سیکولرزم اور جمہوریت

اسلامی تصورات کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد رفعت

موجودہ دور کے دو مقبول ترین نعرے سیکولرزم اور جمہوریت ہیں۔ یوں تو ان کا تعلق زندگی کے بہت سے گوشوں سے ہے لیکن بالخصوص سیاسی واجتماعی زندگی پر ان تصورات نے گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ اِسلامی افکار کی روشنی میں سیکولرزم اور جمہوریت کے تنقیدی مطالعے سے قبل یہ ضروری ہے کہ خوداِسلام کے سیاسی نقطۂ نظر کو سمجھ لیا جائے۔ اسلام کے نقطۂ نظر کو حاکمیت، قانون سازی اور برسرِ حق حکومت کی اصطلاحات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔

حاکمیتِ الٰہ

اپنے سلسلہ مضامین ’’اسلامی ریاست‘‘ میں اسلام کی سیاسی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق اسی کی ہے لہٰذا فطرتاً امر کا حق (Right to Rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (Dominion) میں اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ صحیح راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت میں اس کے قانون شرعی کے مطابق حکمرانی ہو اور فیصلے کیے جائیں:

قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ۔    ﴿آل عمران:۲۶﴾

’’کہو اے اللہ، مالک الملک! تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔‘‘

ذَالِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہ، الْمُلْکُ۔   ﴿فاطر: ۱۳﴾

’’وہ ہے اللہ ’تمہارا رب‘ملک اسی کا ہے۔‘‘

لَمْ یَکُنْ لَّہ، شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ۔  ﴿بنی اسرائیل: ۱۱۱﴾

’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک (Partner)نہیں۔‘‘

فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِ الْکَبِیْرِ۔  ﴿المومن:۱۲﴾

’’لہٰذا حکم اللہ بزرگ و برتر کے لیے خاص ہے۔‘‘

وَلَا یُشْرِکُ فِی حُکْمِہٰ اَحَداً۔     ﴿الکہف: ۲۶﴾

’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو حصہ دار نہیں بناتا۔‘‘

اَلَا لَہ، الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۔     ﴿اعراف: ۵۴﴾

’’خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔‘‘

یَقُوْلُوْنَ ہَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیٍٔ۔ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہ، لِلّٰہِ۔  ﴿آل عمران: ۱۵۴﴾

لوگ پوچھتے ہیں کیا امر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہہ دو کہ امر سارا اللہ کے لیے مخصوص ہے۔‘‘     ﴿’’اسلامی ریاست‘‘ از سیدمودودیؒ ﴾

قانون سازی

اسلام کے نظریہ سیاسی کا دوسرا جز قانون سازی کے سوال سے متعلق ہے۔ مذکورہ سلسلہ مضامین میں سید مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’﴿حاکمیت الٰہ کے﴾ اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے۔ بندہ اور محکوم ہے، اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔ البتہ قانونِ الٰہی کی حدود کے اندر استنباط و اجتہاد سے تفصیلاتِ فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے۔ جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو، ان میں روح شریعت اور مزاجِ اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے قانون بنانے کا حق اہلِ ایمان کو حاصل ہے۔ کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط و احکام مقرر کرنے کا حق اہلِ ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو ﴿برحق ﴾تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت و باغی اور خارج از اطاعتِ حق ہے اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمْ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلَالٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ۔

﴿النحل: ۱۱۶﴾

’’اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال(Lawful)ہے اور یہ حرام(Unlawful)ہے۔‘‘

اِتَّبِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٰ اَوْلِیَائَ۔

﴿اعراف: ۳﴾

’’جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیائ ﴿اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں﴾ کی پیروی نہ کرو۔‘‘

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ۔ ﴿المائدۃ:۴۴﴾

’’اور جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں۔‘‘

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْا انَ یَکْفرُوْا بِہٰ۔ ﴿النساء : ۶۰﴾

ا ے نبی! کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کوجو دعویٰ تو کرتے ہیں اس ہدایت پر ایمان لانے کا جو تم پر اور تم سے پہلے کے  انبیاء  پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت سے کفر کریں ﴿یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں﴾۔‘‘        ﴿ایضاً﴾

برسرِ حق حکومت

تیسرا         اہم سوال یہ ہے کہ کس حکومت کو برسرحق حکومت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں سید مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’ خداوندِ عالم کی زمین پر صحیح حکومت اور عدالت صرف وہ ہے، جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہو جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے اسی کا نام خلافت ہے۔

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔     ﴿النساء : ۶۴﴾

’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ حکمِ الٰہی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘

اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اَرَاکَ اللّٰہُ۔  ﴿النساء : ۱۰۵﴾

’’اے نبی! ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔‘‘

وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَائَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ۔    ﴿المائدۃ:۴۹﴾

’’اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمھیں فتنہ میں مبتلا کرکے اس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیردیں، جو اللہ نے تمھاری طرف نازل کی ہے۔‘‘

اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ۔ ﴿المائدۃ: ۵۰﴾

’’کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں؟‘‘

یَا دَاؤ،دُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔     ﴿ص:۲۶﴾

اے داؤد! ہم نے تم کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ اللہ کے راستے سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی۔‘‘                                                          ﴿ایضاً﴾

مذکورہ بالا اِسلامی تصورات کی روشنی میں ہم رائج الوقت جمہوریت اور سیکولرزم کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

جمہوریت

آج جمہوریت کی اصطلاح جس مفہوم میں استعمال ہوتی ہے اس میں درج ذیل  اجزاء  شامل ہیں:

﴿الف﴾ عوام کی حاکمیت کا تصور

﴿ب﴾     عوامی نمائندگی کا تصور

﴿ج﴾      عوامی حقوق اور شہری آزادیوں ﴿Civil Liberties﴾ کا تصور

﴿د﴾        پارٹی سسٹم، امیدواری اور الیکشن کا طریقہ

اسلامی تصورِ حیات کی روشنی میں ہم ان چاروں  اجزاء  کا جائزہ لے کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ قابلِ قبول ہیں یا قابلِ رد۔

﴿الف﴾ عوام کی حاکمیت

جہاں تک حاکمیت کا تعلق ہے، اسلام وضاحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ ملک کا جائز حاکم صرف خداوندِ عالم ہے۔ کسی اور کو حاکمیت کا حق نہیں پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ نے جو قانون اپنے بندوں کو دیا ہے وہی واجب الاتباع ہے۔ بندوں کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ الٰہی قانون سے متصادم کوئی قانون سازی کریں، چنانچہ ’’عوام کی حاکمیت‘‘ کا تصور اسلام کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے۔ عوام حاکم نہیں ہیں بلکہ سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اُن کے لیے مناسب یہ ہے کہ حاکمِ حقیقی کے آگے سرِ اطاعت جھکادیں اور اس کے عطا کردہ قانون کی مخلصانہ پیروی کریں۔

البتہ اللہ تعالیٰ نے جو قانون انسانوں کو دیا ہے بیش تر معاملات میں اس کی حیثیت اصولی ہدایت کی ہے۔ زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس اصولی قانون کے تحت، تفصیلی قانون سازی کی ضرورت بہرحال پیش آتی ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق اہلِ ایمان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کی ان تفصیلات کو مرتب کریں جن کے بارے میں الٰہی ہدایت خاموش ہے۔ اس کام کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے چند شرائط ہیں:

(i)  شریعت الٰہی پر ایمان اور اس کے اتباع کا مخلصانہ ارادہ

(ii)  عربی زبان و ادب سے اچھی واقفیت

(iii)  قرآن و سنت کا علم اور مصالحِ شریعت کی معرفت

(iv)  ماضی کے مسلمانوں کے اجتہاد سے واقفیت

(v)  ان معاملات و مسائل سے واقفیت جن کے ضمن میں اجتہاد مطلوب ہے

(vi) اسلام کے مطابق سیرت و کردار

﴿ب﴾ عوامی نمائندگی

اسلام اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ حکمراں وہ لوگ ہونے چاہئیں جن کو عوام نے اپنی آزاد مرضی سے اپنا حکمراں تسلیم کیا ہو۔ اسلامی اصطلاح میں ’’آزادانہ بیعت‘‘ اِسی امر کا نام ہے۔ اِس کے برخلاف جبری بیعت کو اسلام درست نہیں سمجھتا۔ ’’آزادانہ بیعت‘‘ کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اس کو اسلام نے تمدنی ارتقائ پر چھوڑ دیا ہے اور کسی تفصیلی طریقِ کار کا مسلمانوں کو پابند نہیں کیا ہے۔ اسلامی اسپرٹ کا تقاضایہ بھی ہے کہ عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا حق اور مواقع حاصل ہوں تاکہ اس امر کا اطمینان کیا جاسکے کہ حکمراں فی الواقع اُن حدود کے اندر اپنے اختیارات کو استعمال کررہے ہیں جو اسلام نے طے کردی ہیں۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ آج کل عوامی نمائندوں کے دو کام سمجھے جاتے ہیں ایک یہ کہ وہ قانون سازی کریں، دوسرے یہ کہ وہ ملک کا انتظام کریں۔ چنانچہ مثلاً ہمارے ملک کے جمہوری نظام میں برسرِ اقتدار پارٹی کی تشکیل کردہ کابینہ ملک کا انتظام بھی کرتی ہے اور قانون سازی کے ضمن میں مجوزہ قوانین کے خاکے بھی تیار کرتی ہے ﴿گرچہ آخری منظوری کااختیار پارلیمنٹ کو ہوتا ہے﴾ ۔ اس کے برعکس اسلامی مزاج یہ تقاضا کرتا ہے کہ انتظامِ ملکی اور قانون سازی کو الگ الگ رکھا جائے۔

اسلامی تصور کے مطابق ذیلی قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ ﴿جوشریعتِ الٰہی کے عطا کردہ اصولی قانون کے تحت ہو﴾ لیکن یہ کام محض اِس بنا پر کسی شخص کے حوالے نہیں کیاجاسکتا کہ اُسے عوامی اعتماد حاصل ہے بلکہ ذیلی قانون سازی ان لوگوں کا کام ہے جو اجتہاد کے لیے درکار صفات اپنے اندر رکھتے ہوں۔ رہا انتظامِ ملکی تو وہ اُن حکمرانوں کے سپرد ہوگا جنہیں عوام کااعتماد حاصل ہو۔

موجودہ جمہوریت کی زبان میں ’’عوامی نمائندے‘‘ اُن کو سمجھا جاتا ہے جو عوام کی امنگوں یا خواہشات کے ترجمان ہوں۔ اسلام اس طرزِ فکر سے اتفاق نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک حکمرانوں کا کام عوامی خواہشات کی پیروی نہیں ہے بلکہ حق کی پیروی ہے۔ چنانچہ ’’عوامی نمائندوں‘‘ کی اصطلاح اسلامی مزاج کی صحیح نمائندگی نہیں کرتی۔ دورِ جدید کی اسلامی ریاستیں اس اصطلاح کے بجائے عوام کے ’معتمد علیہ افراد‘ کی اصطلاح استعمال کرسکتی ہیں۔ حکمراں لازماً انہی معتمد علیہ افراد میں سے ہوں گے۔

﴿ج﴾ بنیادی حقوق

اسلام یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ افراد اور گروہوں کو بعض بنیادی حقوق اور شہری آزادیاں حاصل ہونی چاہئیں۔ اس بنیادی بات کی حد تک اسلامی تصور اور موجودہ جمہوریت باہم متفق ہیں۔ اس امر میں بھی اتفاق ہے کہ یہ حقوق اور آزادیاں مطلق نہیں ہیں بلکہ بالاتر اقدار اور مقاصد کے تحت مشروط ہیں۔

البتہ حقوق اور آزادیوں کی فہرست، ان کے مفہوم اور ان کے اطلاق کو محدود کرنے والی شرائط کے سلسلے میں اسلام اور موجودہ جمہوریت کے درمیان اتفاق نہیں ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس نے جو حقوق تسلیم کیے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ جمہوری نظاموں میں ہر ملک کی کیفیت مختلف ہے۔

’’حرمتِ جان یا جینے کا حق، عزت و آبرو کے تحفظ خصوصاً ناموسِ خواتین کے تحفظ کا حق، بنیادی ضروریاتِ زندگی کی ضمانت، عدل و انصاف کے حصول کا حق، نیکی میں تعاون اور بدی میں عدمِ تعاون کا حق، مساوات کا حق، ظالم کی اطاعت سے انکار کا حق، معصیت سے اجتناب کا حق، سیاسی کارفرمائی میں شرکت کا حق، شخصی آزادی کا تحفظ، ملکیت کا تحفظ، نجی زندگی کا تحفظ، ظلم کے خلاف احتجاج کا حق، اخلاقی حدود کی پابند اظہارِ رائے کی آزادی، آزادی ضمیر، مذہبی دل آزاری سے تحفظ کا حق، آزادی اجتماع کا حق، عمل غیر کی ذمہ داری سے بریت، شبہات پر کارروائی نہ کیے جانے کا حق، عدالتی کارروائی کے بغیر سزا نہ دیے جانے کا حق، رائے اور مَسلک کی آزادی کا حق۔‘‘   ﴿ایضاً﴾

غیر مسلم شہریوں کو بھی اسلامی ریاست میں یہ سب حقوق حاصل ہوں گے البتہ سیاسی کارفرمائی میں ان کی شرکت کی ایسی صورتیں درست نہ ہوں گی جہاں وہ اسلامی ریاست کی بنیادی پالیسی کو تبدیل یا متاثر کرسکیں۔ رہے اُن کے اپنے تہذیبی امور تو اُن کو چلانے کے سارے اختیارات انھیں حاصل ہوں گے۔مسلمان اُن میں مداخلت سے باز رہیں گے۔

﴿د﴾ پارٹی سسٹم اور امیدواری

اسلامی مزاج سے یہ بات مطابقت نہیں رکھتی کہ کوئی شخص حکمرانی کے منصب کے لیے خود اپنے آپ کو پیش کرے اور امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اس کے بجائے اسلامی اسپرٹ سے قریب تر طریقہ یہ ہوگا کہ علم، صلاحیت اور کردار کے لحاظ سے موزوں افراد کے نام کچھ معتبر ادارے پیش کریں اور پھر عوام کی مرضی معلوم کی جائے کہ وہ مجوزہ ناموں میں سے کن کو ترجیح دیتے ہیں۔ موجودہ جمہوریت اس پہلو سے بہت ناقص ہے اور اس کا امیدواری سسٹم بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسلام کے مطابق اس کی اصلاح ناگزیر ہے۔

اسی طرح سماج کو باہم متصام پارٹیوں میں تقسیم کرنا اسلام کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔ اسلام اہلِ اسلام کو متحد دیکھنا چاہتا ہے۔ گرچہ اسلامی ریاست، پارٹی بنانے سے کسی کو بزورِ قانون نہیں روکے گی لیکن معاشرے کی تربیت کے ذریعے وہ یہ چاہے گی کہ جائز مفادات کے حصول کے لیے لوگ پارٹی بنانے پر مجبور نہ ہوں بلکہ ریاستی ادارے خود آگے بڑھ کر عوامی مسائل کے حل کرنے کا انتظام کریں۔

معتمد علیہ افراد کی نشان دہی کے لیے ﴿جن کو حکمرانی کا کام سپرد کیا جاسکے﴾ عوامی رائے دہی کے طریقے کو اسلام اصولاً درست سمجھتا ہے اور اس سے کام لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آئندہ تمدنی ارتقائ کے نتیجے میں اس سے بہتر طریقے سامنے آجائیں تو ان کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔

جمہوری رجحان

موجودہ جمہوریت کے  اجزاء  ترکیبی کے تجزیے کے علاوہ یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ انسانی تاریخ کے موجودہ مرحلے میں جمہوریت محض ایک نظام کا نہیں بلکہ ایک رجحان کا نام بھی ہے۔ یہ رجحان آمریت، بادشاہت، جبر، مطلق العنانی، اور لا قانونیت کے خلاف ہے اور آزادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور حریتِ فکر وخیال کی تائید کرتا ہے۔ اسلام کے نزدیک اصولاً یہ رجحان ایک درست رجحان ہے اور انسانی فطرت کی خیر پسندی کا مظہر ہے۔ مغربی مزاج کی بے اعتدالی نے اس رجحان کو فساد زدہ کردیا ہے۔ اعتدال و توازن کی بحالی کے لیے آزادی اور حریت کے اس رجحان کو ہدایتِ الٰہی اور آفاقی اخلاقی قدروں کا تابع بنانے کی ضرورت ہے۔ جمہوری جذبے کی اصولاً تائید کرتے ہوئے اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ ہدایتِ الٰہی کی روشنی میں جمہوری نظریے اور عمل کے اندر ضروری اصلاحات تجویز کریں۔

جمہوری رجحان کی تائید سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ تسلیم شدہ حقوق میں کسی کمی کو روا   نہ سمجھا جائے۔ اگرکسی ملک کے نظامِ قانون میں عوام کے بعض جائز حقوق تسلیم شدہ ہوں تو ہر ایسی کوشش کی مزاحمت کی جانی چاہیے جس کا منشا ان حقوق میں کمی لانا ہو۔ اسی طرح ہر ایسی تجویز کی تائید کی جانی چاہیے جس کے تحت عوام کو وہ حقوق مل سکیں جو اُن کو اب تک نہیں ملے ہیں اور از روئے انصاف ملنے چاہئیں۔

علی ہذا القیاس اگرکسی ملک میں الیکشن ہوتے ہوں اور رسمی جمہوریت قائم ہو تو وہاں ایسی تجاویز کی مزاحمت کی جانی چاہیے جن کا منشا آمریت یا ڈکٹیٹر شپ کا قیام ہو۔ اس کے برعکس اگر کسی ملک میں آمرانہ حکومت ہو تو ایسی تجاویز کی تائید کی جانی چاہیے جن سے جمہوری طرز کے الیکشن وہاں شروع ہوسکیں۔ آزادی اجتماع، آزادی اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی اگر موجود نہ ہوں تو ان آزادیوں کے حق میں بات کہنی چاہیے۔

سیکولرزم

جمہوریت کے علاوہ دوسرا مقبول نعرہ سیکولرزم ہے۔ سیکولرزم کی اصطلاح کا استعمال علم و فلسفے کے سیاق میں بھی ہوتا ہے۔ اجتماعی و سماجی زندگی کے سیاق میں بھی اور ریاست و حکومت کے سیاق میں بھی۔

﴿الف﴾ سیکولر فلسفہ

علم و فلسفے کے سیاق میں سیکولرزم کے معنی یہ ہیں کہ کائنات اور مظاہرِ فطرت کے مطالعے سے جو نتائج اخذ کیے جائیں اور جو تصورِ کائنات World Viewترتیب دیا جائے وہ غیب کے انکار پر مبنی ہو۔ تمام معلومات کو اس طرز پر مرتب کیا جائے کہ کائنات کی تشریح خدا کے تصور کے بغیر کی جاسکے اور انسانی سماج کی تنظیم کے سلسلے میں جو کچھ سوچا جائے وہ ہدایتِ الٰہی سے بے نیاز ہوکر سوچا جائے۔

علم و فلسفے کا یہ تصور اسلام کے نزدیک ناقابلِ قبول ہے۔ اسلام اس حد تک موجودہ منہاج (Method) سے اتفاق کرتا ہے کہ معلومات کی فراہمی کا طریقہ دیانت دارانہ ہونا چاہیے ﴿جس کو آج کل کی اصطلاح میں معروضی یا Objectiveکہا جاتا ہے۔﴾ لیکن اسلام غیب کے انکار اور ہدایتِ الٰہی سے بے نیازی کو صحیح نہیں سمجھتا۔

اسلام کے مطابق فلسفیانہ غوروفکر کا صحیح منہاج یہ ہے کہ دیانت داری کے ساتھ معلومات جمع کی جائیں پھر معلومات کو مرتب کرکے دیکھا جائے کہ وہ ملحدانہ تصورِ کائنات کی تائید کرتی ہیں یا خدا پرستانہ تصور کائنات کی۔ اگر تعصب سے کام نہ لیا جائے تو ہر غیر جانب دار طالبِ حق اس نتیجے پر پہنچے گا کہ تمام مظاہرِ فطرت اپنے اندر ایسی واضح نشانیاں رکھتے ہیں جو خدا پرستانہ تصور کی حقانیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

دیانت دارانہ مشاہدے کے علاوہ اسلام قابلِ اعتماد خبر کو بھی ذریعہ علم سمجھتا ہے۔ عالَمِ غیب کے بارے میں قابلِ اعتماد خبریں ہم کو  انبیاء  علیہم السلام کے ذریعے سے ملتی ہیں، جن کے صادق اور امین ہونے پر انسانیت کا اتفاق رہا ہے۔ چنانچہ اسلام کے نزدیک  انبیاء  کی دی ہوئی خبریں علم کا قیمتی حصہ ہیں جن سے بے پروائی مہلک ہے۔

انسان کی اجتماعی زندگی کی تنظیم کے لیے اسلام عقلِ انسانی کو کافی نہیں سمجھتا۔ اسلام کے نزدیک ہدایتِ الٰہی پر مبنی شریعت، انفرادی و اجتماعی زندگی کی حقیقی رہنما ہے۔ مزید برآں عقلِ انسانی تربیت کی محتاج ہے۔ اسلام کا تربیتی نظام انسان کے قلب و ذہن کی تربیت کرتا ہے اور اسے اس قابل بنادیتا ہے کہ صالح اجتماعی زندگی کی تعمیر میں عقلِ انسانی اپنا مثبت رول ادا کرسکے۔

﴿ب﴾سیکولر سوسائٹی

سیکولر سوسائٹی کے معنی یہ ہیںکہ انسانی تعلقات و معاملات کی تنظیم کے لیے درکار قدریں (values)، اصول(principles)اور قوانین(regulations)ہدایتِ الٰہی سے اخذ نہ کیے جائیں بلکہ انسانی عقل و تجربے کو قدروں، اصولوں اور قانون کا منبع قرار دیا جائے۔ اسلام اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا۔ اس کی تین وجہیں ہیں : ﴿۱﴾ انسانی عقل وتجربہ محدود ہے اور ہدایت کے لیے ناکافی ہے۔ ﴿۲﴾ انسانی عقلوں میں باہم اختلاف ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اکثریت کی رائے کا معقول ہونا کچھ ضروری نہیں۔ ﴿۳﴾ انسانی عقل، خواہشات سے متاثر ہوجاتی ہے اور عادلانہ فیصلے کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسانی زندگی کے لیے قدریں، اصول اور قوانین، سب کا حقیقی سرچشمہ ہدایتِ الٰہی ہے۔ یہ ہدایت اللہ کے نبیوں کے ذریعے انسانوں کو ملتی ہے۔ اس ہدایت کی پیروی کرکے وہ سماج تعمیر کیا جاسکتا ہے جس میں انسان سکون، امن اور عدل سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ جس طرح فرد کے لیے صحیح نہیں ہے کہ خدا سے بغاوت کرے اسی طرح انسانی سوسائٹی کے لیے بھی یہ طرزِ عمل صحیح نہیں ہے کہ خدائی ہدایت کو نظر انداز کرے یا اس سے روگردانی کرے۔

سیکولر سوسائٹی کا نعرہ دنیا میں عرصے سے موجود ہے لیکن دنیا کے کسی بھی خطے میں سوسائٹی سیکولر نہیں بن سکی ہے۔ ہر جگہ مذہب کے واضح اثرات سماج پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ اثرات خاندانی نظام اور سماجی تقریبات کے دائرے میں زیادہ نمایاں ہیں، چنانچہ عملاً سیکولر سوسائٹی کا نعرہ ایک متحد المزاج سماج بنانے میں ناکام رہتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسی سوسائٹی وجود میں آتی ہے جس میں تضاد اور دو رنگی موجود ہوتی ہے۔ زندگی کے بعض معاملات میں لوگ مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بعض معاملات میں غیر مذہبی نظریات اور فلسفوں کی طرف۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ سیکولر سوسائٹی کا تصور ایک خیالی تصور ہے۔ عملاً دنیا میں کوئی سماج تشکیل پاتا ہے تو مذہب اس میں کلیدی رول ادا کرتا ہے۔

اسلام انسانی زندگی کو تضاد سے پاک دیکھنا چاہتا ہے چنانچہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ خدائی ہدایت کو سماجی تنظیم کی بنیاد بھی ہونا چاہیے اور انفرادی رویّوں کی بھی۔ اس طرح پوری انسانی زندگی انتشار سے محفوظ ہوجاتی ہے۔

﴿ج﴾ سیکولر ریاست

سیکولر حکومت یا ریاست کے معنی یہ ہیں کہ مذہبی امور کے اندر ریاست کی حدود میں رہنے والے تمام شہریوں کو آزادی ہو کہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں اور دیگر تمام اجتماعی امور کے اندر اُن قوانین اور طریقوں پر عمل کیا جائے جو حکومت نے طے کردیے ہوں۔ اگر حکومت جمہوری ہو تو طے کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کو عوام کے نمائندے کہا جاتا ہے۔ اگر حکومت آمرانہ ہو تو قوانین و ضوابط  طے کرنے والے وہ ہوں گے جو حکومت پر قابض ہوں۔

سوال یہ ہے کہ سیکولر حکومت یا ریاست کی معقولیت(Rationale)کیا ہے یعنی سیکولر حکومت کیوں مطلوب ہے۔ اس سوال کے دو جواب دیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیکولر فلسفہ حیات ایک معقول طرزِ فکر ہے چنانچہ اس کے نتائج یعنی سیکولر سوسائٹی اور سیکولر حکومت کو بھی قبول کرنا چاہیے۔ اسلام اس جواب کو رد کرتا ہے۔ سطورِ بالا میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ انسانی عقل و تجربہ محدود و ناکافی بھی ہے اور خواہشاتِ انسانی سے متاثر بھی بآسانی ہوجاتا ہے، چنانچہ سیکولر فلسفے اور اُن کی بنیاد پر مرتب کیے گئے قوانین و ضوابط غلطیوں اور نقائص سے پُر ہیں۔ انسانی زندگی کو امن وسکون سے ہم کنار کرنے کے بجائے سیکولر طرزِ فکر نے دنیا میں صِرف فساد برپا کیا ہے۔

سیکولر حکومت یا ریاست کی معقولیت کے سلسلے میں دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ہر ملک میںمختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ اجتماعی و سیاسی زندگی بہرحال اُن سب کو مل جل کر گزارنی ہے۔ اس لیے مذہب کو اجتماعی معاملات کا رہنما نہیں بنایا جاسکتا چونکہ مذاہب بہت سارے ہیں، چنانچہ عقلِ انسانی کو اجتماعی زندگی کا رہنما قرار دینا چاہیے۔

اسلام اس جواب کو رد کرتا ہے۔ مذکورہ نقطۂ نظر کو رد کرنے کی وجوہات یہ ہیں:

﴿i﴾   اگر مذاہب متعدد ہیں تو سیکولر نظریات اور فلسفے بھی متعدد ہیں، چنانچہ سوسائٹی کے افتراق و انتشار کا مسئلہ سیکولر ریاست کے قیام سے حل نہیں ہوتا۔

(ii)  عقلِ انسانی کی محدودیت اور کمزوریاں واضح ہیں چنانچہ اس کی رہنمائی ناقابلِ اعتماد ہے۔

(iii)   انسانی عقلوں میں باہم اختلاف ہے اس لیے عملاً اکثریت کی رائے مانے بغیر چارہ نہیں۔ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثریت کی رائے غلطی کرسکتی ہے اور کرتی رہتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ریاست یا حکومت کے بارے میں صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ جو امور، مذہبی قرار دیئے جائیں اُن میں ہر گروہ آزاد ہو اور جن امور کو عام اجتماعی زندگی سے متعلق سمجھا جاتا ہے وہاں اُن آفاقی اقدار (values) کے مطابق عمل کیا جائے جو پوری نوعِ انسانی کی مشترک میراث ہیں۔ ان اقدار کو مستند ہدایت الٰہی نے قوانین کی شکل دی ہے۔ ﴿جسے شریعت کہا جاتا ہے﴾۔ اہلِ ایمان کو قوی استدلال سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ تمام انسان فطرت پر پیدا ہوتے ہیں اور یہ فطرت صالح ہوتی ہے۔ اجتماعی زندگی کے ضوابط وہ ہونے چاہئیں جو انسان کی فطرتِ صالحہ سے ہم آہنگ ہوں۔

اہلِ ایمان کی جانب سے اس استدلال کے پیش کرنے اور لوگوں کے اس کو قبول کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس عبوری مدت کے دوران دنیا میں جو سیکولر ریاستیں موجود ہوں ان کے مسلمان شہریوں کو درج ذیل طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے:

(i)  ان کو یہ اصول مسلسل پیش کرتے رہنا چاہیے کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کی فلاح، ہدایتِ الٰہی کے اتباع میں ہے۔

(ii) اُن کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مذہب کا تصور وسیع ہو اور اُسی مناسبت سے دین پر عمل کی آزادی کا دائرہ وسیع تر ہوتا جائے مثلاً صِرف پرسنل لا کی آزادی کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ تہذیبی گروہوں کو اپنے اصولوں کے مطابق نظامِ تعلیم چلانے کی آزادی حاصل ہو۔

(iii) دین پر عمل کی آزادی کو سلب کرنے یا محدود کرنے کی جو کوششیں شرپسندوں کی طرف سے یا خود ریاست کی جانب سے ہوں ان کی مزاحمت کی جانی چاہیے۔

(iv) اہلِ ایمان کا یہ مستقل کام ہونا چاہیے کہ وہ معروف کی تلقین کریں او رمنکر سے روکیں۔ اس تلقین اور نہی کے مخاطَب افراد اور ادارے بھی ہیں اور خود ریاست بھی۔ چنانچہ اہلِ ایمان کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ریاستی قوانین کے دائرے میں بھی منکر مٹے اور معروف فروغ پائے۔

(v) اہلِ ایمان کو یہ اصول پیش کرنا چاہیے کہ ریاست سیکولر فلسفوں کے بجائے شریعتِ الٰہی کو منبعِ قانون قرار دے۔

ستمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau