’’تعلیم، اگر واقعی مکمل ہونی ہے، تو اس کا انسانی ہونا ناگزیر ہے۔ اس میں صرف عقل کی تربیت ہی نہیں، بلکہ قلب کی تہذیب اور روح کا ضبط بھی شامل ہونا چاہیے۔ جو تعلیم دل اور روح کو نظر انداز کر دے، اسے مکمل تعلیم نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ — ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن
تعلیمی نظام کسی بھی قوم کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صرف اسکولوں، طلبہ یا امتحانی نتائج کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک معاشرے کی فکری سمت، تہذیبی ترجیحات اور آنے والی نسلوں کے خوابوں کا آئینہ بھی ہے۔ اسی لیے جب کوئی ملک ایک دہائی کو محیط تعلیمی جائزہ پیش کرتا ہے تو وہ محض سرکاری رپورٹ نہیں رہتی، بلکہ ایسی دستاویز بن جاتی ہے جو تعلیمی سفر کا محاسبہ بھی کرتی ہے اور آئندہ کے لیے رہ نمائی بھی فراہم کرتی ہے۔
6مئی 2026کو نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (نیتی آیوگ) کے شعبۂ تعلیم نے School Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement کے عنوان سے دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی۔ یہ رپورٹ 2014-15 سے 2024-25تک بھارت کے اسکولی تعلیمی نظام کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس کی بنیاد متعدد معتبر قومی و آزاد مطالعات پر ہے، جن میں (UDISE+ Unified District Information System for Education Plus) یعنی ملک بھر کے اسکولوں سے متعلق سرکاری معلومات کا جامع ڈیٹا بیس، PARAKH (Performance Assessment, Review and Analysis of Knowledge for Holistic Development) یعنی قومی سطح پر طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینے والا ادارہ، (NAS, National Achievement Survey) یعنی طلبہ کی تعلیمی استعداد کا قومی سروے، اور ASER, Annual Status of Education)Report)یعنی پرتھم فاؤنڈیشن کی جانب سے دیہی علاقوں میں تعلیم کی صورتِ حال پر شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ شامل ہیں۔ پانچ ابواب پر مشتمل اس رپورٹ میں 13 ذیلی موضوعات کے تحت 33 پالیسی سفارشات پیش کی گئی ہیں، جن کا مقصد 2047تک بھارت کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے قومی وژن،’’وکست بھارت‘‘، کے تناظر میں اسکولی تعلیم کو زیادہ مؤثر، معیاری اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
اس رپورٹ کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کسی ایک اسکیم یا کسی ایک حکومت کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیتی، بلکہ ایک پوری دہائی کو سامنے رکھ کر اسکولی تعلیم کی مجموعی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہمارے یہاں نئی تعلیمی اسکیموں، اصلاحات اور اعلانات کی کمی کبھی نہیں رہی، لیکن طویل المدتی تجزیاتی مطالعات نسبتاً کم سامنے آتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ رپورٹ صرف پالیسی سازوں ہی کے لیے نہیں، بلکہ اساتذہ، محققین، تعلیمی منتظمین اور سماجی کارکنوں کے لیے بھی ایک اہم حوالہ ہے۔
رپورٹ کے پیش لفظ اور ابتدائی پیغامات میں بار بار ’’وکست بھارت @2047 ‘‘ کا ذکر ملتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسکولی تعلیم کو بھارت کی معاشی، سائنسی اور قومی ترقی کی بنیاد تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ تعلیم کو قومی ترقی کی حکمتِ عملی کے مرکز میں رکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے: کیا ترقی کا تصور صرف معاشی نمو، روزگار اور عالمی مسابقت تک محدود ہے، یا تعلیم کا مقصد ایک باشعور، باکردار، حساس اور ذمہ دار انسان کی تشکیل بھی ہے؟
غالباً اسی سوال کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے رپورٹ کے خلاصۂ انتظامی (Executive Summary) میں ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کا مذکورہ اقتباس نقل کیا گیا ہے۔ یہ محض تمہیدی آرائش نہیں، بلکہ پوری رپورٹ کے لیے ایک فکری معیار متعین کرتا ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف خواندگی، امتحانی کام یابی یا معاشی ترقی نہیں، بلکہ انسان کی ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر ہے، تو ہر تعلیمی پالیسی، ہر نصاب، ہر امتحانی نظام اور ہر اصلاح کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر اس رپورٹ کے تجزیے کو بھی جانچا جانا چاہیے۔
دنیا کا سب سے بڑا اسکولی تعلیمی نظام: کیا وسعت ہی کام یابی کی دلیل ہے؟
اسی نقطۂ نظر کی روشنی میں اس مضمون میں نیتی آیوگ کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ مقصد نہ رپورٹ کی غیر مشروط تحسین ہے اور نہ بے جا تنقید، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں بھارت کے اسکولی نظام نے کن میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی، کن چیلنجوں سے اب بھی دوچار ہے، رپورٹ کن سوالات کا جواب دیتی ہے، کن پہلوؤں پر خاموش رہتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس کی سفارشات واقعی اس تعلیمی نظام کو اس منزل تک پہنچا سکتی ہیں جس کا خواب ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کی رو سے دیکھا جائے تو بھارت کا اسکولی تعلیمی نظام دنیا کے سب سے بڑے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت 14.71 لاکھ اسکول، 24.69کروڑ طلبہ اور ایک کروڑ سے زائد اساتذہ موجود ہیں۔ اتنے وسیع تعلیمی ڈھانچے کا انتظام، کروڑوں بچوں تک تعلیم کی فراہمی اور اساتذہ کے ایک بڑے نظام کی پیشہ ورانہ ترقی کسی بھی ملک کے لیے غیر معمولی ذمہ داری ہے۔
یہ وسعت یقیناً ایک اہم کام یابی ہے۔ آزادی کے وقت بھارت کو محدود تعلیمی سہولیات، کم شرحِ خواندگی اور ناکافی تعلیمی رسائی جیسے مسائل کا سامنا تھا، جب کہ آج تقریباً ہر گاؤں، قصبے اور شہر تک اسکولوں کا دائرہ پھیل چکا ہے۔ کروڑوں بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور قومی و ریاستی سطح پر ایسے ادارے قائم ہوئے ہیں جو نصاب سازی، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی تشخیص اور پالیسی سازی جیسے اہم فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ بھارت نے تعلیمی رسائی (Access) کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔
تاہم یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بنیادی فرق کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ وسعت (Scale) اور معیار (Quality) ایک دوسرے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی کام یابی اس کے حجم سے نہیں، بلکہ اس کے نتائج سے ناپی جاتی ہے۔ اگر لاکھوں بچے اسکول تو پہنچ جائیں، لیکن بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت حاصل نہ کر سکیں، اگر اساتذہ کی تعداد تو بڑھ جائے مگر ان کی پیشہ ورانہ تیاری مطلوبہ معیار تک نہ پہنچے، یا اگر عمارتیں موجود ہوں لیکن سیکھنے کا ماحول کم زور ہو، تو محض بڑے اعداد و شمار کسی نظام کی حقیقی کام یابی ثابت نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی اسکولی تعلیم اب رسائی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر معیار کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں کا بنیادی ہدف زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکول تک پہنچانا تھا؛ اب اصل سوال یہ ہے کہ وہ اسکول میں کیا سیکھ رہے ہیں، اور کیا وہ اپنی تعلیم کام یابی کے ساتھ مکمل بھی کر پا رہے ہیں؟
اس تناظر میں اسکولوں کی ساخت بھی توجہ طلب ہے۔ مجموعی تعداد متاثر کن ضرور ہے، لیکن ان کی درجہ بندی ایک مختلف حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 فیصد اسکول صرف ابتدائی جماعتوں (اول تا پنجم) تک محدود ہیں، جب کہ محض 5.4 فیصد اسکول ایسے ہیں جہاں جماعتِ اول سے بارہویں تک مسلسل تعلیم کی سہولت میسر ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی تقسیم معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ اسکولی نظام کی ایک اہم ساختی کم زوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تعلیم محض کلاس روم میں ہونے والا تدریسی عمل نہیں، بلکہ ایک مسلسل سفر ہے، اور اس سفر میں تسلسل (Continuity) بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب ایک بچے کو پانچویں جماعت کے بعد ایک اسکول، آٹھویں کے بعد دوسرا اور دسویں کے بعد تیسرا ادارہ اختیار کرنا پڑے تو اسے ہر مرحلے پر نئے ماحول، نئے اساتذہ، نئے نظم و نسق اور بعض اوقات طویل فاصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ہر بچے پر یکساں اثر نہیں ڈالتی ہیں۔ شہری علاقوں کے نسبتاً خوش حال خاندانوں کے لیے یہ معمول کا معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن دیہی علاقوں، قبائلی خطوں اور معاشی طور پر کم زور طبقات کے بہت سے بچوں کے لیے یہی مرحلے تعلیمی سفر کے اچانک رک جانے، یعنی ڈراپ آؤٹ (Dropout) کا سبب بن جاتے ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارت جیسے وسیع اور متنوع ملک میں ہر جگہ جماعتِ اول سے بارہویں تک جامع اسکول قائم کیے جا سکتے ہیں۔ جغرافیائی، آبادیاتی اور مالیاتی حقیقتیں اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ اسکولی ڈھانچہ بچوں کے تعلیمی سفر کو آسان بنا رہا ہے یا غیرضروری رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے؟ تعلیمی پالیسی کا مقصد صرف اداروں کا قیام نہیں، بلکہ ایسا مربوط نظام تشکیل دینا بھی ہے جس میں طالب علم کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک منتقل ہونے کے لیے کم سے کم انتظامی اور سماجی مشکلات پیش آئیں۔
اسی تناظر میں رپورٹ مجموعی اندراجی تناسب (Gross Enrolment Ratio – GER)، یعنی اسکول جانے کی عمر کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں مختلف تعلیمی مراحل پر داخل طلبہ کے تناسب، کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ تصویر امید افزا دکھائی دیتی ہے۔ ابتدائی سطح پر GER 90.9 فیصد اور اپر پرائمری میں 90.3 فیصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں اسکولوں تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت اتفاقاً نہیں ہوئی۔ حقِ تعلیم قانون، دوپہر کے کھانے کی اسکیم، مفت نصابی کتب، وظائف، اسکولوں کے جغرافیائی پھیلاؤ اور مختلف ریاستی اقدامات کے ساتھ تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بڑھتے ہوئے سماجی شعور نے بھی لاکھوں بچوں کو پہلی بار اسکول تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم جیسے ہی نگاہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی مرحلے کی طرف جاتی ہے، تصویر بدلنے لگتی ہے۔ سیکنڈری سطح پر GERکم ہو کر 78.7 فیصد رہ جاتا ہے، جب کہ ہائر سیکنڈری میں یہ مزید گھٹ کر 58.4 فیصد پر آ جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہر دس میں سے تقریباً چار بچے بارہویں جماعت تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ لاکھوں ایسے بچوں کی کہانی ہے جن کا تعلیمی سفر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی رک جاتا ہے۔
اس کمی کو صرف تعلیمی شعبے کی ناکامی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ثانوی سطح پر تعلیم چھوڑنے (Dropout) کی وجوہات میں معاشی مجبوری،کم عمری میں روزگار، لڑکیوں کے لیے محفوظ اور قریب اسکولوں کی کمی، سماجی روایات، نقل و حمل کی دشواریاں، اسکولوں کی ناکافی دستیابی اور بعض صورتوں میں تدریس کے کم زور معیار جیسے عوامل شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ GER میں کمی دراصل متعدد سماجی، معاشی اور انتظامی عوامل کے مشترکہ اثرات کی عکاس ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں بھارت کی تعلیمی پالیسی کا بنیادی زور تعلیمی رسائی (Access) پر رہا، اور اس میدان میں قابلِ ذکر کام یابیاں حاصل بھی ہوئیں۔ لیکن اب تعلیمی بحث کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کتنے بچے اسکول پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے بچے اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں اور اس دوران وہ واقعی کیا سیکھ رہے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف بھارت تک محدود نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals – SDGs) کے چوتھے ہدف (SDG-4)، جس کا مقصد سب کے لیے معیاری، مساوی اور جامع تعلیم کو یقینی بنانا ہے، میں بھی صرف داخلوں میں اضافے کو کام یابی کا معیار نہیں سمجھا گیا، بلکہ بامعنی آموزش (Meaningful Learning) پر زور دیا گیا ہے۔اسی طرح دنیا کے متعدد ممالک نے گذشتہ برسوں میں اپنی تعلیمی پالیسیوں کا رخ Universal Schooling (ہر بچے کو اسکول تک پہنچانے) سے Universal Learning (ہر بچے کی مؤثر آموزش کو یقینی بنانے) کی طرف موڑا ہے۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ بھی اسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، اگرچہ اس پر زیادہ تفصیل سے گفتگو نہیں کرتی۔
درحقیقت، بھارت کا اسکولی نظام اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلے مرحلے کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ ہر بچہ اسکول تک پہنچے؛ دوسرے مرحلے کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر بچہ اسکول میں رکے، معیاری تعلیم حاصل کرے اور اپنی تعلیمی استعداد کو پوری طرح بروئے کار لا سکے۔ اگر پالیسی کا مرکز اب بھی صرف داخلوں کے اعداد و شمار رہے تو اندیشہ ہے کہ ہم رسائی کی کام یابی کا جشن تو مناتے رہیں گے، مگر آموزش کے بحران کو پوری طرح سمجھ نہیں پائیں گے۔
یہی سوال ہمیں رپورٹ کے اگلے حصے تک لے جاتا ہے، جہاں طلبہ کے حقیقی آموزشی نتائج (Learning Outcomes)زیرِ بحث آتے ہیں۔ یہاں رپورٹ کی زبان بھی زیادہ محتاط ہو جاتی ہے اور اعداد و شمار بھی زیادہ فکر انگیز دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، داخلوں میں بہتری آئی اور بنیادی سہولیات بھی نسبتاً بہتر ہوئیں، لیکن کیا اس سب کے نتیجے میں بچوں کے سیکھنے کی کیفیت بھی بہتر ہوئی؟ رپورٹ کا جواب نہ مکمل طور پر اطمینان بخش ہے اور نہ مایوس کن۔ البتہ ایک حقیقت پوری وضاحت سے سامنے آتی ہے کہ آج بھارت کے اسکولی نظام کا سب سے بڑا چیلنج رسائی (Access)نہیں، بلکہ آموزش (Learning)ہے۔
آموزش کا بحران: جب اسکول جانا سیکھنے کی ضمانت نہ رہے
رپورٹ کے مطابق تیسری جماعت کے صرف 27.1 فیصد طلبہ دوسری جماعت کی سطح کا متن روانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ پانچویں جماعت میں یہ تناسب بڑھ کر 48.8 فیصد اور ساتویں جماعت میں 71.7 فیصد ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ محض چند فیصد ہیں، لیکن تعلیمی تناظر میں ان کی معنویت کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانچویں جماعت تک پہنچنے والے تقریباً نصف طلبہ بھی دوسری جماعت کی سطح کی روانی سے پڑھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔
یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں روانی کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت (Reading Proficiency)کسی ایک مضمون کی مہارت نہیں، بلکہ پورے تعلیمی عمل کی بنیاد ہے۔ جو بچہ متن کو درست طور پر پڑھ اور سمجھ نہ سکے، اس کے لیے سائنس، ریاضی، سماجی علوم یا کسی بھی دوسرے مضمون میں آگے بڑھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر بنیادی خواندگی (Foundational Literacy)کو دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (UNESCO)، عالمی بینک (World Bank)اور اقوامِ متحدہ کا ادارۂ اطفال (UNICEF)مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت مستقبل کی تعلیمی کام یابی کا سب سے قابلِ اعتماد اشاریہ (Predictor)ہے۔
ریاضی کی صورتِ حال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ رپورٹ کے مطابق تیسری جماعت کے صرف 33.7 فیصد، پانچویں جماعت کے 30.7 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 45.8 فیصد طلبہ ایک سادہ تفریق (Basic Subtraction) کا سوال درست طور پر حل کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک دل چسپ، لیکن فکرانگیز پہلو سامنے آتا ہے کہ پانچویں جماعت کے نتائج تیسری جماعت سے بھی کم ہیں۔ اگرچہ اس کی ایک وجہ نمونہ بندی (Sampling) یا تشخیصی طریقۂ کار کا فرق ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی تصویر یہی بتاتی ہے کہ بنیادی حسابی مہارتیں اب بھی اسکولی تعلیم کے کم زور ترین پہلوؤں میں شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اگر ایک بچہ مسلسل پانچ یا آٹھ برس تک اسکول جاتا ہے، روزانہ کلاس میں حاضر ہوتا ہے، ہر سال امتحان دیتا ہے اور اگلی جماعت میں ترقی بھی کر جاتا ہے، تو پھر وہ بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتیں کیوں حاصل نہیں کر پاتا؟ کیا مسئلہ نصاب میں ہے، تدریسی طریقوں میں، امتحانی نظام میں، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تیاری میں، یا پھر خود تعلیمی نظام اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اصل توجہ سیکھنے کے بجائے اگلی جماعت تک پہنچانے پر مرکوز ہو گئی ہے؟
یہ سوال صرف بھارت کا نہیں، بلکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اسی پس منظر میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بین الاقوامی تعلیمی مباحث میں Learning Poverty یا ’’آموزشی غربت‘‘کی اصطلاح نمایاں ہوئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اگر کوئی بچہ دس برس کی عمر تک ایک سادہ متن پڑھنے اور اس کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہو تو وہ آموزشی غربت کا شکار سمجھا جاتا ہے۔ اس معیار پر بھارت کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ تعلیمی رسائی میں نمایاں کام یابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن معیاری آموزش کا ہدف ابھی پوری طرح حاصل نہیں ہو سکا۔
اسی حقیقت کے پیشِ نظر قومی تعلیمی پالیسی 2020 (National Education Policy 2020)نے بنیادی خواندگی اور عددی مہارت (Foundational Literacy and Numeracy – FLN)کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا اور ’’نپن بھارت‘‘ (NIPUN Bharat)جیسے پروگرام شروع کیے، جن کا مقصد ابتدائی جماعتوں کے بچوں میں زبان اور ریاضی کی بنیادی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ بھی ان اقدامات کا مثبت جائزہ لیتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں سیکھنے کی مضبوط بنیاد کے بغیر نہ ثانوی تعلیم کے معیار میں پائیدار بہتری لائی جا سکتی ہے اور نہ ہی 2047 کے’’وکست بھارت‘‘ کا تعلیمی وژن حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ کیا صرف نئی اسکیمیں، تربیتی پروگرام یا تشخیصی فریم ورک اس بحران کا حل فراہم کر سکتے ہیں؟ یا پھر ہمیں کلاس روم کی روزمرہ حقیقتوں کا بھی اسی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا؟ بھارت کے لاکھوں اساتذہ آج بھی ایسے ماحول میں تدریس کررہے ہیں جہاں ایک ہی جماعت میں مختلف تعلیمی سطح کے بچے موجود ہوتے ہیں، تدریسی وسائل محدود ہیں اور انتظامی ذمہ داریاں تدریسی وقت کا ایک بڑا حصہ لے لیتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں صرف پالیسی دستاویزات یا نئی اسکیمیں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب کلاس روم کی تدریس، اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ معاونت، تعلیمی وسائل کی دستیابی اور اسکول کی روزمرہ تعلیمی ثقافت کو یکساں اہمیت دی جائے۔
اساتذہ: تعلیمی نظام کا سب سے اہم ستون
اسی تناظر میں رپورٹ میں بار بار آنے والا ایک اہم نام PARAKH بھی توجہ کا مستحق ہے۔ PARAKH (Performance Assessment, Review and Analysis of Knowledge for Holistic Development)قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت قائم کیا گیا ادارہ ہے، جس کا مقصد امتحان پر مبنی نظام کو صلاحیت پر مبنی تشخیص (Competency-based Assessment)کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ طلبہ کی جانچ محض یادداشت یا امتحانی نمبروں کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ اس بات کا بھی اندازہ لگایا جائے کہ وہ اپنے علم کو کس حد تک سمجھتے اور عملی طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، کیوں کہ طویل عرصے سے بھارت کے تعلیمی نظام پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ اس میں یادداشت کو فہم پر اور امتحانی نتائج کو حقیقی آموزش پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ اگر PARAKH اپنے مقاصد کے مطابق مؤثر انداز میں کام کر سکا تو تدریس اور تشخیص، دونوں کے مزاج میں بتدریج مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔
تاہم یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔ دنیا کے مختلف تجربات بتاتے ہیں کہ تشخیصی نظام میں تبدیلی، تدریسی نظام میں بنیادی تبدیلی کے بغیر دیرپا نتائج پیدا نہیں کرتی۔ اگر اساتذہ کی پیشہ ورانہ تیاری، نصاب، تدریسی مواد اور اسکول کی تعلیمی ثقافت میں مطلوبہ اصلاح نہ آئے تو صرف امتحان کا طریقۂ کار بدل دینے سے سیکھنے کے معیار میں نمایاں بہتری نہیں آتی۔ تشخیص دراصل ایک آئینہ ہے؛ وہ مسئلے کی نشان دہی تو کر سکتی ہے، مگر خود اس کا علاج نہیںبنتی۔
اسی لیے نیتی آیوگ کی رپورٹ کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ بھارت کے اسکولی نظام کو اب اپنی توجہ اس سوال سے ہٹا کر کہ کتنے بچے اسکول میں ہیں، اس سوال پر مرکوز کرنا ہوگی کہ وہ اسکول میں کیا سیکھ رہے ہیں۔ اگر پانچویں جماعت کا طالب علم دوسری جماعت کی سطح کا متن روانی سے نہیں پڑھ سکتا تو یہ کسی ایک طالب علم کی کم زوری نہیں، بلکہ پورے نظام کی تدریسی ترجیحات کا مسئلہ ہے۔ بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتیں مضبوط کیے بغیر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تعلیم یا اکیسویں صدی کی مہارتوں جیسے تصورات اپنی مطلوبہ افادیت پیدا نہیں کر سکتے۔
اگر سیکھنے کے نتائج کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل کسوٹی ہیں تو اساتذہ اس نظام کا سب سے مضبوط ستون ہیں۔ دنیا بھر کی تعلیمی تحقیقات اس بات پر متفق ہیں کہ نصاب، عمارتیں، ٹیکنالوجی اور انتظامی اصلاحات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن کلاس روم میں طالب علم کے سیکھنے پر سب سے گہرا اثر استاد کے علم، تدریسی مہارت اور پیشہ ورانہ وابستگی کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور دیگر کام یاب تعلیمی نظاموں نے اپنی اصلاحات کا آغاز عمارتوں سے نہیں بلکہ اساتذہ کی تیاری اور ان کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی سے کیا۔نیتی آیوگ کی رپورٹ بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن اس کے پیش کردہ اعداد و شمار کئی اہم سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی تدریسی افرادی قوت میں سے ایک ہے۔ اگر طلبہ اور اساتذہ کے تناسب (Pupil-Teacher Ratio – PTR)، یعنی فی استاد طلبہ کی اوسط تعداد، کو دیکھا جائے تو مجموعی تصویر نسبتاً اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے۔ ابتدائی سطح پر یہ تناسب 20:1، اپر پرائمری میں 17:1، سیکنڈری میں 15:1 اور ہائر سیکنڈری میں 23:1ہے۔ بین الاقوامی معیارات کے مقابلے میں یہ اعداد بظاہر تشویش ناک نہیں۔ صرف انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ اساتذہ کی تعداد طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں 1,04,125 ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد پوری تدریسی ذمہ داری سنبھال رہا ہے۔ یہ کل اسکولوں کا تقریباً سات فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح 7,993 اسکول ایسے بھی ہیں جہاں طلبہ کا اندراج ہی صفر ہے۔ یہ دونوں اعداد و شمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف اساتذہ کی مجموعی تعداد کا نہیں، بلکہ ان کی مؤثر تعیناتی، منصفانہ تقسیم اور بہتر انتظام کا بھی ہے۔
یہاں ایک نمایاں تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف قومی سطح پر طلبہ اور اساتذہ کا تناسب اطمینان بخش دکھائی دیتا ہے، جب کہ دوسری طرف ایک لاکھ سے زیادہ اسکول صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قومی اوسط (National Average)ہمیشہ زمینی حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ وسیع ممالک میں اوسط اعداد و شمار کے پیچھے ریاستوں، اضلاع، دیہی و شہری علاقوں اور مختلف سماجی طبقات کے درمیان موجود تفاوت اکثر پوشیدہ رہ جاتا ہے۔ اسی لیے تعلیمی منصوبہ بندی میں صرف قومی اعداد و شمار کافی نہیں ہوتے؛ ان کی مقامی اور علاقائی سطح پر تشریح بھی ناگزیر ہوتی ہے۔
یہی نکتہ نیتی آیوگ کی رپورٹ کا ایک اہم پیغام بھی ہے کہ تعلیمی پالیسی کی کام یابی صرف قومی اوسط سے نہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ آیا اس کے ثمرات دور دراز، قبائلی، سرحدی اور سماجی طور پر محروم علاقوں تک بھی یکساں طور پر پہنچ رہے ہیں یا نہیں۔ کیوں کہ جب تک ہر اسکول میں مطلوبہ تعداد میں تربیت یافتہ اساتذہ دستیاب نہیں ہوں گے، تب تک معیاری آموزش کو یقینی بنانا ایک مشکل ہدف ہی رہے گا۔
استاد کا معیار: اصلاحات کا اصل نقطۂ آغاز
اساتذہ کے معیار کے حوالے سے رپورٹ شاید سب سے زیادہ توجہ طلب حقیقت سامنے لاتی ہے۔ اس کے مطابق اساتذہ کے لیے منعقد ہونے والے اہلیتی امتحانات، یعنی ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (Teacher Eligibility Test – TET) اور سینٹرل ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (Central Teacher Eligibility Test – CTET) میں صرف 10 سے 15 فیصد امیدوار ہی 60 فیصد کے مطلوبہ معیار تک پہنچ پاتے ہیں، جب کہ 70 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والوں کی شرح دو فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ محض امتحانی نتائج نہیں، بلکہ اساتذہ کی تیاری اور تعلیمی نظام کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم اشارہ ہیں۔
البتہ ان اعداد و شمار کی تشریح میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امتحان میں کم نمبر حاصل کرنے والا ہر امیدوار لازماً کم زور استاد ثابت ہوگا۔ تدریس ایک نہایت پیچیدہ انسانی عمل ہے، جس میں علمی استعداد کے ساتھ شخصیت، ابلاغ، مشاہدہ، ہمدردی، کلاس روم کے نظم و نسق اور عملی تجربے جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم جب امیدواروں کی بڑی تعداد بنیادی تدریسی اہلیت کے امتحانات میں ہی مطلوبہ معیار حاصل نہ کر سکے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اساتذہ کی قبل از ملازمت تربیت (Pre-service Teacher Education)کس حد تک مؤثر ہے اور کیا موجودہ تربیتی ادارے مستقبل کے اساتذہ کو مطلوبہ صلاحیتوں سے آراستہ کر پا رہے ہیں۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں بھارت کی تعلیمی بحث میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تعلیم، شخصی آموزش (Personalised Learning)اور اکیسویں صدی کی مہارتوں پر غیرمعمولی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ تمام رجحانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا اساتذہ کو ان نئی ذمہ داریوں کے لیے مناسب طور پر تیار کیا جا رہا ہے؟ اگر ایک استاد تدریسی منصوبہ بندی، صلاحیت پر مبنی تشخیص اور ڈیجیٹل وسائل کے مؤثر استعمال میں اعتماد محسوس نہ کرے تو صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اسی لیے دنیا کے کام یاب تعلیمی نظاموں نے اساتذہ کی تربیت کو ایک وقتی کورس یا ملازمت سے قبل کی تیاری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (Continuous Professional Development)کا حصہ بنایا ہے۔ اساتذہ باقاعدہ تربیت، رہ نمائی، باہمی تبادلۂ خیال اور عملی معاونت کے ذریعے اپنی تدریسی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناتے رہتے ہیں۔ بھارت میں بھی اس سمت میں اہم اقدامات ہوئے ہیں، لیکن نیتی آیوگ کی رپورٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی اس میدان میں طویل سفر باقی ہے۔ اساتذہ کی بھرتی، تربیت، رہ نمائی، کارکردگی کے جائزے اور پیشہ ورانہ معاونت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، ورنہ اصلاحات مختلف حصوں میں بٹ کر اپنی تاثیر کھو سکتی ہیں۔
بنیادی سہولتیں: ترقی کی غیر مساوی تصویر
اساتذہ کے بعد اگر کسی عنصر کا طلبہ کے سیکھنے پر براہِ راست اثر پڑتا ہے تو وہ اسکول کا تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولتیں ہیں۔ اس حوالے سے نیتی آیوگ کی رپورٹ ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں نمایاں پیش رفت بھی دکھائی دیتی ہے اور سنجیدہ چیلنج بھی۔
رپورٹ کے مطابق 51.7 فیصد سرکاری ثانوی اسکولوں میں سائنس کی تجربہ گاہیں موجود ہیں، 64.7 فیصد اسکول کمپیوٹروں سے آراستہ ہیں، 57.9 فیصد میں تدریسی مقاصد کے لیے کمپیوٹر استعمال کیے جا رہے ہیں اور 63.5 فیصد اسکولوں کو انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کا ایک بڑا حصہ بتدریج سائنسی اور ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کی طرف بڑھ رہا ہے، جو مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر ایک مثبت پیش رفت ہے۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ توجہ کا طالب ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے 1.19 لاکھ سے زائد اسکولوں میں بجلی کی فعال سہولت موجود نہیں۔ 14,505 اسکول پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، تقریباً 59,829 اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی مناسب سہولت دستیاب نہیں، 98,592 اسکولوں میں طالبات کے لیے فعال بیت الخلا موجود نہیں، جب کہ 61,540 اسکول ایسے ہیں جہاں بیت الخلا تو تعمیر ہو چکے ہیں، مگر قابلِ استعمال نہیں۔
یہ اعداد و شمار محض بنیادی سہولتوں کی کمی کی نشان دہی نہیں کرتے، بلکہ بھارت کے تعلیمی نظام کے اندر موجود ایک گہرے تفاوت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل آموزش اور اسمارٹ کلاس روم مستقبل کی تعلیم کے عنوانات بن رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف لاکھوں بچے ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں بجلی، پانی اور حفظانِ صحت جیسی بنیادی ضروریات بھی پوری طرح میسر نہیں۔ اس صورتِ حال کو کسی ایک پالیسی کی ناکامی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا، بلکہ اسے بھارت جیسے وسیع اور متنوع ملک کی زمینی حقیقت کے طور پر سمجھنا چاہیے، جہاں مختلف ریاستیں اور علاقے تعلیمی ترقی کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔
اسی لیے انفراسٹرکچر کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے اسکولوں میں کمپیوٹر یا انٹرنیٹ موجود ہے، بلکہ اس سوال کی روشنی میں بھی ہونا چاہیے کہ کیا ہر بچے کو ایسا محفوظ، صحت مند اور باوقار تعلیمی ماحول میسر ہے جس میں سیکھنا ممکن ہو۔ کیوں کہ معیاری تعلیم کی بنیاد صرف جدید ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ وہ بنیادی سہولتیں بھی ہیں جو ہر بچے کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہونی چاہیے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر بعد کی تمام تعلیمی اصلاحات اپنی حقیقی افادیت حاصل کر سکتی ہیں۔
سرکاری اور نجی تعلیم: مسئلہ کہاں ہے؟
اسی لیے شاید بھارت کی تعلیمی پالیسی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں، بلکہ تعلیمی عدم مساوات (Educational Inequality)کو کم کرنا ہے۔ جب تک ہر بچے کو کم از کم بنیادی تعلیمی ماحول میسر نہیں ہوگا، اس وقت تک معیاری تعلیم کا خواب چند علاقوں یا مخصوص اداروں تک محدود رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
گذشتہ ایک دہائی کے اعداد و شمار ایک اور اہم رجحان کی نشان دہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2005 میں ثانوی سطح پر سرکاری اسکولوں میں طلبہ کا اندراج تقریباً 71 فیصد تھا، جو 2024-25 تک کم ہو کر 49.24 فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس نجی شعبے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوا، اور آج ثانوی سطح کے 44.01 فیصد تعلیمی ادارے نجی انتظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ پہلی نظر میں اس تبدیلی کو نجی تعلیم کی کام یابی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، لیکن رپورٹ اس کی ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتی ہے۔
سنٹرل اسکوائر فاؤنڈیشن (Central Square Foundation – CSF)، جو بھارت میں اسکولی تعلیم اور تعلیمی پالیسی پر تحقیق کرنے والا ایک معروف غیر سرکاری تحقیقی ادارہ ہے، کی 2022 کی تحقیق کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ کم فیس والے نجی اسکولوں (Low-fee Private Schools)میں بھی پانچویں جماعت کے 35 فیصد طلبہ دوسری جماعت کی سطح کا متن روانی سے نہیں پڑھ سکتے، جب کہ تقریباً 60 فیصد بنیادی تقسیم (Division)کا سوال حل کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس عام تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ نجی اسکول لازماً معیاری تعلیم کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر بنیادی تعلیمی مہارتوں میں نجی شعبہ بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا تو مسئلہ محض انتظامی ڈھانچے کا نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام کا ہے۔
اس کے باوجود ایک اہم سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ اگر بنیادی آموزش کے حوالے سے سرکاری اور نجی دونوں نظاموں کو یکساں چیلنج درپیش ہیں تو والدین نجی اسکولوں کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں؟ اس کا جواب صرف امتحانی نتائج میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ متعدد مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے فیصلوں پر اسکول کا نظم و ضبط، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری، انگریزی ذریعۂ تعلیم کا تصور، والدین سے مؤثر رابطہ، تعلیمی ماحول اور سماجی وقار جیسے عوامل بھی نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے سرکاری اسکولوں کی بحالی صرف عمارتوں، نصاب یا نئی اسکیموں سے ممکن نہیں؛ عوامی اعتماد کی بحالی بھی اسی قدر ضروری ہے۔
سفارشات: درست سمت، اصل امتحان نفاذ کا
اسی تناظر میں نیتی آیوگ کی 33 سفارشات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان میں بنیادی خواندگی اور عددی مہارت، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت، تعلیمی تشخیص میں اصلاحات، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، اسکول کمپلیکس، شمولیتی تعلیم اور تعلیمی نظم و نسق کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ سفارشات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ رپورٹ موجودہ چیلنجوں کی درست نشان دہی کرتی ہے اور ان کے حل کے لیے ایک منظم پالیسی فریم ورک بھی پیش کرتی ہے۔
تاہم کسی بھی پالیسی دستاویز کی اصل قدر سفارشات کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کے مؤثر نفاذ سے متعین ہوتی ہے۔ بھارت میں تعلیمی اصلاحات کا بنیادی مسئلہ اکثر پالیسی کی کمی نہیں، بلکہ عمل درآمد کا تفاوت (Implementation Gap) رہا ہے۔ قومی سطح پر تیار کیے گئے بہترین منصوبے بھی اس وقت اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں جب وہ ریاستوں، اضلاع اور اسکولوں تک یکساں معیار کے ساتھ نہ پہنچ سکیں۔ اس اعتبار سے نیتی آیوگ کی رپورٹ کی حقیقی کام یابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ اس کی سفارشات سرکاری دستاویزات سے نکل کر کلاس روم کی روزمرہ حقیقت کا حصہ کب اور کس حد تک بنتی ہیں۔
ٹیکنالوجی: ذریعہ، متبادل نہیں
رپورٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیجیٹل آموزش (Digital Learning)اور مستقبل کی مہارتوں جیسے ابھرتے ہوئے موضوعات کو مناسب اہمیت دی گئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی تعلیم کے طریقۂ کار کو نمایاں طور پر متاثر کرے گی، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی تعلیم کا متبادل نہیں، بلکہ اس کی معاون ہے۔ جس اسکول میں تربیت یافتہ استاد، فعال کلاس روم اور بنیادی سہولتیں موجود نہ ہوں، وہاں صرف کمپیوٹر، ٹیبلیٹ یا اسمارٹ بورڈ مطلوبہ تعلیمی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔ تعلیمی تاریخ کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ ایک مضبوط تدریسی نظام کے ساتھ مربوط ہو، نہ کہ اس کی جگہ لینے کی کوشش کرے۔
چند اہم خاموشیاں
اپنی وسعت، اعداد و شمار اور پالیسی تجزیے کے اعتبار سے یہ رپورٹ یقیناً ایک اہم دستاویز ہے، تاہم چند ایسے پہلو بھی ہیں جن پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
مثلاً آزاد بھارت کی تعلیمی تعمیر میں مولانا ابوالکلام آزاد کے تاریخی کردار کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے، حالاں کہ وہ ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم ہونے کے ساتھ جدید اعلیٰ تعلیم، سائنسی اداروں اور ثقافتی پالیسی کی تشکیل میں بنیادی کردار رکھتے تھے۔ اسی طرح بھارت جیسے لسانی اور ثقافتی تنوع رکھنے والے ملک میں مادری زبانوں، خصوصاً اردو سمیت دیگر بھارتی زبانوں میں تعلیم، اقلیتی تعلیمی اداروں کے تجربات اور مقامی برادری کی شمولیت جیسے موضوعات پر بھی نسبتاً محدود گفتگو کی گئی ہے۔
یہ توقع کرنا مناسب نہیں کہ ایک ہی رپورٹ تمام موضوعات کا احاطہ کر سکتی ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہلو آئندہ مطالعات اور پالیسی مباحث میں زیادہ سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔ کیوں کہ بھارت جیسے متنوع معاشرے میں تعلیمی معیار کے ساتھ تعلیمی تنوع بھی اتنا ہی اہم ہے، اور ایک جامع قومی تعلیمی وژن اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب دونوں پہلو یکساں اہمیت حاصل کریں۔
اسی طرح رپورٹ تعلیم کے اخلاقی، سماجی اور شہری پہلوؤں پر نسبتاً کم گفتگو کرتی ہے۔ اکیسویں صدی کی مہارتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک جمہوری اور متنوع معاشرے میں تعلیم کا مقصد صرف ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسے شہری تشکیل دینا بھی ہے جو تنقیدی فکر، سماجی ذمہ داری، باہمی احترام اور آئینی اقدار سے آراستہ ہوں۔ ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کا اقتباس، جس سے رپورٹ کا آغاز ہوتا ہے، اسی وسیع تصورِ تعلیم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ نیتی آیوگ کی یہ رپورٹ کام یاب ہے یا ناکام۔ اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے اسکولی نظام کا ایک جامع، اعداد و شمار پر مبنی اور سنجیدہ جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس نے تعلیمی نظام کی کئی مضبوطیوں کو نمایاں کیا ہے اور متعدد بنیادی کم زوریوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔ تاہم کوئی بھی رپورٹ اس وقت تک حقیقی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکتی جب تک اس کی سفارشات پالیسی دستاویزات سے نکل کر کلاس روم، اسکول اور مقامی برادری کی عملی زندگی کا حصہ نہ بن جائیں۔
اس جائزے سے ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ بھارت کی اسکولی تعلیم رسائی (Access) کے مرحلے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب اس کے سامنے اصل چیلنج معیار (Quality)، مساوات (Equity) اور آموزش (Learning) ہے۔ یہی وہ تین ستون ہیں جن پر آئندہ تعلیمی اصلاحات کی کام یابی کا انحصار ہوگا۔ اگر پالیسی، وسائل اور انتظامی توجہ انہی ترجیحات پر مرکوز رہی تو ’’وکست بھارت 2047‘‘ کا تصور محض ایک حکومتی وژن نہیں، بلکہ ایک قابلِ حصول تعلیمی ہدف بن سکتا ہے۔ نیتی آیوگ کی 33 سفارشات اسی سمت میں ایک اہم پالیسی خاکہ پیش کرتی ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا فیصلہ سفارشات کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کے مؤثر نفاذ سے ہوگا۔
رپورٹ کا آغاز ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کے جس اقتباس سے ہوتا ہے، وہی اس کے مطالعے کا بہترین حاصل بھی ہے۔ تعلیم کی کام یابی صرف اس میں نہیں کہ کتنے بچے اسکول پہنچے، کتنے امتحان میں کام یاب ہوئے یا کتنے روزگار حاصل کر سکے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کس درجے کے انسان اور شہری بن کر معاشرے میں داخل ہوئے۔ بالآخر کسی بھی قوم کے تعلیمی نظام کی کام یابی اس کے اسکولوں، عمارتوں یا اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ ان انسانوں کی کیفیت سے ناپی جاتی ہے جو اس نظام کی آغوش میں پروان چڑھتے ہیں۔






