معاصر اسلامی تحریکات کے کچھ اصلاح طلب پہلو

ترجمہ: اشتیاق عالم فلاحی

تحریر: ڈاکٹر محمد عمارہ

)اسلامی تحریک کے لیے اپنے ذاتی احتساب کے نتائج بہت اہمیت رکھتے ہیں، تاہم تحریک کے باہر سے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ لیا ہوا تحریک کا جائزہ اپنی جداگانہ اہمیت رکھتا ہے۔ سینکڑوں عظیم فکری کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عمارہ ؒکا شمار نہ صرف اپنے ملک مصر بلکہ پورے عالم اسلام کے چوٹی کے علماء میں ہوتا ہے، علامہ یوسف قرضاوی نے ان کی شخصیت پر کتاب لکھی اور انھیں اسلامی فکر کی سرحدوں پر ہر وقت بیدار اور چاق چوبند رہنے والا پاسبان قرار دیا۔ ڈاکٹر محمد عمارہؒ نے عالمی اسلامی تحریکات کو سامنے رکھ کر کچھ اصلاح طلب پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے، جنھیں زندگی نو میں قسط وار پیش کیا جائے گا۔ ہم اہل فکر ونظر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہندستان کی اسلامی تحریک کے پس منظر میں ان پہلوؤں کے تعلق سے اپنی قیمتی آراء پیش فرمائیں(

3۔ مقامی امور اور عالمی امور کے سلسلے میں خلط مبحث

اسلام “ایک” ہے، جس میں عقیدہ اور شریعت دونوں اللہ کے طے کردہ ہیں، اور اس میں اصول وقواعد اور مبادی وارکان میں تعددیت یا ایک سے زیادہ ہونے کی گنجائش نہ کبھی رہی اور نہ کبھی رہے گی۔ لیکن بہت سی معاصر اسلامی تحریکات نے اس ایک دین کی صف میں فکر اسلامی کے ان تصورات کو بھی لا کھڑا کیا جن میں نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کے عناصر نوع بہ نوع ہوں۔ اس طرح ایک اسلام کے شانہ بہ شانہ فکر اسلامی کی صورت گری کرنے اور ان کے نشاناتِ راہ کو واضح کرنے میں وہ اپنا حصہ ادا کریں۔

اسلامی فکر میں وحدتِ دین کا مطلب عقیدہ وشریعت کی وحدت ہے، جب کہ اسلامی فکر کا ایک حصہ وہ بھی ہے جس کو زرخیز بنانے میں حالات وواقعات کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔ حالات وواقعات کے ساتھ تعامل کرنے والی اس فکر میں رنگا رنگ تصورات ہوتے ہیں، کیوں کہ ہر زمان ومکان میں دیارِ اسلام کے اندر زمینی حقائق بھی مختلف رنگ اختیار کرتے ہیں۔

بہت سی اسلامی تحریکات تصورات کی سطح پر فکرِ اسلامی کے ان دو پہلوؤں کے درمیان رشتے کی نوعیت اور ان کے فرق کو نہ سمجھ سکیں اور اس کم زوری نے ان تحریکات میں ایسی کوتاہ نظری کو فروغ دیا جو عالمِ اسلام کی صورتِ حال اور اپنے خطہ کے حقائق کو دینِ اسلام کی وحدت کی طرح ہی ایک اٹل وحدت تصور کرتی ہے۔ اور فکر کی نشو ونما کے مختلف مدارج اور ان میں موجود فرق، عرف، عادات، فکری مکاتب اور تصورات کی رنگا رنگی کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

یہ تو تصورات کی سطح پر ہوا۔ روایات اور عملی سرگرمیوں کی سطح پر ہم دیکھیں تو یہ تحریکات اس قیدِ مقامی میں مبتلا ہیں جو انھیں ہر چیز سے بے پروا کرکے اپنے مقامی مسائل تک محدود رکھتی ہے، اور ان کی تمام تر فکرمندی ان قبائل کی طرح اپنے ہی محدود جغرافیائی علاقے تک سمٹ کر رہتی ہے، جو اپنے خیموں کی طنابوں سے باہر کی دنیا کو دیکھنے سے قاصر ہوں۔[گویا فکر کی سطح پر مقامی تقاضوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے، اور فکرمندی کی سطح پر اپنے مقام سے آگے پوری امت کے لیے فکر مندی نہیں ہے۔ مترجم]

اگر اسلامی تحریکات کی حیثیت امت کے ہراول دستے کی ہے، اور یقیناً یہ پوری امت کے دستے ہیں کسی ایک طبقے کے نہیں، اور اگر یہ واقعہ ہے کہ اس امت کا وطن گھانا سے فرغانہ تک پھیلا ہوا ہے جہاں زمینی حقائق، موروثی روایات، ترقیاتی مسائل، مصالح، دل چسپیاں، ارادے، مشکلات، عادات وروایات، زندگی کے طریقے اور اسباب، موسموں کے رنگ وغیرہ ہر جا تغیر پذیر ہیں، تو یہ بھی فطری امر ہے کہ ان کے درمیان رشتے کو اہمیت دی جائے، اور خلل سے پاک ایسا رشتہ پروان چڑھایا جائے جو اسلام اور مسلمانوں کی فکری لڑی میں ناقابل تنوع امور اور تنوع پذیر معاملات کے فرق کو برت سکے۔ اس کے نتیجے میں’’مقامی‘‘ اور ’’عالمی، ملّی اور اسلامی‘‘ امور خوب صورتی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں گے اور دونوں میں سے کوئی بھی پہلو دوسرے کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا۔ عملاً اس پہلو سے کئی تحریکات کے اندر کم زوری موجود ہے۔

4۔ حال اور ماضی کے رشتے کو سمجھنے میں غلطی

تاریخ کے ارتقا کے سلسلے میں بہت سی معاصر اسلامی تحریکات کے تصور میں تاریخی اعتبار سے پیچھے کی طرف لوٹنے کا تصور حاوی رہتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ تاریخ کا سفر جوں جوں آگے بڑھے گا خیر اور بھلائی میں کمی اور گراوٹ آتی جائے گی۔

کہا جاتا ہے کہ یہ تحریکات اس حدیث کی بنا پر یہ تصور اختیار کرتی ہیں جس میں آپ نے فرمایا: میری امت کی سب سے بہترین صدی (نسل) وہ ہے جس میں میں ہوں۔ (مسلم، ابو داؤد، احمد)۔

اپنی جگہ اس سبب کے درست ہونے کے باوجود یہ وہ واحد سبب نہیں ہے جس نے ان تحریکات کے اندر اس نقطہ نظر کی تشکیل کی جو یقین رکھتا ہے کہ نسلوں کے گزرنے اور تاریخ کے آگے بڑھنے کے ساتھ خیر اور بلندی میں کمی آتی رہتی ہے۔

جہاں اس حدیث شریف کے مفہوم کو سمجھنے کے سلسلے میں یہ تحریکات غلطی کا شکار ہیں، وہیں اس تصور کو فروغ دینے میں دوسرے اسباب وعوامل بھی کارفرما ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تحریکات امت کی موجودہ صورتِ حال کا موازنہ اسلام کے ابتدائی عہد کی صورتِ حال سے کرتی ہیں۔ اس موازنہ کی وجہ سے بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مرورِ ایام اور وقت کے سفر کے ساتھ خیر وترقی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ حاضر کے بجائے ماضی میں جینے والی ان اسلامی تحریکات کی اس فکری خرابی کی اصلاح کے لیے اس نقطہء نظر کے غلط اسباب ومحرکات کی وضاحت اور اس پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔ یہ تحریکات زندوں کے مسائل ومعاملات کا حل مردوں سے دریافت کرتی ہیں، یہ فکری معاملات میں ناقابل تغیر اور قابل تغیر کے فرق کو نظر انداز کرتی ہیں اور ان کے نزدیک تاریخی ورثہ اتنا مقدس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے تخلیقیت کی نہ صرف یہ کہ ناقدری ہوتی ہے بلکہ اس کی تحقیر ہونے لگتی ہے۔ اس کی وجہ سے دین میں بدعت اور تمدنی معاملات میں تخلیقیت کا فرق مٹ جاتا ہے اور دونوں ہی قابل رد قرار پاتے ہیں۔ بہت سی اسلامی تحریکات کے متوسلین کی ایک بڑی تعداد کے اندر یہ خرابی نمایاں حد تک جگہ پا چکی ہے۔ اور اس کی اصلاح کے لیے اس تصور پر نظرِثانی ضروری ہے۔

یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ ماضی میں تمدنی اعتبار سے ترقیوں کے اونچے مقام پر فائز رہی ہے، جب کہ آج یہ امت تمدنی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ لیکن زبوں حالی کے یہ دن اسے اس لیے دیکھنے پڑے کہ اس نے غلبہ کے حصول اور بامِ عروج تک پہونچنے کی شرطیں پوری کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ یعنی یہ وقتی اسباب سے پیدا شدہ ایک وقتی کیفیت ہے نہ کہ کتابِ تاریخ کا حتمی فتویٰ اور بعد میں آنے والوں کی طے شدہ قسمت۔ اور بے شک پستی کے اسباب کو ختم کرکے پستی سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

رہی وہ حدیثِ نبویﷺ جس میں قطعی طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ امت کی سب سے بہترین صدی اللہ کے رسولﷺ کی صدی ہے۔ تو اس حدیث کی وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ امت کے اندر خیر اور بھلائی کی کمی کا اعتقاد رکھنے والی تحریکات نے اس سے جو مفہوم سمجھا ہے اس سے ہٹ کر ہمارے سامنے ایک دوسرا مفہوم آسکے۔

میرے خیال میں یہ حدیث مطلق خیر کو اللہ کے رسولﷺ کے عہد کی نسل تک محدود نہیں کرتی بلکہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ مثالی اسلامی معاشرہ کے اصول وقواعد کو اساس بنانے میں خیر اور بہتری ہے۔ یعنی صدر اول کے دیے ہوئے اصول اور بنیادیں خیر کا سرچشمہ ہیں، اس سے ان فرعی چیزوں کے خیر ہونے کی نفی نہیں ہوتی جنھیں بعد کی نسلیں ان اصول وقواعد پر استوار کریں گی۔ ہاں بنیادوں کے اندر خیر کا پہلو اس لحاظ سے ممتاز رہے گا کہ ان ہی کی وجہ سے شاخوں کو اور بعد میں ہونے والی تعمیرات کو روح ملتی ہے۔ گویا اس حدیث میں نئی نسل کے خیر کی نفی نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعد کی نسلوں کا خیر پہلی نسل سے ملی ہوئی بنیادوں میں موجود خیر کا پرتو ہے۔

اس حدیثِ نبوی کا جو مفہوم میں نے پیش کیا ہے اس کی تائید ان دوسری ہم معنی شہادتوں سے ہوتی ہے جن کے مطابق تاریخ کے سفر کو بیان کرنے کے لیے ’’بلندی کی طرف جانے‘‘ کا نظریہ اسلام کے موقف کی صحیح ترجمانی کرتا ہے نہ کہ ’’پستی کے سفر‘‘ کا نظریہ۔

حضرت آدم سے لے کر محمدﷺ تک اور تمام انبیاء ورسل علیھم السلام کی نبوت ورسالت میں انسانی ترقی کے تسلسل کو اسلام جس نظر سے دیکھتا ہے اس سے تاریخی تسلسل کے ساتھ ساتھ خیر اور بھلائی میں ارتقا وپیش قدمی میں تسلسل کے نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ محمدﷺ کی رسالت کے ساتھ وہ انسانیت سنِ رشد کو پہونچ گئی جو اس عہد سے پہلے کے ادوار میں گمشدہ بھیڑوں کی طرح منتشر تھی۔

’’عقل‘‘ اور ’’کائنات‘‘ کے سلسلہ میں اسلام کا امتیازی موقف اس حقیقت پر شاہد ہے کہ مرورِ ایام کے ساتھ انسانیت ارتقا پذیر رہی ہے، بلکہ حضرت مصطفیٰﷺ کی رسالت پر آسمانی ہدایت کے سلسلے کا اختتام اور تجدیدِ دین اور اسلام کے نظامِ قوانین کے ارتقا کے لیے انسانی اجتہاد کا بنیادی کردار اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ زیرِ گفتگو موضوع کے سلسلے میں یہی نقطہء نظر صحیح اسلامی نقطہء نظر ہے۔ پھر جن تمدنی ترقیوں نے امتِ مسلمہ کے پھلنے پھولنے میں کردار ادا کیا وہ رسول اللہﷺ کے عہد کے بعد کے ادوار میں ابھر کر سامنے آئیں گو کہ ان کی بنیاد بعثتِ نبویﷺْ کے زمانے میں پڑ چکی تھی۔ مسلمانوں کی قوتِ تخلیق وجدت کی نمائندگی کرنے والے وہ دینی ودنیوی علوم جو وحیِ ربانی کی تاثیر اور منہجِ نبوت کی روشنی کا کرشمہ تھے وہ سب عہدِ رسالت کے بعد پروان چڑھے، یہی حال ان اسلامی فتوحات کا بھی ہے، جن سے امت بلندی سے ہمکنار ہوئی، جن کے بعد اسلام کا عالمی کردار قائم ہوا اور چاردانگِ عالم میں اسلام کا بول بالا ہوا، یہ سب خیر اور بھلائی کے پہلو ہی تھے جو وقت کے سفر کے ساتھ مزید پھل پھول رہے تھے۔

پیغامِ نبوت کو عام کرنے کے سیاق میں اللہ کے رسولﷺ نے کیا یہ نہیں فرمایا ’’رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ (متفق علیہ) یعنی اس کا امکان ہے کہ جن تک براہِ راست پیغام نہیں پہونچا وہ براہِ راست سننے والوں سے زیادہ سمجھنے والے ہوں۔ اس حدیث نے خیر کو صحابہ وحاضرین تک محدود نہیں کیا۔

آخری بات، کیا کسی اسلامی تحریک کو اس حقیقت سے انکار ہے کہ اسلامی بیداری کی موجودہ حالت بیسیویں صدی کی پانچویں دہائی کے مقابلے میں بہتر ہے؟، اور کیا بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے آج بہتر صورتِ حال ہے جب کہ ہر طرف استعمار کا غلبہ اور لادینیت و مغرب پرستی کی حکمرانی تھی؟

غرض یہ کہ حدیث میں جس خیر کی بات کہی گئی ہے وہ بنیاد کے پتھر رکھنے والی نسل کے خیر کی بات ہے۔ قواعد، اساسیات اور دستوری بنیادوں کی صورت میں جو خیر ان سے ملا ہے وہ مراد ہے۔ مزید ان نئی تعمیرات پر بھی ان کا ناقابلِ انکار احسان ہوتا ہے جنھیں بعد کی نسلیں تعمیر کرتی ہیں، اور پہلی نسل کی فراہم کردہ بنیادیں ان کے لیے رہ نما بن جاتی ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ نئی تعمیرات میں موجود خیر اور عظمت اساس اور اساس کاروں کی عظمت سے متعارض نہیں ہوتی ہے۔ عمر بن عبد العزیزؒ نے عدلِ اجتماعی کی جو مثال قائم کی اس کی بلندی اور عظمت کا انکار کون کر سکتا ہے۔ انھوں نے یہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب ظلم وجور، خود پسندی واقربا پروری کا دور دورہ تھا۔ اس پہلو سے ان کا یہ کارنامہ اپنے خیر کے ایک پہلو کے اعتبار سے خلیفہ عادل عمر بن خطابؓ کے عہد میں انجام پانے والے کارنامے سے بلند تھا، وہ یہ کہ فاروقؓ کاعدل نبی کریم ﷺ اور صدیقؓ کے عدل کا تسلسل تھا، ان کے عہد میں ماحول سازگار اور حضرات صحابہ کا تعاون میسر تھا۔

دونوں خیر میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ ہر خیر اپنی مقدار کے اعتبار سے گراں مایہ ہے قطعِ نظر اس سے کہ وہ تاریخ کے کس دور میں ظاہر ہوا ہے۔ اسلامی تحریکات کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بلندی کے سفر اور تاریخ سے اس کے رشتہ کے سلسلہ میں اپنے غلط نقطہء نظر کو درست کرنے کے لیے فکری جد وجہد کریں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس خرابی کی وجہ سے یہ تحریکات عصرِ حاضر کے حقائق سے منہ موڑ کر ماضی میں جیتی، زندوں کے معاملات کا فیصلہ مردوں کے سپرد کرتی اور تخلیقیت سے منہ موڑ کر موروثی ترکے میں منہمک ہوتی ہیں۔

5۔ تحریکیت اور فکر کے رشتہ میں خامی

تمام معاصر اسلامی تحریکات امت کی بیداری، احیاء، اور تجدید کے لیے برپا ہوئی ہیں۔ یہ دعوت وتحریک کے ان مختلف معاصر رجحانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جن کا آغاز الگ الگ شیخ محمد بن عبد الوھابؒ کی فکر و اجتہاد سے بھرپور جد وجہد، اور جمال الدین افغانیؒ کی فکر انگیز تحریک سے ہوا۔ تجدیدی فکر اور اجتہادی ذہن کے پہلو سے بھی یہ تحریکیں مختلف رجحانات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کسی کے یہاں وہابی مکتبِ فکر کی طرح نصوص پسندی کی طرف میلان ہے تو کسی کے یہاں افغانی کے مکتب فکر کی طرح عقلیت پسندی حاوی ہے۔ تحریک کے اندر نصوص پسندی یا عقلیت پسندی کو فروغ دینے میں بہت حد تک متمدن یا بدویانہ ماحول، مذہبی وراثت، اور تحریکات کو درپیش چیلنجوں کی نوعیت نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

بیشتر معاصر اسلامی تحریکات کے یہاں، بطورِ خاص بیسویں صدی کے آخری عشروں میں، جو خرابی نظر آتی ہے وہ ہے نصوص پسندوں کا بڑھتا ہوا جمود اور عقلیت پسندوں کے یہاں اجتہادی عمل کی گرتی ہوئی سطح۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ان تحریکات کے اندر عقلیت پسندی کے ماند پڑنے میں عمومی طور پر بہت سے عوامل نے اثر ڈالا۔ احیاءِ اسلامی کی تحریک میں اس وقت اجتہادی فکر نے رنگ ونور بکھیرے جب جمال الدین افغانی کے عہد میں یہ تحریک منتخب اور چنیدہ لوگوں تک محدود تھی۔ پھر جب مغرب پرستی، لا مذہبیت اور ثقافتی یلغار سے مقابلے کے لیے عوام کی بڑی تعداد کو میدان میں اتارنے اور انھیں بھی اس کاروانِ دعوت کے رفقاءِ کار بنانے کی ضرورت پیش آئی جو اسلام کو نظامِ زندگی سمجھتے تھے اور ریاست، معاشرہ اور زندگی کے تمام گوشوں میں اس کی حکمرانی چاہتے تھے تو یہ اجتہادی رنگ پھیکا پڑنے لگا۔ شیخ حسن البناؒ اور اخوان المسلمون کے زمانے سے اس اجتہادی فکر کے معیار میں کمی آنے لگی، جس کی وجہ عام افراد اور عوام الناس کے لیے مناسبِ حال بنانے کی کوشش تھی۔ اسی طرح، جب مغرب پرستی اور اپنی تہذیب سے بے زاری شدید خطرہ بن گئی، قومیت کی داعی جماعتوں نے مغرب کے تمدنی ماڈل کو سینے سے لگانا شروع کیا اور اسلامی شناخت کی بقا پر سخت خطرہ منڈلانے لگا تو اسلامی تحریکات نے یہ ذمہ داری محسوس کی کہ بحث و اختلاف کو چھیڑنے کے بجائے کے موضوعات کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کے وسائل اور طریقوں کو اختیار کیا جائے۔ اس کے بعد مسائل کے حل کے لیے ایسی ’’درمیانی راہ‘‘ اور ’’ہلکی پھُلکی ترکیبوں‘ کو رواج ملا جن کے خوگر عموماً ایسی جرأت مندانہ اجتہادی فکر سے اجتناب برتتے ہیں جو دوسری مشکلات کو جنم دے۔ فکری، ثقافتی، تعلیمی اور صحافتی رہ نمائی کے بہت سے مراکز پر مغربی ماڈل کے تسلط کی وجہ سے جب سماجی واخلاقی بگاڑ اور علمی بے راہ روی میں تیزی آنے لگی تو اسلامی تحریکات نے بھی ردِ عمل کا اظہار کیا۔ بعض اسلامی تحریکات نے بگاڑ کے اس سیلاب کی وجہ سے ہر اس چیز سے غلو کی حد تک بیزاری کا رویہ اختیار کیا جو مغربی تہذیب سے مشابہ یا ہم رشتہ تھیں۔ یہ تحریکات اسلامی عقلیت پسندی اور مغربی عقلیت پسندی کے درمیان فرق نہ کرسکیں۔ اسلامی عقلیت پسندی نے تو ’’عقل‘‘ کی مدد سے ’’نقل‘‘ کی معرفت عطا کی، اور نقل کو ان معاملات ومقامات میں قاضی بنایا جن کے ادراک سے تنہا عقل قاصر تھی، جبکہ مغربی عقلیت پسندی مذہب کے معاملے میں نقل سے ملنے والے ضوابط سے ہمیشہ سے آزاد رہی ہے خواہ وہ یونانی جاہلیت کا عہد ہو یا عصرِ جدید میں یوروپ کا ترقی یافتہ دور۔ غرض یہ اسلامی تحریکات بہت حد تک عقل اور عقلیت پسندی ہی سے کلی اور عمومی طور پر برگشتہ رہیں۔

عقل اور عقلیت پسندی کے سلسلے میں تغافل، بے زاری، عداوت اور بے توجہی جیسے ملے جُلے موقف کا اثر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ سے حرکیت اور عملی جد وجہد کے مقابلے میں فکری وسعت کا دائرہ سمٹ گیا، شعری اور خطیبانہ اسلوب سے لبریز مواعظ پر ہونے والی محنت کے مقابلے میں اجتہاد اور تجدید کے لیے کی جانے والی محنت کا تناسب کم ہو گیا۔ داعیوں اور کارکنوں کی کثرت نے کئی تحریکات کے مفکرین اور ان کے فکری اداروں کو کنارے لگا دیا، بلکہ بہت سی تحریکات کا تنگ تنظیمی سانچہ جرأتِ فکر اور مفکرین ومجددین کی فکری بصیرت کو اپنے اندر نہیں سمیٹ پاتا۔ ہم نے قریبی دہائیوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ اجتہادی شان کے حامل بہت سے مفکرین ومجددین کی پوری انجمن اس میدان میں نہ رک سکی۔ وہ لوگ ان تحریکات کے تنظیمی حدود وقیود سے آزاد ہونے کے بعد ہی اپنے وجود کو ثابت کرسکے۔

اس خرابی کی شدت اور اس کے منفی اثرات کی سنگینی میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوا کہ اب بھی ان میں سے بہت سی تحریکات اس بات سے قاصر ہیں کہ ’’مفکرین اور فکری اداروں‘‘ اور ’’تحریکی وتنظیمی سرگرمیوں‘‘ کے درمیان صحیح رشتہ قائم کریں اور ان دونوں کے ربط و فرق کو واضح کرنے کے لیے اس طرح قوانین وضوابط بنائیں کہ فکری میدان کے شہسواروں کو تجدید واختراع کے لیے جرأت مندانہ ماحول ملے اور عملی میدان میں جدوجہد کرنے والوں کو اس تجدیدی واختراعی جدوجہد کے ثمرات سے بھر پور استفادہ کے امکانات میسر آسکیں۔

ہاں بعض اسلامی تحریکات نے جدوجہد اور فکر کے درمیان توازن قائم کیا ہے اور اس خرابی کی اصلاح کرلی ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کامیابی کی بڑی وجہ یہ حسن اتفاق ہے کہ اس کی زمامِ قیادت فکر وتجدید کے کسی علم بردار کے ہاتھ میں آگئی، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تحریک کے اندر ایسے قواعد پائے جاتے ہوں جو ’’تحریک اور اہلِ تحریک‘‘ اور ’’فکر اور فکر ساز‘‘ کے درمیان صحت مند رشتہ کو فروغ دے سکیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ خرابی برقرار ہے۔ اس کا مکمل علاج ضروری ہے تاکہ اس کی بقا سے ان تحریکات کے اندر جو تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

ستمبر 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau