اصلاحِ معاشرہ کی تدابیر

مولانا محمد رفیق قاسمی

اسلام دین فطرت ہے، وہ فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے فطری نظام عطا کرتا ہے، وہ نہ تو غیر فطری تقاضوں کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اس کے دیے ہوئے نظام کی گنجائش پائی جاتی ہے، اس نے روشن دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جب او رجہاں فطری نظام حیات کو نظر انداز کیا گیا ہے تو وہاں مفاسد ومضرات سے انسانوں کو دوچار ہونا پڑ ا ہے۔ حقیقی منافع کا حصول اور مصالح سے ہمکنار ہونے کے لیے اس کا عطا کردہ ضابطہ حیات کافی اور شافی رہا ہے۔ آج ملت مسلمہ اس کا دعویٰ تو ضرور کرتی ہے کہ ہمارا دین اسلام ہے مگر  ’’ادخلو فی السلم کافۃ‘‘کی پابندی نہیں کررہی ہے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ مروجہ رسوم و رواج کے اختیار کرنے کے لیے لاحرج کا سہارا لیا جاتا ہے، سنت و بدعت کے مابین جو فرق و امتیاز کرنا چاہیے یا تو اس کا شعور نہیں ہے یا حالات سے متاثر ہوکر بدعات سے اجتناب کی روش اپنانے کی ہمت نہیں کی جاتی ہے۔ اسوۂ رسول اللہ کو اپنانے میں دارین میں خیر وبرکت اور فوز و فلاح کی بشارت دی گئی ہے، جب کہ اہل بدعت کو ہلاکت و خسران کی اطلاع دی گئی ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ جب کبھی کوئی عملی اقدام کرتا ہے خواہ وہ انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی شعبے سے متعلق ہو اس کی نظر قرآن حکیم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جاتی ہے کہ اس عمل کا ثبوت و سند اسلام میں ہے یا نہیں۔ دنیاوی مسرتوں ، اعزہ و اقارب کی خوشنودیوںکے حصول کے لیے وہ اپنی آخرت بگاڑنے کی ہمت نہیں کرتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ایسا معاشرہ وجود میں آئے جہاں اسلام چلتا پھرتا نظر آئے اور اس پر عمل سہل اور آسان ہو، غیر اسلامی طور و طریقے کے لیے یا تو موقع نہ ہو ، اگر ہوبھی تو اصلاح کے لیے کوششیں کرنے والے مصرو ف ہوں۔

اسلامی معاشرہ میں نکاح و طلاق کو ایک خاص حیثیت و اہمیت حاصل ہے، یہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ جب اسے دینی حیثیت حاصل ہے تو رہنمائی اور ہدایت بھی کی گئی ہے،ان پر عمل پیرا ہونے پر اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اور نہ کرنے پر گرفت و مواخذہ سے کوئی طاقت بچا نہیں سکتی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ دین کے بعض احکامات و ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے’’ اَفَتُؤمِنُونَ بِبَعضِ الکتابِ وتَکفُرُونَ بِبَعضٍ‘‘  ہم خدائے پاک کے ہمہ وقت بندے ہیں، جز وقتی بندگی باعث فلاح و نجات نہیں ہے۔نکاح انبیاء کی سنت ہے، اسی لیے تجرد اور رہبانیت کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ جب یہ انبیائی اسوہ اور سنت ہے تو نکاح کا طریقہ بھی انبیائی ہونا چاہیے۔ غیر انبیائی طریقہ اختیار کرنا سنت اور دینی تعلیم کی توہین قرا ر پائے گی۔ سنت اور ادائیگی سنت اسی طرح ہونا چاہیے جس کی جانب انبیائے کرام نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کو آسان بناؤ جب کہ آج مسلم معاشرہ میں اسے دیگر تہذیب و مذہب کی رسم و روایت کی پیروی کرکے مشکل بنادیا گیا ہے۔

چھکہ( خِطبہ)

برچھکائی، منگنی اور چھکہ کے لیے طرفین کی جانب سے ذمہ داروں کا زبانی وعدہ کافی ہوتا ہے، یہ احترام انسانیت اور شریعت کی روح کے خلاف ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت ایک ٹیم کو گواہ بنایا جائے یا شریک معاملہ رکھا جائے۔ گویا کہ طرفین کو ایک دوسرے کے اعتماد پر شبہ ہے۔ دوسرے یہ کہ دو فریق جب کسی جائداد یا چیز کے خرید وفروخت کا معاملہ کرتے ہیں تو بیع نامہ /ایڈوانس کچھ رقم ادا کرتے ہیں، یہ پاکیزہ رشتہ جو عبادت ہے اس میں اس انداز کا رویہ اپنانا غیرموزوں اور نا پسندیدہ عمل ہے،اسلام ہرکسی کو بیجا بار اور ذمہ داریوں سے محفوظ رکھتا ہے، شریعت اسلام میں اس کا ثبوت نہیں ہے۔

رسم چوک، ڈال بری، پان کھلائی

رسم چوک بالخصوص ڈال بری اور پان کھلائی جیسی ہندوانہ رسوم دین اسلام کے مزاج و منشا سے ہم آہنگ نہیں بلکہ اس کی واضح ہدایت و حکم کے منافی ہے۔ اسراف و فضول خرچی ،نمود ونمائش سے زیادہ قباحت ڈال بری میں ہے، کیونکہ ناریل اور سیندور یہ برادرانِ وطن کے اشیائے پوجا میں سے ہیں، اس لیے مذکورہ رسوم’’ مَن تشبَّہ بقومٍ فہو منہُم‘‘ کے ضمن میں ہیں۔ کیا کوئی مسلمان پسند کرے گاکہ وہ پیدا تو ہوا مسلمان گھر میں اور اس کا شمار اپنے عمل کی بنا پر دوسرے مذہب کے لوگوں میں ہونے لگے۔ اس لیے اس انداز کے رسوم سے مسلمانوں کو کلی طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔

لڑکی والو ں کی طرف سے دعوت ِ طعام

نکاح اور بعد میں جملہ ذمہ داریاں شوہر پر عائد ہوتی ہے، نکاح کے وقت ہونے والے شوہر کے مہمانوں کی ضیافت لڑکی والوں کے بجائے خود لڑکے کے ذمہ ہے ، نکاح کے بعد اظہار مسرت کے طور پر شیرینی یا چھوہارا لڑکے کے ذمہ ہوتا ہے، دلہن کے لیے کپڑا اورزیور لڑکے کے ذمہ ہوتا ہے ، مگر اپنے مہمانوں کو خود کھانا کھلانے کے بجائے دوسروں کے حوالہ کردیتا ہے۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں ولیمہ کا ثبوت تو ملتا ہے مگر اس انداز کی ضیافت کا ثبوت نہیں ملتا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت ایسا کوئی اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔

سونے کا استعمال

دین فطرت کی ہدایت یہ ہے کہ عظیم حکمت اور مصلحت کی بنا پر مردوں کو سونا یا ریشم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ خواہ وہ خود اپنے پیسے سے بنائے یا کسی نے تحفہ میں دیا ہو۔ مفت میں ملی اشیا اگرحرام قبیل سے ہو ںتو اس کے استعمال کی قطعی اجازت نہیں ہے۔

ولیمہ

ولیمہ ایک مسنون عمل ہے ’’ اَوْلِمْ وَلَو بِشَاۃٍ‘‘ یہ بات نہایت ناپسندیدہ اور کراہت پر مبنی ہوگی کہ امراء کی ضیافت انواع و اقسام کے کھانوں سے کی جائے اور غرباء کو عمومی کھانا کھلایا جائے۔ حسب توفیق ووسعت کھانا بھی ایک قسم کا ہو اور دسترخوان بھی ایک ہی ہو۔دعوت ِ ولیمہ ہو یا دیگر تقریبات، یہ ضروری ہے کہ ان میں مرد وں اور خواتین کے مخلوط اور مشترک نظم طعام سے پرہیز کیا جائے۔ ہونا یہ چاہیے کہ دونوں کے لیے الگ الگ انتظام ہو، نہایت گراں ہال یا ہوٹل میں دعوت ِ طعام یا مجلس نکاح کے انتظام کے بجائے سادگی اور کفایت کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ نمود و نمائش اورفخر و مباہات کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے۔ کوشش کی جائے کہ تقریبات میں لوگ سادگی اختیار کریں ۔کھانے کی دعوتوں میں بفے سسٹم کے بجائے اسلامی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے مہذب اور شریفانہ انداز اختیار کیا جائے۔ علمائے کرام کو ان امور کی جانب خصوصی توجہ کرنی چاہیے۔ دعوتوں میں جہاں اہل ثروت اور دولت مند اعزہ و اقارب اور دوست و احباب کو مدعو کیا جائے، وہیں غریب و نادار لوگوں کو بھی شریک ِ طعام کیا جائے۔ اس سے یہ مجلس موجب ِ خیر و برکت ہوجائے گی، اسراف و  تبذیر دینی نقطۂ نظر سے ایک نا پسندیدہ او رمکرو ہ عمل ہے جسے قرآن میں شیطان کا فعل قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بھی احتراز کیا جانا چاہیے۔

مجلس نکاح میں دولہے کی موجودگی

مجلس نکاح میں دولہے کی موجودگی اس لیے ضروری ہوتی ہے کہ اسے قبول کرنا ہوتا ہے، دو گواہوں کی موجودگی میں دولہن اجازت دیتی ہے کہ میرا نکاح اتنی مہر کے عوض فلاح شخص سے کردیا جائے، شوہر اسے قبول کرتا ہے ،نکاح کے انعقاد کے لیے یہ شرط لازم ہے۔

بارات

مروّجہ رسم کے تحت بارات کو شادی کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے جب کہ بارات غیر اسلامی تہذیب و مذہب کا حصہ ہے، اسلامی معاشرہ میں بارات کا نہ کوئی تصور ہے او ر نہ ہی اس کی معقولیت کی کوئی دلیل ہے۔ بارات کی وجہ سے فریقین کو مختلف قسم کی زحمتوں اور مشکلات میں مبتلا ہونا پڑتا ہے، بالخصوص لڑکی والے بارات اور باراتیوں کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس رسم بد سے اجتناب کیا جائے اور اگر بارات کا لے جانا ناگزیر ہوجائے تو باراتیوں کی تواضع اور ان کے خورد و نوش کا انتظام لڑکے والے خود کریں، اس سے بجا طور پر بارات کی قباحت اور اس کی زحمت سے بچا جاسکے گا اور لڑکی والوں کو مشقت سے نجات حاصل ہوگی۔ اسی طرح نکاح مساجد میں کیا جائے، گراں قیمت ہالوں اور کمیونٹی سینٹروں کے بجائے مسجد میں مجلس نکاح منعقدکرنے سے اچھے نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے اور عملی طور پر مختلف قسم کی خرابیوں سے بچنا ممکن ہوگا، کوشش کی جائے کہ خطبۂ نکاح کا کم از کم ترجمہ مجلس نکاح میں پیش کیا جاسکے ، اسی طرح نکاح سے متعلق احکام و مسائل کا تذکرہ بھی کیا جائے۔ نکاح کا اعلان بھی ہو اور محفل نکاح میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت بھی ہو۔یہ بات بھی مناسب ہوگی کہ نصف انسانیت (خواتین) کو مجلس نکاح میں شرعی حدود اور دائرے میں رہتے ہوئے شریک کیا جائے تاکہ انھیں بھی دینی معلومات حاصل ہوسکیں۔

فضول خرچی اور نمود ونمائش

زندگی کے تمام معاملات کی طرح خرچ کے میدان میں بھی اعتدال اللہ کوپسندیدہ ہے ۔  ایک جانب زیادتی اسراف ہے اوردوسری جانب کوتاہی تقتیر یعنی بخل و کنجوسی ہے۔ بخل اور کنجوسی قابل مذمت ہے، لیکن اسراف اور فضول خرچی اس سے زیادہ مذموم اور نقصان دہ ہے۔ اس لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراف اورفضول خرچی سے روکا ہے اور بے جا خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے’’ اِنَّ المُبَذِّرِیْنَ کَانُوا اِخْوَانَ الشَّیٰطِینِ‘‘ جس طرح زندگی کے دیگر امور میں بے اعتدالی بگاڑ و فساد کا سبب بنتی ہے ، اسی طرح خرچ میں بے اعتدالی بڑے نقصانات اور خطرات کا دروازہ کھولتی ہے۔ ہماری زندگی میں مختلف مواقع اور تقریبات پر اسراف اور فضول خرچی اور نمود و نمائش کا مظاہرہ ہوتا ہے، لیکن سب سے زیادہ جہاں اسراف کی نمائش ہوتی ہے وہ شادی بیاہ کا موقع ہے۔ اس موقعے کو کوئی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، بے ضرورت خرچ اور نمائشی اسراف گویاشادی بیاہ کی پہچان بن گئی ہے۔ امیر تو امیر ، غریب بھی اس موقعے پر جھوٹے اسراف کی نمائش سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ زمین فروخت ہوجائے، گھر گروی پر لگ جائے، سود اور بیاج پر ادھار پیسہ لانا پڑے، یہ سب گوارہ ہے، لیکن شادی میں دھوم دھام نہ ہو، فضول خرچی کا مظاہرہ نہ کیا جائے، اپنی جھوٹی شان کے قصیدے نہ پڑھے جائیں تو وہ شادی ہی کیسی۔ پھر شادی کے بعد تنگ دستی آگھیرتی ہے، قرض دینے والے جینا دوبھر کردیتے ہیں، سود کا بوجھ کمر توڑنے لگتی ہے، محتاجی اور اس پر قرض کی فکر دل کو جکڑ لیتی ہے ، روگ لگ جاتا ہے، دل کے دورے پڑتے ہیں، کہیں ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، کہیں نعوذ باللہ خود کشی ہوتی ہے اورعزت تو سرِبازار نیلام ہورہی ہوتی ہے ، یہ ہے ہماری فضول خرچی اور نمودونمائش کا نتیجہ۔لوگ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ دولت اللہ کی دی ہوئی امانت ہے ، جس پر خدا کے حضور جواب دہی بھی کرنی ہوگی۔

مہر

قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مہر کی ادائیگی کو ایک فریضہ قرار دیا ہے، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مجلس نکاح ہی میں کم از کم نصف مہر نقد کی شکل میں ادا کردیا جائے اور نصف خلوت ِ صحیحہ کے وقت لازماً ادا کردیا جائے ، مہر کی تعیین شوہر کی مالی پوزیشن کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ مہر پر عورت کو مالکانہ حیثیت اور کلی تصرف کا حق دیا جائے، مہر کو اپنی ثروت اوراِمارت کے اظہار کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اسی طرح موہوم اندیشوں کے سد باب کے لئے مہر کو ذریعہ نہ سمجھاجائے بلکہ احترام نسوانیت کو پیش نظر رکھا جائے۔ مہر کی ادائیگی میں کوتاہی شریعت کے منشاء کے منافی ہے۔ کم از کم علمائے کرام اور ان پر اعتماد کرنے والے حضرات مہر معجل او رمہر مؤجل کی الجھنوں میں نہ مبتلا ہوں اور نہ مبتلا کریں۔ اس بات کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ مہر کی ادائیگی پر خواتین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات نہ پیدا ہوں بلکہ اسے ایک دینی فریضہ سمجھتے ہوئے خواتین مہر کا مطالبہ بھی کریں تاکہ ان کے شوہر دینی فریضہ کی عدم ادائیگی کے مرتکب نہ ہونے پائیں۔ ہدایت ربانی سمجھتے ہوئے اسے لیا جائے اور دیا جائے ، نہ کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں اسے معیوب عمل تصور کیا جائے۔

جہیز

اسلامی معاشرت میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جہیز کا مطالبہ اور اس کی خواہش غیر اسلامی فعل ہے۔ صاحب علم و دانش کو یہ مثال پیش کرنی چاہیے کہ جہیز کا مطالبہ ایک ناجائز عمل ہے۔ اسی طرح اگر معاشرہ میں یہ رسم مروّج ہے کہ بغیر مطالبہ کے جہیز کی رسم پوری کی جاتی ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ اس صورت میں بھی وہ جہیز سے اجتناب کریں اور فقہ کے اصول ’’المعروف کالمشروط‘‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس رسم بد کے ازالہ کی کوشش کریں ، اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ رشتہ ایسے خاندانوں میں طے کریں جہاں  لوگ شریعت کے احکامات کو مقدم رکھتے ہوں اور باطل رسوم و رواج کو مٹانے میں نہ صرف مددگار ہوں بلکہ اس دینی ذمہ داری کوادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ تاویلات و توجیہات کے ذریعہ اپنے آپ کو حالت ِ اضطرار میں پیش کرنے کے بجائے حکیمانہ انداز سے معاملات کو حل کریں۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ جب داماد فی الواقع اس موقف میں نہ ہو کہ گھرگرہستی کے سامان کا انتظام کرسکے تو بہ ضرورت تعاون دے سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی پیش نظر رہے کہ اِس نوعیت کے امداد و تعاون کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ عین شادی کے موقع پر ہی کیا جائے یا یہ کہ اس کی نمائش اور تشہیر کی جائے۔ بجا طور پر مروّجہ رسم جہیز کے نتیجہ میں جو مفاسد اور خرابیاں مسلم معاشرے میں در آئی ہیں ان کی اصلاح کے لیے خیر امت کے افراد کو ہی آگے آنا ہوگا انھیں قول و عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ایک لعنت ہے جس سے ہم خود پرہیز کررہے ہیں اور دوسروں کو اِس ضمن میں مدد دینے  کے لیے تیار ہیں۔

طلاق

جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ نکاح ایک عبادت ہے اور یہ ایمان کا تقاضا ہے ، جب کبھی میاں بیوی میں کوئی ناخوشگواری کی کیفیت پیدا ہوجائے تو  غصہ اور اشتعال میں آکر کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے، بلکہ قرآن کریم اور احادیث رسول ؐ کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔ کتاب و سنت کی ہدایات پر عمل کرنے میں خداکے یہاں مواخذہ سے بچا جاسکتا ہے اور اگر کتاب و سنت کو نظر انداز کردیا گیا تو دنیا میں تباہی اور آخرت میں عذاب کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ علمائے کرام اور ائمہ مساجد سے گزارش کی جائے کہ وہ طلاق، اسباب طلاق اور طریقۂ طلاق سے عوام کو واقف کرائیں۔طلاق ابغض المباحات ہے، اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، عام طور سے طلاق کے مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ زوجین کے درمیان ناچاقی اور نا اتفاقی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں زوجین ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کریں، اگر بشریت کے تقاضے کی وجہ سے کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو آپس میں عفو و درگزر سے کام لیا جائے۔ اگر یہ کیفیت پیدا کی جائے گی تو بہت حد تک طلاق سے بچا جاسکتا ہے۔ ازدواجی زندگی میں خدا نخواستہ اگر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے جو رشتۂ ازدواج کو باقی رکھنے میں رکاوٹ بن رہی ہو تو قرآن حکیم کی ہدایت کے مطابق اصلاح کی سعی کی جائے اور باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لیے حکیمانہ انداز سے ممکنہ تدابیر اپنائی جائیں۔ازدواجی زندگی میں اگر بگاڑ و فساد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو مناسب ہوگا کہ معاشرہ کے صاحب الرائے اور معاملہ فہم حضرات سے بھی اِصلاح کے ضمن میںمدد لی جائے۔ اگر ضرورت پیش آئے تو دارالقضاء اور شرعی پنچایتوں سے بھی رجوع کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اگر تمام تدابیر کے اپنانے کے باوجود اصلاح کی کوئی صورت نہ پیدا ہو تو طلاق احسن یا طلاق حسن دی جائے، طلاق بدعی اگر چہ واقع ہوجائے گی مگر شریعت کے حکم و ہدایت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں یہ ایک گناہ کا عمل ہوگا۔ ہدایت ربانی کی روح اور منشا کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو طلاق سے بچا جائے اور تحمل سے کام لیتے ہوئے رشتہ ازدواج کو باقی رکھنے کی پوری کوشش کی جائے۔ ازدواجی زندگی کو ختم کرنے کے لیے دوسرا طریقہ خلع کا ہے ، اِس صورت میں بد معاملگی یا زیادتی کی روش ہرگز نہ اپنائی جائے، یہ رویہ نامناسب ہوگا کہ چونکہ عورت کی جانب سے علیحدگی کی بات آئی ہے، اس لیے اس پر بطورسزا یا انتقامی جذبہ کے تحت دباؤ ڈالا جائے یا استحصال کی روش اپنائی جائے ، اسی طرح طلاق اور خلع کے علاوہ فسخ کا راستہ ہے اِس صورت میں حقیقت پسندی اور صداقت و دیانت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ حکم شریعت کی تعمیل ہوجائے۔ طلاق بدعی کا ارتکاب چونکہ ایک گناہ کا کام ہے،اِس لیے زیر اثر افراد کو اس سے اجتناب پر آمادہ کیا جائے۔

وراثت(دختری حصہ)

وراثت کی تقسیم کا حکم منصوص ہے، قرآن حکیم میں خلاف ورزی کرنے والوں کو خلود فی النار اور رسوا کن عذاب کی دھمکی دی گئی ہے، لازم ہے کہ ترکہ کی تقسیم اگر کسی غفلت یا عدم واقفیت کی وجہ سے اب تک نہیں ہوسکی ہے تو اَب بلا تاخیر ترکہ کو تقسیم کردیا جائے، ساتھ ہی اپنے اہل خانہ کی تربیت اس طور پر کی جائے کہ بعد میں وارثین قرآن کی ہدایت کے تحت وراثت کی تقسیم کو ایک ایمانی و دینی فریضہ سمجھیں۔ یہ بات بھی ذہن نشیں کرائی جائے کہ ترکہ میں جس حصہ کا جو حقدار ہے اگر وہ لے لے گا تو اس کی وجہ سے تعلقات میں خرابی پیدا ہوجائے گی ، اس اندیشہ سے ترکہ کو چھوڑ دینے کا رجحان نہیں پیدا ہونا چاہیے۔ وراثت میں حصہ صرف نرینہ اولاد ہی کے لیے نہ ہو بلکہ شرعی تعلیمات کے تحت ماں، بہن اور بیٹی کو بھی حصہ دیا جائے۔ یہ تصور کہ لڑکی یا بہن کی شادی میں جہیز یا دیگر مصارف کی صورت میں جو سرمایہ صرف کیا گیا ہے وہ قائم مقام وراثت کے ہے،یہ تصور غیر اسلامی اور عدل و انصاف کے منافی ہے۔ اسلامی فکر سے یہ طریقہ بھی ہم آہنگ نہیں ہے کہ اپنی زندگی ہی میں اپنی منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو ترکہ فرض کرکے تقسیم کردیا جائے خواہ یہ تقسیم شریعت میں حصوں کی تعیین کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ ترکہ اس جائداد کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے انتقال کے بعد وارثین کے حصہ میں آئے۔ سورہ نساء آیت نمبر (۱۱تا ۱۴) میں ترکہ کی تقسیم کی پوری وضاحت اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمائی ہے۔

اگراپنی زندگی میں کوئی شخص اپنی جائداد میں سے کوئی چیز کسی کو دیتا ہے تو اسے ہبہ یا تحفہ کہاجاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں حصہ کی تعیین فرمائی ہے وہاں کب اور کس طرح ترکے کوتقسیم کیا جائے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ بالا طرز ِ عمل کو شرعی اعتبار سے ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ بعض نیک طبیعت کے لوگ یہ عمل اِس اندیشے کے تحت اختیار کرتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد میرے متعلقین شاید مستحق وارثین کا حصہ نہیں دیں گے، یہاں دو باتیں ملحوظ رکھنے کی ہیں، ایک یہ کہ اگر اولاد کی تربیت اور ان کی ذہن سازی اس انداز میں مرنے والے شخص نے نہیں کی ہے کہ وہ منصوص احکامات پر عمل کریں تو قیامت کے دن مسئولیت کے مرحلہ میں سخت باز پرس کا اندیشہ ہے، اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ سے خود کو اور اہل خانہ کو بھی بچاؤ اور سورہ نساء آیت نمبر (۱۱تا ۱۴) میں ترکے کی درست تقسیم کی ایمان کے تقاضے کے طور پر تاکید فرمائی گئی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ کسی کو مال و دولت کا ملنا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اصل مقصود ہے۔ ترکہ کا تقسیم نہ کرنا  دین کے تقاضے کی عدم تکمیل ہے اوراس رویے کے  پیچھے مال کی محبت اور دولت کے ارتکاز کا رجحان ،بطور ایک اہم عامل کے پایا جاتا ہے جو مزاجِ شریعت کے منافی ہے۔

جنوری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau