انسان کی بعض غلط فہمیاں

مولانا محمد جرجیس کریمی

انسان ایک باشعور مخلوق ہے۔ وہ اچھے بُرے کی تمیز رکھتاہے۔ اس کے باوجود بارہا ایسا ہوتاہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ دوسرے کے بارے میں بعض غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتاہے، بلکہ خود اپنے بارے میں بھی غلط رائے قائم کرلیتاہے۔ خاص طور سے اس پہلو سے کہ بعض معاملات میں وہ پنے آپ کو بے قصور اور بے گناہ تصور کرتاہے۔کبھی کبھی وہ عنداللہ بازپرس سے بھی خود کو مستثنیٰ خیال کرلیتاہے۔

کیا نیکی اور بدی برابر ہے؟

قرآن میں نیکی اور بدی کاواضح تصور دیاگیاہے اور فطرت سلیمہ بھی ان کے درمیان کے فرق وامتیازکو تسلیم کرتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بعض اوقات بُرائی کا ارتکاب کرنے والے اپنے آپ کو نیکوکاروں کی طرح تصور کرنے لگتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ نیکی اور بدی کافرق اضافی اور ناقابل اعتبار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی غلط فہمی کاازالہ کیاہے اور واضح کیاہے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی ہیں۔ بدی کا انجام بُرا ہے اور نیکی کاانجام اچھا ہے۔ جو نیکی اور بدی کو یکساں سمجھ کرگناہوں کے ارتکاب میں جری ہورہے ہیں وہ متنبہ ہوجائیں ۔

أًمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ أّن نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰ مَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَآئً مَّحْیَاہُم وَمَمَاتُہُمْ سَآئَ مَا یَحْکُمُونَ o وَخَلَقَ اللَّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَo ﴿الجاثیہ: ۲۱،۲۲﴾

’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کاارتکاب کیاہے، سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انھیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کردیںگے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے۔ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیداکیاہے اور اس لیے کیاہے کہ ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیاجائے۔ لوگوںپرظلم ہرگزنہ کیاجائے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

أَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِیْ الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارo                       ﴿ص:۸۲﴾

’’کیا ہم ان لوگو ں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں اور ان کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں، یکساں کردیں؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیساکردیں؟‘‘

ان آیات میں اہل ایمان اور فسق کے درمیان جس تمیز و تفریق کی بات کہی گئی ہے، اس کا تعلق نہ صرف آخرت سے ہے بلکہ دنیا میں بھی یہ فرق وامتیاز نمایاں ہوتاہے۔ اکثرگناہ کرنے والے اپنی خوش حالی کے باوجود تنگ زندگی کے شکار ہوتے ہیں جب کہ نیک شخص اپنی ظاہری بدحالی کے باوجود مطمئن زندگی گزارتا ہے۔

کیا خوش حالی اللہ کے راضی ہونے کی دلیل ہے؟

مخلوقات کو روزی پہنچانا اللہ کے ذمّے ہے اور وہ اس دنیا میں سب کو نوازتا ہے۔ کسی کو کم، کسی کو زیادہ۔ بعض اوقات وہ کسی کی روزی تنگ کردیتاہے، حالاں کہ وہ نیک ہوتاہے اور کسی کی روزی کشادہ کردیتاہے حالاں وہ گناہ گار ہوتا ہے۔ اس سے اس شخص کو غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ وہ نیک ہے اور اللہ اس سے راضی ہے۔ قرآن نے اس خیال کی تردید کی ہے اور واضح کیاہے کہ دنیا کی خوش حالی ہرحال میں اللہ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات یہ اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی دلیل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو خوش حالی کے ذریعے عذاب میں مبتلاکردیتا ہے:

وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوآ أَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْْرٌ لِّأَنفُسِہِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْماً وَلَہْمُ عَذَابٌ مُّہِیْنٌo     ﴿آل عمران: ۱۷۸﴾

’’یہ ڈھیل جو ہم انھیں دیے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں۔ ہم تو انھیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ خوب بارِگناہ سمیٹ لیں۔ پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

أَیَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّہُم بِہِ مِن مَّالٍ وَبَنِیْنَ o نُسَارِعُ لَہُمْ فِیْ الْخَیْْرَاتِ بَل لَّا یَشْعُرُونo              ﴿المومنون: ۵۵-۵۴﴾

’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انھیں مال ، اولاد سے مدد دیے جارہے ہیں تو گویا انھیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں،نہیں! اصل معاملے کا انھیں شعور نہیں ہے۔‘‘

ایک حدیث میں واردہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم دیکھو کہ کسی شخص کو اس کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے نوازرہاہے تو سمجھ لو کہ اللہ اس کو ڈھیل دے رہاہے۔‘‘ ﴿مسند احمد۴/۵۴۱﴾

گم راہی کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھنا

بعض اوقات انسان کی غلط فہمی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ صریح طورپر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتاہے، مگر اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس طرح کی غلط فہمی کا بھی ازالہ کیاہے اور واضح کیاہے کہ گم راہی گم راہی ہے اور ہدایت ہدایت ہے، جو گم راہ ہے وہ اپنے کو ہدایت والا نہ سمجھے اور اس گمان میں نہ رہے کہ اس کے ساتھ ہدایت یافتہ ہونے کا معاملہ کیاجائے گا۔ ارشاد ہے:

اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَآئ مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَo﴿الاعراف: ۳۰﴾

’’انھوں نے خدا کی بہ جائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنالیاہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔‘‘

بارہا آدمی گمراہ ہونے کے ساتھ راہ حق میں رکاوٹیں کھڑی کرتاہے اور لوگوں کو دین کی طرف آنے سے روکتاہے۔ اس کے باوجود وہ سمجھتاہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔ قرآن میں ایسے شخص کو بھی متنبہ کیاگیا ہے کہ وہ اپنی غلط فہمی دور کرلے۔ اس کا اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھ لینے سے اس کے گناہ نیکیاں نہیں بن سکتے اور وہ اللہ کی گرفت سے بھی نہیں بچ سکے گا۔ارشاد ہے:

وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْْطَاناً فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌo وَاِنَّہُمْ لَیَصُدُّونَہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ  ﴿الزخرف: ۳۶،۳۷﴾

’’جو شخص رحمن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتاہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں۔‘‘

کیا اللہ تعالیٰ بندوں سے غافل ہے؟

انسان گناہ کرتاہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کی فوراً گرفت نہیں کرتا ،اس سے مجرمانہ سوچ والے لوگ گناہوں میں اور جری ہوجاتے ہیں ۔ قرآن نے اس روش پر بھی تنقید کی ہے اور کہاہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے غافل نہیں ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہ جب چاہے گا گرفت کرے گا۔ ارشاد ہے:

أَمْ یَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوَاہُم بَلَی وَرُسُلُنَا لَدَیْْہِمْ یَکْتُبُونَo                   ﴿الزخرف:۸۰﴾

’’کیا انھوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ ہم ان کے راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔‘‘

ایک دوسری جگہ مزید وضاحت کے ساتھ کہاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ تمام خفیہ اور علانیہ گناہوں سے واقف ہے۔ ارشاد ہے:

وَمَا کُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ یَشْہَدَ عَلَیْْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُودُکُمْ وَلَکِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْراً مِّمَّا تَعْمَلُونَ o وَذَلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنتُم بِرَبِّکُمْ أَرْدَاکُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنْ الْخَاسِرِیْنَ      ﴿حم السجدۃ: ۲۲،۲۳﴾

’’تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمھیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیںگی، بلکہ تم نے یہ سمجھاتھاکہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے، تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیاتھا، تمھیںلے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے۔‘‘

انآیات سے اللہ تعالیٰ کے علیم و خبیر ہونے کا پتاچلتاہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا بھی حوالہ دیاہے کہ وہ جب چاہے، انسان کی گرفت کرسکتا ہے۔ ارشاد ہے:

وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَبَقُ ٓواْ اِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُونo﴿الانفال: ۵۹﴾

’’منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے۔‘‘

کیا یہ کائنات بے کار پیداکی گئی ہے؟

آسمان اور زمین کا وجود اور ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ ان سے اس کی قدرت و عظمت کاپتا چلتاہے اور انسان کو یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو عبث اور بے کار نہیں پیداکیا ہے، بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ مقصد ہے۔ مگر انسان کی ہٹ دھرمی اس درجے کو پہنچ جاتی ہے کہ اتنی عظیم نشانیوں کو بھی وہ بے رکار اور باطل قرار دینے لگتاہے اور اللہ تعالیٰ کا انکارکر بیٹھتاہے۔ قرآن نے انسان کی اس غلط فہمی کاازالہ کیاہے اور واضح کیاہے کہ محض کسی شخص کے یہ سمجھ لینے سے کہ یہ کائنات بے کار اور عبث ہے، اس کی حقیقت نہیں بدل سکتی۔ آدمی کو اپنی غلط فہمی دور کرلینی چاہیے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا بَاطِلاً ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنَ النَّارo ﴿ص:۲۷﴾

ہم نے آسمان اور زمین کو فضول پیدا نہیں کیا ہے یہ وہ بات ہے، جسے کفر کرنے والوں نے سمجھ لیاہے

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَائ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا لَاعِبِیْنَ oلَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَہْواً لَّاتَّخَذْنَاہُ مِن لَّدُنَّا اِن کُنَّا فَاعِلِیْنَ o﴿الانبیائ:۶۱،۷۱﴾

ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے، کچھ کھیل کے طورپر نہیں بنایاہے ، اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرناہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے۔

حیاتِ بعدِ موت

انسان کی ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ وہ سوچتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی اور موت کے بعد پھر اور کوئی زندگی نہیں ہے۔ انسان اس کو ایک ۱عجوبے کے طورپر دیکھتاہے کہ آدمی مرکرسڑ گل جائے گا، اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیںگی اور اس کے اعضا مٹی میں مل جائیںگے تو پھر وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس غلط فہمی کا ازالہ کئی طرح سے کیاہے۔ اس کی موجودہ زندگی کا حوالہ دیاہے کہ اس کو عدم سے وجود میں لایاگیا، پھر جو ایک بار پیداہوسکتاہے وہ دوسری بار کیوں نہیں پیداہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کاحوالہ دیاگیا ہے کہ جس نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی اور انسان کو نہایت نازک مراحل سے گزارکر بچے کی شکل میں ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس کو دوبارہ قبروں سے زندہ کرنے کی طاقت رکھتاہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثاً وَأَنَّکُمْ اِلَیْْنَا لَا تُرْجَعُونَ oفَتَعَالَی اللَّہُ الْمَلِکُ الْحَقo     ﴿المومنون: ۱۱۵،۱۱۶﴾

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

أَیَحْسَبُ الْاِنسَانُ أَن یُتْرَکَ سُدًیo ﴿القیامۃ: ۳۴﴾

’’کیا انسان نے یہ سمجھ رکھاہے کہ وہ یوںہی مہمل چھوڑدیاجائے گا۔‘‘

ایک آیت میں اور ارشاد ہے:

وَقَالُواْ أَئِذَا کُنَّا عِظَاماً وَرُفَاتاً أَاِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقاً جَدِیْداً oقُل کُونُواْ حِجَارَۃً أَوْ حَدِیْداًoأَوْ خَلْقاً مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَن یُعِیْدُنَا قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُونَ اِلَیْْکَ رُؤُوسَہُمْ وَیَقُولُونَ مَتَی ہُوَ قُلْ عَسَی أَن یَکُونَ قَرِیْباo        ﴿بنی اسرائیل: ۴۹-۵۱﴾

’’وہ کہتے ہیں ’’جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہوکر رہ جائیںگے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیںگے؟ ان سے کہوتم پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو، پھر بھی تم دوبارہ زندہ ہوکر رہوگے۔ وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹاکر لائیں گے۔ جواب میں کہو وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیاہے، وہ سر ہلاہلاکر پوچھیں گے اچھا تو یہ ہوگا کب؟ تم کہو کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو۔‘‘

اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں، جن میں انسان کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں کیاجائے گا۔

کیا مومن بغیر آزمائش کے چھوٹ جائے گا

ایمان سے متعلق بعض اوقات آدمی اس غلط خیال میں مبتلاہوجاتاہے کہ محض زبان سے اس کا اقرار کرلینا ہی کامیابی کے لیے کافی ہے اور آزمائش ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی بھی تردید کی ہے اور واضح کیاہے کہ مومن کی آزمائش ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی اس کے ایمان کا اعتبار ہوگا اور اس کو اجر ملے گا۔ ارشاد ہے:

ا لٓ مٓ o أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُ ٓوا أَن یَقُولُ ٓوا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ  oوَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنo ﴿العنکبوت:۱-۳﴾

’’ا-ل-م، کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑدیے جائیںگے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاں کہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھناہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون۔‘‘

مومن کی آزمائش کو اس لیے بھی ضروری قرار دیاگیا ہے کیوں کہ کئی بار آدمی کسی وقتی سبب کے تحت ایمان لاتاہے مگر جب اس پر مشکلات آتی ہیں تو وہ ایمان سے پھرجاتاہے اور اس پر قائم نہیں رہ پاتا۔ اللہ تعالیٰ کو ایسے ایمان دارکی ضرورت نہیںہے۔ ارشادہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ اٰمَنَّا بِاللَّہِ فَاِذَا أُوذِیَ فِیْ اللَّہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللَّہِ o        ﴿العنکبوت: ۱۰﴾

’’لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتاہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، مگر جب وہ اللہ کے معاملے میں ستایاگیاتو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔‘‘

ایک دوسری آیت میں اس مفہوم کو اور واضح کیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ کچھ لوگ کنارے پر کھڑے ہوکر اللہ کو اپنا معبود مانتے ہیں، اگر ان کو فائدہ پہنچا تو ٹھیک ہے اور اگر ان کو نقصان ہوا تو وہ ایمان سے پھر جاتے ہیں۔ ارشاد ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَعْبُدُ اللَّہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ أَصَابَہُ خَیْْرٌ اطْمَأَنَّ بِہِ وَاِنْ أَصَابَتْہُ فِتْنَۃٌ انقَلَبَ عَلَی وَجْہِہِ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنo  ﴿الحج: ۱۱﴾

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتاہے۔ اگر فائدہ ہوا تومطمئن ہوگیا اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹاپھرگیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی، یہ ہے صریح نقصان

یہود ونصاریٰ کی ایک بڑی غلط فہمی

یہود کو اللہ تعالیٰ نے امامت عالم کے منصب پر فائز کیاتھا اور ان میں بے شمار انبیائ و رسل مبعوث فرمائے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے ان کو اور بھی کئی خصوصی انعامات و اکرامات سے نوازاتھا ، جن کاحوالہ قرآن میں بار بار آیا ہے۔ ان باتوںسے یہود و نصاریٰ کو خاص طور سے یہود کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کی نافرمانیوں پر ان کی گرفت نہیں کرے گا اور ان کو کوئی سزا نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کاازالہ کیاہے۔ ارشاد ہے:

وَقَالَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَاریٰ نَحْنُ أَبْنَ آئُ اللّہِ وَأَحِبَّ آؤہ‘ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُم بِذُنُوبِکُم بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَن یَشَآئ ُ وَیُعَذِّبُ مَن یَشَآئ o     ﴿المائدہ:۸۱﴾

’’یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ان سے پوچھو وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتاہے۔ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتاہے معاف کرتاہے اور جسے چاہتاہے سزا دیتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کی غلط فہمی کاازالہ دو باتوں کے ذریعے کیاہے۔ ایک یہ کہ ان کے گناہوں اور جرائم کا حوالہ دیاگیاہے، اللہ تعالیٰ گناہوں کو پسند نہیں کرتا اور تم مسلسل گناہ کرتے جاتے ہو پھر تم کیسے اللہ کے چہیتے ہوسکتے ہو؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ اعلیٰ صفات کاحامل ہے اگر تم اللہ کے بیٹے ہو تو تمہیں بھی ان صفات کاحامل ہونا چاہیے جب کہ حقیقت میں تم ایسے نہیں ہو۔ لہٰذا اس کے چہیتے کیسے ہوگئے۔ دوم ان کی سزائوں کا حوالہ دیاگیاہے۔ گویا اللہ تعالیٰ ان کو بتارہاہے کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا کوئی دوست اپنے دوست کو بلاوجہ سزائیں نہیں دیتا۔ دونوںاللہ تمہیں سزا دیتاہے تو تم اس کے چہیتے کیسے ہوگئے؟ان دونوں باتوں سے متعلق قرآنی آیات کامطالعہ کریں تو ان میں ان کی کافی وضاحت ملتی ہے۔ قرآن کی بہت سی آیات میں یہود و نصاریٰ کے گناہوں اور ان کے جرائم کو واشگاف کیاگیاہے۔ مثال کے طورپر درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں۔ ارشاد ہے:

فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِم باٰیَاتِ اللّہِ وَقَتْلِہِمُ الأَنْبِیَآئ َ بِغَیْْرِ حَقًّ وَقَوْلِہِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّہُ عَلَیْْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُونَ اِلاَّ قَلِیْلاًo وَبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُہْتَاناً عَظِیْماًo  ﴿النسائ: ۱۵۵-۱۵۶﴾

’’آخرکار ان کی عہدشکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے انھوںنے اللہ کی آیات کو جھٹلایااور متعدد پیغمبروںکو ناحق قتل کیا اور یہاں تک کہاکہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں۔ حالاں کہ درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپّا لگادیاہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے ہیں کہ مریم پر سخت بہتان لگایا۔‘‘

ایک دوسری آیت میں ان کے جرائم کو اس طرح واضح کیاگیاہے:

وَتَرَی کَثِیْراً مِّنْہُمْ یُسَارِعُونَ فِیْ الاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونo     ﴿المائدہ: ۲۶﴾

’’تم دیکھتے ہوکہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم وزیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں۔ بہت بُری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں۔‘‘

ان آیات میں یہود و نصاریٰ کے اس دعوے کے بطلان کو سمجھاجاسکتا ہے، جس میں انھوںنے اپنے کو اللہ کے چہیتے ہونے کا گمان کیاہے؟جہاں تک یہود ونصاریٰ کو سزائیں ملنے کی بات ہے تو قرآن میں اس کاحوالہ کثرت سے آیاہے اس سے متعلق تین سزائوں کاذکر کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کو امامت عالم کے منصب پر فائز کیاتھا ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو اس سے معزول کردیاگیا اور اب امت محمدیہ کو اس منصب پر فائز کیاگیاہے، یہود ونصاری کی مسلسل سرکشیوں کی وجہ سے خصوصاً یہود پر ذلت و مسکنت مسلط کردی گئی۔ یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے افراد کی تخلیق مسخ کردی گئی اور ان کو بندر اور سور بنادیاگیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآؤُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّہ﴿البقرہ:۴۱﴾

آخرکار ان پر ذلت وخواری اور پستی وبدحالی ان پر مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھرگئے۔

یہودو نصاریٰ کی غلط فہمیوں کاازالہ کیوں ضروری تھا؟

یہودونصاریٰ اپنی اس غلط فہمی کی وجہ سے کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں۔ اللہ کی نافرمانیوں پر اور بھی جری ہوتے جارہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ چاہے وہ جیسے گناہ اور جرم کرلیں اللہ تعالیٰ ان کو سزا نہیں دے گا۔ قرآن نے ان کی اس سوچ کی تردید کی ہے۔ ارشاد ہے:

وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ اِلاَّ آَٔیَّاماً مَّعْدُودَۃً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللّہِ عَہْداً فَلَن یُخْلِفَ اللّہُ عَہْدَہٰٓ أَمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونo﴿البقرہ: ۸۰﴾

’’وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے، اِلّا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے۔ ان سے پوچھو کیا تم نے اللہ سے کوئی عہدلے لیاہے، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا یا تم اللہ کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں ہے۔‘‘

آگے کی آیت میںپوری وضاحت کے ساتھ کہاگیا ہے کہ جو شخص بھی گناہ اور جرائم کرے گا، اس کی گرفت ہوگی اور اس کو سزا دی جائے گی۔

بَلَی مَن کَسَبَ سَیِّئَۃً وَأَحَاطَتْ بِہِ خَطِیْٓ ئَتُہ‘ فَأُوْلَ ٰٓ ئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونo      ﴿البقرہ:۸۱﴾

’’جو بھی بدی کمائے گااور اپنی خطاکاری کے چکّر میں پڑا رہے گا وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا۔‘‘

قرآن مجید کی یہ چند آیات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آخرت میں ہر انسان کو اپنے اچھے اور بُرے عمل کا بدلہ ملناہے۔ وہاں جو کچھ بھی ہوگا، عد ل و قسط کے مطابق ہوگا۔کسی گروہ یا جماعت سے اللہ تعالیٰ کوئی اِستثنائی معاملہ نہیں کرے گا۔

اگست 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau