اصلاحِ معاشرہ میں صحابیات کا کردار

ڈاکٹر محمد امین عامر

اس کرّہ ارض پر جس قدر بھی نفوس قدسیہ نے اپنے درخشاں نقوش ثبت کئے ہیں ان سب کی پرورش وپرداخت اور اٹھان میں ان کی نیک وصالح ودیندار مائوں کا ہاتھ رہا ہے ۔ ان مومنہ وصالحہ مائوں نے اپنے لخت ہائے جگر کی ایسی دینی واخلاقی تربیت کی کہ اسلامی دنیا آ ج تک ان کے  فیوض وبرکات سے فیض یاب ہورہی ہے۔ ان کی علمی خدمات کے چشموں سے تشنگانِ علوم سیراب ہورہے ہیں۔ اولاد کی تعلیم وتربیت  خاندان اور معاشرے کی اصلاح، ان تمام امور میں عورت کا اہم کردار ہوتا ہے آغوش مادر بچے کا پہلا مدرسہ ہے ۔ اس مدرسہ کا پروردہ اپنی ماں کے اچھے اخلاق وکردار اور صحیح تربیت سے یا تو نیک وصالح بنتا ہے  یا غلط تعلیم وتربیت اور برے اخلاق سے برا بن جاتا ہے۔ عورت معاشرے کی ایک ذمہ دار فرد ہے ۔ اس کی معاشرتی حیثیت کو تسلیم کر لینے کے بعد اب اصلاح معاشرہ میں صحابیات کے کردار کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

حضرت خدیجہ:

وہ خواتین جنہیں ’’صحابیات‘‘ کا امتیازی لقب وشرف حاصل ہے وہ خیر البشر اور معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کےتربیت یافتہ گروہ کا جُز ہیں۔ اس سلسلے میں امّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ ضروری ہے۔وہ مکّہ کی ایک معزز ، باوقار اورصاحب ثروت خاتون تھیں۔ وہ سب سے پہلے مشرّف بہ اسلام ہوئیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالۂ عقد میںآنے کے بعد دینِ حق کی تبلیغ واشاعت میں ان کا دست وبازو بن کر ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنا تمام زر ومال اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں صرف کردیا اوراپنی ساری دولت یتیموں اوربیوائوں کی خبر گیری، بیکسوں کی دستگیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لئے وقف کردی(۱) عظیم مالی ایثار اورقربانی کی بدولت انہوں نے معاشرہ میں خدمتِ خلق کی روح پھونکی اور غرباء ومساکین ومفلوک الحال افراد کے ساتھ ہمدری اورخیر خواہی کا جذبہ بیدار کیا اور معاشرہ کو خدمتِ خلق کا پیغام بھی دیا کہ حضرت خدیجہ کے اس مثالی کردار میں بڑی نصیحت ہے۔

افسوس ہے کہ آج مسلمان معاشرہ میں شادی بیاہ کے موقع پر فضول رسمیں رائج ہیں۔ اسراف بیجا، رقص وسرود اور گانا بجانا جیسے خلاف شرع امور کا بھی  رواج ہے۔ نہ خوفِ خدا ہے اور نہ اطاعتِ رسول کی پاسداری ۔ ایسے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی شادی کو نمونہ بنا کر معاشرہ کی اصلاح کی جاسکتی ہے ۔ حضرت عائشہ کا نکاح اور رخصتی  بہت سادگی سے انجام دی گئی ۔ نہ پر تکلف دعوتوں  کا اہتمام تھا اور نہ ہی اسراف ونمود ونمائش کا دخل۔ عرب کے  معاشرے میں منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی معیوب سمجھی جاتی تھی، ماہِ شوال کو منحوس سمجھ کر اس میں شادی کی کوئی تقریب انجام نہیں دی جاتی تھی، ان  لغو رسموں کوختم کر  دیاگیا جب رفیقِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی لختِ جگر حضرت عائشہ کا نکاح سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا جس کی تقریب میں  مسرفانہ ٔ مصارف اور فضول مراسم کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ حضرت عطیہ رضی اللہ عنہا کے بقول حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ ان کی انا آئی اور ان کو لے گئی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آکر نکاح پڑھادیا۔ (۲) قربان جائیے اس  سادگی پر  (۳)

حضرت عائشہ:

آج جن کے پاس دولت کی ریل پیل ہے وہ محض بیجاتفاخر، خاندانی وجاہت اور نسب وشرف کی بنیاد پر اپنی بیٹیوں کی شادی میں بڑھ چڑھ کر مہر کی رقم متعین کرتے ہیں کاش وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مہر کو پیش نظر رکھتے ان کا مہر پانچ سو درہم تھا  (۴)  مہر موجودہ حالات کے مطابق اس قدر کہ بآسانی نکاح کے وقت اس کی ادائیگی ہوسکے۔ اس طرح لڑکی کی رخصتی کے وقت بھی خویش واقربا سب جمع ہوتے ہیں اور نوشہ والے بھی لائولشکر لے کر آتے ہیں  ایسے موقع سے ذراجائزہ لیاجائے کہ حضرت عائشہ کی رخصتی کے وقت کیا اہتمام تھا۔ راوی کے بیان کے مطابق انصار کی عورتیں دلہن کو رخصتی کرانے حضرت ابو بکر کے گھر آئیں۔ اس وقت حضرت عائشہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں  ۔ ماں نے آواز دی تو آئیں۔ ماں نے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر منہ دھلایا، کپڑے تبدیل کردیئے اور بال سنواردیئے پھر ان کو اس کمرے میں لے گئیں جہاں انصار کی عورتیں دلہن کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔دلہن جب اندر داخل ہوئی تو مہمانوں نے ان کے حق میں خیرو برکت کی دعا کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ دلہن کوسنواراکہ اتنے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجسم خیر وبرکت کا پیکر بن کر حضرت ابو بکرؓ کے گھر تشریف لائے۔ اس وقت آپ ﷺ کی ضیافت کے لئے دودھ کے ایک پیالہ کے سوا کچھ نہ تھا وہ آپ کو پیش کیا گیا ۔ آپ نے تھوڑا سا پی کر حضرت عائشہ کی طرف بڑھایا انہوں نے شرماتے شرماتے لے لیا اور ذرا سا پی کر رکھ دیا۔ پھر دن کے وقت شوال ۱ھ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ (۵)

قناعت اورحُسنِ اخلاق:

غور کرنے کا مقام ہے کہ شادی سے لے کر رخصتی تک اس پورے مرحلہ میں کسی تکلف کا اہتمام نہ تھا ایسا  نکاح  برکت سے کیوں خالی ہو۔  خدا ہمیں توفیق عنایت کرے۔مسلمان گھرانوں میں سوکنوں کے درمیان باہمی میل کا فقدان ہے جس کے سبب تنازعات جنم لیتے ہیں مگر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حسنِ اخلاق سے سبھوں کا دل جیت لیاتھا۔ وہ سبھوں کو باہم جوڑے رکھتیں، خانگی معاملات میں سب ایک دوسرے کے مشورے پر عمل کرتیں اور سبھی اپنے طرز عمل سے نبی کے گھرانے کو  پاکیزہ اور خوشگوار ماحول عطا کرتیںجس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عافیت وراحت محسوس ہوتی۔ (۶) کاش مسلم گھرانوں کی سوکنیں حضرت عائشہ کو اپنا آئیڈل بنا لیںتو ان کا گھرانہ بھی جنت کا ایک نمونہ نظر آئے۔ اسی طرح سوتیلی اولادوں کے ساتھ بھی حضرت عائشہ کا حسن سلوک قابل رشک تھا۔ انہیں اپنی سوتیلی اولادوں حضرت زینب اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما کے ساتھ چند ایام گزارنے کا موقعہ ملا۔ حضرت زینب کی ایک لڑکی امامہ نام کی تھی اس سے حضرت عائشہ کو بہت محبت تھی ۔ کہیں سے ایک ہار آیا تھا تو بجائے اپنے استعمال کرنے کے انہوںنے وہ ہار سوکن کی بیٹی امامہ کو دے دیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر جن مائوں نے سامان درست کیا تھا ان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ خود بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیاہ سے کوئی اچھا بیاہ میں نے نہیں دیکھا۔ (۷) آج سوکن کی اولادوں سے محبت تو دور کی بات ہے خود سوکن ایک دوسرے کودیکھناپسند نہیں کرتیں اور مارے حسد کے جلی بھنی جاتی ہیں۔ کیا مسلم معاشرہ کی سوکنیں حضرت عائشہ کے اس طرز عمل سے کوئی سبق لینے کو تیار ہیں۔

آج کے فیشن زدہ اور تعیش پسند گھرانوں کی عورتوں میں اگر قناعت پسندی کی بات کی جائے تو وہ ایک عجیب وغریب شے کہلائے گی مگر قربان جائیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی قناعت پسندی پر کہ نبی کے دستر خوان پر جو روکھا سوکھا میسر ہوا اسے تبرک سمجھ کر نوش فرما لیا۔ عسرت اور فقر وفاقہ سے انہوںنے زندگی بسر کی مگر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائیں ۔ اپنے ایک شاگرد کے پوچھنے پر ام المومنین نے جواب دیا ’’مجھے وہ حالت یاد آتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کوچھوڑا، خدا کی قسم دن میں دو دفعہ سیر ہوکر آپؐ نے روٹی اور گوشت نہیں کھایا۔ (۸)

حجاب کا اہتمام:

اس کا سبب  اس کے سواکچھ نہ تھا کہ خدا اور رسول کو خوش کرکے وہ آخرت کاگھر تعمیر کرنے میں لگی رہیں ۔ دنیا کے چند روزہ سامانِ عشرت پرہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کوترجیح دی ۔آج مسلم معاشرے میں غیبت اور بد گوئی جیسی برائی بھی عام ہے۔ جہاں کچھ عورتیں ایک جگہ جمع ہوئیں ایک دوسرے کی برائی شروع ہوگئی۔ اس سے فتنہ وفساد جنم لیتا ہے اور معاشرے کا پاکیزہ وخوشگوار ماحول تہہ وبالا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس کے نتائج بد سے لوگوں کو خبردار کیا ہے ۔  حضرت عائشہ صدیقہ کی ذات سے کسی کی غیبت تو درکنار کسی کی توہین کا معاملہ بھی روایتوں میں نہیں ملتا۔ وہ ہمیشہ سبھوں سے کشادہ پیشانی سے ملتیں۔ اپنی سوکنوں کی خوبیوں اور ان کے فضائل ومناقب کاذکر بڑی فراخ دلی سے کیاکرتی تھیں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے افک کے واقعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سخت صدمہ پہنچا ان سے بھی حسن سلوک سے پیش آتیںاور انہیں برا بھلا کہنے والوں کو روکتیں۔(۹) ایسی دل گردہ والی عورت آج معاشرے میں چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملے گی جو بدی کے عوض نیکی سے پیش آئے اوراحسان کرکے احسان نہ جتائے۔

آج معاشرے میں بے حیائی وبے حجابی، آزادانہ اختلاط مرد وزن اور آبرو باختہ ماحول نے مہذب اور ترقی یافتہ سوسائٹی کی قلعی کھول دی ہے۔ حجاب جوعورتوں کی عفت وعصمت کا محافظ اور اس کی کلیدی شناخت ہے اسے تار تار کرکے بیچ چوراہے پر پھینک دیاگیا ہے۔ کاش ہماری عورتیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے درسِ حجاب لے کر اس پر عمل کرتیں تو بے حجابی کاسیلاب ان کے گھروں کارخ نہ کرتا۔ پردہ کا بہت خیال رکھنے والی مقدس بی بی کو حج کے موقعے پر جب چند بیبیوں نے حجر اسود کو بوسہ دینے کامشو رہ دیا تو کہا کہ تم جاسکتی ہو ، میں مردوں کے ہجوم میں نہیں جاسکتی۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ طواف کی حالت میں بھی ان کے چہرے پر نقاب پڑی رہتی تھی۔  (۱۰) کیا آج کی فیشن زدہ اور بے پردگی کی دلدادہ مسلم عورتیں حضرت عائشہ صدیقہ کے اس اسوہ پر عمل کرنے اور اپنے ماحول کو پاکیزہ بنانے کے لئے آمادہ ہیں۔ علاّمہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ مسلمان عورتوں کو دعوتِ اصلاح دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’ ایک مسلمان عورت کے لئے سیرت عائشہ رضی اللہ عنہ میں اس کی زندگی کے تمام تغیرات، انقلاب اور مصائب ، شادی، رخصتی، سسرال ، شوہر ، سوکن، لاولدی، بیوگی، غربت، خانہ داری، رشک وحسد، غرض اس کے ہر موقع اور ہر حالت کے لئے تقلید کے قابل نمونے موجود ہیں۔ پھر علمی، عملی، اخلاقی ہر قسم کے گوہر گرانمایہ سے یہ پاک زندگی مالامال ہے اس لئے سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے لئے ایک آئینہ خانہ ہے جس میں صاف طور پر یہ نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہے؟‘‘ (۱۱)

حضرت فاطمہ:

اب ہم خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کےاعلیٰ کردار کو موضوع بحث بنائیں گے ۔ آج مساواتِ مردوزن ، آزادیٔ نسواں اور روشن خیالی نے کیاکیا گل نہیں کھلائے ہیں۔ عورتیں گھر سے باہر ہوکر کال سنٹروں ، آفسوں ، دکانوں وغیرہ کے کاموں میں شریک ہوکر مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیںوہ ان پر حریصانہ نگاہیں ڈالتے ہوئے ان کی عصمت وعفت پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کا مشاہدہ آئے دن کیا جارہا ہے۔  انہیں حضرت فاطمۃ الزہرا کا آئینہ پیش نظر رکھنا چاہئے جنہیں لسانِ رسالت ما ٓب ؐ نے جنتی عورتوں کی سردار کی سند عطا کی ہے۔ اس پاکدامن اور قابل ِ رشک خاتون نے نہ کبھی گھر سے باہر قدم نکالااور نہ ہی کسی کھیل کود میں حصہ لیا۔ آج اپنے جسموں کی نمائش کرنے والی تو بہت مل جائے گی مگر فاطمہ جیسا کوئی نہ ملے گا۔ دنیا کی نمود ونمائش سے گریز کرنے والی اور سادگی کی پیکر لخت جگر رسول نے عمدہ ملبوسات اور زیورات کی زیب وزینت سے بھی اپنے آپ کو بے نیاز کئے رکھا۔  حضرت خدیجتہ الکبریٰ کے کسی عزیز کی شادی کے موقع پر فاطمۃ الزہرا کے لئے عمدہ کپڑے اور زیورات بنوائے گئے۔ جب گھر سے چلنے کا وقت آیا تو سیدہ نے یہ قیمتی کپڑے اورزیور پہننے سے صاف انکار کردیا اور سادہ حالت میں ہی محفل شادی میں شرکت کی۔ (۱۲)  قربان جائیے خاتونِ جنت کی اس سادگی پر کہ ازواجِ مطہرات کے بعد اس روئے زمین پر ان سے بہتر کوئی خاتون نہیں ہوسکتی ۔وہ تو شادی وغیرہ کے موقع پر سادگی کامظاہرہ کریں اور ہماری مائیں اور بہنیں سر تاپا آراستہ وپیراستہ ہوکر بے حجابی اور عریانیت کے ساتھ مردوں کے ہجوم کو چیرتی ہوئی میرج ہالوں کی زینت بنیں۔ آج عورتیں زرق برق ملبوسات اور زیورات کے لئے شوہروں سے مطالبہ کرتی ہیں۔ لڑتی جھگڑتی ہیں اور اس طرح گھر کی نزاعی کیفیت سے ماحول خراب ہوتا ہے جس کا اثر بد بچوں پر بھی پڑتا ہے ۔

اس معاملے میں حضرت فاطمہ کاکردار اصلاحِ خانہ ومعاشرہ کے لئے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کی آج بہت زیادہ عصری ومعنوی اہمیت ہے۔ طالب ہاشمی حضرت فاطمہ کا مزید آئینہ یوں پیش کرتے ہیں :

’’حضرت فاطمۃ الزہراؓ رفتار وگفتار اور عادات وخصائل میں رسولِ کریم کا بہترین نمونہ تھیں۔ وہ نہایت متقی، صابر قانع اور دین دار خاتون تھیں ۔ گھر کاتمام کام کاج خود کرتی تھیں۔ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔ گھر میں جھاڑو دینے اور چولہا پھونکنے سے کپڑے میلے ہوجاتے تھے لیکن ان کے ماتھے پر بل نہیں آتا تھا۔ گھر کے کاموں کے علاوہ عبادت بھی کثرت سے کرتی تھیں۔‘‘  (۱۳)

یہ حضرت فاطمۃ الزہرا ؓکا آئینہ ہے ۔ آج آرام طلبی اور سہل پسندی نے خاتون خانہ کو نہ جانے کن کن پریشانیوں اور امراض میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خانگی سکون وچین غارت ہوگیا ہے۔ بچوں کی دیکھ ریکھ ، تعلیم وتربیت اور پرورش وپرداخت نے متاثر ہوکر خاندانی نظام ومعاشرت کو درہم برہم کردیا ہے۔ کیا اب بھی آنکھ نہیں کھلے گی۔

’’ایک دفعہ سیدۃ النساء علیل ہوگئیں۔ لیکن علالت میں بھی رات بھر عبادت میںمصروف رہیں۔ جب حضرت علی نمازصبح کے لئے مسجد گئے تو وہ بھی نماز کے لئے کھڑی ہوگئیں اور نماز سے فارغ ہوکر چکی پیسنے لگیں۔ حضرت علی نے واپس آکر ان کو چکی پیستے دیکھا تو فرمایا: اے رسولِ خدا کی بیٹی اتنی مشقت نہ اٹھایا کرو، تھوڑی دیر آرام کر لیا کرو کہیں زیادہ بیمار نہ ہوجائو۔

فرمانے لگیں: خدا کی عبادت اور آپ کی اطاعت مرض کا بہترین علاج ہے اگران میں سے کوئی موت کا باعث بن جائے تو اس سے بڑھ کر میری خوش نصیبی کیا ہوگی۔ ‘‘(۱۴)

اے مسلم معاشرہ کی خواتین! کاش آپ بھی سیدۃ النساء فاطمہ کی طرح خدا کی عبادت گزار وفرماں بردار بندی بن کر عبادت الٰہی میں اپنے اوقات صرف کرتیں۔

حوالہ جات

۱۔ طالب الہاشمی: تذکار صحابیات ، دہلی، ۲۰۱۷، ص، ۲۷

۲۔ سید سلیمان ندوی: سیرت حضرت عائشہ ؓ ، دہلی، ۲۰۱۳ء، ص، ۲۵

۳۔ ایضاً                                                                                                                                                              ۴۔ایضاً ، ص، ۲۶

۵۔ایضاً ، ص، ۲۹                                                                                                                        ۶۔ایضاً ، ص، ۶۱-۶۷

۷۔ ایضاً ، ص، ۷۱-۷۲                                                                                              ۸۔ ایضاً ، ص، ۱۳۶

۹۔ایضاً ، ص، ۱۳۷                                                                                                                  ۱۰۔ ایضاً ، ص، ۱۴۵

۱۱۔ایضاً ، ص،۱۷                                                                                                                       ۱۲۔ طالب الہاشمی، ص، ۱۰۴

۱۳۔ایضاً ، ص، ۱۱۱                                                                                                                  ۱۴۔ ایضاً ، ص، ۱۱۷  (جاری)

اپریل 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau