سیاسی قوت کا حصول اور ہندستانی مسلمان

محمد آصف اقبال

ہندوستان کا موجودہ سیاسی ڈھانچا اور اس میں مسلمانوں کی قوت اہم موضوعات ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد مسلمانوں کے اندر یہ احساس پیداہوا ہے کہ وہ تعلیمی، تمدنی، معاشی اور سماجی میدان میں آگے بڑھیں، اپنے حقوق کے لیے کوشاں ہوں، اُن کے لیے جدوجہد کریں اور اِن کاموں کو منصوبہ بنداندازمیں انجام دیں۔اسی کے ساتھ یہ احساس بھی پیداہونا شروع ہوگیا ہے کہ مسلمان سیاسی قوت کے حصول کی جانب بھی متوجہ ہوں۔ ابھی احساس کاابتدائی دور ہے۔ یہ ابتدائی دور اپنوں کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ایک بڑا Challengeثابت ہوگا۔ کیونکہ جن لوگوں کے مفادات حالات کی موجودہ کیفیت سے وابستہ ہیں وہ راستے کاکانٹا بنیں گے۔

ظاہر ہے کہ اگرہندستانی مسلمان فی الواقع سیاسی قوت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اس کی دشواریوں کو سمجھنے اور راہ کو ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہونا پڑے گا۔اگر وہ اس چیلنج سے دور بھاگے تو بھی ہلاکت کاشکار ہوںگے اور اگر اس میدان میں بغیر تیاری کے کودے توبھی نقصان کااندیشہ ہے۔ حالات کا تقاضا بہرحال یہ ہے کہ وہ سیاسی قوت حاصل کریں تاکہ ملک میں ظلم وبربریت کادور ختم ہو اور امن و امان قائم ہوسکے۔ موجودہ حالات میں سیاسی قوت حاصل کرنے کے کیاذرائع ہوسکتے ہیں اِس پر غور کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہوگاکہ اسلامی ہدایات ہمیں کس جانب متوجہ کرتی ہیں اور مسلمانوںکادنیا میں بنیادی رول کیا ہونا چاہیے؟

اسلامی ہدایات

فکراسلامی میںریاست کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ خالق ارض وسماوات نے اپنے نبیﷺکو یہ دعا سکھائی ہے

’’اور دعا کرو اے پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو داخل کر، سچائی کے ساتھ داخل فرما اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے‘‘۔   ﴿بنی اسرائیل:۸۰﴾

یہ آیت ہجرت نبویﷺسے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس تاریخی پس منظر سے اس کی اہمیت اور بھی واضح ہوجاتی ہے اور اس سے ریاست کے ادارہ کی اہمیت بالکل روشن ہوجاتی ہے۔ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مودودیؒ اس آیت کامفہوم اس طرح بیان کرتے ہیں : ’‘یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنادے تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں‘‘۔ یہی تفسیر اس آیت کی حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے اور اسی کو ابنِ جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدرمفسرین نے اختیار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتاہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی بل کہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجراے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بل کہ مطلوب ومندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیاپرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیاپرستی اگرہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کاطالب ہو، رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کاطالب ہونا تو اس پرمزید روشنی مندرجہ ذیل آیات و احادیث سے پڑتی ہے:

’’ہم نے اپنے رسول واضح نشانیاں دے کر بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان ﴿عدل﴾ اتاری ہے، تاکہ انسان انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے اتارا ہے لوہا ﴿ریاست کی قوت و جبروت﴾ جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے بہت فوائد ہیں‘‘۔ ﴿الحدید: ۲۵﴾

 

’’وہی ہے﴿ذات باری تعالیٰ﴾ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو‘‘۔ ﴿الصف:۱۹﴾

 

’’اور جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں‘‘۔ ﴿المائدہ:۴۴﴾

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اسلام اور حکومت و ریاست دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے، جس عمارت کی بنیاد نہ ہو وہ گرجاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو، وہ لوٹ لیاجاتا ہے‘‘۔ ﴿کنزالایمان﴾

اسلامی فکر میں دین اور سیاست کی دوئی کا تصور نہیں پایاجاتا اور یہ اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کو اسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ قرآن اور احادیث میں جس طرح اخلاق اورحسنِ کردار کی تعلیمات پاتے ہیں اسی طرح معاشرت، تمدن، معیشت اور سیاست کے بارے میں بھی واضح احکام پاتے ہیں۔ اس دوسرے حصے پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی ریاست ہو اگر اس حصے پر عمل نہ کیاجائے تو شریعت کاایک حصہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے اور قرآن کا مطلوب معاشرہ وجود میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاے امت نے متفقہ طورپر نصب امامت کو فرض قرار دیا ہے اور اس بارے میں کوتاہی ایک دینی حکم کی بجاآوری میں کوتاہی ہے۔ مسلمان بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہاگیا :

’’یہ مسلمان وہ ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں صاحبِ اقتدار کردیا ﴿ ان کا حکم چلنے لگا﴾ تو وہ نماز قائم کریں گے، اداے زکوٰۃ میں سرگرم ہوں گے ، نیکیوں کاحکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کاانجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے‘‘۔  ﴿الحج: ۴۱﴾

قرآنی تعلیمات و احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے :

اسلامی ریاست اگر موجود نہیں تو اس کے لیے کوشاں ہونا، اس کے لیے ماحول تیارکرنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا ضروری ولازمی ہے۔اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ہدایت و رہ نمائی کاسامان فراہم کرتا ہے اور وہ اجتماعی زندگی کے لیے بھی واضح رہ نمائی دیتا ہے۔ اسلام دین اور سیاست کی تفریق کار وادار نہیں ہے۔ بل کہ وہ انسان کی پوری زندگی کو خدا کے قانون کے تابع کرنا چاہتا ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ سیاست کو بھی اسلامی اصولوں پر مرتب کیاجائے اور ریاست کو اسلام کے قیام و استحکام کے لیے استعمال کیاجائے۔ یہ طرزِعمل انتہائی افسوس ناک ہے کہ اسلام کو صرف چند احکام تک محدود کردیاجائے۔ چند احکام کو تسلیم کیاجائے اور دوسرے احکام سے صرف نظر اور روگردانی اختیار کی جائے۔ اپنی خواہشوں کو پیش نظررکھتے ہوئے یا کسی دبائو کی وجہ سے۔

آزادی سے پہلے اور بعد

ہندستانی دستورکی رو سے مسلمانوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں، جو ایک عام شہری کو ملنے چاہئیں، خصوصیت کے ساتھ ٭ووٹ دینے کا حق۔٭راے کا حق اور راے عامہ کی تشکیل کا حق۔٭سیاسی تنظیمیں بنانے کا حق۔ ٭حکومت میں شرکت کاحق۔٭الیکشن لڑنے اور ملک کی سیاست میں اپنا رول ادا کرنے کاحق۔٭لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اختیارات کاغذی ہیں۔ عملاً انھیں صرف ووٹ دینے کاختیار ہے۔ جہاں تک بحیثیت اقلیت اُن کے حقوق کا سوال ہے تو اس کاحال بھی یہی ہے۔ آزادی سے قبل ۱۹۰۹ کے Minto-Morley Reformکے ذریعے مسلمانوں کو ہندستان میں ایک بڑی اقلیت ہونے کی وجہ سے Separate Electorateکاحق دیاگیاتھا۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں جنرل الیکشن میں حصہ لینے کا حق حاصل تھا۔ آبادی کی نسبت کے مطابق انھیں خصوصی Seatsکا بھی اختیار تھا۔ اسی طرح انگریزی حکومت نے پبلک سروس کے اندر اقلیتوں کو خصوصاً مسلمانوں کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے خصوصی مراعات دی تھیں۔ اس پالیسی کا مقصد مسلمانوں کی نمائندگی (Representation) کویقینی بناناتھا۔ لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کو کاغذی حیثیت سے اختیارات تو بانٹے گئے لیکن رفتہ رفتہ اُن کو تمام حقیقی اختیارات سے دور کردیاگیا۔ آج حالات یہ ہیں کہ ان کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ ان کو نقصان پہنچانے کے لیے منصوبہ بند انداز میں کوششیں کی جارہی ہیں اور ان شرپسندوں کو موثر پشت پناہی حاصل ہے۔

مسلمانوں کی آبادی

اس وقت آبادی کے تناسب سے ہندستانی مسلمان یہاں کی ہندواکثریت کے بعد سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ ۱۹۹۱ئ کے Censusکے مطابق بہار، آسام اور اترپردیش ایسی ریاستیں ہیں جن کے اندر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ بعض ریاستوں میں مسلمانوں کا Percentageقابلِ لحاظ ہے مثلاً کیرالہ (23.32%)، ویسٹ بنگال (23.61%) اور لکش دیپ (94.31%)کی خاص اہمیت ہے۔ ۱۹۹۱ کے Censusکے مطابق ہندووں کی تعداد ۸۸۶ ملین تھی اور مسلمانوں کی تعداد ۲۰۱ ملین تھی۔ ﴿یہاں یہ واضح رہے کہ اِس Censusمیں جموںوکشمیرکے مسلمانوں کی تعداد کو شمار نہیں کیاگیاہے﴾ ۱۹۹۱ کے Censusکے مطابق اترپردیش کے ۶ اضلاع ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد ۰۳فیصد ہے۔ ۰۲ ایسے اضلاع ہیں جہاں ۵۱ سے ۰۳ فیصد کے درمیان مسلمان موجود ہیں۔ ۳۲ اضلاع ایسے ہیں جہاں ۷ سے ۵۱ فیصد مسلمان ہیں۔ ۷ اضلاع ایسے ہیں جہاں ۳ سے ۷ فیصد مسلمان ہیں، اسی طرح دو اضلاع میں ایک سے تین فیصد اور پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں ایک فیصد سے کم مسلمانوں کی تعداد ہے۔ جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے وہاں اس کو تقسیم کرنے اور انھیں چھوٹے حصوں میں بانٹنے کاکام بھی کیاگیا۔جب بہار، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کو تقسیم کیاگیا تو اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہوئی۔ ۱۱۹۲۱ کے Censusکے مطابق اُس وقت ہندووں کی تعداد ۶۶فیصد تھی اور مسلمانوں کی تعداد ۴۲ فیصد تھی۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد کل ۱۰ فیصد تھی۔ ۱۸۸۱ سے ۱۹۲۱ تک ہندووں اور مسلمانوں کے تناسب میں جو تبدیلی آئی ہے وہ درجِ ذیل ہے:

مدت19211911190118911881
ہندو65.966.968.370.172.0
مسلم24.123.523.222.422.6

۲۰۰۱ کے Censusمیں مسلمانوں کی تعداد 16.4فیصد درج کی گئی ہے۔ یہ تعداد ۱۷۴ ملین افراد پر مشتمل ہے۔اس کے برخلاف غیرسرکاری رپورٹس بھی ہیں۔ مثلاً جسٹس کے ایم یوسف ﴿ریٹائرڈ جج کلکتہ ہائی کورٹ اور چیئرمین ویسٹ بنگال مائنارٹی کمیشن﴾ کاکہنا ہے کہ اس وقت ہندستان میں مسلم آبادی کم ازکم ۲۰ فیصد ہے۔ دوسری طرف ہندتو کے علمبردار مسلمانوں کی تعداد ۳۰ فیصد بتاتے ہیں۔ ۲۰۰۱ کے Census کے مطابق مسلمانوں کا تناسب یہ ہے: اترپردیش ﴿30.7ملین﴾18.5%، ویسٹ بنگال ﴿20.2ملین﴾ 25% اور بہار ﴿13.7ملین﴾ 16.5فیصد۔ مسلم اکثریت والے اسٹیٹس جموںوکشمیر اور لکش دیپ ہیں۔ مسلم آبادی بالترتیب۷۶ فیصد اور ۵۹ فیصد ہے۔ Eastern Estatesمیں آسام میں ۱۳ فیصد، ویسٹ بنگال میں۵۲ فیصد اور Southern Statesمیں کیرلہ میں ۵۲فیصد اورکرناٹک میں 12.2فیصدمسلم آبادی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آج جو Census Reportکے ذریعے مسلمانوں کی تعداد دکھائی جاتی ہے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔اندازہ ہے کہ اس وقت ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد ۱۷ سے ۲۰فیصد کے درمیان ہے۔ چنانچہ وہ اقلیت نہیں ہیں بل کہ ہندوئوں کے بعد ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں۔

تعلیمی اور معاشی میدان

مسلمانوں کے حالات کاتجزیہ کرتے وقت تعلیمی اور معاشی میدان کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیمی اعتبار سے ہندستانی مسلمان بہت پیچھے ہیں۔ ۲۰۰۱ کے Censusکے مطابق مسلم آبادی میں 67.6فیصد مرد اور 50.1فیصد عورتیںخواندہ درج کی گئی ہیں۔ اس کے برخلاف 65.1فیصد ہندو خواندہ ہیں۔ یہ معاملہ تو صرف مسلمانوں کی خواندگی کاہے۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ قومی سیمپل سروے ﴿۲۰۰۰۔۱۹۹۹﴾ کے مطابق ہائیرسکینڈری میں مسلم طلبہ 3.43فیصد اور گریجویٹ اور اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبہ صرف 2.52فیصد درج کیے گئے ہیں۔ یعنی 97.48فیصد مسلمان اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک اور قابل توجہ پہلو ہے۔ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم سے بے توجہی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ کچھ یہی حال مسلمانوں کی معیشت کابھی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اِس صورت حال کے پیدا کرنے میں اسلام مخالف قوتوں کامنصوبہ بند ہاتھ ہے۔ لیکن مسلمانوں کا اپنا رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ وہ تعلیم پر پوری توجہ نہیں دیتے، اس میں آگے بڑھنے کی طرف مائل نہیں ہیں۔ گرچہ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشی بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں دشواریاں محسوس کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت کے پاس اپنی بنیادی ضرورتیں ہی پوری کرنے کے لیے پیسہ نہیں۔ ساتھ ہی ایک بڑے عرصے سے آزاد ملک میں رہنے کے باوجود عدمِ تحفظ کا شکار ہیں، اِس احساس نے بھی انھیں پیچھے کردیا ہے۔

لیکن امید کاسورج ابھی ڈوبا نہیں ہے۔ محسوس ہورہاہے کہ مسلمانانِ ہند خود کچھ کرنے کی جانب مائل ہوئے ہیں۔ ایک طرف انھوںنے اپنے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، ان میںاسلامی تعلیمات کو جدید نصاب کے تحت فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اداروں کی تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے۔ یہ تمام کام امیدافزا ہیں اور اس کے بہتر نتیجے ہوںگے۔ جس تیزرفتاری اور بڑے پیمانے پر یہ کام ہونا چاہیے تھا، اس کی ضرورت باقی ہے۔ معاشی میدان میں بھی مسلمان آگے آنے کی کچھ نہ کچھ کوشش کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اور قانون میں ان کے لیے جو رعایتیں درج ہیں ضرورت ہے کہ اُن کو حاصل کرنے کے لیے شعوری کوشش کریں۔ اِس کے علاوہ اسلامی معیشت کے نظام کو لوگوں کے سامنے عملی شکل میں پیش کرناچاہیے اور سچائی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا معاشی کاروبار کرنا چاہیے۔ جو پیشہ بھی مسلمان اختیار کریں اس میں مہارت ہونی چاہیے۔ سیاسی قوت حاصل کرنے کے لیے تعلیمی شعور اور معاشی استحکام کی بہت اہمیت ہے۔

قیادت کا فقدان

آزادی ہند سے لے کر آج تک قیادت کے فقدان کو شدت کے ساتھ محسوس کیاجاتارہا ہے۔ البتہ یہ سمجھنا کہ یہ مسئلہ بہت آسانی سے حل ہوجائے گا سادہ لوحی ہوگی۔ کیونکہ اس میںرکاوٹ وہ لوگ بھی بنیںگے جو بااختیار ہیں اور وہ بھی جو حکومت کا نظم و نسق چلانے میں پیش پیش ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کریں۔

٭ انھیں اسلامی بنیادوں پر استوار کسی نہ کسی جماعت میں فوراً شامل ہوجاناچاہیے۔

٭ مختلف جماعتوں کے رہ نمائوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے۔

٭اپنے مسائل کے حل کے لیے انھیں حکومت کاسہارا لینے کی بجاے خود اپنی مختلف نوعیتوں کی تنظیمیں بنانی چاہئیں۔ جو قانونی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہوں۔

٭مختلف جماعتوں کے رہ نمائوں کو صرف اسلامی بنیادوں پر ہی مقر رکیاجائے اور ایسے لوگوں کو آگے لایاجائے جو قول وعمل میں یکساں رکھتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک کا مسلم طبقہ ایک اندازے کے مطابق صرف دو سے چار فیصد تک ہی کسی جماعت سے منسلک ہے اور اس کے علاوہ تقریابً ۶۹ فیصد مسلم افراد بکھرے ہوئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی قائد ہے نہ وہ کسی قیادت کو مانتے ہیں۔ ایک میگزین نے جب یہ سوال ملک کے مسلمانوں کے سامنے رکھا کہ : کیا آپ ہندستان کی قیادت سے مطمئن ہیں؟ تو اس کے جواب میں ملک کے ہر کونے سے جورائیں شمار کی گئیں اس میں تقریباً ۰۷ فیصدلوگوںکاکہناتھا کہ قیادت سرے سے ہے ہی نہیں۔ ۵۱ فیصد لوگوں کاکہناتھا کہ قیادت کی سخت ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک پلیٹ فارم تیار ہونا چاہیے اور صرف ۵ فیصد لوگوں نے مسلم پرسنل لائ بورڈ جیسی قیادت پر اعتماد کااظہار کیا۔ ﴿دعوت ‘مسائل اور مسلم عوام نمبر’﴾۔ آج کے حالات میں قومی پیمانے پر ایک قائد ایساہو ممکن نہیں۔ لیکن مختلف جماعتوں کاایک پلیٹ فارم ضرور تیارہوسکتا ہے، جو بڑھ کر ان مقاصد کے لیے کام کرے تو قوی توقع ہے کہ مسلمانانِ ہند اس کو قبول کرلیںگے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ مسلمانوں کی معتدبہ تعداد کسی نہ کسی جماعت سے وابستہ ہوجائے۔ قیادت کے دائرے سے سیاست کو الگ نہیں کیاجاسکتا۔

اسلامی سیاسی پارٹی

موجودہ حالات نے مسلمانوں کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔ ان میں یہ احساس پیداہواہے کہ وہ اپنے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں اور اپنے حقوق حاصل کریں۔یہ احساس شدید تر ہوتاجارہا ہے کہ مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی وجودمیں آئے۔ اس کی کیا شکل ہو، اور اس کے قیام کے کیا فوائد ہوسکتے ہیں؟ یہ اور اسی طرح کے سوالات ہیں جن کا مختصر جواب ذیل میں دیاگیا ہے:

ہیئت

مطلوبہ ہیئت یہ ہے کہ یہ پارٹی اسلامی کاز کے لیے مصروفِ عمل جماعتوں کی نمایندہ پارٹی کی حیثیت رکھتی ہو اور اس کو بحیثیت مجموعی تمام مسلم عوام اور جماعتوں کااعتماد حاصل ہو۔ اس کا دائرہ محدود نہ ہو، بل کہ یہ تمام شہریوں کے لیے ہو۔

ایجنڈا

پارٹی کا ایجنڈا ذیل کے نکات پر مشتمل ہوناچاہیے:

  • مختلف مسائل کے سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر متعین کیاجائے اور اس کے لیے راے عامہ کو ہموار کیاجائے۔
  • برائیوں کو مٹایااور اچھائیوں کو پھیلایاجائے۔
  • عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کی جائے۔
  • کرپشن کے خلاف موثر اقدام کیے جائیں۔
  • معاشی مسائل کے حل کے لیے خدمت خلق کا منصوبہ بند کام کیاجائے۔
  • الیکشن میں بدامنی اور غنڈا گردی کو ختم کیاجائے۔
  • اجتماعی زندگی میں اخلاقی قدروں کو فروغ دیاجائے۔
  • عوام کے حقوق و اختیارات کی پامالی پر روک لگائی جائے۔
  • دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
  • سودی نظامِ معیشت کو ختم کیاجائے۔

اسلامی ریاست کا منشور

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین پر اقتدار عطا کریں گے، تو یہ زکوٰۃ دیںگے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیںگے اور تمام معاملات کاانجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔    ﴿سورۃ الحج: ۱۴﴾

قرآن کی اس آیت کو اسلامی حکومت کا منشور (Manifesto) کہناچاہیے۔ اس میںاس کارسیاسی کو ظاہر کیاگیا ہے جو امت مسلمہ اقتدار پانے کے بعد انجام دیتی ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اسلامی حکومت کس مقصد کے لیے وجود میں آتی ہے، اس کامزاج کیاہوتاہے، اس کے اعمال کس قسم کے ہوتے ہیں اور وہ اپنے تمام وسائل و ذرائع کس راہ پر لگاتی ہے۔ یہ اہل ایمان کے ہاتھوں قائم ہونے والی حکومت کے بنیادی فرائص کا اعلان ہے۔

اپریل 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau