کفاءت کا مسئلہ اور اعتدال کا رویہ

(1)

شیخ فیصل مولوی | ترجمہ: احمد الیاس نعمانی

شیخ فیصل مولوی عصر حاضر کے عظیم عالم، فقیہ اور داعی تھے، لبنان کے شہر طرابلس میں 1941 میں پیدا ہوئے، اور 8 مئی 2011 کو وفات پائی۔ لبنان، شام اور فرانس کی تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کی، پھر لبنان کی شرعی عدالتوں میں قاضی کے فرائض انجام دیے۔ آپ کا شمار اخوان المسلمین کے ممتاز علما و فقہا میں ہوتا ہے۔ لبنان میں الجماعہ الاسلامیہ کے ذمہ داروں میں رہے۔ 1980 سے 1985 تک کا عرصہ یوروپ میں گزارا، اس مدت میں یوروپ میں متعدد اسلامی خدمات انجام دیں۔ فرانس میں یوروپین کالج فار اسلامک اسٹڈیز قائم کیا۔ 1997 میں شیخ یوسف القرضاوی کی صدارت میں یوروپین کونسل فار افتا اینڈ ریسرچ قائم ہوئی تو آپ اس کے نائب صدر بنائے گئے۔ نہایت سرگرم تحریکی زندگی اور دیگر مشغولیات کے ساتھ بیش بہا علمی خدمات بھی انجام دیں۔ ‘المفاہیم الاساسیۃ للدعوۃ الاسلامیۃ فی بلاد الغرب’اور ‘الأسس الشرعیۃ للعلاقات بین المسلمین وغیر المسلمین’آپ کی معروف ترین تصنیفات ہیں، ان کے علاوہ دیگر تصنیفات و مقالات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ (مترجم)

(اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے فقہ کی دو اصطلاحات کو ذہن نشین کرلینا ضروری ہے، جن کا تذکرہ اس مضمون میں بار بار آئے گا۔ ایک ہے شرطِ صحت اور دوسری ہے شرط لزوم۔ کفاءت کے سیاق میں شرطِ صحت کا مطلب ایسی شرط جس کے نہ ہوتے ہوئے نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، خواہ لڑکی اور اس کے ولی راضی ہوں۔ اور شرط لزوم کا مطلب ایسی شرط جس کے نہ ہونے پر نکاح منعقد تو ہوجائے گا، لیکن لڑکی یا اس کے ولی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار رہے گا۔)

نکاح میں کفاءت کا اعتبار ان مسائل میں سے ہے جن میں معاشروں کی روایات اور رواجوں کا بڑا دخل ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے فقہا نے بعض عرفوں اور رواجوں کو صحیح قرار دینے کے لیے نصوص کی تشریح میں بڑے توسع اور روایات کی جانچ میں بہت تساہل سے کام لیا ہے، ان فقہا کے پیش نظر یہ تھا کہ اسلام کی نگاہ میں زوجین کے مابین باہمی مفاہمت اور تعاون شادی کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔ اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب زوجین افرادِ زمانہ کی نگاہ میں اہمیت رکھنے والے معیارات کے اعتبار سے یکساں ہوں۔ اور ایسے معیارات کی تشکیل میں معاشرہ کی روایات اور اس کے عرفوں کا بڑا دخل ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ نے یوروپین کونسل فار افتا اینڈ ریسرچ کے تیرہویں سیمینار کے لیے لکھے گئے اپنے مقالہ میں لکھا ہے۔”کفاءت کے معیارات زمانے، علاقے، عرفوں اور رواجوں کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس کی بنیاد عرف پر ہے، اور عرف شریعت میں معتبر ہے، لہذا کسی نسب یا پیشہ کی بابت معاشرہ کا نظریہ تبدیل ہو جائے تو یہ تبدیل شدہ عرف معتبر ہوگا۔” جو حضرات کفاءت کو نکاح کی شرط مانتے ہیں یہ ان کے موقف کی بہترین ترجمانی ہے۔

ہم اسی مسئلہ کی بابت زیر نظر مقالہ میں گفتگو کریں گے:

کفاءت کی تعریف و تشریح

کفاءت مماثلت اور مساوات کو کہتے ہیں، نکاح کے سلسلے میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شوہر چند مخصوص امور میں اہلیہ کے برابر ہو یا اس سے زیادہ کم تر نہ ہو، ایسے چند اہم امور/معیارات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

دین

یہاں اس سے مراد دین داری یعنی پرہیزگاری و صالحیت کو اختیار کرنا اور گناہوں سے باز رہنا ہے، اسی لیے اگر کوئی مرد کسی لڑکی کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے آپ کو نیک و صالح ظاہر کرے، لیکن شادی کے بعد معلوم ہو کہ وہ فاسق ہے، اس نے صرف شادی کرنے کے لیے اپنے آپ کو نیک و متقی ظاہر کیا تھا، یا اسی طرح کوئی خاتون اپنے ولی کی اجازت کے بغیر فاسق شخص سے شادی کر لے، یا ولی بغیر اس کی اجازت کے اس کی شادی کسی فاسق سے کر دے تو اسے یا اس کے اولیا کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔ یہ جمہور یعنی شوافع، حنابلہ، مالکیہ، اکثر احناف، زیدیہ اور جعفریہ کی رائے ہے۔

نسب

احناف، شوافع اور حنابلہ کے نزدیک، نسب کا اعتبار دادیہالی خاندان سے ہوگا۔ ان مسالک میں نسب کے سلسلے میں ایسی تفصیلات ہیں جن میں سے اکثر اب ہمارے معاصر اسلامی معاشروں میں معمول بہ نہیں رہی ہیں۔ یہ حضرات حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ”قریش باہم کفو ہیں، عرب قبائل و افراد باہم کفو ہیں، موالی قبائل و افراد باہم کفو ہیں، سوائے کپڑا بُننے والوں یا بال کاٹنے والوں کے۔”

[1]۔ اس حدیث کی بابت ابن ہمام کا کہنا ہے: ”یہ حدیث ضعیف ہے، صحیح نہیں ہے”، لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں: ”اس مسئلہ میں ضعیف حدیث کا بھی اعتبار کر لیا جائے گا۔”[2] زیلعی نے[3] مستدرک حاکم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے، لیکن اس میں قریش کا ذکر نہیں ہے، زیلعی نے ابن عبد الہادی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس کی سند کو منقطع بتایا ہے۔ ”قریش باہم کفو ہیں”یہ جملہ ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب[4] میں نقل کیا ہے۔ اور اپنے والد (ابو حاتم) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو منکر کہا ہے[5]۔ سید سابق نے لکھا ہے[6] کہ امام دار قطنی نے اپنی کتاب ‘العلل’ میں اس کو غیر صحیح کہا ہے، اور ابن عبد البر نے اسے منکر و موضوع بتایا ہے۔ شوکانی نے نیل الاوطار[7] میں حاکم، ابن عبد البر اور بزّار کی ذکر کردہ اس حدیث کی تمام روایات جمع کی ہیں۔ اور پھر ان علتوں کی نشان دہی کی ہے جن کی وجہ سے علما نے ان روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ بایں ہمہ مالکیہ اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علما کا خیال یہ ہے کہ نسب کا کفاءت میں کوئی دخل نہیں ہے۔ امام مالک کی خدمت میں کسی نے عرض کیا: کیا لوگ اصل عربوں اور دیگر علاقوں سے آکر آباد ہوئے لوگوں میں فرق کرتے ہیں۔ امام موصوف نے اسے نہایت سنگین غلطی بتایا۔ اور فرمایا: تمام اہل اسلام باہم کفو ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : یاأَیهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ(اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ الحجرات: 13)۔ امام سفیان ثوری فرماتے تھے: ”نسب میں کفاءت معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ تمام انسان برابر ہیں، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ”کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ رنگ کے انسان پر کوئی فضیلت نہیں ہے، فضیلت کا معیار تو تقوی ہے۔”[8] ہیثمی کے مطابق اس کے راوی صحیحین کے راوی ہیں۔[9] شوکانی نے حضرت عمر، حضرت ابن مسعود، امام محمد بن سیرین اور حضرت عمر بن عبد العزیز سے اس رائے کی تائید نقل کی ہے۔ امام ابن قیم نے بھی اس کو راجح قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: رسول اکرم ﷺ کا حکم صرف دین اور دینداری میں کفاءت کے اعتبار کا ہے، لہذا کسی مسلم خاتون کی کافر مرد سے یا پاکباز و متقی مسلم خاتون کی گناہوں کے عادی مسلمان سے شادی نہیں ہونی چاہیے، اس کے علاوہ قرآن و سنت میں کسی اور چیز کو کفاءت میں معتبر نہیں مانا گیا ہے۔ اسی کی بنیاد پر قرآن میں مسلمان عورت کے لیے خبیث زانی مرد سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے، نسب، پیشہ اور مال و دولت وغیرہ کا کفاءت میں کوئی اعتبار نہیں کیا ہے۔ غیر قریشیوں کے قریشی خواتین سے، غیر ہاشمیوں کے ہاشمی خواتین سے اور فقرا کے خوش حال خواتین سے نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے۔[10]

ہماری رائے

اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ عقد نکاح میں کفاءت کو معتبر ماننے کے متعدد شرعی دلائل پائے جاتے ہیں، لیکن نسب کو امور کفاءت میں داخل کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ ”اسلام کی امتیازی صفت دعوت مساوات ہے، اسلام نسلی بنیادوں پر امتیاز نیز قبیلہ و نسب کی بابت جاہلی طرز کے شدید خلاف ہے۔ حجة الوداع کے موقع پر آں حضرت ﷺ کا فرمان اسلام کا یہ موقف بالکل واضح کر دیتا ہے کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، تقوی نہ ہو تو کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی طرح کی فضیلت حاصل نہیں ہے۔”[11]

اس شریعت کا ایک اہم مقصد انساب پر فخر و مباہات کا خاتمہ کرنا اور افضلیت کا معیار نیکی و تقوی کو قرار دینا ہے، فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے باب کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر اپنا جو مشہور خطبہ دیا تھا یہ خطبہ سیرت ابن ہشام سمیت تمام معروف کتب سیرت میں درج ہے اس میں فرمایا تھا : اے قریش کے لوگو! زمانہ جاہلیت میں جو تم آبا و اجداد کی بنیاد پر غرور و تکبر کی روش اختیار کرتے تھے اب اللہ تعالی نے اسے ختم کر دیا ہے۔ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ترجمہ) ( اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو)

یہی بات رسول اکرم ﷺ نے یوں فرمائی تھی: ”اللہ تعالی نے آبا و اجداد پر فخر و غرور کی جاہلی روش کو تمھارے لیے حرام قرار دیا ہے، اب انسانوں کی تقسیم بس ان دو گروہوں میں ہو سکتی ہے: ایک پرہیزگار مومن اور دوسرا بدبخت فاجر، تم آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، لوگ ان لوگوں پر فخر کرنا چھوڑ دیں جو جہنم کا آئندھن ہیں، ورنہ وہ اللہ کی نگاہ میں بدبو کے خوگر کیڑے سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے۔” یہ روایت امام ابو داود اور امام ترمذی نے نقل کی ہے، امام ترمذی نے اس کو ‘حسن صحیح’کہا ہے۔

اس مفہوم کی اور بھی احادیث کتب حدیث میں آئی ہیں، یہ احادیث صحیح درجہ کی نہ ہوں تب بھی کم از کم ان احادیث سے بہتر سندیں رکھتی ہیں جن سے فقہا نے شادی میں نسب کے اعتبار پر استدلال کیا ہے۔ ایسی چند روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”تمھارے یہ نسب کسی کے لیے شرم و عار کا باعث نہیں ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو، سب برابر ہو، اور تم میں باہم فضیلت کا معیار دین اور عمل صالح ہے۔”[12]

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی یہ بات بیان فرمائی : ”قیامت کے دن اللہ ایک منادی کو حکم دے گا. وہ اللہ کی جانب سے ندا لگائے گا کہ : سنو! میں نے تمھارے لیے ایک نسب بنایا ہے، اور تم نے ایک نسب بنایا ہے، میں نے تم میں سب سے معزز سب سے زیادہ تقوے والے کو قرار دیا ہے، لیکن تمھیں اصرار تھا کہ تم یوں کہوں گے: فلاں بن فلاں فلاں بن فلاں سے بہتر ہے، آج میں اپنے متعین کردہ نسب کو بلند کروں گا اور تمھارے بنائے گئے نسب کو بے حیثیت کروں گا، اہل تقوی کہاں ہیں؟”[13]

ایک مرتبہ حضرت ابو ذرؓ اور حضرت بلالؓ کے مابین کسی بات پر اختلاف ہو گیا، حضرت ابو ذر نے حضرت بلال کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا ابن السوداء! ‘اے کالی عورت کے بیٹے! ‘ رسول اکرم ﷺ نے سنا تو خفا ہو گئے، حضرت ابو ذر سے فرمایا: ”کیا تم اس کو اس کی ماں کی بنیاد پر عار دلا رہے ہو، تم میں جاہلی اثرات ہیں”، حضرت ابو ذر کو زبردست ندامت ہوئی، انھوں نے اپنا گال زمین پر رکھا اور حضرت بلال سے کہا: کھڑے ہو کر اس پر اپنا قدم رکھو۔ یہ قصہ متعدد روایات میں نقل ہوا ہے، بخاری و مسلم میں بھی یہ واقعہ مروی ہے۔

معاشی حالت

احناف، (ایک روایت کے مطابق حنابلہ) اور بعض شوافع کے نزدیک شادی کے سلسلے میں شوہر کی معاشی حالت بھی کفاءت کا ایک معیار ہے، اس لیے کہ دیگر امور سے کہیں زیادہ مال کی بنیاد پر تفاخر ہوتا ہے، اور اس لیے بھی کہ خوش حال خاندان کی لڑکی کے لیے شوہر کی تنگ دستی، اس کے اور اس کی اولاد کے نفقہ میں آنے والی پریشانیاں نہایت پریشان کن اور زحمت کا باعث ہوتی ہیں، امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک زوجین کے مابین معاشی حالت میں مساوات کفاءت کے پائے جانے کے لیے ایک شرط ہے، امام ابو یوسف کے نزدیک شوہر کا اتنا خوش حال ہونا کافی ہے کہ وہ نفقہ کا خرچ اٹھا سکے۔ شوافع کے یہاں مفتی بہ قول یہ ہے کہ خوش حالی کفاءت کا معیار نہیں ہے، کہ مال تو آنی جانی چیز ہے، اور اچھے لوگ اس کو موجب فخر نہیں سمجھتے ہیں، امام احمد سے مروی ایک اور قول یہ ہے کہ خوش حالی کا کفاءت میں کوئی اعتبار نہیں ہے، اس لیے کہ فقر تو دین کی نگاہ میں ایک شرف ہے، ابن عباس کفاءت میں مال کا اعتبار نہیں کرتے تھے، ان سے نکاح میں کفاءت کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا ”دین و نسب۔”[14]

ہماری رائے

اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ مال کو ان معیارات کفاءت میں شمار کرنا صحیح نہیں ہے جن کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مطالبہ کیا جا سکے، ہماری اس رائے کے چند دلائل ہیں:

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَأَنْكِحُوا الْأَیامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ یكُونُوا فُقَرَاءَ یغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ [النور: 32] (تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمھارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کا بھی، اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انھیں بے نیاز کر دے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا ہے سب کچھ جانتا ہے)۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ فقر کی وجہ سے شادی سے نہ رکو ”اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انھیں بے نیاز کر دے گا۔” یعنی اللہ تعالی نے شادی کرنے والوں سے فقر کے خاتمہ کا وعدہ کیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی نے حضرت ابن مسعود کا یہ قول نقل کیا ہے: ”نکاح کے ذریعے خوش حالی حاصل کرو”، حضرت عمر ؓکا یہ ارشاد بھی امام قرطبیؒ نے اس موقع پر نقل کیا ہے: ”اس شخص پر حیرت ہے جو نکاح کرکے خوش حالی حاصل نہیں کرتا ہے”، انھوں نے اس آیت کو تنگ دست کی شادی کرانے کی دلیل مانا ہے، اور یہ کہا ہے کہ بیوی کو شوہر کی تنگ دستی کی بنیاد پر علیحدگی طلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اس لیے کہ اس نے اسی حال میں شوہر سے نکاح کیا ہے۔ شوکانی نے نیل الاوطار میں ابن ابی حاتم کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: ”اللہ نے تم کو نکاح کا جو حکم دیا ہے، اس کی تعمیل کرو، جو وعدہ اللہ نے تم سے کیا ہے یعنی تمھارے فقر کے خاتمہ کا وہ اللہ پورا کرے گا۔ ”مصنف عبدالرزاق میں حضرت عمرؓ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے: ”مجھے اس شخص سے زیادہ کسی پر حیرت نہیں ہوتی جو نکاح کرکے خوش حالی حاصل نہیں کر لیتا، حالاں کہ اللہ نے نکاح پر اس کا وعدہ کیا ہے۔” مستدرک حاکم اور دیگر کتب حدیث میں حضرت عائشہ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ ”عورتوں سے نکاح کرو کہ وہ مال (یعنی خوش حالی) لے کر آتی ہے۔”

اوپر جو کچھ لکھا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے باوجود فقر کے نکاح کا حکم دیا ہے، بلکہ اس کی ترغیب دی ہے[15]، اسے خوشحالی کا سبب مانا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر کی بنیاد پر نکاح کو فسخ نہیں کیا جا سکتا ہے اور مال یا خوشحالی کو معیارات کفاءت میں شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

امام بخاریؒ نے کتاب النکاح (باب الاکفاء فی الدین) میں حضرت سہلؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ”ایک (مال دار) آدمی آپؐ کے سامنے سے گزرا، آپ نے (ساتھ موجود لوگوں سے) کہا: اس کی بابت کیا رائے ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ ایسا (معزز) شخص ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا پیغام قبول کیا جائے، کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، کسی مجلس میں بولے تو اس کو سنا جائے، آپؐ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر ایک غریب مسلمان سامنے سے گزرا تو آپؐ نے دریافت فرمایا: اس کی بابت تمھاری کیا رائے ہے، لوگوں نے عرض کیا: یہ ایسا شخص ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا پیغام مسترد کر دیا جائے، سفارش کرے تو قبول نہ کی جائے، بولے تو اس کی بات پر توجہ نہ دی جائے، آپؐ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: پچھلے آدمی جیسے لاکھوں افراد ہوں، تب بھی یہ ایک شخص ان سے بہتر ہے۔” اس حدیث سے یہ بات نہایت واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ غربت نکاح میں مانع نہیں ہے، اور نکاح کے بعد اس کی بنیاد پر نکاح فسخ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس حدیث سے یہی بات امام بخاریؒ نے سمجھی ہے، اس لیے اس کو جس باب میں داخل کیا ہے اس کا عنوان لگایا ہے: ‘باب الاکفاء فی الدین'(دین کے اعتبار سے کفو افراد) یعنی انھوں نے یہی سمجھا ہے کہ کفاءت میں اعتبار دینی حالت کا ہی ہے۔

پیشہ

یعنی حصول معاش کی مشغولیت، جیسے زراعت، صناعت و تجارت وغیرہ، مالکیہ کے بارے میں تو ہم اوپر پڑھ آئے ہیں کہ وہ صرف دین کو ہی معیار کفاءت قرار دیتے ہیں، بقیہ تین مسالک پیشہ کو معیار کفاءت ماننے کی بابت یہ آرا رکھتے ہیں، امام ابو حنیفہ اور امام احمد سے روایت ہے کہ : پیشہ نکاح کے سلسلے میں معیار کفاءت نہیں ہے، امام شافعیؒ کا یہ ارشاد مختصر بوطی میں مروی ہے کہ کفاءت کا معیار دین ہے، امام احمد ؒسے ایک اور روایت یہ ہے کہ پیشہ (یا صنعت) کفاءت کے معیارات میں سے ایک معیار ہے، اس سلسلے میں ان کا استدلال اس حدیث سے ہے: ”عرب باہم و دگر کفو ہیں، سوائے بُنکر اور حجّام کے” امام احمد ؒسے عرض کیا گیا: آپ اس حدیث کو ضعیف بھی قرار دیتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: اس لیے کہ اس پر عمل ہے۔ امام ابو یوسف ؒسے پیشہ کو معیار کفاءت نہ ماننا مروی ہے، الا یہ کہ خاتون جسم فروش ہو۔ ان اقوال کے باوجود ان تینوں مسالک میں پیشہ کو معیار کفاءت مانا گیا ہے، گو کہ اس کی تفصیل میں ان کے یہاں اختلاف ہے، لیکن اس حوالہ سے عرف کے اعتبار پر یہ حضرات متفق ہیں۔

عیوب سے محفوظ ہونا

شادی کو فسخ کیے جانے یا زوجین کے مابین تفریق پر جب ہم کلام کریں گے تو اس مسئلہ پر گفتگو کریں گے۔ (جاری)

حواشی و حوالہ جات

  1. بیہقی: 7/134
  2. المفصل فی احکام المراة، ڈاکٹر عبد الکریم زیدان، 6/333، بحوالہ فتح القدیر 2/43
  3. نصب الرایہ 3/197
  4. ‘علل الحدیث’ 1/44
  5. الموسوعة الفقہیة الکویتیة، باب الکفاءة، 34/273
  6. فقہ السنہ 2/147
  7. نیل الأوطار 6/146
  8. مسند احمد: 5/411
  9. مجمع الزوائد
  10. زاد المعاد، 5/15، مؤسسة الرسالة، بیروت، 14 ایڈیشن
  11. الفقہ الاسلامی و ادلتہ، ڈاکٹر وہبہ زحیلی، 7/245، دار الفکر، دمشق
  12. مسند احمد، طبرانی، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہیں، بقیہ راوی ثقہ ہیں، مجمع الزوائد 8/159
  13. طبرانی نے المعجم الصغیر اور المعجم الاوسط میں اسے نقل کیا ہے، اس کے ایک راوی طلحہ بن عمرو ہیں، جو متروک ہیں، مجمع الزوائد، 8/161
  14. ابن ابی شیبہ: 1/233
  15. الموسوعة الفقہیة، باب الکفاءة، 34/278، المغنی: 6/485

مارچ 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau