تعزیرات – کتاب و سنت کی روشنی میں

عبد الخالق ندوی

تعزیرات کی تعریف

معاصی تین اقسام پر ہیں۔

۱- وہ جن کی پاداش میں کفارہ عائد ہوتا ہے  ۔

۲- وہ جن میں حد نہیں مثلاً رمضان میں دن کے وقت (حالت روزہ میں) جماع کر لینا۔

۳- وہ جن کی پاداش میں نہ کفارہ ہے اور نہ حد، ان کی تفصیل کتاب وسنت اور فقہ میں موجود ہے، تو ان میں تعزیری سزائیں دی جائیں گی۔ ۲؎

تعزیرات کی مشروعیت

ان کی مشروعیت کے ضمن میں اصل وہ روایت ہے جسے ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور بیہقی نے بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں : نبی ﷺ نے ایک تہمت لگانے والے کو قید میں رکھنے کا حکم دیا۳؎۔ قید میں رکھنے کا یہ فیصلہ و حکم احتیاطاً تھا تاکہ حقیقت حال ظاہر ہو، بخاری و مسلم اور ابوداؤد نے سیدنا ہانی بن نیار رضی اﷲ عنہ سے نقل کیا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا فرمایا:’’ دس ضربوں سے زیادہ مت مارو، مگر اﷲ کی حدود میں سے کسی حد میں ۴؎ ثا بت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بطور تعزیر سرمنڈوا دیتے، زدوکوب کرتے اور کبھی جلا وطن کر دیتے تھے، ایک واقعہ میں شراب فروشوں کی دکانیں آگ کی نذر کردیں اور وہ پوری بستی بھی جہاں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا محل جلوا دیا ۔حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک دُرّہ بنایا ہوا تھا جس کے ذریعہ مجرمین کی گوشمالی کیا کرتے تھے، ایک جیل بھی تعمیر کرائی، نوحہ اور بین کرنے والی خاتون کو تادیباً مارا (اسے ابن قیم جوزیہ نے اِغاثۃ اللہفان میں ذکر کیا) ائمہ ثلاثہ کے نزدیک تعزیرات واجب اور شافعی کے نزدیک غیر واجب ہیں۔۵؎

تعزیرات  اور حدود کے مابین فرق

اسلام نے اسے نافرمانوں کی تادیب (راہ راست پر لانے) کے لیے مشروع کیا ہے جو اسلامی  قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اس کی حکمت وہی ہے جو حدود کی مشروعیت کی ہے جس کا ذکر فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ البتہ تین وجوہ سے یہ حدود سے مختلف ہیں۔

۱-  حدود میں تمام لوگ مساوی ہیں جبکہ تعزیری سزا ان کے سماجی فرق کے مدنظر مختلف اور متفاوت  ہوسکتی ہے۔ اگر معزز اور خاندانی (یا علم و فضل کے لحاظ سے ممتاز) شخص سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو اسے درگزر کرنا جائز ہے ’’کیونکہ یقینا وہ نادم ہوگا اور آئندہ سے نہ کرنے کا عزم کرے گا‘‘۔اور اگر اسے سزا دینا ضروری ہو تو سزا ہلکی ہونی چاہیے۔ (ایسا کرنا جائز ہے‘‘۔ احمد، ابوداؤد، نسائی اور بیہقی نے روایت نقل کی کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صاحب حیثیت اور محترم  وباوقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کردیا کرو سوائے حدود کے ‘‘۔۶؎

یعنی اگر کسی نیک نام آدمی سے کوئی ایسی ویسی بات سرزد ہو گئی یا اس نے کوئی چھوٹا موٹا گناہ کر لیا اور بالخصوص اگر یہ اس کی پہلی لغزش ہے تو اس کا مواخذہ نہ کرو، اگر یہ ضروری ہو تو سزا ہلکی رکھو۔

۲- حدود کے ضمن میں معاملہ عدالت میں پہنچ جانے کے بعد کسی قسم کی سفارش نہیں چلے گی (نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’معاملہ میرے یہاں پہنچ جانے کے بعد مجھے بھی نرمی برتنے کا اختیار حاصل نہیں) لیکن تعزیرات میں سفارش ہو سکتی ہے‘‘۔

۳- تعزیری سزا کے نتیجے میں اگر مضروب کی موت واقع ہو جائے تو اس پر دیت یا تاوان عائد ہوگا ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک عورت کو کسی مسئلہ میں اس قدر ڈرایا کہ اس کے رحم نے مردہ بچہ اگل د یا تو انھوں نے اس بچے کی دیت ادا کی۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک کوئی تاوان عائد نہ ہوگا ۔

تعزیر

یہ ڈانٹ ڈپٹ کی مثل زبانی بھی ہو سکتی ہے اور وعظ کی صورت میں بھی،  صورت حال جس کی متقاضی ہو وہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس طرح ضرب و تشدد، قید کرنے، جلا وطن کرنے اور منصب سے معزول کرنے اور دیس نکالا دینے کی  صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔ أبو داؤد نے روایت نقل کی کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا پیش کیا گیا، جس نے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوچھا اسے کیا ہوا؟ کہا گیا کہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم سے اُسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، صحابہ نے کہا یا رسول اﷲ! کہیں تو اسے قتل کر دیں۔ آپؐ نے فرمایا مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔۷؎

تعزیری سزا کے بطور داڑھی صاف کرا دینا، گھر منہدم کرنا، باغ، کھیت، پھل اور درخت اکھیڑنا جائز نہیں، اسی طرح جسم کا کوئی عضو کاٹنا جائز نہیں کیونکہ عہد نبوی میں اور عہد صحابہ میں کسی سے یہ سزائیں دینا منقول نہیں۔

تعزیر میں دس ضربوں سے زائد سزا

ہانی بن نیارؓ کی حدیث میں اس سے نہی مذکور گزری۔ امام احمد، لیث، اسحاقؓ اور شوافع کی ایک جماعت کا اس کے اوپر عمل ہے وہ قائل ہیں کہ دس سے زائد ضربوں کی تعزیری سزا دینا جائز نہیں اور شارع نے یہ پابندی لگائی  ہے۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ کے یہاں اس سے زیادہ بھی سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن اقل ترین حد کی مقدار تک نہ پہنچے، ایک گروہ نے کہا کسی بھی معصیت پر وہ تعزیری سزا  نہ ہو جو اسی معصیت کی آخری شکل پر ہوتی ہے۔ مثلاً نظربازی کی تعزیری سزا، حدزنا والی سزا نہ ہوگی۔ اسی طرح کھلی پڑی چیز چوری کرنے کی سزا قطع ید نہ ہوگی اور گالی (جس میں کوئی الزام اور تہمت نہ ہو) کی سزا حد قذف نہ ہوگی، بعض نے کہا حاکم اور قاضی حسب مصلحت جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جس قدر سزا مناسب سمجھے دے۔

مالی سزا

۱۔             تعزیر بالمال اور تعزیر بأخذ المال دونوں ہی قسم فقہاء کے یہاں ہیں۔ دونوں میں باریک سا فرق ہے۔ تعزیر بالمال میں مجرم پر مالی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور تعزیر بأخذالمال میں مجرم کا مال روک لیا جاتا ہے، تاکہ وہ جرم سے باز آجائے یا توبہ کرلے، اگر توبہ کر لیتا ہے یا باز آجاتا ہے تو اس کا مال واپس کر دیا جائے گا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والے کے مال کا آدھا حصہ ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ احمد، ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے جو خوش دلی اور اجر میں رغبت رکھتے ہوئے زکوٰۃ دے اُسے اس کا اجر ملے گا اور جو مانع بنے تو ہم زکوٰۃ بھی (زبردستی) وصول کریں گے اور اس کا آدھا مال بھی۔ یہ ہمارے رب کا محکم حکم ہے اس سے آل محمد کے لیے کچھ نہیں ہے۔۸؎

۲۔           تعزیر بالمال کی صورت میں جو جرمانہ عائد کیا جائے گا وہ اس کے جرم سے باز آنے یا توبہ کرنے سے واپس نہیں کیا جائے گا جبکہ تعزیر بأخذالمال کی صورت میں اس مجرم کے باز آجانے یا توبہ کرنے کی صورت میں اس کو مال واپس کیا جائے گا، خود کھانا جائز نہ ہوگا اور اگر باز نہیں آتا ہے تو اس کو حاکم مسلمانوں کے مفاد میں خرچ کر سکتا ہے۔۹؎

۳۔           تعزیر بالمال کی بابت حنفیہ کا معروف مذہب عدم جواز کا ہے، حنفیہ میں سے امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ جواز کے قائل ہیں اور ان کے اس قول کی حیثیت قوی قول کی ہے۔

۴- فقہائے حنفیہ میں سے محمد امین بن عابدین شامی (سن ۱۱۹۸ھ تا ۱۲۵۲ھ) صاحب ردالمحتار الدرالمختار نے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ ۱۰؎

۵- ائمہ ثلاثہ کے یہاں مخصوص مواقع پر مالی جرمانہ عائد کرنا مشروع ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒاور ان کے شاگرد رشید ابن قیم جوزیہؒ نے نقل کیا ہے کہ امام مالکؒ کی مشہور رائے اور امام احمد ؒ اور امام شافعیؒ کی ایک رائے یہ ہے کہ یہ جائز ہے جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔۱۱؎

۶- ایسے حالات ہوں جہاں وعظ اور زبانی فہمائش جرائم و معاصی کو روکنے کے لیے کافی نہ ہوں اور جسمانی سزا کا بھی کوئی موقع نہ ہو تو ضرورتاً جواز و گنجائش کے قول پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنا دو وجہ سے درست ہوگا۔ ایک تو یہ کہ بہر صورت اس کے ذریعہ مقاصد شریعت میں سے کسی نہ کسی مقصد کی حفاظت ہوگی، دوسرے یہ کہ بعض مذاہب میں اس کی گنجائش موجود ہے۔

۷- آج کل تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی مختلف کوتاہیوں اور غفلتوں پر روک لگانے اور ان کی تربیت کے لیے مالی جرمانے کا  رواج ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ اس کا فائدہ بھی محسوس کیا جاتا ہے، یہ جائز ہے کیونکہ استاد و معلم اور اداروں کے ذمہ داروں کو اس بچے اور بچی پر اس کے والدین کی طرف سے ولایت خاصہ حاصل ہے اور ایک دوسرے پہلو سے اگر غور کیا جائے تو بھی جائز ہوگا، کیونکہ اس میں مقاصد شریعت میں سے ایک مقصد کی حفاظت بھی ہے جس کی ضرورت کا تقاضہ ہے کہ وہ جائز ہو۔

۸- تعلیمی اداروں کے علاوہ بھی بہت سے ادارے، نظم و ضبط کو درست رکھنے کے لیے مالی جرمانے کا نظام بناتے ہیں، مثلاً ہاؤسنگ سوسائٹیاں وغیرہ تاکہ لوگ مقررہ وقت پر طے شدہ مطلوبہ رقم ادا کر دیا کریں تو ایسا کرنا جائز ہوگا، کیونکہ اسلام نے تعزیرات کی مشروعیت نافرمانوں کی تادیب (راہ راست پر لانے) کے لیے کی ہے جو (سنت کے مطابق وضع کیے گئے ) قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔   مالی جرمانے کا نظام لوگوں کو وعدے کا پابند کرتا اور وعدہ خلافی سے بچاتا ہے، وعدہ خلافی سنگین جرم ہے او ر معیوب ہے، نفاق کی تین علامتوں میں سے ایک علامت ہے،  وعدہ خلافی سے نیت متاثر ہوتی ہے اور دین نام ہے عمل، نیت اور قول کے مجموعے کا۔ حفاظت دین مقاصد شریعت میں سے ایک اہم مقصد ہے ۔

۹- برادریاں اور خاندانی پنچایتیں نیز کاروباری انجمنیں بھی  اصلاح کی غرض سے اس قسم کا نظام بناتی ہیں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

اس کا حکم بھی جواز کا ہوگا۔ سورۃ انفال کے شروع میں ہے واتقوا اللّٰہ وأصلحوا ذات بینکم وأطیعوااللّٰہ والرسول ان کنتم مؤمنین    ’’اللہ سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو،اگر تم مومن ہو‘‘۔ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس کا تعلق ہے جو امت مسلمہ کا فرض منصبی ہے۔ اسی کام کے لیے امت کو برپا کیا گیا ہے اور اصلاح معاشرہ کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہے تو اگر سماج میں سدھار کی غرض سے ایسا کیا جاتا ہے تو بہتر ہوگا کہ ایسا کیا جائے۔ ارشاد باری ہے :لاخیر فی کثیر من نجواہم إلّا من أمر بصدقۃ أومعروفٍ أو اصلاحٍ بین الناس ’’لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر وبیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی، ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے‘‘۔ (النساء۱۱۴)

۱۰-   موجودہ دور میں عوام الناس کی شریعت  سے ناواقفیت اور شریعت اسلامیہ سے دوری کی وجہ سے طلاق کے بارے میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے جس سے بڑی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، ان پر قابو پانے کے لیے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ طلاق کی جن صورتوں میں حنفیہ کے نزدیک متاع واجب نہیں ہے بلکہ صرف مستحب  ہے، وہاں بھی متاع دینے کا اہتمام کیا جائے۔ حنفیہ کے نزدیک متاع واجب ہے جبکہ طلاق قبل الدخول ہو اور مہر بھی متعین نہ ہو یعنی  لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسو ھن أو تفرضوا لہن فریضۃ و متّعوہن علیٰ الموسع قدرہ وعلیٰ المقتر قدرہ، متاعاً بالمعروف حقاً علیٰ المحسنین  ’’تم پر کچھ گنا ہ نہیں، اگر تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقے سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر‘‘(سورہ بقرہ: ۲۳۶)  یہاں امر موجود ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔  اس لیے احناف کے یہاں اس صور ت میں متاع واجب ہے اور بقیہ صورتوں میں مستحب ہے ۔

قرآن کریم میں مزید ارشاد ہے: وللمطلّقٰت متاع بالمعروف حقاً علی المتقین  ’’اِسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر‘‘(سورہ بقرہ:۲۴۱) یہاں سب طلاق دی ہوئی عورتوں کو کچھ فائدہ پہنچانے کا ذکر ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: فائدہ پہنچانے کی تفسیریہ ہے کہ رخصت کے وقت مطلقہ عورت کو کچھ تحفہ نقد یا کم از کم ایک جوڑا کپڑا دیا جائے۔ طلاق دینے والے شوہر پر مطلقہ بی بی کے کچھ حقوق واجب اور لازم کرکے اور کچھ بطور احسان و سلوک کے عائد کر دیے گئے ہیں، جو بلند اخلاق اور حسن معاشرت کی پاکیزہ تعلیم ہے ہدایت ہے کہ جس طرح نکاح  باہمی معاہدہ تھا اسی طرح طلاق بھی ایک معاہدے کو ختم کرنا ہے، اس فسخ معاملہ کو دشمنی اور جنگ و جدال کا سامان بنانے کی کوئی وجہ نہیں۔ معاملہ کا انقطاع بھی خوبصورتی اور حسن سلوک کے ساتھ ہونا چاہیے کہ طلاق کے بعد مطلقہ کو فائدہ پہنچایا جائے۔

اس فائدے کی تفصیل یہ ہے کہ ایام عدت میں اس کو اپنے گھر میں رہنے دے، اس کا پورا خرچ برداشت کرے، اگر مہر اب تک نہیں دیا ہے اور خلوت ہو چکی ہے تو پورا مہر ادا کرے اور خلوت سے پہلے ہی طلاق کا واقعہ پیش آگیا ہے تو آدھا مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرے۔ یہ تو سب حقوق واجبہ ہیں جو طلاق دینے والے کو لازمی طور پر ادا کرنا ہیں ۔پھر مستحب اور افضل یہ بھی ہے کہ مطلقہ کو رخصت کرتے وقت کچھ نقد یا کم از کم ایک جوڑا دے کر رخصت کیا جائے، سبحان اﷲ کیا پاکیزہ تعلیم ہے ۔۱۲؎

طلاق بدعت کی سماجی برائی پر قابو پانے کے لیے ان صورتوں میں متاع واجب کیا جا سکتا ہے اور بصورت نقد اس کی ایک معقول حد مقرر کی جا سکتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچے تباہ و برباد ہو رہے ہیں اور شریعت اسلامیہ کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کو مطعون کیا جا رہا ہے ۔للمطلّقٰت متاع بالمعروف حقاً علی المتقین’’اِسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر‘‘ (سورہ بقرہ ۲۴۱)

۱۱-جب متاع کو لازم کیا جا سکتا ہے اور بصورت نقد اس کی ایک معقول رقم مقرر کی جا سکتی ہے تو نکاح کے وقت اور نکاح نامے میں آدمی کو اس کا پابند بنایا جا سکتا ہے کہ اگر بے جا طور پر طلاق دی گئی یا تین طلاق ایک ساتھ دی گئی تو یہ زائد رقم دینی ہوگی۔ تعزیرات کی مشروعیت کی حکمت کو دیکھتے ہوئے  ایسا کرنا درست ہوگا۔ کیونکہ تعزیر بالمال کی مشروعیت نافرمانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے ہوئی ہے تاکہ سماج خرابیوں سے محفوظ رہے۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

حواشی

(۱)لسان العرب، المصباح المنیر: مادہ عزر میں تفصیل دیکھیں۔ (موسوعہ فقہیہ) مأدہ تادیب و تعزیر۔

(۲) الفقہ الاسلامی    د / وہبہ الزحیلی رحمہ اﷲ

(۳) حسن، سنن ابی داؤد : ۳۶۳۰،  سنن ترمذی : ۱۴۱۷

(۴) صحیح البخاری : ۶۸۴۸، صحیح مسلم : ۱۷۰۸

(۵) شرح مسلم للنووی والتعزیر فی الشریعۃ الاسلامیہ للدکتور عبدالعزیز عامر صفحہ ۳۲ وما بعدہا۔

(۶) صحیح ، سنن ابی داؤد : ۴۳۷۵، السنن الکبری للنسائی: ۷۲۹۳

(۷) صحیح، سنن ابی داؤد :۴۹۲۸

(۸) حسن، سنن ابی داؤد : ۱۵۷۵،  سنن نسائی : ۲۴۴۶

(۹) الفقہ الاسلامی ج ۹  صفحہ ۱۹۰  د / وہبہ الزحیلی رحمہ اﷲ

(۱۰) دیکھئے موسوعہ فقہیہ تیار کردہ وزارت اوقاف کویت مأدہ تادیب ۴۹-۵۰

(۱۱) تفصیل کے لیے دیکھیں شرح مسلم للنووی ۱۲/۲۱۸، الحسبہ فی الاسلام لابن تیمیہ ص ۴۹ وما بعدھا، اعلام الموقعین ۲/۹۸، والطرق الحکیمہ لابن قیم ص ۲۶۶ وما بعد اور دیکھیں والتعزیر فی الشریعۃ الاسلامیہ للدکتور عبدالعزیز عامر ص ۳۲ وما بعدہا۔

(۱۲) معارف القرآن ج ۱ ص ۵۱۷۔

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau