اسلامی تحریک میں بزرگوں کا کردار

محی الدین غازی

(اس مضمون میں روشن اور تاب ناک بڑھاپے کی کچھ جھلیکاں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، ان مخلص بزرگوں کو جن کی جوانی قابل رشک تھی، اور ان حوصلہ مند جوانوں کو جو اپنے بڑھاپے کو بھی مثالی بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں)

بزرگی کے روشن نقوش

حقیقت میں ابراہیم علیہ السلام کی پاک سیرت میں بہترین نمونہ ہے، جوانوں کے لیے بہترین نمونہ کہ جوانی کو کس طرح قربانیوں اور کارناموں سے سجایا جاتا ہے، اور بزرگوں کے لیے بہترین نمونہ کہ پیرانہ سالی کے باوجود اپنے جذبے اور جدوجہد کو کیسے جوان وتوانا رکھا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم نوجوانی میں توحید کی دعوت دیتے، سختیاں سہتے اور آگ کے الاؤ میں بے خوف کھڑے نظر آتے ہیں، اور بڑھاپے میں بیٹے کی قربانی کے لیے تیار اور خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف نظر آتے ہیں۔

اسلام کی روشن اور تاب ناک تاریخ میں نوجوانوں کا کردار تو نمایاں ہے ہی، بزرگوں کا کردار بھی جگمگاتا ہوا نظر آتا ہے۔ صدیوں پر پھیلی ہوئی عظمت وعزیمت کی اسلامی داستان میں بزرگوں کے ایسے ایسے کارنامے بھی شامل رہے ہیں، جن کے تذکرے امت کے جوانوں اور بزرگوں کے اندر جوش وخروش تازہ کرتے رہیں گے۔

فلسطین کے شیخ احمد یاسین شہید کیے گئے تو ان کی عمر اڑسٹھ سال تھی، وہ حرکت سے معذور تھے، اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور ظالمانہ شکنجے کے خلاف فلسطینی جدوجہد کی فعال قیادت کررہے تھے، اس دور کے اسلام پسند نوجوان انہیں دیکھ کر ایمان تازہ کرتے تھے۔ لیبیا کے شیخ عمر مختار کو جب پھانسی دی گئی تو ان کی عمر تہتر سال تھی، وہ اپنے ملک لیبیا میں غاصب اٹلی کے خلاف مزاحمت کی قیادت کررہے تھے۔ آج بھی مصر کی جیلوں میں ستر اسی اور نوے سال کے متعدد اخوانی قائدین اور کارکنان فرعونیت کے خلاف عزیمت واستقامت کے پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔

ماضی میں جائیں تو امت کے بزرگ اسی اور نوے سال کی پیرانہ سالی کے باوجود اعلی مقاصد کی خاطر جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔

امام ابن عقیل کی جوانی اور بڑھاپا سب علم کی خدمت میں گزرے، متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں صرف ایک کتاب الفنون چار سو حصوں پر مشتمل ہے، اسّی (۸۰)سال سے زیادہ عمر ہوگئی، مگر حوصلے اور ہمت کا عالم یہ تھا کہ کہتے: میرے لیے جائز نہیں ہے کہ عمر کی ایک گھڑی بھی ضائع کروں، جب میری زبان مذاکرے اور مباحثے کے قابل نہیں رہتی، اور میری نگاہ میں پڑھنے کی سکت نہیں رہتی، تو میں لیٹ کر آرام کرتے ہوئے اپنے ذہن کو غور وفکر میں مشغول کرلیتا ہوں۔

یوسف بن تاشقین کی عمر بھی اسّی (۸۰) سے زیادہ ہوگئی تھی، اور وہ اس عمر میں بھی فرنگیوں سے جنگ کرتے اور فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھتے۔

موسی بن نصیر نے اندلس فتح کیا تو ان کی عمر چوہتر(۷۴) سال تھی، وہ کہتے تھے: میں نے چالیس سال کی عمر سے میدان کارزار میں قدم رکھا، اب اسی سال کا ہونے جارہا ہوں، میرا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوا، میرا لشکر کبھی تتر بتر نہیں ہوا، اور اہل اسلام نے میرے ساتھ کبھی رسوائی کا منھ نہیں دیکھا۔

امام حاکم نیشاپوری نے حدیث کی مشہور ومعتبر کتاب المستدرک لکھی تو ان کی عمر نوے (۹۰) سے زیادہ ہوچکی تھی، اور خاص بات یہ ہے کہ اتنی زبردست کتاب اس عمر میں اپنی یادداشت سے املا کرکے تصنیف فرمائی۔

حضرت عطاء بن رباح نے نوے(۹۰) سال عمر پائی، اور آخری عمر میں بھی عبادت کا شوق یہ تھا کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سورہ بقرۃ کی دو سو آیتیں پڑھ لیتے، اور اس دوران ذرا قدم نہیں بدلتے۔

بچہ شاہیں سے کہتا تھا عقاب سالخورد

اسلامی تحریک میں حوصلوں کو بڑھانے کا بڑا کام وہ بوڑھے بزرگ کرتے ہیں، جو بڑھاپے کے باوجود سرگرم عمل رہتے ہیں، مشکل سے مشکل کام میں پیش پیش رہتے ہیں، سخت سے سخت حالات کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں، ان کی محنت کو دیکھ کر نوجوان جوش سے سرشار ہوجاتے ہیں، اور اس طرح قدیم ولولے نئی نسلوں میں منتقل ہوکر تحریک کو تروتازہ رکھتے ہیں۔

میدان عمل میں آگے رہنے والے بزرگ جب حوصلوں کو جلا بخشنے والی نصیحتیں کرتے ہیں، تو بہت موثر ہوتی ہیں، اور خوابیدہ چنگاریوں کو شعلوں میں تبدیل کردیتی ہیں۔ سن رسیدہ بزرگ کس طرح نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا سامان کریں اس کا ایک نمونہ شیخ جنید بغدادی کے استاذ شیخ ابوالحسن سري کے یہاں ملتا ہے۔

شیخ جنید کہتے ہیں میں نے سنا شیخ سري کہہ رہے تھے: اے نوجوانو، میری موجودہ حالت تک پہنچنے سے پہلے پہلے خوب محنت کرلو، ورنہ پھر کم زور ہوجاؤ گے، اور سست پڑ جاؤ گے، جس طرح میں کم زوری اور سستی کا شکار ہوگیا۔ شیخ جنید کہتے ہیں: یہ اس وقت کی بات ہے جب نوجوان عبادت میں شیخ سري کا ساتھ نہیں پکڑ پاتے تھے۔

غور کریں، بڑھاپے میں بھی عمل میں اتنے آگے کہ نوجوان مقابلہ نہیں کرپاتے، اور اپنی حالت پر ایسا اظہار افسوس کہ نوجوان اپنی چادر غفلت پھاڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ جب درد میں ڈوبی ہوئی نصیحتوں کے ساتھ عزیمت سے معمور کردار سامنے آتا ہے تو نصیحتیں دل کی گہرائی میں اترتی جاتی ہیں۔ درحقیقت نوجوانوں کو ان کی جوانی کی قدر وقیمت سے آگاہ کرنے میں ایسے جواں ہمت بزرگ بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

شیخ ابو اسحاق سبیعی نے بھی اپنے بڑھاپے میں نوجوانوں کو پکارا: نوجوانو، صحت اور جوانی کو غنیمت جانو، دیکھو پہلے کوئی رات ایسی نہیں گزرتی تھی، جب میں ایک ہزار آیتیں نہیں پڑھ لیتا تھا، اب میں کم زور ہوگیا ہوں، نماز مجھ سے چھوٹ سی گئی ہے، اب قیام لیل میں صرف سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ پاتا ہوں۔

اسلامی تحریک میں ایک دل کو چھو لینے والی مثال خرم مراد کی ہے، ان کی صحت کی خرابی کا حال خود ان کی زبان سے سنئے، لکھتے ہیں: “پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد، جو نومبر ۱۹۶۶ میں ہوا اور سب سے سخت اٹیک تھا، اللہ تعالی نے مجھے اب تک ۳۰ سال کی بونس عمر دی ہے، اس طویل مدت میں ایک عام آدمی سے کہیں زیادہ مسلسل روز بروز بڑھتے ہوئے موت کے خطرے کی زد میں رہا ہوں، اس مدت میں مزید چار ہارٹ اٹیک ہوئے، تین دفعہ ایمبولینس میں انتہائی نگہداشت میں گیا جس سے واپسی کا امکان کم ہی ہوتا ہے، ۲۰ سال سے انجائنا ہے، ۴ دفعہ اینجیو گرافی ہوچکی ہے، دو دفعہ بائی پاس سرجری ہوچکی ہے، صرف بائی پاس نہیں بلکہ والو کی وجہ سے اوپن ہارٹ سرجری ہوئی، ایک والو پلاسٹک کا ہے، ۱۹۹۱ کے ہارٹ اٹیک کے بعد انجائنا برابر بڑھ ہی رہا ہے، اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تیسری سرجری کے بارے میں سنجیدگی سے غور ہورہا ہے۔۔۔میں بظاہر مذاق میں کہتا رہا ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے اور میری میڈیکل ہسٹری چھپے، تو لوگوں کو تعجب اس پر نہیں ہوگا کہ یہ کیوں مرگیا، بلکہ ہوگا تو اس پر ہوگا کہ یہ اب تک زندہ کیسے رہا”۔ (ملاحظہ ہو: خرم مراد کی آخری وصیت)

ایک طرف بیماری کی یہ شدت دوسری طرف کام پورا کرنے کی یہ تڑپ کہ “آپریشن کی تیاری اور انتظار کے ان بیس دنوں میں میری کوشش ہے کہ اپنی بچی کھچی قوت ان کاموں پر لگادوں، جن کی تکمیل کے لیے کچھ ہوسکتا ہے۔” (ملاحظہ ہو: لمحات)

خرم مراد کا یہ بیان پڑھیے اور عمر کے آخری سال میں لکھی ہوئی ان کی “آخری وصیت” پڑھیے، کس طرح ایک ایک لفظ پڑھنے والوں کے اندر عزائم کی انگیٹھیاں دہکاتا ہے۔

بلا شبہ بہترین بڑھاپا وہ ہے جس کے سائے میں بہترین جوانیوں کی نشو ونما ہوتی ہو، اور بزرگ اور جوان شانہ بشانہ کام کرتے نظر آئیں، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھاتے نظر آتے ہیں، اور حضرت داود اور حضرت سلیمان عدل وانصاف کے لیے غور وفکر اور مشاورت کرتے نظر آتے ہیں۔ کامیاب بزرگ وہ ہیں جو اپنی سرگرمیوں میں نوجوان نسل کو شامل کرلیتے ہیں، ورنہ ان کا بڑھاپا تنہائی اور حسرت میں گزرتا ہے۔

یہ درست ہے کہ تمام بزرگوں سے سرگرم عمل رہنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے، کبھی ضعف اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپاتا ہے، تاہم اگر کچھ بزرگ اپنے ضعف، نقاہت اور بیماری کی وجہ سے آرام کرنے پر مجبور ہیں، تو بھی وہ اپنی حوصلہ افزا یادوں اور عزیمت افروز باتوں سے نوجوانوں کو نیا جذبہ دے سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ایک ایمان افروز مثال یوسف بن اسباط کی ہے۔

امام غزالی نے لکھا ہے: یوسف بن اسباط کہا کرتے تھے: اے نوجوانو بیماری آنے سے پہلے، صحت کے رہتے ہوئے بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرلو، دیکھو آج مجھے کسی پر رشک نہیں آتا سوائے اس آدمی پر جو رکوع اور سجدہ پورا پورا کرلیتا ہے، کیوں کہ میں تو اب ٹھیک سے سجدہ اور رکوع نہیں کرپاتا۔

بزرگوں کی جوانی میں اصل نمونہ ہے

تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سابقون کو بڑھاپے کی حالت میں دیکھتے ہیں، اس وقت ان کے قوی کم زور ہوچکے ہوتے ہیں، اور ان کے یہاں وہ پہلی جیسی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے، بدلتے ہوئے حالات اور رجحانات Trends سے انہیں بہت زیادہ واقفیت نہیں رہتی ہے، اس لیے ان کے تبصرے بھی اپ ٹو ڈیٹ اور متاثرکن نہیں لگتے۔ جب یہ نوجوان اپنے اس راست مشاہدے پر بھروسا کرتے ہیں، تو ان سے دو طرح کی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے بزرگوں کے سلسلے میں ویسی رائے نہیں رکھتے جیسی رکھنی چاہیے، وہ ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں، ان کی گزری ہوئی سرگرم جوانی کی بنا پر رائے نہیں بناتے ہیں۔ دوسری اور بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ تحریک کی مطلوبہ رفتار کار وہی سمجھ بیٹھتے ہیں، جو وہ ان بوڑھے لوگوں کے یہاں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، حالانکہ نئے شامل ہونے والے نوجوانوں کے لیے مطلوبہ رفتار کار وہ ہونی چاہیے جو یہ بزرگ اپنی جوانی میں اختیار کیے ہوئے تھے۔

ایسے میں تحریک کے سن رسیدہ افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نئے شامل ہونے والے نوجوان افراد کو اپنی جوانی کے زمانے کی سیر کرائیں۔ آپ کی خواہش اور کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ آپ کی گزری ہوئی سرگرم جوانی سے حوصلہ کشید کریں، آپ کے تھکے ماندے بڑھاپے کو اپنے لیے رول ماڈل نہیں بنالیں۔ تحریک کے بزرگ اگر آنے والے نوجوانوں پر اپنے بڑھاپے کا عکس ڈالیں گے تو نوجوان بھی مزاج اور رفتار میں بوڑھے ہوجائیں گے، ضروری ہے کہ نوجوانوں پر اپنی گزری ہوئی تاب ناک جوانی کا عکس ڈالیں، اسی صورت میں تحریک جوان اور تازہ دم رہے گی۔

بزرگوں کا نوجوان دوست رویہ

جوانی حوصلوں سے بھرپور ہوتی ہے، جذبات کے ہجوم میں تلخیاں دل کی طرف راستہ بہت کم پاتی ہیں، سرگرمی کا شوق بہت سی شکایتوں کو دبا دیتا ہے، لیکن بڑھاپے میں جب حوصلے سرد اور سرگرمیاں سست پڑجاتی ہیں، تو شکایتیں اور تلخیاں آسانی سے راستہ بنالیتی ہیں، یہ شکایتیں اور تلخیاں تحریک سے بھی ہوسکتی ہیں، تحریکی ساتھیوں سے بھی ہوسکتی ہیں، اور تحریکی فیصلوں سے بھی ہوسکتی ہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ تحریک کے بزرگ تحریک میں آنے والے نوجوانوں کو اپنے کن احساسات میں شریک کرتے ہیں، اگر وہ جوانی کی حوصلہ بخش یادوں کو ان کے ساتھ شیئر کریں گے، تو نوجوان ان ایمان افروز یادوں کے وارث اور امین بن سکیں گے۔ اور اگر بزرگ اپنی خوش گوار یادوں کی قیمتی امانت کو خود فراموش کردیں گے، اور بڑھاپے میں پیدا ہونے والے تلخ احساسات اور شکایتوں کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے لگیں گے، تو ان سے متاثر ہونے والے نوجوان حوصلوں کے بجائے شکایتوں سے اپنے تحریکی سفر کا آغاز کریں گے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تحریکیں شکایتوں سے نہیں حوصلوں سے چلا کرتی ہیں۔ سرگرمی اس وقت عروج پر پہنچتی ہے، جب کام کا لطف اتنا بڑھ جائے کہ راستوں اور ہم سفروں کی طرف سے لاحق ہونے والی تلخیوں کے احساس کو دل میں جگہ ہی نہیں ملے۔ جن پاک نفوس نے اپنی جوانی حوصلوں اور سرگرمیوں کے ساتھ گزاری ہو ان کے لیے یہ کیسے روا ہوسکتا ہے کہ وہ سن رسیدہ ہوجانے کے بعد نئے آنے والے نوجوانوں کو ویسا نہیں دیکھنا چاہیں جیسے وہ خود اپنی جوانی میں تھے۔

اس موضوع کی اہمیت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے، جب تحریک میں عمر دراز لوگوں کی کثرت ہوجائے، اور نوجوان عنصر بہت کم رہ جائے، اور دیر سے ہی سہی نوجوانوں کو تحریک میں بڑے پیمانے پر لانے کی ضرورت کا احساس شدید تر ہوجائے، ایسی صورت میں عمر دراز لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلیں، اور اپنے رویے کو بہت زیادہ نوجوان دوست” بنالیں۔ ورنہ ان کی یہ نیک خواہش پوری نہیں ہوسکے گی۔

نوجوان دوست رویہ” بنانے کے لیے بزرگوں کو اپنی جوانی کی طرف رخ کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس وقت وہ اور ان کے جوان ساتھی اپنے تحریکی کردار میں کیا پسند کرتے تھے، اور آپس میں کس طرح کا تحریکی رویہ اختیار کرتے تھے۔

کبھی کبھی تبدیلی کو لے کر بزرگوں کی طرف سے تشویش اور بے چینی کا اظہار ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تحریک کے تمام سن رسیدہ افراد اپنی جوانی میں “تبدیلی پسند” رہے ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنی جوانی میں یا تو خود تبدیلی انجام دی ہوتی ہے، یا کسی تبدیلی کو قبول کیا ہوتا ہے، اسلامی تحریک میں ان کی شمولیت ہی تبدیلی کو قبول کرنے کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ لیکن بڑھاپے میں داخل ہوتے ہوئے ان میں سے کچھ لوگ تبدیلی مخالف ہونے لگتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ ان کی لائی ہوئی تبدیلیوں میں کوئی تبدیلی نہ کریں۔ تحریک کی امانت آنے والی تازہ دم نسل کے حوالے کرنے کے لیے تبدیلی پسند بننا ضروری ہے۔

بزرگی وہ ہے جو ضعیفی سے شکست نہ کھائے

مشاہدہ بتاتا ہے کہ اسلامی تحریک کے اکثر بزرگ آخری دم تک تحریک کے لیے اپنی ایک ایک سانس قربان کردینے کے لیے آمادہ اور مستعد بلکہ بے چین رہتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ عمر رسیدہ ہوجانے کے بعد غیر فعال (passive) ہوجاتے ہیں، اور کچھ لوگ منفی (negative) بھی ہوجاتے ہیں۔

بڑھاپے میں غیر فعال ہونے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کی عمر اور صحت کے پیش نظر رفقاء تحریک انہیں پہلے کی طرح تحریکی سرگرمیوں میں شریک نہیں کرتے ہیں، جس کا اثر ان کی فعالیت پر پڑتا ہے۔ اور دھیرے دھیرے تحریک سے ان کا تعلق کم زور ہوتا جاتا ہے، تحریک ان کے لیے ایک بھولی بسری یاد بننے لگتی ہے۔ لیکن یاد رہے، اگر دل میں جذبہ جوان اور توانا ہو تو بڑھاپے میں بھی انسان بہت سی سرگرمیوں کو ڈھونڈ لیتا ہے۔

بڑھاپے میں منفی ہوجانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ نظرانداز کیے جارہے ہیں، اور ان کی خدمات کی ناقدری کی جارہی ہے۔ یہ احساس ان کی شخصیت کو منفی بنادیتا ہے، پھر وہ موقع بے موقع نکتہ چینی کرنے لگتے ہیں۔ نوجوانوں کا فرض ہے کہ بزرگوں کی دل لگی کا سامان کرتے رہیں، ان سے مشورے لیں اور ان کی خدمات کا علانیہ اعتراف کرتے رہیں۔ اور بزرگوں کو چاہیے کہ نوجوانوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوشی محسوس کریں۔ پہلے جو کام خود کرکے خوش ہوتے تھے، اب وہ کام دوسروں کے ذریعہ ہوتا دیکھ کر خوش ہوں۔ تحریک کے افراد کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ ان کے کام ان کی نگاہوں کے سامنے دوسروں کے ذریعہ انجام پانے لگیں۔ انفعالیت نوجوانوں میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن بزرگوں کی انفعالیت خاموش ہوتی ہے، آس پاس کے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا ہے، مگر متعلق شخص بے حد متاثر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں چوکنا رہنا لازم ہے۔

بڑھاپے کی فرصت میں بہت سے لایعنی مشغلوں کو قریب آنے کا موقع مل جاتا ہے، اس میں ایک مشغلہ غیبت کا ہے۔ دل ودماغ پر بہت برا اثر پڑتا ہے جب کوئی بزرگ جوانوں کے سامنے تحریک پر نکتہ چینی، یا تحریک کے افراد کی غیبت یا ان پر غیر ضروری منفی تبصرہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی باتیں لوگ اتنی توجہ سے نہیں سنتے ہیں، جتنی توجہ سے بزرگوں کی باتیں سنتے ہیں، خواہ وہ غیبت ہی کیوں نہ ہو۔ غیبت سے پرہیز ہر عمر میں ضروری ہے۔

کچھ لوگوں کی زندگی میں یہ المیہ پیش آتا ہے کہ جوانی تو جرأت وشجاعت کے ساتھ گزارتے ہیں، لیکن جب قوی کم زور ہونے لگتے ہیں، تو جرأت وشجاعت کی شمع بھی بجھنے لگتی ہے، اور وہ پست ہمتی اور کم زوری کی باتیں کرنے لگتے ہیں، اپنے بچوں اور قریبی نوجوانوں کو عافیت پسندی کا سبق سکھانے لگتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جسم کے قوی کم زور ہوجائیں مگر ہمت جواب نہ دے، دل آخری دھڑکن تک جری اور شجاع رہے۔

کچھ لوگوں کے ساتھ یہ سانحہ بھی پیش آتا ہے کہ عزیمت والی پوری زندگی گزارنے کے بعد عین بڑھاپے میں گھر اور خاندان کے نوجوانوں کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ زندگی بھر غیر اسلامی رسم ورواج کے خلاف جہاد کرتے ہیں، اور بڑھاپے میں بچوں کی ضد کے آگے ہار مان کر خود ان میں شریک ہونے لگتے ہیں۔ اس پسپائی کا نقصان تحریک کو پہنچتا ہے، کیوں کہ وہ تحریک کے نشان(icon) ہوتے ہیں۔ اس لیے طے کرلیں کہ کمر چاہے جھک جائے لیکن موقف میں جھکاؤ کبھی نہیں آنے دیں۔ حضرت ابراہیمؑ اپنے بڑھاپے میں جوان اکلوتے بیٹے اسماعیل ؑکی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہوگئے، پھر ان کے راستے پر چلنے والے بزرگوں کے لیے کیسے روا ہوسکتا ہے کہ اپنی اولاد کے لیے اپنی دینی قدروں پر چھری چلادیں۔

دل جواں اور جواں اور جواں ہوتا ہے

جلیل القدر صحابی رسول حضرت ابوموسی أشعری کا ایک تحریکیت سے بھرپور جملہ بوڑھی ہڈیوں میں بجلیاں دوڑانے کے لیے کافی ہے، وہ آخری عمر میں بہت زیادہ محنت کرنے لگے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ اپنے ساتھ کچھ نرمی کرتے تو اچھا ہوتا، انھوں نے جواب دیا: جب گھوڑوں کو ایڑ لگائی جاتی ہے، اور وہ اپنے نشانے کے قریب پہنچتے ہیں، تو اپنی ساری جان لگادیتے ہیں، میرا آخری وقت تو اس سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔

اسلامی تحریک میں اپنی جوانیاں لگادینے والے بزرگ تحریک کا بڑا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، وہ تحریک کی اعلی روایتوں اور حسین ایجابی رویوں کے امین ہوتے ہیں، ان کی یادیں نئے اور نوجوان رفیقوں کے عزائم کی انگیٹھیاں گرم رکھنے کی قدرت رکھتی ہیں۔ ان کے تجربات انمول ہوتے ہیں، ان تجربات کے پیچھے انھوں نے بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔

اسلامی تحریک کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ بزرگوں کا جذبہ اور اسوہ بعد میں آنے والے نوجوانوں میں منتقل ہو، ورنہ ایک مقصد اور نصب العین پر اتفاق کے باوجود کئی طرح کے ناروا فاصلے پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ سابقون کا جذبہ اور اس جذبے سے نمو پانے والا عملی اسوہ، اور اول روز سے ہی قربانیوں کے سائے میں پروان چڑھتی روایات بعد میں آنے والی نسلوں میں جتنی زیادہ منتقل ہوں گی، تحریک میں اتنی ہی زیادہ تازگی اور شادابی رہے گی۔

جذبہ وعمل کی اعلی روایتوں اور حسین مثالوں کی منتقلی میں تحریک کے سن رسیدہ افراد کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ وہ ان روایتوں اور مثالوں کے امین ہوتے ہیں، اور انہیں نئی نسلوں کے حوالے کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ جتنی جلدی یہ ذمہ داری ادا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، انہیں اتنی ہی زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔

امام شافعی کو امت میں بہت اونچا مقام حاصل ہے، امام شافعی کو امت کا امام بنانے میں شیخ مسلم بن خالد زنجی کا بڑا اہم کردار رہا ہے، اس وقت مسلم بن خالد مکہ مکرمہ کے امام اور فقیہ مانے جاتے تھے، انھوں نے امام شافعی کے بچپن میں ان کی ذہانت کو بھانپا، علم دین کی طرف انہیں متوجہ کیا، کم سنی میں اعلی تعلیم دی، مزید تعلیم کے لیے امام مالک کے پاس بھیجا، اور جب امام شافعی پندرہ یا بیس سال کے ہوئے، اور ان کی عمر کوئی پیسنٹھ یا ستر سال تھی، انھوں نے مکہ مکرمہ کی مسند تدریس وافتاء امام شافعی کے حوالے کردی۔ اس وقت بھی عام رجحان یہ تھا کہ مسند تدریس وافتاء پر عمر دراز عالم کو رہنا چاہیے، بہت سے طلبا امام شافعی کی مجلس میں بیٹھنا مفید نہیں سمجھتے تھے، تاہم امام احمد بن حنبل جیسے بہت سے جوہر شناس انہی کے یہاں جاکر علم کی دولت حاصل کرتے تھے۔ شیخ مسلم بن خالد زنجی کے اس کردار میں تحریک اور امت کے بزرگوں کے لیے بڑا سبق ہے۔

فروری 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau