاہئے کہ ان اخلاقی حدود کی تعلیم اپنے لڑکوں کو بھی دے جو سن بلوغ کو پہنچ چکے ہوں ۔ عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے خادم سے خلوت میں کام لے اور نہ اس کی طرف نظریں اٹھائے۔ وہ اس کے لیے اجنبی مرد ہے جو اجرت پر کام کے لیے آیا ہوا ہے۔ اجنبی مرد کے لیے غض بصر اور خلوت کی جو ممانعت ہے وہ مخدوم عورت اور خادم مرد کے لیے بھی ہے۔ ایک بڑا منکر یہ بھی ہے کہ عورت تنہا، ملازم ڈرائیور کے ساتھ کار میں گھومتی پھرے۔

خادم کی نگرانی

سلف صالحین کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ خادموں کی نگرانی کرتے تھے ۔ وہ اپنے مال و اسباب کو بلاحفاظت نہیں چھوڑتے تھے۔ مناسب ہے کہ خادموں کو چوری کرنے اور امانت میں خیانت کے مواقع نہ دیے جائیں ۔ صاحب خانہ قیمتی اشیاء حفاظت سے رکھتے ہیں تو اس سے انہیں دو فائدے حاصل ہوں گے۔ پہلا یہ کہ وہ چوری کو روک سکیں گے ،دوسرا یہ کہ اگر کوئی چیز کھوجاتی ہے تو وہ خادم کے تعلق سے سوء ظن سے بچ جائیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ جب خادم سے بازار سے گوشت منگاتے تھے تو گوشت کے ٹکڑوں کو گن لیا کرتے تھے ،جب کھانے کے لیے تشریف رکھتے تو خادم کو حکم دیتے کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھالے۔ ان سے جب اس معاملے کی علت پوچھی گئی تو فرمایا اس طریقے سے دل کی تسلی بھی ہوتی ہے اور وہم وسوء ظن کا یہ وسوسہ دور ہوجاتا ہے کہ شاید خادم نے کچھ گوشت چرا لیا ہوگا۔(بخاری)

خادم کے لیے دعا

حضور سرور عالمﷺ نے ہمیں اس سے منع کیا ہے کہ اپنے آپ کے لیے ، اپنی اولاد اور خادموں کے لیے اور اپنے مال کے حق میں بددعا کریں۔ ابودائود میں یہ روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اپنے لیے بددعا نہ کرو، نہ اپنی اولاد کو بددعا دو، نہ اپنے خادموں کو بددعا دو اور نہ اپنے مال پر بددعا دو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قبولیت دعا کی کوئی گھڑی لکھ دی ہو اور یوں تمہاری بددعا قبول ہوجائے‘‘۔ حضور اکرمؐ اپنے خادم کے حق میں دعا کرتے تھے۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی نہ رہی جس کی حضور اکرمؐ نے میرے حق میں دعا نہ کی ہو۔ حضور ؐ نے کبھی یوں دعا دی: ’’اے ہمارے رب انس کو مال واولاد سے نواز دے اور اس میں برکت عطا فرما‘‘۔ جب آپؐ کو پانی پلایاگیا تو آپؐ نے پانی پلانے والےخادم کے حق میں دعا کی: اے ہمارے رب تو اپنی طرف سے اس شخص کو کھانا کھلا جس نے مجھے کھلایا اور اس شخص کو پانی پلا  جس نے مجھے پانی پلایا‘‘۔ (مسلم)

اپریل 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau