بہار وخزاں اور ایک لطیف قرآنی تعبیر

محمد عبد اللہ جاوید

یوں توساری کائنات میں روزانہ سینکڑوں واقعات پیش آتے رہتے ہیں‘ کہکشاؤں کی گردش ‘سیاروں کا تیرنا‘ سورج کا طلوع و غروب ہونا‘چاند کا گھٹنا اوربڑھنا ‘موسموں کی تبدیلی ‘  ….گویا اس کائنات میں ایک ہنگامہ بپا ہے۔دانش مندی یہی ہے کہ انسان اپنے دل کی آنکھوں سے ان واقعات اور حوادث کا مشاہدہ کرے اور جان لے کہ کائنات اس قدر منظم کیوں ہے اورکیسے اسکی زندگی منظم ہونی چاہئے۔ یہ بھی دیکھے کہ وہ کیا اسباق ہیں جن سے اسکا اور اسکے معاشرہ کا بھلا ہوسکتا ہے؟ جاننے اور سمجھنے کا یہ عمل وقتی نہ ہوبلکہ یہ تو سانسوں کی طرح چلتا رہے‘ اٹھے بیٹھے اور لیٹے۔

آسمانوں اور زمین کی ساخت پر غور وفکر سے نہ صرف صلاحیتوں کی نشوونماہوتی ہے بلکہ قوت مشاہدہ وادراک میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ سورج ‘چاند اور زمین کی گردش سے بھی سبق ملتا ہے اورچھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔اس کائنات میں جوواقعات رونما ہوتے ہیں ان میں سب سے چھوٹا اور معمولی قسم کا واقعہ کیا ہوسکتا ہے ؟درخت سے پتے کا گرنا‘جی ہاںیہ ایک چھوٹاسا واقعہ ہے۔پتوں کاگرنا‘  ایک عام سی بات ہے۔درخت کی صحت اور اسکی رونق‘ پتوں سے وابستہ ہے لیکن قدرت کا کچھ ایسا نظام ہے کہ ایک وقت کے بعد درخت سے پتے بھی اپنا ساتھ چھوڑدیتے ہیں۔ درخت سے لگے ہرے بھرے پتے بھی گرتے ہیں اور سوکھے ‘پیلے اور مرجھائے ہوئے پتے بھی۔ پتوں کے گرنے کا متعین وقت نہیں ہوتا اور نہیں کہا جاسکتاکہ کب کونساپتہ یا پتے جھڑجائیں گے؟اس تناظر میں اس آیت سے کیا سمجھا اور اخذکیا جاسکتا ہے۔

وَمَاتَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ  إِلايَعْلَمُهَا

’’درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جسکا اسے علم نہ ہو‘‘۔ (الانعام : ۵۹)

یہ بہار و خزاں کی ایک انتہائی معنی خیز اور آسان تشریح ہے جو ہر خاص وعام کیلئے یکساں ہے‘ مشاہدہ کیلئے بھی اور غوروفکرکیلئے بھی۔سورۃ الانعام کی آیت کے اس مختصر جملے سے حسب ذیل امور واضح ہوتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رونما ہونے والے شمار واقعات کی حقیقت تک رسائی کرنی ہو تو بس درخت سے گرتے ہوئے پتے کو دیکھ لیں ‘نہ جانے ہر پل دنیا بھر میں کتنے پتے درخت سے گرتے ہیں‘ جنگلوں میں ‘باغوں میں‘ کھیت کھلیانوں میں‘…ہر ایک پتہ رب کے حکم ہی سے اپنی ٹہنی سے جدا ہوتا ہے اور گرتے ہوئے یہ خاموش پیغام دیتا ہے کہ ہر طرح کا زوال رب ہی کے اذن سے  ہوتا ہے۔

درخت سے پتے کا گرنا واضح کرتا ہے کہ بقا کو فنا ہے۔وجود کومٹنا ہے۔باقی کو ختم ہونا ہے۔ ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے۔ جب بھی پتا گرے سمجھ لینا چاہئے کہ درخت سے اس کے تعلق کی مہلت ختم ہوچکی۔

پتے کی درخت سے وابستگی‘ پتے کی ساخت اور اس کی صحت پر منحصر ہوتی ہے۔ وہ پتہ شجر سے جدا ہوتا ہے جس کے اندر ٹہنیوں سے چمٹے رہنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

بسا اوقات  ناکارہ پتوں کو درخت کانظام خود اپنے سے جداکرتا ہے ان کے اندر ایسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جن سے نہ صرف ان کا بلکہ دیگر پتوں اورٹہنیوں کا وجود بھی خطرے میں آجاتا ہے ۔

پتے اگر اپنے درخت سے وابستہ ہیں تو وہ بہار کا منظر پیش کرتے ہیں‘ہر طرف ہریالی‘رنگ برنگ کے پھول خوشبوئیں بکھیرتے دلوں کو لبھاتے ہیں۔

وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ۰ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْن

’’اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں‘‘۔(سورہ النحل: ۱۳)

بہار کی جہتیں ‘وسعتیں اور رنگا رنگی….رب کی حمد وثنا کا  تقاضہ کرتی ہیں‘ رب کی حمد کے کلمات بھی اپنے اندر معنی و مفاہیم کے مختلف رنگ لئے ہوئے ہوں۔لہٰذابہار ہو تودلوں کی اتھاہ گہرائیوں سے صدانکلے کہ ربنالک الحمد‘ توہی معبود حقیقی ہے‘لاالہ الا اللہ….

یہ بہار‘ یہ ترقی اور یہ خیر کے سارے پہلو اس رب کی طرف سے ہیں جس نے نہ صرف درختوں ‘ ٹہنیوں اور پتوں کو وجود بخشا بلکہ انسان کو وہ قوت ادارک بھی عطا فرمائی جس سے وہ بخوبی مشاہدہ کرسکتا ہے‘ان سے لطف اندوز ہوسکتا ہے اور یہ حقیقت بھی جان سکتا ہے کہ دنیا بھر میںبے شمار  پتے‘ ہر پل اپنے رب کے حکم سے گرتے رہتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات پر غور کیا جائے تو انسانی اذہان اس بات کا ادارک کرسکتے ہیں کہ اس رب کے احکامات کہاں کہاں اور کیسے کیسے روبہ عمل لائے جارہے ہیں؟ کیسے اور کن الفاظ میں اس خالق ومالک کی حمد وثنا بیان کی جاسکتی ہے؟کیا قرآن مجید کا یہ ارشاد‘انسان کی کم مائیگی کا اظہار نہیں اور رب کریم کی جلیل القدراور پراسرار ذات کا ایک اجمالی تعارف نہیں ؟

وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّہٗ مِن بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللہِ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ

’’زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے‘‘۔(سورہ القمان: ۲۷)

جب پتے اپنی ٹہنیوں اور درختوں سے جدا ہوتے ہیں تو خزاں کا پتا دیتے ہیں۔  یہ موسم خزاں بھی اسی رب کی طرف سے ہے جس نے موسم بہار کے ذریعہ زندگی کا سامان کیا تھا۔ پتوں کا درخت سے گرنا‘ ٹہنیوں کا کمزور ہوجانا‘یہ جان و مال کے نقصانات‘یہ فصلوں اور پھولوں کی کمی سب رب کی آزمائش کی حکمت ظاہرکرتے ہیں:

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَہٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ثُمَّ يَہِيْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُہٗ حُطَامًا۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ

’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے‘‘( سورہ الزمر: ۲۱)

بہار ہو کہ خزاں‘ حالات سازگار ہوں کہ ناسازگار‘ غلبہ ہو یامغلوبیت‘ خوشحالی ہو کہ تنگ دستی….اللہ کے بندوں کو تو اللہ ہی کے گن گانے چاہئیں۔یہی مطلوبہ رویہ ہے ہر اس بندہ کا جو بہار کی حقیقت اور خزاں کی اصلیت کو بخوبی جانتا ہے۔ ان دومتزاد موسموں کو رات اور دن کی طرح باری باری آنے والے  مظاہر سمجھتا ہے۔  ان کو انسانوں اور دیگر مخلوقات پر اثرات ڈالنے والاسمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ ہر دو صورت میں بندۂ مومن صبر وشکر کا پیکر بنا رہےاورکلمہ حق بلند کرتا رہے….

بہارہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ۔

مارچ 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau