اصلاح معاشرہ اور سماجی معمولات

سید سعادت اللہ حسینی

اصلاح معاشرہ کے مرکزی موضوع پر اس سلسلہ مضامین میں ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ معاشرے میں پائی جانے والی خرابیاں بہت سے سماجی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ طرح طرح کے سماجی عوامل مل کر سماجی ماحول (social ecology) تخلیق کرتے ہیں اور یہ سماجی ماحول، سماج کی خوبیوں کو بھی جنم دیتا ہے اور خرابیوں کو بھی۔ سماجی ماحول اور اس میں کارفرما مختلف النوع عناصر کے سانچے (matrix)کو اچھی طرح سمجھےبغیر، اصلاحِ معاشرہ کا کوئی پروگرام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلہ مضامین میں ہماری کوشش یہ ہے کہ مسلمان معاشرے کے حوالے سے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عناصر کو زیر بحث لائیں اور آخر میں ان کے حوالے سے اصلاح معاشرہ کا ایک مبسوط منصوبہ تجویز کریں۔ اس ماہ ہم ایک اہم عامل کو زیر بحث لارہے ہیں جسے سماجیات کی زبان میں سماجی معمول کہا جاتا ہے۔[1]

سماجی معمول کیا ہے؟

سماجی معمول (social norm) اب علمی دنیا کی ایک اہم اصطلاح ہے اور متعدد شعبوں جیسے سماجیات، سماجی نفسیات، اخلاقیات، بشریات، معاشیات، سیاسیات، قانون اور علوم صحت عامہ وغیرہ میں اس کا کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے۔ مختلف علوم میں اس اصطلاح کے معنوں میں بھی بعض فرق واقع ہوجاتے ہیں ۔

اس وقت، اس اصطلاح یعنی سماجی معمول (social norm)سے ہماری مراد سماج میں پائے جانے والے ایسے غیر رسمی اصول ہیں جن کی بنیاد پر بعض اعمال سماج کی جانب سے منظور ہوتے ہیں اور بعض نہیں ہوتے۔ ہر سماج میں بغیر کسی باقاعدہ تحریری دستاویز کے، غیر رسمی طور پر یہ طے ہوتا ہے کہ کون سے اعمال اور رویے سماج میں قابل قبول ہیں اور کون سے نہیں ہیں؟ مثلاً مہمان کی خاطر داری کرنا، بزرگوں سے ادب سے بات کرنا، غیر محرم خواتین سے جسمانی فاصلہ بنائے رکھنا، اقربا کی خوشیوں کی تقاریب میں شریک ہونا، ستر پوشی کرنا، صاف لباس پہننا وغیرہ بعض اہم سماجی معمولات ہیں جو ہمارے سماج میں رائج ہیں ۔ ان میں بعض مثلاً غیر محرم عورتوں سے جسمانی فاصلہ مغربی سماجوں کا معمول نہیں ہے۔ وہاں کچھ اور معمولات ہیں مثلاً ایک دوسرے کی پرائیویسی کا احترام کرنا۔ ماہر سماجیات کیالڈانی اور ان کے رفقا کی تحقیقات سے اس سلسلے میں اکثر استفادہ کیا جاتا ہے، جن کے مطابق سماجی معمول دو باتوں سے مل کر بنتا ہے۔ ایک یہ کہ سماج میں دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں، اس بارے میں لوگوں کا تصور، اور دوسرے یہ کہ لوگ ان سے کن باتوں کی توقع رکھتے ہیں، اس بارے میں تصور۔[2]

سماجی رویے ہمیشہ دلیل اور عقل کی بنیاد پر نہیں بنتے۔ ایک تنگ گلی میں جب دو لوگوں کا گزر ہوتا ہے تو وہ خود بخود ایڈجسٹ کرتے ہوئے، ایک دوسرے کے لیے جگہ بنالیتے ہیں ۔ ہم روز کپڑوں کا انتخاب اپنی اُس حس کی بنیاد پر کرتے ہیں جو بتاتی ہے کہ لوگ کس طرح کے کپڑوں کو مناسب سمجھتے ہیں ۔ اس طرح دوسرے انسانوں کے ساتھ مناسب کوآرڈنیشن کا جذبہ ہم سے بہت سے کام خود بخود کرالیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی گہری سوچ یا منطق کارفرما نہیں ہوتی۔ عملی تقاضوں سے خود بخود یہ رویے تشکیل پاجاتے ہیں ۔ بہت سے سماجی معمول بھی اسی طرح بنتے ہیں ۔

سماجی معمول، سماجی رویے (social attitude)سے مختلف چیز ہے۔ سماجی رویہ دراصل لوگوں کی اپنی سوچ، اعتقاد اور مزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس پر ہم گذشتہ شماروں میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ جب کہ سماجی معمول، دوسرے کیا کرتے اور سوچتے ہیں، اس بارے میں ہمارے اعتقاد کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ لوگ کسی عمل کو غلط سمجھیں، اسے سخت ناپسند کریں، اس کے باوجود اس پر عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے سب لوگ یہ عمل کررہے ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی یہ عمل کروں ۔ لوگوں کے بارے میں یہ سوچ اور اُن کی توقعات پر پورا اترنے کی خواہش، ہمیں اپنے اصولوں کے علی الرغم عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی سماجی معمول ہے۔ سماجی معمول دراصل ‘نارمل’رویہ سمجھا جاتا ہے اور معمول سے گریز ابنارمل رویہ مانا جاتا ہے۔ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معمول سے ہٹ کر یعنی ابنارمل رویے سے وہ سماج میں نکو بن جائیں گے۔ سماج انھیں ناپسند کرے گا۔ اُن کے ساتھ نازیبا القابات وابستہ ہوجائیں گے۔ وہ سماج میں اپنی عزت و توقیر اور شان و شوکت کھودیں گے۔ یہ اندیشے اکثر ہم کو درست رویے پر قائم رکھتے ہیں اور اُن کی وجہ سے بہت سی برائیوں سے ہم بچے رہتے ہیں ۔ لیکن سماجی بگاڑ کی وجہ سے بعض غلط باتیں بھی سماجی معمول بن جاتی ہیں ۔ ہم انھیں غلط سمجھتے ہوئے بھی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ شادی بیاہ کی رسوم، بڑھاپے میں نکاح یا کم عمر نوجوانوں کے نکاح کی ممانعت، خاندانی نظام کے غیر اسلامی اور ظالمانہ رواج، ذات پات کی تفریق، عورتوں کو وہ حقوق نہ دینا جو شریعت نے ان کو دیے ہیں وغیرہ جیسی برائیوں کا ایک اہم سبب ان کا سماجی معمول بن جانا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ محققین نے ایسی صورتیں بھی دریافت کی ہیں کہ ایک عمل کو سماج کی عظیم اکثریت ذاتی طور پر ناپسند کرتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ سماجی معمول بن جاتا ہے کیونکہ لوگ ذاتی طور پر ناپسند کرنے کے باوجود (غلط طور پر) یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور اس عمل کی توقع رکھتے ہیں ۔ (سماجی نفسیات کی اصطلاح میں اسے تکثیری تجاہل(pluralistic ignorance) کہا جاتا ہے)۔[3] بہت سارے تکلفات جو سماج میں رائج ہیں وہ اسی قبیل سے ہیں ۔ اگر سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر لوگ انھیں ناپسند کرتے ہیں، لیکن وہ اس لیے رائج ہیں کہ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے ان کو اہمیت دیتے ہیں اور ان تکلفات کی توقع رکھتے ہیں ۔

سماجی معمولات میں مثبت اور منفی دونوں طرح کے معمولات شامل ہیں ۔ یعنی بعض کاموں کو انجام دینا بھی معمول بن سکتا ہے اور بعض کاموں سے رکنا اور ان سے گریز کرنا بھی معمول بن سکتا ہے۔ سماجی معمولات بہت سے رویوں اور کاموں سے لوگوں کو روکتے ہیں ۔ اس طرح گویا وہ بریک کا کام کرتے ہیں ۔ جنسی اخلاق سے متعلق اکثر معاملات سماجی معمول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایسی برائیوں کی طرف کوئی مائل بھی ہو تو وہ سماج کے ڈر سے اُن سے رکا رہتا ہے۔ سماجی معمول کی وجہ سے بہت سے کام لوگ زیادہ خوشی اور جوش کے ساتھ انجام دیتے ہیں ۔ مثلاً غریبوں کی مدد کے کام، فلاحی کاموں میں حصہ لینا، وغیرہ جیسے کام مسلم معاشرے میں معمول بن چکے ہیں ۔ خاص طور پررمضان المبارک میں ان کاموں کا ایک ماحول اورسماں بن جاتا ہے۔ گویا سماجی معمولات ایکسلیٹر کا بھی کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح عام طور پر سماجی معمولات، سماج کے اجتماعی عقیدے اور نظریے کے مطابق، اچھے کاموں کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ بنتے ہیں اور برے کاموں سے روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ یہی ان کا مقصد بھی ہونا چاہیے۔ لیکن کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ یعنی محض سماجی معمولات کی وجہ سے لوگ غلط کام کرنے پر یا اچھے کاموں سے رکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سماجی معمول کا تعلق ہمیشہ کسی خاص گروپ سے ہوتا ہے۔ اسے ریفرنس گروپ یا ریفرنس نیٹ ورک کہا جاتا ہے۔ جب فرد کسی معاملے میں کسی خاص عمل کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ریفرنس گروپ ہوتا ہے جس کی پسند و ناپسند، اس معاملے میں اس کے لیے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہ ریفرنس گروپ، اس کے علاقے سے متعلق ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ الگ الگ معاملات میں ریفرنس گروپ الگ الگ ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً شادی بیاہ کی رسوم کے معاملے میں اکثر ریفرنس گروپ رشتے دار خواتین کا گروپ ہوتا ہے۔ گھر کے سب لوگ ان رسوم سے بچنا چاہتے ہیں ۔ قریبی مردوں کی جانب سے بھی ان رسوم کے لیے زیادہ اصرار نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ ڈرتے ہیں کہ ان رسوم کو ترک کرنے سے خاندان کی عورتیں اور بڑی بوڑھیاں ناراض ہوں گی۔ کبھی ایک بوڑھے آدمی کے نکاح ثانی کی ہمت افزائی پورا سماج کرتا ہے لیکن اس کے بچے بچیاں، یا قریبی رشتے دار نوجوان، اس کو صحیح نہیں سمجھتے۔ یہاں وہ ریفرنس گروپ بن جاتے ہیں ۔ کبھی ایک ہی فرد دو الگ الگ جگہوں پر الگ رویے اختیار کرتا ہے۔ مسجد میں ہمیشہ کرتا پہن کر جاتا ہے اور آفس ہمیشہ پینٹ شرٹ پہن کر جاتا ہے۔ اس لیے کہ دونوں جگہ الگ الگ ریفرنس گروپ ہیں ۔ اور ان کے لباس سے متعلق معمولات الگ الگ ہیں ۔ سماجی اصلاح کا پروگرام ڈیزائن کرتے ہوئے ریفرنس گروپ کی درست شناخت اور اس پر توجہات کا ارتکاز ضروری ہوتا ہے۔

معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے سماجی معمول بھی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہوں ۔ معاشرے کی ہر فرد سے عین وہی توقع ہو جو اسلام چاہتا ہے۔ جن برائیوں کو اسلام ناپسند کرتا ہے، معاشرہ بھی انھیں ناپسند کرے۔ ان برائیوں سے رکنے کے لیے معاشرے کا دباؤ بھی فرد پر کارفرما رہے۔ جن خوبیوں کو اسلام فروغ دینا چاہتا ہے، ان کو معاشرہ بھی فروغ دے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب سماجی معمول اسلام کے مطابق ہوجائیں گے۔

سماجی معمولات کو جانچنے کے طریقے

سماجی تبدیلی کی منصوبہ سازی کے لیے سماجی معمول کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے اس وقت بہت سے ترقی یافتہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اصلاح طلب سماجی رویے کی پشت پر کیا کوئی سماجی معمول ہے یا نہیں ہے؟ اگر ہے تو ریفرنس گروپ کیا ہے جو اس معمول کا سبب بن رہا ہے؟ اس معمول سے گریز کی صورت میں افراد کو کس طرح کے برے انجام کا اندیشہ ہے؟ معمول کو تبدیل کرنے کا موثر طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟

ان تحقیقات کے لیے جدید سماجیات میں بہت سے موثر اور سائنٹفک طریقے ایجاد کیے گئے ہیں ۔ مثلا بچیری کے ’’مختصر داستانی بیانیہ‘‘ (vignettes)کو اس وقت عالمی طاقتیں اپنی مطلوب سماجی تبدیلی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کررہی ہیں ۔[4]اس میں فرضی کرداروں کا استعمال کرکے مختصر کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور لوگوں سے ان پر مبنی سوالات کیے جاتے ہیں ۔ سوالات کے جوابات سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ زیر بحث ناپسندیدہ رویے میں سماجی معمول کا کتنا دخل ہے؟ اگلے مرحلے میں اسی تکنیک کو استعمال کرکے سماجی معمول کے کم زور پہلوؤں کو تلاش کیا جاتا ہے جن کو ہدف بناکر تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اور آخر میں یہی تکنیک تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ جانچنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے کہ سماجی معمولات بدل رہے ہیں یا نہیں؟ یہ ٹیکنیکل مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ ہم یہ اندازہ کرسکیں کہ سماجی تبدیلی کے لیے دنیا میں کتنے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں ہورہی ہیں ۔ غلط معمولات کی تشہیر ان کو مستحکم کرتی ہے۔

اس حوالے سے ایک بڑی اہم بات جو خاص طور پر نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ غلط معمولات کی تشہیر ان کو اور مستحکم کرتی ہے،خاص طور پر اس وقت جب یہ بات سامنے لائی جاتی ہے کہ معاشرے میں اس برائی کا بکثرت لوگ ارتکاب کررہے ہیں۔[5] سماجی معمول بنتا ہی اس لیے ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے یہ کام کررہے ہیں ۔ اس لیے ان پر عمل کے جتنے زیادہ واقعات علم میں آتے جائیں گے، یہ یقین اور مستحکم ہوگا کہ یہ عمل سماج میں عام اور سماج کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ عام طور پر مصلحین یہ غلطی کرتے ہیں کہ کسی غلط عمل کی اصلاح کے لیے اس برائی کے پھیلاو اور اس کی قبولیت عام کا بار بار تذکرہ کرتے ہیں ۔ مثلاً چند سالوں سے اس مسئلے کی بہت دھوم ہے کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادیاں کررہی ہیں ۔ مقررین اور وہاٹس اپ مصلحین، اس رجحان کو مبالغے کے ساتھ اعداد و شمار کے حوالوں سے بہ تکرار بیان کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں اس عمل کی شناعت اور اس کے ابنارمل ہونے کا احساس ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ معلومات کہ اب اس برائی کو سماج میں بہت سے لوگوں نے اختیار کرلیا ہے، اسے نارمل بنادیتا ہے۔ اس سے اس برائی کو ختم کرنے میں مدد نہیں ملتی بلکہ وہ مستحکم ہوتی جاتی ہے۔

اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ برائی کی ٹوہ اور تجسس کو نیز اپنی یا دوسروں کی برائیوں کی تشہیر کو اس نے ایک اخلاقی جرم قرار دیا ہے۔ بعض مذہبی فلسفوں میں گناہوں کے عوامی اعتراف(confession) کو ایک اخلاقی خوبی سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے اس کے مقابلے میں گناہوں کو چھپانے کا حکم دیا ہے۔ اپنے گناہوں کو بھی اور دوسروں کی ایسی غلط کاریوں کو بھی جن کے اخفا سے کوئی بڑا عوامی نقصان درپیش نہ ہو۔

جو شخص اپنے گناہوں کی تشہیر کرتا ہے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ انتہائی سخت بات بیان فرمائی ہے کہ كُلُّ أُمَّتِى مُعَافَاةٌ إِلاَّ الْمُجَاهِرِینَ (اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے علاوہ میری امت کا ہر فرد بخش دیا جائے گا) وَإِنَّ مِنَ الإِجْهَارِ أَنْ یعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّیلِ عَمَلاً ثُمَّ یصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَیقُولُ یا فُلاَنُ قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ یسْتُرُهُ رَبُّهُ فَیبِیتُ یسْتُرُهُ رَبُّهُ وَیصْبِحُ یكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ (علی الاعلان گناہوں میں اس کا بھی شمار ہے کہ ایک آدمی رات کو کوئی گناہ کرے اور صبح اس حال میں کرے کہ اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا تھا اور وہ کسی سے یہ کہے : اے فلان آدمی! میں نے گزشتہ رات کو یہ یہ کام کیا ہے، حالانکہ اس کے رب نے اس پر ستر کیا تھا، اور اس نے صبح ہوتے ہی اللہ کے رکھے ہوئے پردہ کو چاک کردیا )[6]۔

اسی طرح دوسروں کے گناہوں کی تشہیر بھی جائز نہیں ہے۔ سورۃ الحجرات میں واضح حکم ہے، ولَا تَجَسَّسُوۡا(اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو۔ الحجرات ۱۲)۔ گویا دوسروں کی غلطیوں کی ٹوہ بجائے خود ایک جرم ہے۔ بغیر تجسس اور تلاش کے، کسی کا عیب علم میں آگیا تو حکم دیا گیا کہ اس کی پردہ پوشی کرو۔ اس کی چرچا مت کرو۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ۔ النور:۱۹ ) بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی کا چرچا ہو، اُن کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔) نبی کریم ﷺ نے فرمایا وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ (جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔) آپ ﷺ نے یہ سخت وارننگ بھی دی ہے کہ یا معشرَ من آمنَ بلسانِه ولم یدخلْ الإیمانُ قلبَه، لا تغتابوا المسلمین، ولا تتَّبعوا عوراتِهم، فإنه من اتَّبعَ عوراتِهم یتَّبعُ اللهُ عورتَه، ومن یتَّبعِ اللهُ عورتَه یفضحُه فی بیتِه.( اے لوگو جو اپنی زبانوں سے ایمان لائے ہو مگر ایمان تمھارے دلوں میں نہیں اترا ہے! مسلمانوں کی بدگوئی نہ کیا کرو اور نہ ان کے عیبوں کے درپے ہوا کرو، بلاشبہ جو ان کے عیبوں کے درپے ہوگا اللہ بھی اس کے عیبوں کے درپے ہو گا۔ اور اللہ جس کے عیبوں کے درپے ہو گیا تو اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔)[7]

ہمارے اصلاحی مواعظ میں معاشرے میں پھیل رہی برائیوں کے بہ تکرار اور کبھی مبالغے کے ساتھ تذکرے اور برائیوں کے واقعات کی مزے لے لے کر داستان سرائی سے برائیاں معمول بننے لگتی ہیں ۔ یہ احساس کہ سماج میں بہت سے لوگ اس برائی کو کررہے ہیں، اس کی شناعت کو ذہن سے ختم کردیتا ہے۔ ضمیر اس برائی سے مانوس ہونے لگتا ہے اور اسے نارمل سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے اصلاحی کوششوں میں یہ ہدف نہایت ضروری ہے کہ برائی کو ایک ناپسندیدہ ہی نہیں بلکہ نامانوس اور خلاف معمول (abnormal) چیز بنایا جائے اور اس کے لیے منصوبہ بند کوشش کی جائے۔ اس برائی کے مقابلے میں معاشرے میں جو اچھائی پائی جاتی ہے، اس کو مشہور کیا جائے۔

فوقی معمولات (meta norms)

ہر سماج میں کچھ معمولات کو فوقی معمولات (meta norms) کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ عام معمولات میں اور فوقی معمولات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ فوقی معمولات کو صرف اختیار کرنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو اختیار کرنے پر مجبور کرنا بھی اخلاقی ذمے داری سمجھا جاتا ہے۔[8]  اگر کوئی اس معمول کی خلاف ورزی کررہا ہے تو خاموش تماشائی بن کر اسے دیکھنا بھی اخلاقی عیب مانا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں میں مالی و تجارتی معاملات میں ایمانداری اور شفافیت کو ایسا ہی میٹا نارم یا فوقی معمول مانا جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں اگر سرِ عام کوئی کسی لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے تو اس پر خاموش رہنا ناشائستگی سمجھا جاتا ہے۔ گویا خواتین کی عفت و عصمت کی حفاظت ایک فوقی معمول یا میٹا نارم ہے۔

فوقی معمولات کے سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر سماج چند فوقی معمولات ہی کا متحمل ہوسکتا ہے۔ ان کی تعداد ایک حد سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ غیر اہم امور اگر معمولات فوقی بننے لگیں تو اہم تر امور کی یہ حیثیت ختم ہونے لگتی ہے۔

اس معاملے میں اسلام کا موقف اس قدر واضح ہے کہ شاید ہی کسی اخلاقی نظام میں اتنی وضاحت (clarity)پائی جاتی ہو۔ اسی شمارے میں فاضل مدیر مولانا محی الدین غازی کے مضمون میں اسلام کے اس موقف پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ معروفات پر عمل اور منکرات سے گریز کے رویے، اسلام کے مطلوب معاشرے کے فوقی معمولات (meta norms) ہیں ۔ یعنی منکرات سے خود رکنا ہی نہیں دوسروں کو روکنا بھی ضروری ہے۔ منکر کیا ہے؟ اسلامی نصوص تعین کے ساتھ اس کی وضاحت کرتی ہیں ۔ وہ بڑی اخلاقی برائیاں جن کو قرآن و حدیث نے وضاحت کے ساتھ اس طرح ممنوع قرار دے دیا ہے کہ نہ اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش ہے اور نہ قرآن و سنت کی کسی اور تعبیر کا امکان ہے، وہ منکرات ہیں ۔ ان سے خود بھی رکنا فرض ہے اور دوسروں کو بھی روکنے کا حکم ہے۔ ان کی تعداد محدود ہے۔ ان کی حرمت پر اجماع ہے۔ ان سے بچنے کی دعوت ہی اصل اسلامی دعوت ہے۔

فکری زوال کے نتیجے میں جب منکر کی یہ تعریف اور اس کا حقیقی مفہوم دھندلا گیا تو مصلحین کے اپنے اپنے میٹا نارم وجود میں آئے۔ فروعی اور اجتہادی مسائل میں نہی عن المنکر کا جوش دکھایا جانے لگا۔ جن امور کے جواز یا عدم جواز پر ہر دور میں اختلاف رہا ہے یا جو امور محض کم افضل یا زیادہ سے زیادہ مکروہ کا درجہ رکھتے ہیں، اس طرح کے مختلف اعمال مختلف گروہوں کے نزدیک منکر قرار پائے اور ان پر روکنے، ٹوکنے، مذمت کرنے اور انھیں سماجی لحاظ سے ناپسندیدہ بنانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔ جس کے نتیجے میں ازالہ منکرات کی صورت میں فوقی معمولات کا جو نہایت مستحکم اور واضح نظام اسلام نے تشکیل دیا تھا وہ کم زور ہوتا چلا گیا۔ جھوٹ ایک منکر ہے۔ معاملات میں بددیانتی منکر ہے۔ وراثت میں حق تلفی منکر ہے۔ لیکن مصلحین کے خود ساختہ’ منکرات’ کی بھرمار نے ان حقیقی منکرات کا وزن کم کردیا۔ اصلاحی عمل کی کامیابی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کے وہ درجات جو شریعت نے متعین کیے ہیں وہی ہمارے اجتماعی شعور میں بھی جگہ پائیں ۔ معروف کے فروغ اور منکر کے ازالے کو، ان کی صحیح تعریف کے مطابق، فوقی معمولات کا مقام حاصل ہو اور اجتہادی اور فروعی امور کو فوقی معمولات کا مقام دینے کی کوشش نہ کی جائے۔

سماجی معمولات کیسے بدلے جاتے ہیں؟

اس بحث سے سماجی معمولات کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کے منصوبے میں سماجی معمولات کی تبدیلی کو بڑی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سماجی معمولات کیسے بدلے جاسکتے ہیں؟ اس پر کچھ بنیادی باتیں ہم ذیل میں درج کررہے ہیں ۔

1  بیداری مہم چلانا

پہلا طریقہ وہی ہے جس سے ہم سب آشنا ہیں اور جن پر عمل بھی کرتے ہیں ۔ یعنی لوگوں میں بیداری لانا، ان کے ذاتی رویوں کو بدلنا، ان کی توقعات کو بدلنا، ان کی سوچ بدلنا تاکہ اس کے نتیجے میں سماجی معمولات بھی بدلیں ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، سماجی معمول اصل میں اُس اندازے سے بنتا ہے جو لوگ دوسروں کے بارے میں قائم کرتے ہیں ۔ بیداری لانے سے لوگوں کے اپنے تصورات بدلتے ہیں ۔ لیکن اگر سماج میں لوگوں کے تصورات بدلنے لگیں اور اس کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو پھر دوسروں کے بارے میں اندازے بھی بدلنے لگتے ہیں ۔ شادیوں میں پہلے باجے بجائے جاتے تھے۔ دولہے کو گھوڑے پر سوار کرکے، سڑکوں پر بارات لے جاتے ہوئے باراتی ناچتے تھے۔ مصلحین نے اس عمل کی خرابی واضح کی۔ پہلے مرحلے میں یہ ہوا کہ لوگوں کو اس کی خرابی تو سمجھ میں آگئی لیکن وہ یہ سوچتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دیگر مہمان، تقریب کے لطف سے محروم رہیں گے اور انھیں شکایت پیدا ہوگی۔ دوسروں کے بارے میں اس اندازے کی وجہ سے بعض لوگ اسے غلط سمجھتے ہوئے بھی، اس عمل کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ لیکن مصلحین کی پیہم کوششوں سے ایک مرحلہ یہ آیا کہ اب لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ میں ہی نہیں، دوسرے بھی اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ اس طرح اس رسم کی ‘سماجی معمول'(social norm) کی حیثیت ختم ہوگئی۔ بلکہ اس قبیح حرکت سے گریز بہت سی جگہوں پر اب سماجی معمول بن گیا۔ اس لیے بیداری کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔ لیکن زبان و بیان میں وہ احتیاطیں ملحوظ رہنی چاہییں جن کی طرف اوپر کی سطروں میں اشارے کیے گئے۔

2 متبادلات کو فروغ دینا اور نئے سماجی معمول تخلیق کرنا اور انھیں فروغ دینا

یہ کہا جاتا ہے کہ پرانے معمولات کو تبدیل کرنے سے زیادہ آسان یہ ہوتا ہے نئے معمولات فروغ دیے جائیں اور ان کو مستحکم کیا جائے۔ اس طرح کہ وہ غیر محسوس طریقے سے پرانے معمول کی جگہ لے لیں ۔ تیوہار اور جشن منانا انسان کی تمدنی ضرورت ہے۔ مشرکانہ اور غیر اسلامی تیوہاروں کی جگہ اسلام نے عیدین کے اہتمام کا حکم دیا۔ اردو شاعری میں حسن و جمال اور شراب و شباب کے تذکروں کو اسلام پسند شعراء نے ذوق جمال کی بھرپور رعایت کے ساتھ نیا پاکیزہ رخ دیا۔ عشق عشق حقیقی کے معنوں میں استعمال ہونے لگا اور جام و پیمانہ کے نئے استعاراتی معنی وجود میں آئے۔ تصویروں اور ہیجان خیز منظر کشی کے ذریعہ عمارتوں کی آرائش کے رجحان کی جگہ مسلمان معماروں نے خطاطی کے فن کو فروغ دیا۔

سماجی اصلاح کے لیے نامطلوب سماجی معمولات کے مناسب متبادلات کی تلاش و تخلیق کا فن بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مثلاً نوجوانوں کی چائے خانوں پر وقت گزاری ختم کرنے کے لیے صرف اس رجحان کی مذمت کافی نہیں ۔ غور کرنا ہوگا کہ ایسے کیا صحت مند مشاغل ہوسکتے ہیں جن میں یہ نوجوان دل چسپی لے سکتے ہیں اور وہ اس لایعنی معمول کا متبادل بن سکتے ہیں ۔

3 ایسے نئے معمولات فروغ دینا جو پرانے معمولات کو کم زور کریں

معمولات کی تبدیلی کا ایک کارگر نسخہ یہ بھی ہے کہ ایسے نئے معمولات فروغ دیے جائیں جو پرانے معمولات کو کم زور کریں ۔ غلامی کی رسم عرب سماج کا معمول تھا۔ اس کو یک لخت ختم کرنے سے سماجی نظام کے درہم برہم ہونے کا اندیشہ تھا۔ اسلام نے ایسے نئے معمول فروغ دیے جن کی وجہ سے غلامی کا معمول کم زور ہوگیا۔ آزاد لوگوں کو غلام بنانے کے عمل (بیع الحر) کو شدت سے ممنوع قرار دیا گیا۔ اس طرح نئے غلام بننے بند ہوگئے۔ موجودغلاموں کو آزاد کرنے کی ہمت افزائی اس شدت کے ساتھ کی گئی [فَكُّ رَقَبَةٍ، سورۃ البلد ۱۳] کہ یہ ایک معمول بن گیا۔ تحریر رقبہ (غلاموں کو آزاد کرنے) کو بہت سی غلطیوں کا کفارہ قرار دیا گیا۔ (دیکھیے سورۃ النساء ۹۲، جس میں نادانستہ ہونے والے قتل کا کفارہ، ورثا کو خون بہا دینے کے ساتھ غلام کی آزادی قرار دیا گیا ہے۔ سورۃ المائدۃ ۸۹ میں قسم توڑنے کا، سورۃ المجادلۃ میں ظہار کا کفارہ بھی غلام کی آزادی قراردیا گیا) مکاتبت کے ایک نئے طریقے کو ایجاد کیا گیا۔ اور اگر کوئی غلام فدیہ ادا کرکے آزاد ہونا چاہے تو اس کی اس پیشکش کو قبول کرنا لازم قرار دیا گیا۔ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ (تمہارے غلاموں میں سے جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی مکاتبت ان کے ساتھ کردیا کرو۔ سورۃ النور۳۳) اس طرح نئے معمولات کے ذریعہ غلامی کا معمول کم زور کردیا گیا یہاں تک کہ جلد ہی یہ رسم اسلامی دنیا سے ختم ہوگئی۔

ہمارے عہد میں، جب بہت سے خاندانوں میں مسجد میں نکاح کا معمول شروع ہوا تو اس سے شادی کی بہت سی نامناسب رسمیں کم زور ہوگئیں ۔ اگر خواتین کا مسجد جانا سماجی معمول بن جائے تو اس سے بھی بہت سے ناپسندیدہ معمول معدوم ہونے لگیں گے۔ یہ کام بھی عرق ریزی اور ذہنی کاوش چاہتا ہے کہ ایسے نئے معمولات سوچے جائیں اور ان کو عام کیا جائے جن سے ناپسندیدہ معمولات بتدریج کم زور ہوتے جائیں ۔

4 ایسے معمولات پر توجہات کو مرکوز کرنا جو دوسرے بہت سے نامناسب معمولات کا سبب بن رہے ہیں

بہت سی نیکیاں اور برائیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں ۔ شراب کو ام الخبائث اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں :

’’جس طرح خاندانوں کے شجرے ہوتے ہیں اسی طرح نیکیوں اور بدیوں کے بھی شجرے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات ایک نیکی کو ہم معمولی نیکی سمجھتے ہیں حالانکہ اس نیکی کا تعلق نیکیوں کے اس خاندان سے ہوتا ہے جس سے تمام بڑی نیکیوں کی شاخیں پھوٹی ہیں ۔ اسی طرح بسا اوقات ایک برائی کو ہم معمولی برائی سمجھتے ہیں لیکن وہ برائیوں کے اس کنبے سے تعلق رکھنے ہوتی ہے جو تمام مہلک برائیوں کو جنم دینے والا کنبہ ہے۔ جو شخص دین کی حکمت سمجھنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خیر و شر کے ان تمام مراحل و مراتب سے اچھی طرح واقف ہو ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ دق کا پتہ دینے والی بیماری کو نزلے کا پیش خیمہ سمجھ بیٹھے اور نزلے کی آمد آمد کو دق کا مقدمتہ الجیش قرار دے دے۔‘‘[9]

اصلاحی عمل کی یہ بڑی ضرورت ہے کہ برائیوں کے شجرہ نسب کو اچھی طرح سمجھا جائے کہ کون سی برائی کس برائی کو جنم دے رہی ہے۔ برائیوں کی طرح سماجی معمولات کا بھی شجرہ نسب ہوتا ہے۔ قریبی زمانے میں لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کا رواج ایک معمول تھا۔ اس نے خاص طور پر عورتوں کی حق تلفی کی بہت سی صورتوں کو معمول بنادیا تھا۔ تعلیم عام ہونے لگی تو صورت حال بہتر ہونے لگی۔

اس وقت شادی کا مشکل ہونا بہت سے مضر سماجی معمولات کی اور برائیوں کی جڑ ہے۔ عورتوں پر ظلم اور ان کے استحصال کی بہت سی شکلیں اس معمول کی پیدا کردہ ہیں ۔ سودی قرضوں کا چلن اسی کا نتیجہ ہے۔ لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے معمول کی وجہ صاف طور پر یہی بیان کی جاتی ہے کہ انھیں جہیز دے دیا گیا۔ اس طرح اس ایک معمول نے کئی خراب معمولات پیدا کیے ہیں ۔ اسے نہایت مضر سماجی معمول سمجھ کر اسے ختم کرنے کی کوشش، بہت سی دیگر برائیوں کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

5 تبدیلی کی تشہیر کرنا

بہتر سماجی معمولات کو رواج دینے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر یہ یقین پیدا کیا جائے کہ یہ نیک عمل اب سماج میں عام ہوگیا ہے اور لوگ اس کو پسند کرنے لگے ہیں ۔ اسلام نے جہاں نیک اعمال کے سلسلے میں اخفا کو پسند کیا ہے تاکہ ہر قسم کے ریا سے پاک ہوکر خالص اللہ کے لیے عمل کیا جائے وہیں بعض اعمال کے اعلان و تشہیر کو بھی اہمیت دی ہے۔ خاص طور پر فرض عبادتیں اعلان و اظہار کے ساتھ اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہیں ۔ اور پورے معاشرے کا رواج اور مسلمانوں کا شعار بن جاتی ہیں ۔ انفاق کے سلسلے میں بھی قرآن نے اعلان و اخفا دونوں طریقوں کی ہمت افزائی کی ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ(بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوگی۔ سورۃ الفاطر ۲۹)۔ اس لیے کہ بعض صورتوں میں اعلان و اظہار سے اور لوگوں کو بھی ترغیب ہوتی ہے۔ اور نیک عمل ‘سماجی معمول’بننے لگتا ہے۔

اس اہم نکتے کو اوپر غلط اعمال کی تشہیر کے نقصان کی بحث سے ملاکر غور کریں تو ہمارے اصلاحی ڈسکورس میں ایک اہم تبدیلی کی ضرورت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ عام طور پر اصلاحی مواعظ میں برائیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی خراب تصویر دکھائی جاتی ہے۔ خود مذمتی کا یہ ڈسکورس برائیوں کی سماجی معمول والی حیثیت مستحکم کرنے لگتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے گریز کرکے اچھے نمونوں اور اچھی مثالوں کو کثرت سے سامنے لایا جائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ چرچا ہو۔ فلاں رئیس زادے کی شادی کی تقریب میں خرچ ہوئے اتنے ملین روپیوں پر اخبارات کے صفحات سیاہ کرنے کے بجائے، ان اچھے نمونوں پر زیادہ سے زیادہ مضامین لکھے جائیں جو اب معاشرے میں کم نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ معمول بن جائیں ۔

6 با اثر لوگوں کا آگے آنا

اس سے قبل (دسمبر ۲۰۲۰) کے اشارات میں ہم نے سماجی روایات کے حوالے سے یہ بات لکھی تھی کہ سماج کی گہری روایات کو توڑنے میں سب سے زیادہ کلیدی کردار کچھ بااثر لوگوں کے حوصلہ مند اقدام ہوتا ہے۔ ام المومنین حضرت زینب بن جحشؓ کے کردار کو نمونے کے طور پر پیش کیا تھا کہ سب سے پہلے انھوں نے اپنے عمل سے غلاموں کی کمتری کے تصور کی بیخ کنی کی اور پھر منہ بولے بیٹے کی غلط مروج حیثیت کو چیلنج کیا۔

سماجی معمولات کو بنانے اور بگاڑنے میں بھی بااثر لوگوں کا بڑا اہم اور کلیدی رول ہوتا ہے۔ وہ آگے آئیں، غلط معمول کو اپنے عمل سے توڑیں اور نئے معمول کو رواج دیں تو سماج آسانی سے انھیں قبول کرتا ہے۔

حواشی و حوالے

[1] سوشل نارمس، انھیں بدلنے کے طریقوں وغیرہ پر درج ذیل کتاب بہت مفید مواد فراہم کرتی ہے:

Bicchieri, C. (2006). The Grammar of Society: The Nature and Dynamics of Social Norms. New York: Cambridge University Press.

[2] Cialdini RB, Reno RR, Kallgren CA. A focus theory of normative conduct: Recyling the concept of norms to reduce littering in public places. J Pers Soc Psychol. 1990;58(6):1015–26.

[3] Bicchieri, Lindemans and Jiang (2014): A structured approach to a diagnostic of collective practices. Frontiers in Psychology 5(1418).

[4] تفصیل کے لیے دیکھیں:

Cristina Bicchieri, Norms in the Wild. How to Diagnose, Measure, and Change Social Norms. Oxford: Oxford University Press, 2016, 264 pages

[5] Miller DT, Prentice DA. Changing norms to change behavior. Annu Rev Psychol. 2016;67:339–61.

[6] صحیح مسلم؛ کتاب الزھد والرقائق، باب النھی عن ھتك الانسان ستر نفسه؛ رواہ ابو ہریرةؓ

[7] سنن ابی داود؛ کتاب الادب، باب فی الغیبة؛ رواہ ابو برزہ الاسلمی؛ صححه الالبان

[8] Robert Axelrod (1986); An Evolutionary Approach to Norms; in The American Political Science Review Vol. 80, No. 4 (Dec., 1986), pp. 1095-1111 (17 pages)

[9] مولانا امین احسن اصلاحی(۲۰۰۹نومبر)؛  تدبر قرآن؛ (مقدمہ)؛ جلد اول، فاران فاونڈیشن، لاہور؛ص ۲۱

مارچ 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau