واقعہ اسراء کی معنویت

محی الدین غازی

اہل اسلام کا یروشلم اور مسجد اقصی سے اسی نوعیت کا تعلق ہے، جس نوعیت کا تعلق مکہ اور مسجد حرام سے ہے اور مدینہ اور مسجد نبوی سے ہے۔ یہ تعلق مکمل  اور گہری اپنائیت کا ہے، اس میں اجنبیت کا ذرا بھی شائبہ نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لیے دنیا میں دو بڑے مرکز مقرر فرمائے۔ پہلا مرکز مکہ میں مسجد حرام اور دوسرا مرکز یروشلم میں مسجد اقصی۔ مسجد حرام کو قبلہ قرار دیا، تاہم مسجد اقصی کو بھی  مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ ختم نبوت کی نشانی کے طور پر مسجد نبوی کو بھی مرکزی حیثیت عطا کی گئی۔

اللہ تعالی اپنی عبادت کے لیے جو مقامات مقرر کرے، وہاں صرف اللہ کی عبادت ہونی چاہیے اور انھیں اسلام کا مرکز ہونا چاہیے۔

اللہ تعالی کا یہ فیصلہ ہوا کہ آخری رسول حضرت محمدؐ کی بعثت کے بعد یہ دونوں معبد آپ کی اور آپ کی امت کی پاسبانی میں دیے جائیں۔ اسلام سے برگشتہ  دیگر مذاہب کے متبعین کے سامنے یہ راستہ کھلا رکھا گیا کہ وہ اسلام کو اختیار کرکے ان معبدوں کی پاسبانی میں شامل ہوجائیں۔ اللہ کا بھیجا ہوا دین ہمیشہ سے اسلام رہا ہے، صرف وہی دین  اللہ کو پسند ہے، اس لیے اللہ کے معبد کا دین بھی اسلام ہی ہونا چاہیے۔

عام طور سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسجد اقصی میں واقعہ اسراء پیش آیا تھا، اس لیے اس پر مسلمانوں کا حق ہے۔ لیکن بات اتنی ہی نہیں ہے بلکہ  اس سے بہت  آگے کی ہے۔ اسراء کا واقعہ محض ایک معجزہ نہیں ہے،  وہ معجزاتی طور پر اس بات کی علامت اور خبر ہے کہ مسجد حرام اور مسجد اقصی دونوں کی تولیت آخری رسول اور اس کی امت کے حوالے کردی گئی ہے۔

اسراء کا واقعہ جس اہتمام کے ساتھ پیش آیا اور پھر سورہ بنی اسرائیل میں یہ واقعہ جس اہتما م کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعےکی خاص  معنویت اور دلالت ہے۔  مسجد حرام سے مسجد اقصی کا سفر سیرت رسولؐ کا بالکل انوکھا واقعہ ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا  تو مسجد حرام  کی تولیت مکہ کے مشرکین کے ہاتھ میں تھی جو ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر پورے طور سے شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اور مسجد حرام کی تولیت کے اہل نہیں رہ گئے تھے۔ دوسری طرف مسجد اقصی کے متولی یعنی بنی اسرائیل اپنی بداعمالیوں اور عہد شکنیوں کی بنا پر کئی سو سال پہلے ہی مسجد اقصی کی تولیت سے معزول کیے جاچکے تھے، مسجد اقصی کو منہدم کیا جاچکا تھا اور وہ اپنی تعمیر نو کے لیے آخری رسول کی منتظر تھی، کہ اس کی آمد کے بعد ہی مسجد اقصی کی حیثیت  بحال ہونی تھی۔

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

معراج کے واقعے کی طرف اشارہ کر کے مشرکین مکہ اور بنی اسرائیل دونوں پر یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصی دونوں کی امانت خائنوں سے چھین کر اس نبی امی کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو جس کو اپنی روش بدلنی ہے وہ بدلے ورنہ اپنی ضد اور سرکشی کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔ (تدبر قرآن)

مزید لکھتے ہیں:

یہ دونوں ہی گروہ خدا کے دین کے دو سب سے بڑے مرکزوں پر قابض تھے اور ان کو انھوں نے ان کے بنیادی مقصد کے بالکل خلاف نہ صرف شرک و بت پرستی کا اڈا بلکہ جیسا کہ سیدنا مسیح نے فرمایا ہے کہ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے، ان کو انھوں نے چوروں اور خائنوں کا بھٹ ہی بنا ڈالا تھا اور یہ ان میں اس طرح اپنی من مانی کر رہے تھے گویا ان گھروں کا اصل مالک کانوں میں تیل ڈال کر اور آنکھوں پر پٹی باندھے سو رہا ہے اور اب کبھی وہ اس کی خبر لینے کے لیے بیدار ہی نہیں ہوگا۔  معراج کا واقعہ اس بات کی تمہید تھا، کہ اب ان گھروں کی امانت اس کے سپرد ہونے والی ہے جو ان کے اصلی مقصد تعمیر کو پورا کرے گا۔ (تدبر قرآن)

سید قطب لکھتے ہیں:

مسجد حرام سے مسجد اقصی کا یہ سفر لطیف و خبیر ہستی کی طرف سے خصوصی سفر تھا۔ یہ ابراہیم و اسماعیل سے خاتم النبیین محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک توحید کے عظیم ترین عقائد کو مربوط کرنےاور تمام توحیدی مذاہب کے مقدس مقامات کو جوڑنے والا  سفرتھا۔ تحیر سے بھرپور اس سفر کا مقصد گویا اس بات کا اعلان کرنا تھا کہ آخری رسول پچھلے رسولوں کی مقدس چیزوں کا وارث ہے، اس کی نبوت ان مقدسات کو محیط ہے اور اس کی نبوت ان سب سے وابستہ ہے۔  یہ سفر زمان و مکان کے حدود سے ماورا اشارے رکھتا ہے،  زمان و مکان سے زیادہ وسیع پہنائیوں اور آفاق پر مشتمل ہے، پہلی نظر میں جو قریب  کے معانی نظر آتے ہیں ان سے کہیں بڑے معانی اس سفر میں پنہاں ہیں۔ (فی ظلال القرآن)

اللہ کے رسولؐ جب اسراء کی رات مسجد اقصی پہنچے اور وہاں نبیوں کی امامت کی، تو یہ اس بات کا اعلان تھا کہ مسجد اقصی کی حیثیت بحال ہوچکی ہے۔ اس کے بعد یہ مان لیا گیا کہ مسجد اقصی موجود ہے، مسلمانوں کی تحویل میں ہے اور اس کا تذکرہ اسی حیثیت سے کیا جانے لگا۔

جب ہم احادیث میں مسجد اقصی کا ذکر دیکھتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ اس وقت تک تو وہ مقام   بالکل ویران اور کوڑے کرکٹ سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہاں مسجد کی عمارت باقی نہیں تھی، اس علاقے تک مسلمانوں کے قدم بھی نہیں پہنچے تھے،  پھر بھی  اس کے فضائل بیان کیے جارہے تھے۔  لیکن یہ تعجب دور ہوجاتا ہے جب ہم اس پہلو سے دیکھیں کہ اسراء کی رات مسجد اقصی کی حیثیت بحال ہوگئی تھی اور وہ مسلمانوں کی مسجد قرار پاگئی تھی۔

ہمارا خیال ہے کہ مسجد اقصی کو مسلمانوں کی تولیت میں دینے کی ایک عملی نشانی کے طور پر اسے کچھ عرصے کے لیے مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا گیا۔  اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ تحقیق کے  مطابق مسجد اقصی کو بنی اسرائیل کے قبلے کی حیثیت کبھی حاصل نہیں رہی۔ مسجد اقصی کا قبلہ شروع سے خانہ کعبہ رہا ہے۔  یہ الگ بات ہے کہ مسجد اقصی ضائع کرنے کے ساتھ ہی یہودیوں نے مسجد اقصی کا قبلہ بھی ضائع کردیا۔ غرض مسلمانوں کا مسجد اقصی سے گہرا اور مضبوط تعلق قائم کرنے کے لیے اسے کچھ مہینوں کے لیے قبلہ قرار دیا گیا۔ قبلہ بن جانے سے مسجد اقصی سے جو گہرا رشتہ قائم ہوا وہ قبلہ تبدیل ہونے کے بعد بھی مضبوطی سے قائم رہا۔

کس قدر قابل غور  بات ہے کہ مسجد اقصی مسلمانوں کی پہنچ سے بہت دور ہے پھر بھی اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں: کجاوے نہیں کسے جائیں گے مگر تین مسجدوں کے لیے:  مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی (صحیح بخاری) گویا مسجد اقصی مسلمانوں کے علاقے میں اور مسلمانوں کی تولیت میں ہو۔

ایک بار حضرت میمونہؓ کہتی ہیں:  اللہ کے رسول ہمیں بیت المقدس کے بارے میں نصیحت کیجیے، آپ فرماتے ہیں:  وہ حشر و نشر کی جگہ ہے، وہاں جاؤ اور اس میں نماز ادا کرو، اس میں ایک نماز دوسری جگہوں پر ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ حضرت میمونہ ؓپوچھتی ہیں:  اگر میں وہاں نہ جاسکوں، آپ فرماتی ہیں:  وہاں کے لیے تیل کا ہدیہ بھیج دو جس سے چراغ جلایا جائے۔ جو ایسا کرے گا وہ اس کی طرح ہے جو وہاں پہنچ جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

اللہ کے رسولؐ نےمسلمانوں کے ذہن میں  یہ بات اچھی طرح بٹھادی کہ مسجد اقصی مسجد حرام کا جوڑا ہے۔  اللہ کے رسولؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلے کس مسجد کی اساس رکھی گئی تو آپ نے فرمایا:  مسجد حرام کی، پوچھا گیا:  پھر کس کی؟ آپ نے فرمایا:  پھر مسجد اقصی کی۔ (صحیح بخاری)  اس طرح اللہ کے رسولؐ  نے مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشین کرادی کہ مسجد حرام اور مسجد اقصی دو الگ قوموں یا مذہبوں کی مسجدیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک مسلم  امت کی مسجدیں ہیں۔

مسجد اقصی سے مسلمانوں کو کتنی دل بستگی ہوگئی تھی، اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ  فتح مکہ سے بھی پہلے بعض لوگ نذر مانتے کہ وہ مسجد اقصی میں نماز ادا کریں گے۔

فتح مکہ کے موقع پر ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہا:  میں نے اللہ سے نذر مانی ہے اگر اللہ نے آپ کو مکہ کی فتح سے نوازا تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں ادا کروں گا۔ آپ نے اس سے کہا : وہ نماز یہیں ادا کرلو۔ (سنن ابی داؤد) اس طرح اللہ کے رسولؐ نے دونوں مسجدوں میں گہرے تعلق کو بھی سمجھادیا۔

اسے بھی اللہ کی خاص حکمت سمجھنا چاہیے کہ مسلمان جب مسجد اقصی  کے مقام پر پہنچے تو وہاں کوئی تعمیر نہیں تھی، کسی دوسری قوم کا اس مقام پر قبضہ نہیں تھا، اللہ تعالی کی مشیت سے وہ مقام کئی سو سال پہلے سے خالی پڑا تھا اور اپنے حقیقی پاسبانوں کا منتظر تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے پہلے دن سے اسے اپنی مسجد سمجھا اور دل و جان سے اس کی خدمت کی۔

جب تک اسلام جزیرہ عرب میں محدود تھا مسلم آبادی کا ارتکاز مکہ اور مدینہ میں تھا، لیکن جب عالم اسلام کی توسیع ہوئی تو آبادی کا ارتکاز مصر،فلسطین، شام اور عراق میں ہوگیا۔  مسلمانوں کے لیے یروشلم  کافی قریب اور اس  کا سفر نسبتًا بہت  آسان تھا۔ بغداد،دمشق اور قاہرہ جیسے مرکزی شہر وہاں سے قریب تھے۔   اس وجہ سے مسجد اقصی میں مسلمانوں کا سال بھر ہجوم رہتا۔حکم رانوں نے بھی اس پر خوب توجہ کی اور عوام بھی اپنے شوق کی تکمیل کے لیے خوب حاضری دیتے۔

زمانہ شاہد ہے کہ مسجد اقصی سے مسلمانوں کا جس طرح کا قلبی اور اعتقادی تعلق ہے، وہ یہود کا بالکل  نہیں رہا۔  عیسائیوں نے تو کبھی اس مقام کو اپنی عبادت گاہ مانا ہی نہیں، یہودیوں نے بھی اس سے وفا کا تعلق کبھی استوار نہیں رکھا۔ وہ صرف مسلمان ہی ہیں جنھوں نے  ہمیشہ دل و جان سے اس سے محبت کی،  اس کی پاسبانی کے لیے رات و دن پہرا دیتے رہے اور اس کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔

دسمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau